غزہ جنگ بندی معاہدہ تار تار
(حافظ)افتخاراحمدقادری
رابطہ:8954728623
iftikharahmadquadri@gmail.com
گزشتہ دنوں جب غزہ میں جنگ بندی کا اعلان ہوا تو دنیا کے مظلوم دلوں میں ایک لمحے کے لیے امید جاگی کہ شاید اب وہاں کے بچے سکھ کا سانس لیں گے، شاید اب کوئی ماں اپنے جگر گوشے کو خوف کی بجائے محبت سے گود میں سُلا سکے گی۔ مگر افسوس! یہ امید پھر سے خون میں نہا گئی اور اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر غزہ پر بمباری کر دی جس سے درجنوں رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، ملبے کے نیچے دبے 47 بچے اور 100 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔ وہ بچے جو کبھی اسکول نہیں جا پائے، جنہوں نے کبھی زندگی کی خوشی محسوس نہیں کی وہ دنیا سے چلے گئے محض اس جرم میں کہ وہ فلسطینی مسلمان تھے۔ دنیا خاموش ہے، عالمی ادارے تماشائی بنے ہوئے ہیں اور مسلم ممالک کی خاموشی تو گویا پتھروں سے بھی زیادہ سخت معلوم ہوتی ہے۔ کہاں ہیں وہ حکمران جو اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں انصاف و امن اور انسانیت کی دہائی دیتے ہیں؟ کیا ان کے دلوں میں اب کوئی چنگاری بھی باقی نہیں رہی؟ کیا یہ امتِ مسلمہ کا درد صرف تقریروں تک محدود ہو چکا ہے؟ غزہ کی گلیاں اب ویران نہیں بلکہ چیخوں سے گونج رہی ہیں۔ وہاں کی ماؤں کی فریادیں آسمان تک جا پہنچتی ہیں مگر زمین پر کوئی سننے والا نہیں۔ ایک وقت تھا جب ایک مسلمان کے خون پر پوری امت لرز اٹھتی تھی مگر آج ہزاروں بچوں کے خون سے زمین رنگین ہو جاتی ہے اور ہمارے ایوانوں میں سکوت چھایا رہتا ہے۔ یاد رکھیں! یہ خاموشی سب سے بڑا جرم ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"اگر وہ تم سے مدد طلب کریں دین کے معاملے میں تو تم پر ان کی مدد فرض ہے”۔ (الانفال: 72)
لیکن آج امتِ مسلمہ کے حکمران ایک دوسرے سے تجارتی معاہدوں میں تو سرگرم ہیں مگر مظلوموں کی مدد میں نہیں۔ دنیا کے طاقتور ممالک کے دوہرے معیار سب پر عیاں ہیں۔ یوکرین پر حملہ ہوا تو پوری دنیا چیخ اٹھی، فنڈز جاری ہوئے، امداد کے قافلے نکلے لیکن غزہ کے چھوٹے چھوٹے بچوں پر بم برسیں تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار بھی اپنی زبانیں دانتوں تلے دبائے بیٹھے ہیں۔ یہ امت اگر اب بھی نہ جاگی تو شاید کل یہ منظر اور زیادہ بھیانک ہوسکتا ہے۔ مسلم حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ وہ کب تک اپنی کرسیوں کی حفاظت کے لیے امت کے خون سے نظریں چرائیں گے؟ کب تک اسرائیل کی بربریت پر تشویش کے رسمی بیانات جاری کرتے رہیں گے؟ یہ وقت ہے کہ مسلم دنیا ایک آواز بن کر اٹھے ورنہ تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
"مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ظالم کے حوالے کرتا ہے۔” (صحیح البخاری:2442)
پھر یہ کیسا بھائی چارہ ہے جس میں ہم اپنے ہی بھائیوں کو ظالم کے سامنے بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں؟ دنیا کی عدالتیں اگر انصاف نہیں کر سکتیں تو کم از کم امتِ مسلمہ اپنی غیرتِ ایمانی کو تو جگائے۔ بیت المقدس کی گلیاں ہمیں پکار رہی ہیں، غزہ کے شہید بچے ہم سے سوال کر رہے ہیں کہ کیا مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟ اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، ظلم کے خلاف ایک آواز بنیں، اپنی خارجہ پالیسیوں کو ایمان کی بنیاد پر قائم کریں اور ظالم کو ظالم کہنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی تو کل ہماری نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب غزہ جل رہا تھا تو تم کہاں تھے؟ غزہ کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا خون ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے۔ یہ شہادتیں صرف فلسطین کی نہیں بلکہ پوری امت کے ضمیر کی گواہی ہیں۔ اے مسلم حکمرانوں! جاگو کیونکہ اب بھی وقت ہے ورنہ شاید کل وقت تمہارے لیے نہ بچے۔ یہ وقت ہے کہ ہم زخموں پر مرہم باندھنے سے آگے بڑھ کر سوال کریں۔ آخر کب تک انسانیت کا خون سیاسی مفادات کی تلوار تلے بہتا رہے گا؟
