مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
چندی گڑھ یونیورسٹی میں منعقدہ قومی کانفرنس برائے مصنوعی ذہانت میں اے ایم یو کے استاذ مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقررکے طور پر شامل
علی گڑھ، 6 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ جسمانی تعلیم کے ڈاکٹر محمد ارشد باری نے چندی گڑھ یونیورسٹی، پنجاب میں ا”آرٹیفیشیل انٹیلی جنس ایز اے کیٹیلسٹ فار چینج اِن ہیلتھ کیئر“ منعقدہ قومی کانفرنس میں مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر کی حیثیت سے شرکت کی۔
”اسمارٹ ٹیکنالوجی اینڈ آرٹیفیشیل انٹیلی جنس اں فزیکل ایجوکیشن ریسرچ“ عنوان سے اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر باری نے مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ ٹیکنالوجیز کے انقلابی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کس طرح ڈیٹا پر مبنی ایجادات اور کھیلوں کی سائنس اور جسمانی تعلیم کے میدان میں اے آئی تربیت، کارکردگی کے تجزیے اور صحت سے متعلق تحقیقی طریقوں کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں۔
اس دو روزہ قومی کانفرنس میں ملک بھر سے ممتاز اساتذہ، محققین اور صنعت سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ مختلف اجلاس میں مصنوعی ذہانت کے صحت، کھیلوں اور متعلقہ علوم میں بڑھتے ہوئے اطلاقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں یونیورسٹی ایکسٹینشن لیکچر کا انعقاد
علی گڑھ، 6 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں یونیورسٹی ایکسٹینشن لیکچر کا انعقاد عمل میں آیا جس میں بیان اسلامک گریجویٹ کالج، شکاگو (امریکہ) کے ریسرچ فیکلٹی ڈاکٹر آر ڈیوڈ کولج نے”نریٹِوس آف ڈِووشن: ٹووارڈز کراس کلچرل اینڈ انٹر ریلیجیئس ایکسپلوریشنس“ کے موضوع پر خطاب کیا۔
ڈاکٹر کولج نے عقیدت (ڈِووشن) کو ایک آفاقی انسانی تصور کے طور پر پیش کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ انسان اپنی محدود زندگی اور توانائی کو کائنات میں مفید بننے کے لیے کس طرح استعمال کرے۔ انہوں نے ہندو بھکتی روایت، خصوصاً وِرنْداون اور متھرا کے عقیدتی طریقوں کا مطالعہ پیش کیا اور بتایا کہ کس طرح یہ عمل انسان اور الوہیت کے درمیان تعلق استوار کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تقابلی مذاہب کے مطالعے سے معاشرتی ہم آہنگی اور بین المذاہب تفہیم کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر سعد محمد اسماعیل، بانی و مدیر پروجیکٹ نون نے مبصر کی حیثیت سے شرکت کی اور ڈاکٹر کولج کی کتاب ”ہندو بھکتی تھرو مسلم ّئیز: اسلام اینڈ چیتنیہ ویشنوِزم ان دی ٹونٹی فرسٹ سینچوری“ پر گفتگو کی، جس میں انہوں نے موضوع کے فکری اور ساختی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
لیکچر کی صدارت فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ٹی این ستیسن نے کی، جبکہ شعبہ کی صدر پروفیسر ثمینہ خان نے مہمان مقرر کا خیر مقدم کیا اور ان کا تعارف پیش کیا۔ صدرِ جلسہ نے ڈاکٹر کولج کے علمی کام کو مذہبیات کے میدان میں اہم اور منفرد قرار دیا۔
شرمین اجمل نے اظہارِ تشکر پیش کیا، جبکہ صائم رضا نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی ڈاکٹر شہنا علی اکیڈمک کالج آف ایمرجنسی ایکسپرٹس ان انڈیا کی فیلوشپ سے سرفراز
علی گڑھ، 6 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ اینستھیسیالوجی کی ڈاکٹر شہنا علی کو اکیڈمک کالج آف ایمرجنسی ایکسپرٹس ان انڈیا کی معزز فیلوشپ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز گیارہویں ورلڈ اکیڈمک کانگریس آف ایمرجنسی میڈیسن کے دوران اے جے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، منگلور میں دیا گیا۔
