مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
امریکہ میں اے ایم یو کی وائس چانسلر کا تعلیمی و تحقیقی دورہ اختتام پذیر: عالمی تعاون اور سابق طلبہ کے تعلقات کو نئی جہت
علی گڑھ، 7 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے امریکہ کے مختلف شہروں کے تعلیمی و سماجی اداروں کے دورے کیے تاکہ یونیورسٹی کے علمی و تحقیقی روابط کو مضبوط بنایا جا سکے اور سابق طلبہ کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔
پروفیسر نعیمہ خاتون نے واشنگٹن ڈی سی میں‘فیڈریشن آف علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشنز’(ایف اے اے اے) کے 24ویں سالانہ اجلاس اور‘علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن واشنگٹن ڈی سی’(اے اے اے ڈی سی) کی گولڈن جوبلی تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اے ایم یو اب ہندوستان کی اولین دس یونیورسٹیوں میں شامل ہے، جو اس کی علمی برتری، شمولیت اور جدت پسندی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمارے ابنائے قدیم سر سید کے اس پیغام کے زندہ پیکر ہیں جس میں تعلیم کو اتحاد اور روشنی کا وسیلہ بنایا گیا۔“
اٹلانٹا میں اپنے قیام کے دوران پروفیسر خطیب کو جارجیا اسٹیٹ سنیٹ کی طرف سے اعلیٰ تعلیمی خدمات اور قائدانہ کردار کے لیے سرکاری طور پر اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ سنیٹر شیخ رحمان نے انہیں ’توصیفی سند‘ پیش کیا۔ انہوں نے جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پروفیسر مشتاق احمد اور پروفیسر رگھوپتی شِوکمار سے ملاقات کی اور تعلیمی و سائنسی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بھارتی قونصل جنرل مسٹر رمیش بابو لکشمنن سے بھی ملاقات کی جنہوں نے اے ایم یو کے تعلیمی کردار کی تعریف کی۔
واشنگٹن ڈی سی میں‘علی گڑھ میڈیکل المنائی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ’(امانا) کے چھٹے اجلاس میں پروفیسر خاتون مہمانِ خصوصی تھیں، جہاں جے این میڈیکل کالج میں ’کینسر سینٹر‘ کے قیام پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ منصوبہ صرف سائنسی ترقی نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا استعارہ ہے۔“
نیو یارک میں پروفیسر خاتون نے‘اسٹونی بروک یونیورسٹی’کے‘رینیساں اسکول آف میڈیسن’کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایرن سیسن اور دیگر ماہرین سے ملاقات کی اور تحقیقی اشتراک پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے‘سٹی یونیورسٹی آف نیویارک’اور‘علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن آف نیویارک’(اے اے اے این وائی) کے مشترکہ پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ”تحقیق اور انسان دوستی کا حسین امتزاج ہے۔“
پروفیسر نعیمہ خاتون کا یہ دورہ یونیورسٹی کی علمی روایت اور اس کے عالمی تشخص کا مظہر ہے۔ ان کی ملاقاتوں اور اعزازات نے جامعہ کے علمی وقار کو مزید بلند کیا اور سائنسی، تکنیکی و طبی میدان میں تعاون کے نئے دروازے کھولے۔
یونیورسٹی کے افسر رابطہ عامہ مسٹر عمر پیرزادہ ان تمام تقاریب اور نشستوں میں موجود رہے۔
ئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے جے این میڈیکل کالج میں ہارٹ اٹیک سے ہونے والے نقصانات کی روک تھام اور فوری علاج پر دو روزہ تربیتی پروگرام کا آغاز
