مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
پروفیسر محمد خالد، اے ایم یو میں فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین مقرر
علی گڑھ، 3 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جے این میڈیکل کالج کے شعبہ ریڈیو ڈائگنوسس کے پروفیسر محمد خالد کو فیکلٹی آف میڈیسن کا نیا ڈین مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی مدتِ کار 4 نومبر 2025 سے آئندہ دو سال ہوگی۔
پروفیسر خالد تین دہائیوں سے زیادہ کا تدریس و تحقیق کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ 1991 میں بطور کلینیکل رجسٹرار شعبہ ریڈیو ڈائگنوسس سے وابستہ ہوئے۔ وہ یکم جنوری 2009 سے اے ایم یو میں پروفیسرہیں۔ وہ ایم بی بی ایس، ایم ڈی (ریڈیو ڈائگنوسس) اور میڈیکل لیب ٹکنالوجی کے طلبہ کی تدریس و تربیت سے وابستہ ہیں۔
انہوں نے قومی و بین الاقوامی جرائد میں ساٹھ سے زائد تحقیقی مقالات شائع کیے ہیں، خصوصاً الٹراساؤنڈ اور سی ٹی امیجنگ کے شعبوں میں، جن میں باڈی امیجنگ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انھوں نے متعدد ریسرچ طلبہ کی رہنمائی کی ہے اور مختلف کانفرنسوں میں خطبات دئے ہیں۔
پروفیسر خالد نے تدریسی و تحقیقی خدمات کے ساتھ ساتھ انتظامی ذمہ داریاں بھی نبھائی ہیں۔ وہ اے ایم یو میں ڈپٹی پراکٹر رہ چکے ہیں۔ وہ انڈین کالج آف ریڈیولوجی اینڈ امیجنگ کے فیلو ہیں اور انڈین ریڈیولوجیکل اینڈ امیجنگ ایسوسی ایشن سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ڈاکٹر محمد فہد خرم، آئیکوپلاسٹ ٹرینی کمیٹی کے رکن مقرر
علی گڑھ، 3 نومبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ پلاسٹک سرجری کے چیئرمین ڈاکٹر محمد فہد خرم کو انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف پلاسٹک سرجری سوسائٹیز (آئیکوپلاسٹ) کے تحت قائم آئیکوپلاسٹ ٹرینی کمیٹی کا ممبر مقرر کیا گیا ہے۔
آئیکوپلاسٹ ٹرینی کمیٹی دنیا بھر کے ابھرتے ہوئے ماہرین اور اساتذہ پر مشتمل ایک معزز بین الاقوامی ادارہ ہے، جو پلاسٹک اور ری کنسٹرکٹیو سرجری کے شعبے میں عالمی اشتراک و تعاون، اختراع اور تعلیم کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے اور بالخصوص ٹرینیز کی پیشہ ورانہ ترقی اور تعلیمی تبادلے پر توجہ دیتا ہے۔
ڈاکٹر خرم کی اس کمیٹی میں شمولیت اُن کی تدریسی قیادت، سرجیکل تربیت اور بین الاقوامی سطح پر پلاسٹک سرجری کی تعلیم میں ان کی سرگرم شمولیت کا اعتراف ہے۔ اس سے قبل، ڈاکٹر خرم کو امریکہ کی سوسائٹی آف سرجیکل آنکولوجی (ایس ایس او) کی رکنیت بھی عطا کی گئی، جو کینسر کی سرجری سے متعلق تحقیق اور تعلیم کے فروغ میں ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔ سوسائٹی آف سرجیکل آنکولوجی دنیا کی معروف پیشہ ور تنظیموں میں سے ایک ہے، جو کثیرموضوعاتی کینسر علاج، تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو ملیالی ایسوسی ایشن نے کیرالہ کا یوم تاسیس منایا
علی گڑھ، 3 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں اے ایم یو ملیالی ایسوسی ایشن (اموما) نے شعبہ جدید ہندوستانی زبانوں کے ملیالم سیکشن کے اشتراک سے کیرالہ کا یوم تاسیس ”کیرالیئم“ کے عنوان سے منایا۔ یہ تقریب لائبریری کے کلچرل ہال میں منعقد ہوئی، جس میں طلبہ، اساتذہ اور مہمانان نے کیرالہ کی لسانی، فنی اور فکری وراثت کا جشن منایا۔