یہ فیلوشپ ایمرجنسی تیاری، شدید نگہداشت کی تعلیم، اور لائف سپورٹ تربیت میں نمایاں خدمات کے اعتراف کے طور پر دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر شہنا علی کا انتخاب اس بات کا مظہر ہے کہ وہ طبی ہنگامی خدمات اور کثیر الجہت طبی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مسلسل کوشاں رہی ہیں۔
یہ فیلوشپ جے این ایم سی میں ایمرجنسی کیئر نظام کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی، جس کے تحت سی پی آر، ٹراما مینجمنٹ، اور ریپڈ ریسپانس سسٹمز سے متعلق اعلیٰ تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
شعبہ کے چیئرمین پروفیسر حماد عثمانی نے ڈاکٹر شہنا علی کو اس کامیابی پر مبارک باد دی اور کہا کہ یہ اعزاز نہ صرف شعبہ کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ جے این ایم سی کے اس عزم کو بھی مضبوط کرتا ہے جو معیاری ایمرجنسی اور پیری آپریٹو نگہداشت کے فروغ پر مبنی ہے۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
جے این ایم سی کے شعبہ نیوروسرجری نے اینڈوسکوپک سرجری اور علمی کارکردگی میں نئے سنگِ میل قائم کیے
علی گڑھ، 6 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ نیوروسرجری نے اینڈوسکوپک نیوروسرجری اور علمی تربیت کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس شعبہ کی کامیابیوں کو یو پی–یو کے نیوروکان 2025 میں سراہا گیا، جہاں شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر رمن شرما کو نیوروسرجری کے فروغ میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر رمن شرما نے حال ہی میں ایک پیچیدہ برین اینیورزم کلپنگ سرجری کو مکمل طور پر اینڈوسکوپک ٹرانس نیزل اپروچ کے ذریعہ انجام دیا، جو ایک نایاب اور تکنیکی طور پر مشکل عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ شعبہ اینڈوسکوپک اسکل بیس سرجری کے میدان میں تیزی سے مہارت حاصل کر رہا ہے اور اب یہ خطے کے چند ایسے مراکز میں شامل ہے جہاں اینڈوسکوپک اسپائن سرجریز معمول کے مطابق انجام دی جاتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سپر اسپیشلٹی نیوروسرجری تربیتی پروگرام، جو دو سال قبل شروع کیا گیا تھا، اپنی پہلی مدت کے اختتام کے قریب ہے، اور اس کے تحت ایک اینڈوسکوپک اسپائن کانفرنس منعقد کرنے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے تاکہ عملی تربیت اور علمی تبادلہ کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
ڈاکٹر رمن شرما نے کہا کہ ”علی گڑھ اب جدید اینڈوسکوپک اسکل بیس سرجری کا مرکز بن چکا ہے اور ہم اپنے مریضوں کو اعلیٰ معیار کی خصوصی طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔“
شعبہ کے ریزیڈنٹ ڈاکٹر دیپک نے یو پی–یو کے نیوروکان 2025 میں اینڈوسکوپک پِٹیوٹری سرجری اینڈ وِزوئل آؤٹکم“ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کر کے دوسرا انعام حاصل کیا، اور اس سے قبل ایک قومی سطح کی کانفرنس میں بھی دوسرا مقام حاصل کیا۔
فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد نے شعبہ کی ترقی اور پیشہ ورانہ کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ پروفیسر امجد علی رضوی، پرنسپل جے این ایم سی، نے شعبہ کی مسلسل عمدہ کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے اسے کالج کی علمی اور طبی ساکھ کو مستحکم کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
آر ایم پی ایس اے ایم یو سٹی اسکول میں الیکٹورل لٹریسی کلب کا قیام
علی گڑھ، 6 نومبر: الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایت کے مطابق 18 تا 19 سال کے اہل نوجوانوں کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے اور ووٹنگ کی اہمیت کے سلسلے میں بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے آر ایم پی ایس اے ایم یو سٹی اسکول میں ایک خصوصی اسمبلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں الیکٹورل لٹریسی کلب کا باضابطہ قیام عمل میں آیا۔