علی گڑھ، 7 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) کے آڈیٹوریم میں دو روزہ تربیتی پروگرام کا آغاز ہوا، جس کا مقصد ایس ٹی ایلیویشن مایوکارڈیل انفارکشن (STEMI) یعنی شدید نوعیت کے دل کے دورے سے ہونے والے صحتی نقصانات کی روک تھام اور متاثرہ مریضوں کو بروقت علاج فراہم کرنا ہے۔ یہ پروگرام شعبہ امراضِ قلب (کارڈیالوجی) کے زیرِ اہتمام منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں علی گڑھ اور اس کے اطراف کے سات اضلاع سے معالجین، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر ماہرین صحت شرکت کر رہے ہیں۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ عصرِ حاضر میں دل کے امراض تیزی سے ایک بڑی صحتی تشویش کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر متحرک طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ اور غیر متوازن خوراک کے باعث نہ صرف بزرگ بلکہ نوجوان بھی امراضِ قلب میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ پروفیسر خاتون نے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام بنیادی طبی مراکز، خصوصاً دیہی علاقوں کے صحتی کارکنوں کو دل کے دورے کی ابتدائی علامات پہچاننے اور مریضوں کو فوری طور پر جے این میڈیکل کالج ریفر کرنے میں مدد دے گا۔
محکمہ صحت و خاندانی بہبود، لکھنو کے جوائنٹ ڈائریکٹر (ٹریننگ) نے بتایا کہ آبادی میں اضافے اور دل کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر ریاستی حکومت نے ہارٹ ایس ٹی ای ایم آئی کیئر نیٹ ورک کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ جے این میڈیکل کالج اس نیٹ ورک کا آٹھواں ”ہب سینٹر“ ہے، جب کہ ریاست بھر میں 12 مراکز نامزد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 35 اضلاع اور 250 مراکز میں ای سی جی کی جانچ کی گئی، جن میں 36,803 مشتبہ مریضوں میں سے 882 کیسز ایس ٹی ای ایم آئی کے پائے گئے، جن میں 462 مریضوں کو تھرومبولائسز (خون کے لوتھڑے تحلیل کرنے) کا علاج دے کر متعلقہ مراکز کو بھیجا گیا۔ انہوں نے سرکاری اسپتالوں میں ماہر امراضِ قلب کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تربیتی پروگرام دیہی علاقوں میں بروقت تشخیص اور ریفرل کے نظام کو مضبوط بنائیں گے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر موہن جھا نے بتایا کہ پہلے دن علی گڑھ، بدایوں اور بریلی کے طبی افسران اور ہیلتھ ورکرز کو تربیت دی گئی، جب کہ دوسرے دن گوتم بدھ نگر، کاس گنج، سنبھل اور بلند شہر کے ماہرین کو شامل کیا جائے گا۔
ڈین فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر محمد خالد نے کہا کہ یہ پروگرام ان علاقوں میں جہاں طبی سہولیات محدود ہیں، امراضِ قلب کے علاج تک رسائی میں نمایاں بہتری لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مراکز میں تربیت یافتہ عملہ اب دل کے دورے کی فوری تشخیص کر کے مریضوں کو جے این میڈیکل کالج ریفر کر سکے گا تاکہ انہیں تھرومبولائسز اور جدید علاج فراہم کیا جا سکے۔
جے این میڈیکل کالج کے پرنسپل و چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر امجد علی رضوی نے اس اقدام پر ریاستی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جے این ایم سی کے ڈاکٹروں کی لگن اور خدمتِ خلق کے جذبے کو سراہا۔