تقریب کا افتتاح اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے بحیثیت مہمانِ خصوصی کیا۔ انہوں نے کیرالہ کے عوام کو ان کی تعلیمی کامیابیوں، روشن خیالی اور سماجی ترقی کے جذبے پر سراہا اور کیرالہ کو سماجی ترقی اور انسانی فلاح کا نمونہ قرار دیا۔ انہوں نے طلبہ کو کیرالہ کی روایات کو فنونِ لطیفہ کے ذریعے پیش کرنے پر مبارکباد دی۔
اس موقع پر فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین، پروفیسر ٹی این ستیسن کو اے ایم یو میں 37 سالہ علمی خدمات کے اعتراف میں مہمان خصوصی کے بدست اعزاز سے نوازا گیا۔ پروفیسر ستیسن 1988 میں اے ایم یو کے شعبہ جدید ہندوستانی زبانوں سے وابستہ ہوئے۔ وہ شعبہ کے چیئرمین اور اے ایم یو سنٹر ملاپورم کے ڈائرکٹر بھی رہ چکے ہیں۔
پروگرام کا آغاز اے ایم یو ملیالی ایسوسی ایشن کے سکریٹری مسٹر سابتھ کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا۔ تنظیم کے صدر مسٹر عاشق نے ثقافتی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا اور اے ایم یو کی علمی و سماجی زندگی میں ملیالی برادری کے فعال کردار کو اجاگر کیا۔
ڈاکٹر سفینہ بیوی، مسٹر عبدالعزیز این پی اور مسٹر رافسل بابو سی وی نے بھی اظہار خیال کیا، جنہوں نے کیرالہ کی ادبی و فکری روایات اور ملیالم زبان کے ہندوستانی ثقافت پر دیرپا اثرات پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر مختلف ثقافتی پیشکش نے حاضرین کا دل موہ لیا۔ اس میں نادن پٹو (لوک نغمے)، اوپّنا، وٹّاپّٹو اور کلاسیکی رقص شامل تھے جس سے کیرالہ کے فنونِ لطیفہ سے لوگ روشناس اور محظوظ ہوئے۔ اے ایم یو ملیالی ایسوسی ایشن کی خازن مس عائشہ رابعہ نے آخر میں کلمات تشکر ادا کئے۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے تین طلبہ نے یو پی ایس سی جیو سائنٹسٹ امتحان 2025 میں کامیابی حاصل کی
علی گڑھ، 3 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ارضیات کے تین طلبہ نے اپنی محنت اور صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے یونین پبلک سروس کمیشن (یوپی ایس سی)، حکومتِ ہند کے زیرِ اہتمام منعقد کئے جانے والے کمبائنڈ جیو سائنٹسٹ امتحان 2025 میں کامیابی حاصل کی ہے۔
کامیاب امیدواروں میں مسٹر کمیل احمد (آل انڈیا رینک 7) شامل ہیں جن کا انتخاب جیولوجسٹ، گروپ اے کے طور پر ہوا ہے، جبکہ مس اسما معصوم (آل انڈیا رینک 17) اور مس اذکا عظمیٰ (آل انڈیا رینک 20) کا انتخاب سائنٹسٹ-بی (ہائیڈرو جیالوجی)، گروپ اے کے طور پر کیا گیا ہے۔ امیدواروں کو پری، مین اور انٹرویو کے مراحل سے گزرنا پڑا۔
شعبہ ارضیات کے چیئرمین پروفیسر راشد عمر نے کامیاب طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ان کی محنت، علمی امتیاز اور شعبہ کے اساتذہ کی مسلسل رہنمائی کا ثمرہ ہے۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر امجد علی رضوی جے این میڈیکل کالج، اے ایم یو کے پرنسپل اور سی ایم ایس کی ذمہ داری نبھائیں گے
علی گڑھ، 3 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سرجری کے پروفیسر سید امجد علی رضوی کو ان کی معمول کی ذمہ داریوں کے ساتھ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال کے پرنسپل اور چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (سی ایم ایس) کے عہدے کی ذمہ داری سپرد کی گئی ہے۔
پروفیسر رضوی 4 نومبر 2025 سے 16 دسمبر 2025 تک، اپنی سبکدوشی یا آئندہ احکامات تک، اس عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
٭٭٭٭٭٭
