آؤ کہ بدل ڈالیں زمانہ کا مزاج
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
اس وقت پوری دنیا میں استعماری طاقتوں کا نشانہ مسلمان ہیں ، یہ صورت حال کم و بیش ہر دور میں رہی ہے اور ہر دور میں اس کے لئے ہمارے ہی دست و بازو کو استعمال کیا گیا ہے، ایران عراق جنگ ہو یا کویت پر قبضہ کی کہانی، معاملہ افغانستان، فلسطین، یمن کا ہو یا شام کا سب میں ہمیں ہی ایندھن بنایا گیا ، مغربی طاقتوں نے اپنے اسلحوں کے تجربات اور منڈی کے لئے مسلمان ملکوں کو آپس میں لڑایا ، بر بادی مکمل ہوگئی، تو ثالثی کے لیے میدان میں آگئے، اقوام متحدہ کو آڑ بنا کر اپنی توسیع پسندی کے جذبہ کو شاد کام کیا اور مسلم ملکوں کے سیال سونے پٹرول اور معدنیات کے بڑے حصے پر بالواسطہ یا بلا واسطہ قابض ہو گئے ۔ ایک چیز باقی رہ گئی تھی ، قرآن کریم تحریفات سے پاک اللہ کا آخری کلام ، اسے بھی بشار الاسد کے دور حکومت میں تحریف و ترمیم کی نا پاک کوشش کا مرکز بنایا گیا، ہمیں یقین ہے کہ اللہ اپنے کلام کی حفاظت کا ذمہ دار ہے، اس لیے بشار الاسد جیسے ہزاروں لوگ بھی مل کر قرآن کریم کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ، اور ماضی میں جس طرح دشمنان اسلام کی سازشیں ناکام ہوئیں اور قرآن کریم میں تحریف کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی ، اسی طرح یہ تحریک بھی ناکام ہوگی، دنیا نے دیکھ لیا کہ بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور اسے ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا ، اس یقین کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کی خبروں سے مسلمانوں کو دلی تکلیف ہوتی ہے، اور یہ اذیت ذہن و دماغ کو متأثر کرتی ہے، گذشتہ کئی دنوں سے برمنگھم یو کے میں قرآن کریم کے قدیم ترین نسخے کی دستیابی کا چرچا بھی زوروں پر ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے مندرجات کا کس قدر باریکی سے جائزہ لیا گیا ہے، البتہ اس کے کاغذ وغیرہ کی جانچ کے بعد جو تخمینی سال ذکر کیا جا رہا ہے اس کا حل نظر ہونا واضح ہے، اس لیے بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اس کے صحیح اور قدیم ترین نسخہ ہونے کا فیصلہ ابھی قبل از وقت ہوگا، میں جانتا ہوں کہ تخمینے ظنی ہوتے ہیں اور ان میں پچیس پچاس سال کا فرق ہونا بعید نہیں ہے ، لیکن جس قسم کی سازشیں ہو رہی ہیں اس میں اسلام مخالف طاقتیں دھوکہ دہی کے سارے حربے استعمال کر سکتی ہیں، اس لیے ہمیں حساس، باخبر اور ہوشیار رہنا چاہیے، ایسا انتہائی ضروری ہے، اسی طرح پوری دنیا میں مسلم تہذیب و ثقافت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ ہمارے بچے بچیاں اس رنگ اور کلچر میں رنگ جائیں، جس سے مغرب اب خود ہی نالاں ہے اور جس طرح ایک کہانی میں سارے ناک کٹوں کے بیچ میں ناک والے کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اس طرح ہماری بہترین تہذیب و ثقافت جو اکرام انسانیت کے عین مطابق ہے اس پر آواز کسے جاتے ہیں، فرانس اس معاملہ میں بہت آگے ہے، وہاں سب سے زیادہ سوالات حجاب پر اٹھائے جاتے ہیں، جو شرم وحیا کی بقاء کا بڑا ذریعہ ہے، اسکولوں میں داخلے اور یونی فارم کوڈ کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کیا جاتا رہا ہے ، اب ہندوستان میں بھی اس کی کوشش تیز ہے، امتحان کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے نام پر سر کھولوائے جا رہے ہیں ، اور امتحان یونیفارم کے پہننے کو کہا جا رہا ہے جو مذہبی اقدار کے خلاف ہیں۔ زد میں صرف مسلمان ہی نہیں دوسری اقلیتیں بھی ہیں، خیر سے عدلیہ نے بھی اس پر مہر لگادی ہے اور اپنے تبصرہ میں کہا ہے کہ ایک دن حجاب نہیں پہننے اور ٹوپی پگڑی نہیں باندھے سے عقیدہ خطرہ میں نہیں پڑتا ، یہ مذہبی تعلیمات سے ناواقفیت یا پھر جان کر انجان بنے کی کوشش ہے، ایمان ومعتقدات کے لیے ایک دن تو بہت ہے، یہ تو منٹوں میں ادھر سے ادھر ہو جاتا ہے، ایسے ہی ایک معاملہ میں جسٹس کاٹجو نے داڑھی پر تبصرہ کیا تھا اور بعد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی کی قیادت میں تحریک چلائی تھی اور مولانا نے انہیں سمجھا دیا تھا کہ یہ معاملہ اہم ہے، اور آپ کی سوچ اس سلسلے میں صحیح نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے معافی مانگ لی تھی اور مقد مہ دوسری بینچ کوٹرانسفر ہو گیا تھا ، یہ ٹھیک ہے کہ امتحانات میں بدعنوانی ہوتی رہی ہے اور ان چیزوں کا استعمال بھی کبھی اس کے لیے کسی نے کیا ہوگا لیکن یہ عجیب و غریب بات ہے کہ امتحانات میں بدعنوانی کے نام پر ان کے کپڑے اتار دیے جائیں ، ان کا سر کھولوا دیا جائے ، انہیں آدھے بانہہ کے کپڑے پہننے پر مجبور کیا جائے ، ان کے مذہبی یونی فارم ، کو اس نام پر اتر واد یا جائے۔ اس کو ہندوستانی آئین و دستور سے واقف کوئی بھی شخص درست نہیں کہہ سکتا، فاضل جج کی عظمت اپنی جگہ لیکن ایسے تبصروں سے بچنے کی ضرورت ہے، معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں، دستور میں دیے گیے اقلیتوں کے حقوق کا ہے، یہ دستور ہی ہے جس نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو بچا کر رکھا ہے اور اقلیتیں محسوس کرتی ہیں کہ عملی طور پر نہیں کم از کم دستوری طور پر ہم محفوظ ہیں، اگر دستور کے نفاذ سے متعلق ادارے کے فیصلے سے اس یقین کو زک پہونچی تو اقلیتوں پر عدم تحفظ کا احساس غالب ہو گا اور یہ کسی بھی حال میں ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے لیے ایک اور محاذ نسلی تعصب کا ہے، ذات برادری ، اور علاقائیت کے نام پر ان کو توڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، لسانی عصبیت بھی ابھارا جارہا ہے، حالانکہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں عظمت کی بنیاد تقویٰ کو قرار دیا ہے، جو اللہ سے زیادہ ڈرتا ہے وہ زیادہ مکرم ہے، ابو جہل، ابولہب ملعون قرار پائے اور حبشہ کے بلال ، روم کے صہیب اور فارس کے سلمان کرم و معزز ہوئے، اسی تقوی کی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی تمام بنیادوں کو اپنے پیروں تلے روندا اور اعلان فرمادیا کہ احمر کو اسود پر اسود کواحمر پر عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے، سوائے تقویٰ کے ، اس اصول پر مسلمان چلے تو مختلف ملکوں کی سرحدیں ان کے لئے منہدم ہوتی چلی گئیں ، اور اسلام کا جھنڈا ہر جگہ لہرانے لگا، ان عوامل کے ساتھ مسلمانوں کی توانائی کے منتشر ہونے کا ایک بڑا داخلی سبب مسلکی تعصب ہے، اغیار کی رسائی ان امور تک ہو گئی ہے کہ مسلمانوں کی طاقت کو کس طرح منتشر کیا جاسکتا ہے، اس لیے گذشتہ کچھ سالوں سے اس میں زیادہ شدت آگئی ہے حتی کہ مسلک کے نام پر قبرستان بھی الگ کیے جارہے ہیں، ایک مسجد میں دو دو جماعتیں ہورہی ہیں، کہیں اوقات بانٹ دیے گیے ہیں، نمازیوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ، جھگڑا آمین ، رفع یدین کا بھی ہے، اور صلاۃ وسلام کا بھی نماز نہیں پڑھتے لیکن جھگڑا نماز پڑھنے کے طریقے پر ہے، درود شریف نہیں پڑھتے لیکن درود شریف پڑھنے کے طریقے پر جھگڑا ہورہا ہے، یہ مسلمان خود ہی آپس میں دست وگر یباں ہیں، جہاں کبھی ایک جماعت ہوتی تھی اور سب مل کر نماز پڑھتے تھے، بے شعور مسلمانوں نے مسلک کے نام پر جماعت کو توڑنے کی مہم چلا رکھی ہے، بے شعوری اپنی ہے، لیکن اغیار نے پشت پر ہاتھ رکھا ہے کہ لڑو تم دو ہو تو کیا ہوا ، ہم تمہارے ساتھ ہیں، اور اس شہہ پر مسلمان لڑے، کٹے ، مرے جارہے ہیں، اور لوگوں کے لیے تماشہ بنے ہوئے ہیں ، شکوہ دوسروں کا کیا کریں ، گلہ اپنوں سے ہے، کہ وہ کیوں ان بنیادوں پر جھگڑے کرتے ہیں، فروعی مسائل عمل کرنے کے لئے ہیں تبلیغ کے لیے نہیں ، اس مسلکی تبلیغ کے نتیجے میں جو فتنے اٹھ رہے ہیں اور جس طرح مسجد و قبرستان کو اکھاڑہ بنایا جا رہا ہے، یہ افسوسناک ہے، اس سے ہماری اجتماعی قوت و طاقت منتشر ہو رہی ہے اور رعب ود بدبہ ختم ہوتا جا رہا ہے، جب ساری دنیا ان پر اس لیے یلغار کر رہی ہے کہ وہ محمد رسول اللہ کے نام لیوا ہیں، تو یہ اس نام پر لڑ رہے ہیں کہ تم دوسرے مسلک کے ہو، کافر، مشرک ہو، اغیار اس لیے مارتے ہیں کہ یہ مسلمان ہیں ، اور خود مسلمان ایک دوسرے کو کافر کہنے پر تلے ہوئے ہیں، سلام و مصافحہ تک جائز نہیں سمجھتے، وقت آگیا ہے کہ مسلمان ان جھگڑوں کو چھوڑ کر ایک امت ایک جماعت بن جائیں تبھی ان کی قوت بنے گی اور ان فتنوں سے ہوشیار ر ہیں جو ان کو بے وزن کرنے کے لیے مسلسل اور متواتر اٹھ رہے ہیں ۔
Comments are closed.