چیف میڈیکل آفیسر، علی گڑھ ڈاکٹر نیرج تیاگی نے کہا کہ یہ پروگرام دیہی علاقوں میں دل کے دورے کے مریضوں کو بروقت علاج فراہم کر کے قیمتی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
شعبہ امراضِ قلب کے سربراہ پروفیسر آصف حسن نے بتایا کہ اس نئے نظام کے تحت تمام ایس ٹی ای ایم آئی مریض، جو شدید نوعیت کے دل کے دورے میں مبتلا ہوں،کو 90 منٹ کے اندر جے این میڈیکل کالج پہنچا کر پرائمری انجیوپلاسٹی کرائی جا سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھرومبولائٹک تھراپی (خون کے لوتھڑے تحلیل کرنے والی دوائیں) مریض کے سفر کے دوران یا قریبی اسپتالوں میں بھی دی جا سکتی ہیں۔ تربیت میں ای سی جی کی تشریح، سی پی آر، اور ہنگامی دواؤں کے استعمال پر عملی مشقیں بھی شامل ہیں۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر محمد معاذ قدوائی نے کی، جب کہ مختلف اضلاع سے 100 سے زائد شرکاء نے تربیتی نشست میں شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ عربی میں ”مقالاتِ شیروانی“ کا اجرا
علی گڑھ، 7 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی کی جانب سے ”مجموعہ مقالات“ اور ”مقالاتِ شیروانی“ کی رسمِ اجرا کی تقریب منعقد ہوئی۔ یہ مجموعہ نواب صدر یار جنگ مولانا محمد حبیب الرحمٰن خاں شیروانی کی حیات و خدمات پر لکھے گئے علمی مقالات پر مشتمل ہے، جو نومبر 2023 میں ایک قومی سمینار کے دوران پیش کیے گئے تھے۔ اس موقع پر ممتاز عربی مجلہ ”المجمع العلمی العربی الہندی“ کا تازہ شمارہ بھی جاری کیا گیا۔
ان اشاعتوں کی ادارت پروفیسر محمد ثناء اللہ ندوی، چیئرمین شعبہ عربی، اور ڈاکٹر فخرِ عالم ندوی نے انجام دی۔ تقریب کی صدارت معروف محقق پروفیسر حکیم سید ظل الرحمن نے کی، جب کہ مہمانانِ خصوصی میں پروفیسر محمد نعمان خاں (دہلی یونیورسٹی)، پروفیسر محمد قطب الدین (جے این یو) اور مولانا ابو سحبان ندوی (دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنو) شامل تھے۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر حکیم سید ظل الرحمن نے مرتبین اور شعبہ عربی کو اس بامعنی پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد دی اور اسے ایک قابلِ تقلید عالم اور شریف النفس شخصیت کو خراجِ عقیدت قرار دیا۔ انہوں نے مرتبین کی علمی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ نواب صدر یار جنگ اور ان کے خانوادے پر تحقیقی کام مستقبل میں بھی اہلِ علم کے لیے تحریک کا باعث بنے گا۔
پروفیسر محمد قطب الدین نے اپنے خطاب میں مولانا شیروانی کی فکری میراث اور ہندوستان میں عربی علوم کی ترقی میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ”المجمع العلمی العربی الہندی“ کے علمی و تنقیدی معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس مجلہ نے عربی و اسلامی تحقیق کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
مولانا ابو سحبان ندوی نے نواب صدر یار جنگ کی علمی و تعلیمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے شیروانی خاندان کو ان کی طویل علمی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اشاعتیں برصغیر اور عرب کے فکری و علمی رشتوں کی تفہیم میں گرانقدر اضافہ ہیں۔
پروفیسر محمد نعمان خاں نے شیروانی خاندان کی خواتین کی علمی و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی اور زور دیا کہ ان کے کارناموں کو بھی نمایاں طور پر سامنے لایا جائے۔