یو جی سی–مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر نے اے ایم یو کے 235 اسکولی اساتذہ کو تربیت فراہم کی
علی گڑھ، 3 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے یو جی سی–مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر (یوجی سی-ایم ایم ٹی ٹی سی) نے تین ہفتے کا آن لائن تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل کیا، جس میں اے ایم یو کے مختلف اسکولوں کے 235 اساتذہ کو جدید تدریسی طریق ہائے عمل کی تربیت دی گئی۔
اختتامی اور تقسیم اسناد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے ایم یو رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے شرکاء کو مبارکباد پیش کی اور بدلتے ہوئے تعلیمی رجحانات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”تعلیم و تدریس کے طریقے وقت کے ساتھ نمایاں طور پر تبدیل ہوئے ہیں، اس لیے جدید دور کے اساتذہ کو بھی ان تبدیلیوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔“ انہوں نے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کو معیاری تعلیم کی بنیاد قرار دیا۔
پروفیسر اسفر علی خان، ڈائریکٹر، اسکول ایجوکیشن، اے ایم یو نے اسکولی تعلیم میں درپیش نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اساتذہ کی باقاعدہ تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے فروغ کے تئیں پُرعزم ہے۔
ڈاکٹر فائزہ عباسی، پروگرام ڈائریکٹر، یو جی سی–ایم ایم ٹی ٹی سی نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے جذبے اور تدریسی معیار میں بہتری کے لیے کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اسکول ایجوکیشن ڈائریکٹریٹ کے فعال کردار کی بھی تعریف کی۔
اس موقع پر پروفیسر عاصم ظفرکو رجسٹرار کے عہدے پر تقرری کے لیے مبارکباد پیش کی گئی اور فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرامز میں ان کی طویل خدمات کا اعتراف کیا گیا۔
تربیتی پروگرام میں تین بنیادی موضوعات مؤثر تدریس (کوآرڈینیٹر: پروفیسر عاصم ظفر، شعبہ کمپیوٹر سائنس)،ابلاغی صلاحیتیں (کوآرڈینیٹر: پروفیسر سعید جمال، شعبہ تعلیم) اور انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹکنالوجی (کوآرڈینیٹر: پروفیسر ساجدالاسلام،شعبہ انگریزی) شامل تھے۔ شرکاء نے فیڈبیک سیشن میں اپنے تجربات بیان کئے۔ ڈاکٹر ثمینہ فاضلی، پرنسپل اے ایم یو اے بی کے اسکول اور ڈاکٹر سید فیض زیدی، سینئر سیکنڈری اسکول نے پروگرام کے ذریعے تدریسی معیار میں نمایاں بہتری کا ذکر کیا۔
شرکاء کو ان کے اداروں کے پرنسپلز کی جانب سے اسناد پیش کی گئیں۔ تقریب کی نظامت عبداللہ اسکول کے استاد مسٹر معراج الدین نے کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ ہندی کے زیر اہتمام ”معاصر ہندی ناول: وقت، سماج اور ثقافت کی مزاحمتی آواز“کے عنوان پر دو روزہ قومی سمینار کا آغاز
علی گڑھ، 3 نومبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ ہندی کے زیر اہتمام فیکلٹی آف آرٹس کے آڈیٹوریم میں ”معاصر ہندی ناول: وقت، سماج اور ثقافت کی مزاحمتی آواز“ موضوع پر دو روزہ قومی سمینار کا آغاز ہوا۔
افتتاحی اجلاس میں کنوینر پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ناول اور کہانیاں اپنے دور کے مسائل ہمارے سامنے لاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت کو سمجھنے کے لیے ماضی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ حال۔
