بہار الیکشن میں سیاسی شعور اور خود اعتمادی کی ضرورت
سیف الاسلام مدنی
کانپور
بہار میں اسمبلی کے الیکشن بالکل قریب ہیں،سبھی پارٹیوں کی جانب سے وعدوں کا شور، نعروں کی گونج اور سیاسی بیانات کی ہلچل ہے،ماضی میں اسی طرح ہر الیکشن میں شمولیت اختیار کرکے عوام نے مختلف پارٹیوں کو وزارت کی کرسی عطاء کی ہے پارٹیاں جب انتخابات کے میدان میں ہوتی ہیں تو اکثر اچھی اور بھلی باتیں اپنے منچ سےاٹھاتی ہے ، مگر جب ووٹوں کی گنتی مکمل ہوتی ہے اور انتخابات کے نتیجہ منظر عام پر آتے ہیں تو اکثر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں انہیں صرف ووٹ بینک کے طور پر دیکھتی ہیں، نہ کہ ریاست کی ترقی میں برابر کے شریک شہریوں کے طور پر
بہار کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 17 فیصد ہے یعنی وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں اسی لئے بعض پارٹیاں خواص طور سے مسلم ووٹ پر منحصر ہوتی ہیں اور انکو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش میں رہتی ہیں اور مسلمان بھی آنکھ بند کرکے صرف دوسری سیاسی جماعتوں کی حریف بن کر ایک طرف ووٹ کرتے ہیں تقریباً ملکی سطح پر ہر جگہ یہی حالات ہیں ، لیکن اس کے باوجود ان کی سیاسی نمائندگی نہایت محدود اور اکثر علامتی نوعیت کی رہی ہے نہ انکی کوئی قدرو منزلت ہوتی ہے اور نہ ہی انکے مسائل پر بات کی جاتی ہے اسمبلی اور حکومت میں ان کا وجود ناہونے کے برابر ہے گزشتہ کئی انتخابات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ مسلمان ووٹرز نے عموماً کسی ایک بڑی پارٹی کو یکطرفہ ووٹ دیا، مگر اس کے باوجود ان کے تعلیمی، سماجی اور اقتصادی مسائل میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی تعلیم، روزگار انصاف اور ترقی کے میدان میں وہ آج بھی پسماندگی کے شکار ہیں
دوسری طرف ملک میں بڑھتی ہوئی انارکی نفرت کا ماحول عدم رواداری اور ہندو مسلم کے درمیان بغیر کسی خواص وجہ سے دوری بھی اہم مسئلہ بنتا جارہا ہے جس سے ہزاروں سالہ قدیم ہندوستانی تہذیب وثقافت کو بھی خطرات لاحق ہیں ایسے نازک ماحول میں الیکشن کا تجزیہ کرنا اور مناسب رخ اختیار کرنا انتہائی اہم اور ضروری بن جاتا ہے
دوسری جانب مسلمانوں کے اندر کمزور سیاسی حیثیت کی ایک بڑی وجہ ان کا عدم سیاسی شعور ہے اکثر ووٹر صرف جذبات کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں، پالیسی، کارکردگی یا عوامی مفاد کو نظرانداز کرتے۔ بلکہ یہ لکھنے میں تأمل نہیں کہ وہ کسی خواص پارٹی کے خلاف ووٹ کرنے کو ہی اپنا حق سمجھتے ہیں اس سے زیادہ انکی کوئی دور اندیشی نہیں یہ رویہ رفتہ رفتہ ایک غیر مؤثر سیاسی عادت میں تبدیل ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنی قوت فیصلہ اور مذاکراتی طاقت کھو بیٹھے ہیں،سیاست میں عزت اور اثر اسی کو ملتا ہے جو فیصلہ کن ہو، نہ کہ وہ جو ہمیشہ یقینی ووٹرکے طور پر جانا جائے
ملک اور ریاست دونوں سطحوں پر بدلتے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں اور اقلیتوں، کے اندر ایک نئی بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے اب یہ احساس مزید ہونا چاہئے کہ صرف کسی مخصوص جماعت یا چہرے پر اندھا اعتماد کرنے سے انصاف نہیں مل سکتا ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اپنے ووٹ کو ایک امانت سمجھیں اور اسے صرف ان امیدواروں کو دیں جو عوامی مفاد، انصاف، تعلیم اور روزگار کے ایجنڈے پر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اگر یہ بیداری حقیقی شعور میں ڈھل گئی تو بہار کی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی ممکن ہے ایسی سیاست جو نعروں کے بجائے کارکردگی، اور جذبات کے بجائے خدمت کی بنیاد پر کھڑی ہو
اور خواص طور سے مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اب اپنی سیاسی خود مختاری کی بنیاد ڈالیں،وہ یہ طے کریں کہ ووٹ کسی پارٹی یا لیڈر کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی مفاد اور اصولی ایجنڈے کے لیے دیا جائے یہ تبھی ممکن ہے جب ووٹر سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے امیدوار کی قابلیت، کردار اور عوامی خدمات کو دیکھے، نہ کہ صرف اس کے نعرے یا پارٹی کے رنگ کو
اس انتخاب میں مسلمانوں اور سبھی باشندگان بہار کے سامنے دو راستے ہیں ایک، پرانی روش پر چلتے ہوئے کسی ایک پارٹی پر بھروسہ کرنا جس کے نتائج بارہا مایوسی کی صورت میں سامنے آ چکے ہیں دوسرا، سیاسی شعور کے ساتھ فیصلہ کرنا، اپنی اجتماعی طاقت کو منظم کرنا، اور ایسے نمائندے کو چننا جو واقعی انصاف، ترقی اور امن کی سیاست کو آگے بڑھا سکے۔ اگر بہار کے مسلمان اس بار شعور و بصیرت کے ساتھ سیاسی فیصلہ کریں تو نہ صرف ان کی نمائندگی بہتر ہوگی بلکہ ریاست کی جمہوری سیاست بھی ایک نئے دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں اقتدار کا محور ذات اور مذہب نہیں بلکہ انصاف، برابری اور کارکردگی ہو۔
Comments are closed.