پروفیسر سید کفیل احمد قاسمی نے نواب شیروانی کے عربی، اردو اور فارسی مضامین کو یکجا کر کے شائع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مضامین ادبی اور تاریخی دونوں لحاظ سے اہم ہیں۔
نواب صدر یار جنگ کے خانوادے کے رکن ڈاکٹر مدیح الرحمٰن صہیب نے پروفیسر محمد ثناء اللہ ندوی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے یہ علمی تقریب منعقد کی۔ انہوں نے ڈاکٹر فخرِ عالم ندوی کی علمی لگن، دیانت اور ادبی وابستگی کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی علمی سرگرمیوں میں فعال رہیں گے۔
مرتب ڈاکٹر فخرِ عالم ندوی نے کتاب کے مواد اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس علمی منصوبے پر کام کرنے کے موقع پر مسرت کا اظہار کیا۔ پروفیسر تسنیم کوثر قریشی نے کتاب کا تعارف پیش کیا، جب کہ ڈاکٹر راحت ابرار نے مولانا حبیب الرحمٰن خاں شیروانی کی علمی حیثیت کے تناظر میں ”مقالاتِ شیروانی“ پر گفتگو کی۔
اختتامی کلمات میں چیئرمین شعبہ عربی پروفیسر محمد ثناء اللہ ندوی نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا، شعبہ کی سرگرمیوں کا مختصر جائزہ پیش کیا، اور تمام شرکاء و معاونین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیکلٹی آف آرٹس کے تحت شعبہ عربی مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
تقریب کا اختتام پروفیسر فیضان بیگ کے شکریہ کے کلمات پر ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عرفات ظفر نے انجام دیے۔
اس موقع پر یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے اساتذہ، محققین اور طلبہ نے شرکت کی، جس سے عربی علوم اور ثقافتی مطالعات کے فروغ کے لیے اے ایم یو کی مسلسل وابستگی نمایاں طور پر ظاہر ہوئی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو گرلز اسکول میں تقسیمِ انعامات اور یومِ سر سید کی تقریب
علی گڑھ، 7 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گرلز اسکول میں تعلیمی سال 2023–24 اور 2024–25 کے دوران نمایاں تعلیمی و ہم نصابی کارکردگی دکھانے والی طالبات کے اعزاز میں تقسیمِ انعامات اور یومِ سر سید کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
مہمانِ خصوصی شعبہ انگریزی کی پروفیسر وبھا شرما نے اپنے کلیدی خطاب میں طالبات کو مطالعہ کی عادت اپنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ کتابیں ہمیں ماضی سے جوڑتی اور مستقبل کی تشکیل کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی انفرادیت انسان کے کردار اور اخلاق میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے سر سید احمد خاں کی تعلیمی فکر اور قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کے درمیان مماثلت بیان کی جو ہمہ جہت ترقی پر زور دیتی ہے۔
مہمانِ اعزازی شعبہ تعلیم کی پروفیسر انیس جہاں نے طالبات کو مختلف مقابلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی اور کہا کہ اس سے اعتماد، صبر و استقلال اور ٹیم ورک کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
خصوصی مہمان، شعبہ جغرافیہ کی پروفیسر صالحہ جمال (اسسٹنٹ ڈائریکٹر، اے ایم یو گرلز اسکول) نے کہا کہ ”یومِ سر سید“ صرف سر سید احمد خاں کی سالگرہ کی یاد نہیں بلکہ علم، موقع اور سماجی اصلاح کا جشن ہے۔ انہوں نے سر سید کی تعلیمات میں کردار سازی، تہذیبی نکھار اور رواداری و احترام کی اقدار پر زور دیا۔
