دعاؤں سے تقدیر یا تدبیر سے تقدیر؟
ارشاد قاسمی
دنیا کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی زبوں حالی ایک ایسا سوال ہے جو دل و دماغ کو بے چین کیے دیتا ہے۔ غزہ کا نقشہ جب بھی سامنے آتا ہے، معصوم بچوں کی لاشیں، زخمی عورتوں کی چیخیں، ٹوٹے ہوئے گھر اور دھوئیں سے بھرا آسمان امتِ مسلمہ کے ضمیر پر ایک گہرا زخم بن کر دستک دیتے ہیں۔ ایسی ہر المناک تصویر کے جواب میں دنیا بھر کے مسلمان عبادت گاہوں میں جمع ہو کر اللہ کے حضور گڑگڑاتے ہیں، دستِ دعا دراز کرتے ہیں۔ ہر دل سے یہی فریاد نکلتی ہے: "یا اللہ، اہلِ غزہ پر رحم فرما۔”
مگر ایک ہولناک سوال پوری قوت کے ساتھ ابھرتا ہے: اتنی لاکھوں، کروڑوں دعاؤں کے باوجود یہ آگ، یہ خونریزی، یہ مظالم کیوں تھمنے کا نام نہیں لے رہی؟ کیا یہ دعائیں قبول نہیں ہو رہیں؟ کیا ہم گناہگار قوم ہیں؟ کیا اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائیں؟
ان جذباتی اور فکری سوالات کا جواب اسلام کے بنیادی اصولوں میں چھپا ہے۔ اسلام دعا کی قوت پر یقین رکھتا ہے، لیکن یہ بھی سکھاتا ہے کہ دعا اور عمل دو الگ چیزیں نہیں، بلکہ ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے میدانِ بدر اور احد میں اللہ سے فتح کی دعا مانگی، اس کے ساتھ حکمت عملی بھی بنائی۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے: کامیابی ہمیشہ دعا اور تدبیر کے سنگم سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ صرف جذبات کے طوفان سے۔
اس حقیقت کو ایک تاریخی واقعہ مزید واضح کرتا ہے۔ اسرائیل کے قیام کے ابتدائی دنوں کی بات ہے۔ ایک معروف یہودی رہنما اپنے ساتھیوں کے ساتھ دیوارِ گریہ کے سامنے کھڑا تھا۔ کچھ یہودی دیوار سے لپٹ کر رویا کرتے تھے، اپنے ماضی کے دکھ اور موجودہ مشکلات پر آنسو بہاتے تھے۔ اس منظر کو دیکھ کر اس رہنما نے ٹھنڈے دل و دماغ سے کہا:
"رونے دو انہیں… مگر یاد رکھو، تقدیر آنسوؤں سے نہیں بدلا کرتی۔ اسے لوہے کی فیکٹریوں، سائنس کی لیبارٹریوں اور مضبوط معیشتوں میں لکھا جائے گا۔ دعا ساتھ رہے، مگر کام آگے ہو۔”
یہ مختصر سا جملہ دراصل صہیونی عزم اور منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے آنسوؤں کے ساتھ ساتھ اپنی تمام تر توانائی سائنس، ٹیکنالوجی، جدید تعلیم، عالمی سیاست، میڈیا کنٹرول اور ناقابلِ شکست فوج بنانے میں لگا دی۔ انہوں نے اپنی آنے والی نسلوں کو ذہنی، عسکری اور سفارتی جنگ کے لیے تیار کیا۔
دوسری جانب، مسلم دنیا کا المیہ یہ رہا کہ وہ جذبات کے ایک طوفان میں بار بار الجھتی رہی۔ ہماری توانائی وقتی ردِ عمل اور غصے کے اظہار تک محدود رہی، جبکہ دشمن نے دہائیوں تک اپنے عزائم کے حصول کے لیے منظم انداز میں کام کیا۔
غزہ کی موجودہ تباہی کوئی اچانک واقعہ نہیں۔ یہ تو صدیوں کی دشمنی، مسلسل منصوبہ بندی، عالمی لابنگ، بے پناہ سرمایہ کاری اور بین الاقوامی سطح پر اثر و رسوخ قائم کرنے کا منطقی نتیجہ ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عالمِ عرب اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے، مگر باہمی رقابتوں، مفاد پرستی اور داخلی انتشار نے اسے کمزور اور غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ اگر گزشتہ دہائیوں میں ایک مربوط دفاعی حکمت عملی، متحدہ سیاسی مؤقف اور سائنسی ترقی پر توجہ دی جاتی تو آج کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔
اس موقع پر ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اپنے آئینے میں جھانکنا چاہیے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی کثیر آبادی ہے، قابلیت اور صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، لیکن سیاسی بے وزنی، معاشی پسماندگی اور تعلیمی کمزوریاں ان کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی بنیادی کمی وہی ہے جو پوری امتِ مسلمہ کا المیہ بنی ہوئی ہے: ہم روتے زیادہ ہیں، سوچتے کم؛ جذباتی ردِ عمل زیادہ دیتے ہیں، حکمتِ عملی سے کم کام لیتے ہیں؛ دعا میں آگے رہتے ہیں، منصوبہ بندی میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ انہیں معیاری تعلیم کو اولین ترجیح دینی ہوگی، خاص طور پر جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنی ہوگی۔ میڈیا اور صحافت کے میدان میں داخل ہو کر اپنا نقطہ نظر مؤثر طریقے سے پیش کرنا ہوگا۔ ٹیکنالوجی اور کاروباری علوم میں مہارت حاصل کر کے معاشی خود کفالت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اور نوجوان نسل میں تنظیم، نظم و ضبط اور باہمی اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔
درحقیقت، تقدیر دعا سے بدلتی ضرور ہے، مگر اس وقت جب ہاتھ کام میں، عقل سوچ میں اور دل عزم و استقامت سے لبریز ہو۔ صرف آسمان کی طرف دیکھنے والی قومیں زمین پر اپنی قسمت کا فیصلہ نہیں لکھ سکتیں۔ بدر و اُحد کی کامیابیاں اس لیے ملیں کہ وہاں دعا کے ساتھ مضبوط قیادت، نظم و ضبط، پوری تیاری اور باہمی اتحاد بھی موجود تھا۔
غزہ کے بچوں کا خون ہمیں یہ نہیں سکھا رہا کہ اللہ نے انہیں چھوڑ دیا؛ بلکہ یہ ہمیں یہ احساس دلا رہا ہے کہ ان کی قربانی ہماری اجتماعی بیداری کا امتحان بن سکتی ہے۔ شاید اللہ چاہتا ہے کہ سوئی ہوئی امت جاگے، آپس میں جھگڑتی امت متحد ہو، کمزور امت سوچے اور منتشر قوتین یکجا ہوں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم آنسوؤں کے ساتھ ہمت بھی پیدا کریں، دعا کے ساتھ حکمتِ عمل بھی اپنائیں، عبادت کے ساتھ علم بھی حاصل کریں اور جذبات کے ساتھ منظم جدوجہد بھی کریں۔ اگر ہم نے یہ نہ کیا تو دیوارِ گریہ کے سامنے والی کہانی کل ہماری اپنی قوم کی داستانِ غم بن کر رہ جائے گی اور پھر تاریخ ہم سے ایک سخت سوال پوچھے گی:
"اے امتِ محمدیہ! تم نے اس سب کے جواب میں رونے کے سوا اور کیا کیا؟”
Comments are closed.