چند روز قبل ہی جس سوتیلی امن کی امید جگ اٹھی تھی جسے عالمی ثالثوں نے محسوس طور پر بروکر کیا تھا وہ امن کا اضطراری پردہ ایک رات میں پھٹ گیا جب غزہ پر ہوئے تازہ حملوں میں سَو کے قریب فلسطینی شہید ہوئے جن میں درجنوں بچے شامل تھے۔ یہ واقعہ اتفاق نہیں بلکہ اس کشمکش کی ایک تلخ کڑی ہے جس نے نہ صرف انسانی جانوں کو ہلاک کیا بلکہ اس دیرینہ زخم پر ایک نمک بھی چھڑک دیا۔ منظر یہ ہے کہ ایک عرصے سے جاری تعطل کے بعد دس اکتوبر کو طے شدہ عارضی جنگ بندی پر جو نازک امن نافذ ہوا تھا وہ چند ہفتوں میں ہی کمزور پڑ گیا اور اس کے نتیجے میں ہلاکتیں، بے گھر ہونا اور طبی سہولیات کا تباہ ہونا دو بارہ شدت اختیار کر گیا۔ امن کے محافظوں اور ثالثوں کی فورمز میں فریادیں اور دوطرفہ الزام تراشیاں جاری رہیں مگر سب سے زیادہ سب کی آنکھوں کے سامنے جو چیز ٹوٹ رہی تھی وہ کم سن بچوں کی زندگی تھی جو کبھی واپس نہ آئے گی۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ہر اعداد وشمار ایک نام، ایک گھر، ایک ماں، ایک باپ، ایک مستقبل کے ہی نام پر قلمبند ہوتا ہے۔ بچوں کی لاشیں، سرکاری صحت کے دفاتر کی رپورٹس اور امدادی تصویریں صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ یہ انسانی المیہ ہے جس نے ہماری اجتماعی ضمیر کو جھٹکا دینا چاہیے۔ اقوامِ عالم جب ایسے مناظر پر خموش ہو جاتی ہیں تو وہ خموشی کسی نیوٹرلٹی کی علامت نہیں رہتی بلکہ ایک خاموش مجرم کی طرح انصاف کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ عالمی برادری کی دوہری پالیسیوں نے مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے، ایک طرف بعض حکومتیں انسانی حقوق کی بات کرتی دکھائی دیتی ہیں اور دوسری طرف اسی طرزِ عمل کے زیرِ اثر چند قوتیں وہی قوانین اور روایات مخصوص حالات میں معطل کر دیتی ہیں۔ یہ تضاد دنیا کے انصاف کے نظام کو بدنام کر رہا ہے اور مظلوم کے لیے امید کے دروازے بند کر رہا ہے۔ مسلم اُمت کے نام مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ تاریخ ہمیں صبر، بردباری اور حکمت سکھاتی ہے مگر اس نے ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ ظلم کے خلاف خاموشی شرمندگی ہے۔ ہمارے دیوانوں، پارلیمانی فورمز، بین الاقوامی میدانوں میں بلند کی جانے والی تقریریں اگر صرف مٹھی بھر الفاظ اور بیانیہ اعتراض تک محدود رہیں تو وہ ایمان کی قوت کا اجزائے ناقص ہوں گی۔ وہ رہنما جو مشترکہ مفاد، تجارتی تعلقات یا سیاسی تحفظ کے نام پر مظلوم کی فریاد کو نظر انداز کریں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ نہ صرف ایک قوم بلکہ مکتبِ ایمان کی سطح پر بھی ان کے اعمال کا محاسبہ ہوگا۔ اس خاموشی کا وزن صرف اس وقت سمجھ میں آئے گا جب ہم جانیں گے کہ ہم نے کون سی بنیادیں آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑیں؟ اب وقت ہے عمل کا محض بیانات کا نہیں۔ مسلم ممالک کو اپنی خارجہ پالیسیوں میں اخلاقی اور انسانی اقدار کو مقدم رکھنا ہوگا۔ امدادی رسد کا مستقل اور مربوط نظام قائم کریں، انسانی سرحدوں پر ہمدردی کے فیصلے ترجیحی بنیادوں پر کریں اور بین الاقوامی فورمز میں متحدہ، دلیرانہ اور واضح موقف اختیار کریں۔ ایسا موقف جو صرف زبان تک محدود نہ رہے بلکہ عملی مدد، سیاسی دباؤ اور جب ضروری ہو تو بین الاقوامی قانون کے تحت حقیقی اقدامات تک بڑھ جائے۔ امت کو چاہیے کہ وہ ڈپلومیسی، اقتصادی اثرو رسوخ اور سفارتی تعلقات کو استعمال کر کے مظلوم کی آواز کو مستحکم کرے۔ اگر ہم نے اتحاد اور عزم دکھایا تو عالمی توازن میں تبدیلی ممکن ہے مگر تقسیم اور خاموشی سے صرف ظلم کو ہمت ملتی ہے اور آخر میں سیدھے لفظوں میں مسلم حکمرانوں کے نام ایک آواز کہ اے حکمرانو! کب تک کرسیوں کی حفاظت کو امت کی عظمت پر فوقیت دینی ہے؟ کب تک تجارتی معاہدے ادارتی ذمہ داریوں پر غالب رہیں گے؟ کیا تم نے وہی فرمانِ مصطفیٰ ﷺ بھلا دیا ہے جو ہمیں بادشاہت یا ذات کے بندھنوں سے اوپر اٹھ کر انسانوں کے خون کے دفاع کا حکم دیتا ہے؟ اگر آج تم نے انصاف کے لیے جو قدم اٹھانے ہیں وہ نہ اٹھائے تو کل تاریخ تمہیں مواخذہ کرے گی۔ غزہ کے بچے، ان کی مائیں اور باپ سب ہماری انسانیت کا پیمانہ ہیں۔ اب بھی وقت ہے جاگو، اپنی آواز بلند کرو اور ظلم کے خلاف ایک متحد اور عملی اقدام کرو ورنہ تاریخ اور آئندہ نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب غزہ جل رہا تھا تم کہاں تھے؟
* کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
رابطہ:8954728623
iftikharahmadquadri@gmail.com
Comments are closed.