سمینار کی ڈائریکٹر اور شعبہ ہندی کی صدر پروفیسر تسنیم سہیل نے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے کہا کہ معاصر ہندی ناول بغاوت نہیں بلکہ شعور کی بیداری میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادب تہذیب سے رابطہ کا قوی وسیلہ ہوتا ہے۔ انھوں نے پوسٹ ماڈرنزم سمیت دیگر تنقیدی اصطلاحات پر گفتگو کی اور اور مصنف سے زیادہ قاری کی مرکزیت پر زور دیا جو اپنے اعتبار سے کہانی سے معانی اخذ کرتا ہے۔ انھوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ بین الاقوامی ڈائسپورا پر ہندی میں بہت کم لکھا گیا ہے، اور جادوئی حقیقت نگاری (میجیکل ریئلزم) پر بھی چند ہی ناول ہیں۔
مشہور نقاد اور ادیب پروفیسر روہنی اگروال (مہارشی دیانند یونیورسٹی، روہتک) نے اپنے کلیدی خطبے میں کہا کہ ہمیں تاریخ کا شعور پیدا کرنا ہوگا اور اسی شعور کی روشنی میں ناول کو دیکھنا ہوگا کیونکہ وقت، سماج اور ثقافت دراصل اقتدار کی ساختیات سے پرورش پاتے ہیں اور اس میں تہہ در تہہ معانی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ معاصریت کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی عناصر کو سمجھنا ضروری ہے۔ جنگ پر مبنی ناولوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ناول جنگ کی ہولناکی کو تو پیش کرتے ہیں مگر اس کے اسباب کا جائزہ نہیں لیتے۔انہوں نے کہاکہ کہانی کا لطف حاصل کرنے اور اس کی معنویت کو سمجھنے کے لئے پہلے عقل و شعور کو بیدار کرنا ہوگا، ورنہ جذبات کو محسوس کیا جاسکے گا مگر معانی و مفاہیم واضح نہیں ہوسکیں گے، جن میں اختلاف و انحراف اور بغاوت کی لہریں پنہاں ہوتی ہیں۔
پروفیسر اگروال نے ہندوستان کی دانشورانہ روحانی فکر، عصری حاضر میں شہری بیانیے کی جگہ ثقافتی بیانیے کے ابھار،سماجی و ثقافتی تکثیریت سے صرفِ نظر، علم، عقیدہ اور رسوم و رواج، اقتدار، سیاست اور بالادستی کے مختلف ثقافتی و سیاسی تجربات اور ان کے پیچیدہ تعلقات پر گفتگو کی۔ انہوں نے ادیب اور نقاد کے لیے ان تصورات کی معنویت اور اہمیت پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔
پروفیسر شردھا سنگھ (کاشی ہندو یونیورسٹی، وارانسی) نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندی ناول نگاری کی ابتدا اور خواتین کی کہانی نویسی تقریباً ایک ہی وقت میں وجود میں آئیں۔ آج کی خواتین کی ناولوں میں جدید زندگی کی تمام پیچیدگیاں نظر آتی ہیں۔ انہوں نے آپ کا بنٹی، چت کوبرا، زندگی نامہ اور اے لڑکی جیسے ناولوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاصر ہندی ناول ماحولیات، فطرت اور سیاست جیسے مختلف موضوعات پر اپنی گہری نگاہ ڈالتا ہے۔
فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ٹی این ستھیسن نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ معاصر ناول اپنے اندر ثقافتی مزاحمت سموئے ہوئے ہے۔ ناول نے انسانی اخلاقی شعور کو بیدار کیا ہے۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ادب کا کام صرف تفریح فراہم کرنا اور منظرکشی کرنا نہیں بلکہ سماج کی حقیقتوں کو سامنے لانا ہے۔
پروگرام کی نظامت پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری نے کی، جبکہ شکریے کے کلمات پروفیسر محمد عاشق علی نے ادا کیے۔
اس موقع پرپروفیسر تسنیم سہیل کی ایک تصنیف کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ سیمینار میں اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔
Comments are closed.