اس اقدام کا مقصد طلبہ میں جمہوری اقدار کو فروغ دینا، انہیں اپنے حقِ رائے دہی سے آگاہ کرنا اور قومی جمہوری عمل میں ان کی فعال شرکت کو یقینی بنانا ہے۔
اس موقع پر اسکول کے پرنسپل سید تنویر نبی نے ووٹنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ووٹ دینا محض ایک حق نہیں بلکہ ایک قومی اور شہری ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے آئینِ ہند کے دیباچے کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ یہ انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت جیسے بنیادی قومی مقاصد کا عکاس ہے، جنہیں ہر شہری کو اپنی زندگی میں اپنانا چاہیے۔
سیاسیات کے استاد ڈاکٹر محمد رضوان عالم نے ووٹ کو ”جمہوریت کی روح“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر ووٹ ملک کے مستقبل کی سمت متعین کر سکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ووٹر رجسٹریشن اور انتخابی عمل سے واقف ہونے کی تلقین کی اور کہا کہ مؤثر شرکت ہی ایک متحرک جمہوریت کی بنیاد ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ نے عہد کیا کہ وہ خود کو ووٹر کے طور پر رجسٹر کرائیں گے اور دوسروں کو بھی اس قومی فریضے کی ترغیب دیں گے۔ پروگرام کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ ہوم سائنس میں طالبات کے لیے اورینٹیشن پروگرام کا انعقاد
علی گڑھ، 6 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز کے شعبہ ہوم سائنس میں اے ایم یو گرلز ہائی اسکول کی طالبات کے لیے ایک اورینٹیشن پروگرام منعقد کیا گیا، جس کا مقصد کمیونٹی سائنس (ہوم سائنس) کے دائرہ کار، اہمیت اور اس کے مختلف پیشہ ورانہ مواقع سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔ یہ پروگرام بی ایس سی کمیونٹی سائنس کی طالبات نے پروفیسر صبا خان (چیئرپرسن) اور ڈاکٹر حنا پروین (گَیسٹ فیکلٹی) کی نگرانی میں منعقد کیا گیا۔
اس موقع پر ایک اسکٹ اور انٹرایکٹو پریزنٹیشن پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ کمیونٹی سائنس زندگی کے معیار کو بہتر بنانے، صحت کو فروغ دینے، وسائل کے بہتر استعمال اور قومی ترقی میں کس طرح اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اس اسکٹ میں ہوم سائنس سے متعلق عام غلط فہمیوں کی اصلاح کرتے ہوئے اسے صرف گھریلو امور تک محدود تصور کرنے کے بجائے ایک کثیرالجہت، سائنسی اور پیشہ ورانہ شعبہ کے طور پر پیش کیا گیا جو سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم کے امتزاج سے فرد اور معاشرے کو بااختیار بناتا ہے۔
پروگرام کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس میں طالبات نے اس شعبہ میں تعلیمی و پیشہ ورانہ امکانات کے بارے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ اس موقع پر محترمہ مہر جبیں تمنا (ریسرچ اسکالر)، ریم ذوالفقار (ایم ایس سی، سال اول)، اور ارم فاطمہ و نوشین شان (بی ایس سی، چہارم سال) نے پروگرام کے انتظامات میں فعال کردار ادا کیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
پروفیسر عادل رضا شعبہ مائیکرو بایالوجی کے چیئرمین مقرر
علی گڑھ، 6 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے شعبہ مائیکرو بایالوجی میں پروفیسر عادل رضا کو تین سال کی مدت کے لیے چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تقرری 5 نومبر 2025 سے مؤثر ہوئی۔
پروفیسر عادل رضا طبّی تعلیم، تحقیق اور تشخیصی مائیکرو بایالوجی میں اپنی نمایاں خدمات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ 2023 سے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط تدریسی و کلینیکل تجربہ رکھتے ہیں۔
ان کے پاس 17 سالہ انڈرگریجویٹ اور 14 سالہ پوسٹ گریجویٹ تدریسی تجربہ ہے۔ انہوں نے قومی و بین الاقوامی جرائد میں 45 تحقیقی مضامین شائع کیے ہیں، جن میں 28 بین الاقوامی اور 17 قومی سطح کے ہیں۔ وہ 12 ایم ڈی طلبہ کی نگرانی کر چکے ہیں اور 2016 میں یوپی-یوکے ٹروپاکون ریاستی سطح کی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ علاوہ ازیں، وہ متعدد قومی و بین الاقوامی جرائد کے ریویوور بھی ہیں۔
