جمعہ نامہ: کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا؟

 

ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے:’’ ۰۰۰بتحقیق تمہارے پاس اللہ کی جانب سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے‘‘۔ قرآن مجید میں کتابِ الٰہی کا تعارف کراتے اس سراپا نور کا مقصدِخاص یہ بتایا گیا کہ :’’ اس کے ذریعے اللہ لوگوں کو امن و سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے‘‘۔ اس شاہ راہِ امن کے مسافروں کی یہ صفت بتائی گئی کہ : ’’وہ اس کی رضا کے طالب (ہوتے)ہیں‘‘۔اس نعمتِ عظمیٰ سے فیضیاب ہونے کی خاطر رضائے الٰہی کو اپنا مقصدِ حیات بنانا شرطِ اول ہے اور ایسے لوگوں پر رب کائنات یہ فضل فرماتا ہے کہ :’’ وہ اپنے اذن سے انہیں ظلمتوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور انہیں راہ راست کی رہنمائی فرماتا ہے‘‘۔ یعنی وہ توفیق الٰہی سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ دنیا میں امن و سلامتی کے صراطِ مستقیم پر چلنے والوں کویہ اخروی بشارت بھی دی گئی کہ :’’یہ قرآن یقینا اس راہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھی ہے اور ان مؤمنین کو جو نیک اعمال بجا لاتے ہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے‘‘۔ یعنی یہی قرآن عظیم دنیا و آخرت کی فلاح و کامیابی کا ضامن ہے۔

تلسی پیٹھا دھیشور جگت گرو رام بھدرا چاریہ کا میڈیا میں بڑا چرچا ہے ۔ مودی سرکار کے ذریعہ قومی اعزاز یافتہ ہونے کے باوجو د پچھلے سال انہوں نے آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کی بابت کہہ دیاکہ وہ ہندو مذہبی صحیفوں کاعلم نہیں رکھتے۔ موصوف نے پچھلے دنوں یوپی کے فتح پور میں جگناتھ مندر کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے اپنی قوم کو عار دلاتے ہوئے بولے کہ آج کے حالات میں ہمارے بچوں کو اپنے وید، شاستر اور دھر گرنتھوں(مذہبی صحیفوں) کا نام تک نہیں پتہ جبکہ مسلم معاشرے کا بچہ بچہ قرآن پڑھتا ہے۔ یہ ایک سچائی ہے کہ ان دگر گوں حالات میں بھی ہر مسلم ماں باپ اپنے بچوں کو قرآن مجید کی تلاوت سے آراستہ کرتےہیں اور اب تو قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے اور اس کے مطابق اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو ڈھالنے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا۔ الحمدللہ نئی نسل تو سوشیل میڈیا کے ذریعہ بھی اس ضرورت کو پورا کرنے کی سعادت حاصل کررہی ہے۔

مسلمانوں کو بار بار عار دلانے کے لیے آر ایس ایس کی مثال دی جاتی ہے اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ ہندو راشٹر‘ کے کٹر حامی سوامی بھدرا چاریہ تک ملت کی کس خوبی پررشک کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کتابِ ہدایت سے مسلمانوں عقیدت و محبت کے سبب کوئی ردعمل نہیں ہے۔ وہ اس اعلان فرقانی پر لبیک کہتے ہیں کہ:’’اے لوگو! تمہارے پروردگار کی طرف سے یہ قرآن تمہارے پاس نصیحت اور تمہارے دلوں کی بیماری کے لیے شفا اور مؤمنین کے لیے ہدایت و رحمت بن کر آیا ہے‘‘۔مسلمانوں کے ساتھ اس آیت کی مخاطب جگت گرو بھدراچاریہ سمیت پوری بنی نوعِ آدم ہے۔ قرآن کو ہدایت عام ہے اس کے علم برہمن جیسے کسی طبقے تک محدود نہیں ہے۔ اس کو سننے پر شودر جیسے کسی طبقہ کے کانوں سیسہ پگھلا کر ڈالنے کی سزا تجویز نہیں کی جاتی بلکہ بلا تفریق مذہب و ملت سب تک اسے پہنچایا جاتا ہے۔

ہندوتوا کے مذہبی رہنماوں نے خود اپنے سماج کے ایک بڑے حصے کو اپنے صحیفوں سے دورکردیا ہوگیا اور اب تو برہمن بچوں کی ان تعلیمات میں دلچسپی ختم ہوگئی کیونکہ عدل و مساوات کے بجائے ذات پات کی تفریق و امتیاز کرنے والی وہ تعلیمات اب ناقابلِ عمل ہیں ۔ سرسنگھ چالک بھی اس پر تنقید کریں تو جگت گرو بھدرا چاریہ جیسے لوگ ان کے پیچھے پڑجاتے ہیں ایسے میں ان تعلیمات اور مذہبی کتب کے بارے میں بچے کیوں جانیں؟مذکورہ بالا آیت میں قرآن مجید کی نصیحت اور دلوں کی بیماری کے شفا کو عام بتایا گیا یعنی ہر کس و ناکس نہ صرف اس کی روشنی میں راہِ ہدایت کو تلاش کرکے اس پر گامزن ہوسکتا ہے بلکہ اپنے قلبی خلجان مثلاًبے چینی (ڈپریشن) جیسے نفسیاتی مسائل سے چھٹکارہ پاسکتا ہے نیز اگرکوئی اس کے کتابِ حق ہونے پر ایمان لے آئے تب تو وہ اس کے لیے دنیا و آخرت میں ہدایت و رحمت بن جاتی ہے.

قرآن مجید کی نعمت و نصیحت کے حکمت و موعظت سے لبریز ہونے کی شہادت اس طرح دی گئی کہ :’’اور اللہ نے تمہیں جو نعمت عطا کی ہے اسے یاد رکھو اور (یہ بھی) یاد رکھو کہ تمہاری نصیحت کے لیے اس نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی‘‘ نیز اس سے کما حقہُ استفادے کے تقویٰ و خداترسی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا گیا :’’یہ (عام) لوگوں کے لیے ایک واضح بیان ہے اور اہل تقویٰ کی خاطر ہدایت و نصیحت ہے‘‘۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا:’’یہ قرآن لوگوں کے لیے بصیرت افروز اور یقین رکھنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے‘‘۔ اہل ایمان کے اندر قرآن سے عشق کی ایک وجہ اس کلام کا بے مثل ہونا بھی ہے۔ فرمانِ قرآنی ہے:’’کہہ دیجیے: اگر انسان اور جن سب مل کر اس قرآن کی مثل لانے کی کوشش کریں تو وہ اس کی مثل نہیں لا سکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں‘‘۔ یہ ایک ایسا کلام ہے کہ اس سمجھنے ، عمل کرنے اور غالب کرنے کی جدوجہد سے علیٰ الرغم صرف پڑھنا اور سننا تک وجد آفریں ہے۔

اہل ایمان اسے اپنے سینے میں محفوظ کرنے پر فخر کرتے ہیں ابھی پچھلے دنوں راجستھان میں فتح پور ضلع کے بھینچری گاؤں میں جب عرفان خاں حفظ قرآن مکمل کرکے پہلی بار گاؤں میں آیا تو نہ صرف اس کا شاہانہ خیر مقدم کیاگیا بلکہ اسے چچا فاروق خاں نے آئی فون، لینڈ روور ڈیفینڈر گاڑی اور فلیٹ کا تحفہ دیا۔ عرفان خاں کویہ عزت وتکریم قرآن مجید کے سبب حاصل ہوئی اور وہ اس کا مستحق بھی ہے کیونکہ نبیٔ کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:”کلام خدا کو دوسرے کلاموں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو خود اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق پر۔‘‘اس کے ساتھ یہ خوشخبری بھی ہے کہ :’’جو کتاب اللہ کے ایک حرف کی تلاوت کرے، اسے ایک نیکی کا ثواب دیا جائے گا اور ایک نیکی کا دس گنا ثواب ہوتا ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے‘‘۔ اس جہان فانی میں امت مسلمہ کے عروج و زوال کا دارومدار بھی اس کتاب حق کے ساتھ وابستگی پر ہےاسی لیے علامہ اقبال فرماتے ہیں؎

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوک

 

Comments are closed.