پروفیسر عادل رضا کئی معروف پیشہ ورانہ انجمنوں کے تاحیات رکن ہیں، جن میں انڈین ایسوسی ایشن آف میڈیکل مائیکرو بایالوجسٹس (IAMM)، انڈین ایسوسی ایشن آف ٹراپیکل پیراسیٹولوجی (IATP) اور انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (IMA) شامل ہیں۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے آئی سی ٹی ای-وانی کی سرپرستی میں ”پائیدار ترقی کے لیے گرین انرجی ٹیکنالوجیز کا انضمام“کے موضوع پر ورکشاپ کا انعقاد
علی گڑھ، 6 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے زیر اہتمام اے آئی سی ٹی ای-وانی اسکیم کے تحت ”انٹیگریٹنگ گرین انرجی ٹیکنالوجیز فار سسٹینیبل ڈیولپمنٹ“ موضوع پر تین روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیاگیا۔ ورکشاپ کا مقصد گرین اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں علمی اشتراک، صلاحیت سازی اور معلوماتی تبادلے کو فروغ دینا تھا۔
افتتاحی اجلاس کے مہمانِ خصوصی انجینئر شہیدالحسن، چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر، نیو اینڈ نوبل انرجی تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں پائیدار ترقی اور توانائی کے تحفظ میں قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ شمسی توانائی، ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی، ہائیڈروجن انرجی سسٹمز اور اسمارٹ گرڈز جیسے جدید نظاموں کو ملک کی توانائی کے ڈھانچے میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔
شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے سربراہ پروفیسر یوسف الزماں خاں نے اے آئی سی ٹی ای وانی اسکیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے پیشہ ورانہ اداروں میں تحقیق، تعلیم اور بین الجامعاتی روابط کو تقویت ملی ہے۔
آرگنائزنگ چیئرمین، پروفیسر ابو طارق نے اے آئی سی ٹی ای اور یونیورسٹی انتظامیہ کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ ورکشاپ شعبہ کی اس مسلسل کوشش کا حصہ ہے جو پائیدار توانائی کے میدان میں علمی ترقی اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کی جا رہی ہے۔
پروگرام کوآرڈینیٹر، ڈاکٹر شیراز کرمانی نے بتایا کہ یہ پچھلے دو تعلیمی سیشنز میں شعبہ کی جانب سے منعقد ہونے والی تیسری ورکشاپ ہے، جو صاف توانائی کی تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینے کے عزم کی علامت ہے۔
ورکشاپ میں ماہرین کے لیکچرز اور مباحث شامل تھے، جن میں شمسی توانائی کے انضمام، توانائی کے ذخیرے، برقی نقل و حرکت، ہائیڈروجن توانائی، اور اسمارٹ گرڈ ٹیکنالوجیز جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔
اس میں این آئی ٹی سری نگر، جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی)، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کشمیر)، ڈی ٹی یو (دہلی ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی)، این ایس یو ٹی (نیتاجی سبھاش یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی)، اے ایم یو اور آس پاس کے کالجوں کے اساتذہ و طلبہ نے شرکت کی۔ اے آئی سی ٹی ای کے رہنما اصولوں کے مطابق، 50 شرکاء کو منتخب کیا گیا جن میں فیکلٹی ممبران، ریسرچ اسکالرز اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ شامل تھے۔
اختتامی اجلاس میں ڈاکٹر عادل سرور نے اظہارِ تشکر پیش کیا اور فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ڈین، زاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے پرنسپل، اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا جن کی شرکت سے یہ ورکشاپ کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
Comments are closed.