قبل ازیں، پرنسپل محترمہ آمنہ ملک نے اپنے استقبالیہ خطاب میں انعام یافتہ طالبات کو مبارکباد دی اور سر سید کے اصولوں پر عمل پیرا رہنے، نظم و ضبط اور ہر میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے کی تلقین کی۔
تقریب کے ثقافتی پروگرام میں دسویں جماعت کی طالبات نے سر سید احمد خاں کی حیات و خدمات پر مبنی ایک تمثیلی خاکہ پیش کیا، جس کے بعد سر سید پر منظوم کلام اور اسکول ترانہ پیش کیا گیا۔
تقریب کی نمایاں خصوصیت بین المدارس کوئز مقابلے کے نتائج تھے، جس میں اے ایم یو گرلز اسکول کی رضوانہ ناز نے پہلا انعام حاصل کیا، جب کہ اسی اسکول کی صدف فاطمہ اور سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول کے سید ابرار احمد نے مشترکہ طور پر دوسرا انعام جیتا۔ سینئر سیکنڈری اسکول (گرلز) کی صنوبَر یاسمین اور ایس ٹی ایس اسکول کے امان شہزاد نے مشترکہ طور پر تیسرا انعام حاصل کیا، جب کہ ایس ٹی ایس اسکول کے پردیومن یادو کو ترغیبی انعام دیا گیا۔
اس موقع پر سالانہ انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔ سیشن 2023–24 کے لیے ”پاپا میاں پدم بھوشن (بیسٹ گرل) ایوارڈ“ مس طیّبہ فاطمہ مظہر (درجہ دہم۔ آرٹس) اور مس بھاویا سکسینہ (درجہ دہم۔ ڈی) کو دیا گیا، جب کہ سیشن 2024–25 کے لیے یہی ایوارڈ مس رمشہ ظفر خاں (بارہویں درجہ۔ آرٹس) اور مس اقصیٰ اطہر (درجہ دہم۔ ای) کو ملا۔ ”ایم جے حیدر ایوارڈ“ 2023–24 کے لیے مس اقصیٰ اطہر (درجہ نہم۔ ای) اور 2024–25 کے لیے مس یسریٰ (درجہ نہم۔ ڈی) کو عطا کیا گیا۔
نائب پرنسپل محترمہ الکا اگروال نے شکریہ کے کلمات ادا کیے۔ تقریب کی نظامت محترمہ عرشی ظفر خاں (ثقافتی کوآرڈینیٹر) نے انجام دی، جب کہ محترمہ زیبا نواز نے معاونت کی۔
٭٭٭٭٭٭
جے۔ این۔ میڈیکل کالج، اے ایم یو میں ورلڈ برنز ویک 2025 آگاہی اور ہمدردی کے ساتھ منایا گیا
علی گڑھ، 7 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لال نہرو میڈیکل کالج کے پلاسٹک سرجری شعبہ کے زیر اہتمام 3 تا 7 نومبر ”ورلڈ برنز ویک 2025“ کے عنوان سے ایک ہفتہ پر مشتمل تقریبات منعقد کی گئیں، جس کا موضوع تھا”جلنے سے صحت یابی تک: بچاؤ ہی اصل کلید ہے“۔ اس پروگرام کا مقصد آگ لگنے کے واقعات کی روک تھام، ابتدائی علاج اور متاثرین کی مکمل بحالی کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔
افتتاحی تقریب میں پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خاں نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے شعبہ پلاسٹک سرجری کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جلنے سے پیدا ہونے والے زخموں سے متعلق آگاہی نہایت اہم ہے اور خاص طور پر خواتین اور بچوں جیسے حساس طبقات کے تحفظ کے لیے معاشرتی ہمدردی اور عوامی تعاون لازمی ہے۔
ڈین فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر محمد خالد نے پلاسٹک سرجری کو ایک تخلیقی اور کلینیکل مہارت والا شعبہ قرار دیا، جب کہ پرنسپل و چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ایس امجد علی رضوی نے شعبہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے ادارہ جاتی تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔
مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر پروفیسر سمیک بھٹاچاریہ (سربراہ، شعبہ پلاسٹک سرجری، ڈاکٹر آر ایم ایل اسپتال، نئی دہلی، اور نیشنل اکیڈمی آف برنز، انڈیا کے نائب صدر) نے ”زخموں کے علاج میں جدید ڈریسنگز اور جلدی متبادلات“ کے موضوع پر خطاب کیا اور برن مینجمنٹ کی نئی ٹیکنالوجیز اور این اے بی ایچ کے معیارات پر روشنی ڈالی۔
شعبہ پلاسٹک سرجری کے چیئرمین پروفیسر فہد خرم نے اپنے خطاب میں جدید برن کیئر کے بدلتے ہوئے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک سرجری صرف جلد تک محدود نہیں بلکہ امید، اعتماد اور انسانیت کو بحال کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جدید علاج میں ابتدائی صفائی، گرافٹنگ، بایولوجیکل ڈریسنگ اور ری کنسٹرکٹیو سرجری شامل ہیں، اور پلاسٹک سرجن مختلف شعبہ جات کے ساتھ مل کر پیچیدہ زخموں، پیدائشی نقائص اور حادثاتی نقصانات کا علاج کرتے ہیں۔
تقریب کا اختتام ڈاکٹر سرفراز علی کے شکریہ کے کلمات پر ہوا۔
ہفتہ بھر مختلف آگاہی اور تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے۔ اے ایم یو گرلز اسکول اور قریبی اداروں میں طلبہ کے لیے فائر سیفٹی، جلنے سے بچاؤ اور ابتدائی امداد پر بیداری اجلاس ہوئے۔ اس مہم کو اسکول کی پرنسپل محترمہ آمنہ ملک اور اسمائل ٹرین پراجیکٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر عمران احمد کی سرپرستی حاصل تھی۔ عملی مظاہروں کی قیادت ڈاکٹر سوربھ، ڈاکٹر کرِتی، ڈاکٹر اکنکشا، ڈاکٹر شکھا اور ”وونڈ کیئر اینڈ ڈریسنگ“ و ”یونانی فارمیسی یونٹ“ کے طلبہ نے کی، جنہیں محمد وسیم احمد نے مربوط کیا۔
نرسنگ اور پیرا میڈیکل عملے کے لیے ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا جن میں برن مینجمنٹ کے ہمہ جہت طریقہ کار اور ٹیم ورک کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ عوامی بیداری مہم کے تحت اسٹریٹ پلے، پوسٹر سازی کے مقابلے اور کھلے مباحثے بھی منعقد ہوئے۔ امید اور صحت مندی کی علامت کے طور پر شجر کاری مہم بھی چلائی گئی، جس میں اساتذہ، ریذیڈنٹس اور طلبہ نے حصہ لیا۔
جے این ایم سی کے رورل ہیلتھ اینڈ ٹریننگ سینٹر، جواں میں خصوصی آگاہی پروگرام بھی ہوا۔ پروفیسر فہد خرم نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان میں ہر سال دو ملین سے زیادہ افراد جلنے کے واقعات کا شکار ہوتے ہیں، جن میں تقریباً 25 ہزار اموات اور دو لاکھ معذوریاں شامل ہیں۔
ڈاکٹر سوربھ نے فائر سیفٹی اور ابتدائی امداد پر گفتگو کی، ڈاکٹر کرِتی نے ایسڈ اٹیک مینجمنٹ پر روشنی ڈالی، جب کہ آر ایچ ٹی سی کی انچارج ڈاکٹر تبسم نواب نے بروقت رپورٹنگ اور سماجی آگاہی کی اہمیت اجاگر کی۔
ورلڈ برنز ویک 2025 کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ جلنے کے واقعات کی روک تھام، سماجی تعلیم اور متاثرین کی بحالی کے لیے سائنسی اور انسانی بنیادوں پر کوششیں جاری رکھی جائیں گی تاکہ ہر متاثرہ شخص کے علاج اور بحالی کا سفر وقار اور ہمدردی سے طے ہو۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ حیوانیات کے طلبہ کے لیے پروفیسر اطہرصدیقی لائف ٹائم اسکالرشپس کا قیام
علی گڑھ، 7 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ حیوانیات کے مرحوم پروفیسر اطہر صدیقی کی یاد میں دو ”پروفیسر اطہر صدیقی لائف ٹائم اسکالرشپس“ جاری کی گئی ہیں۔ یہ اقدام ان کے صاحبزادے جناب سہیل صدیقی اور صاحبزادی محترمہ تَعب صدیقی نے علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن، واشنگٹن ڈی سی (AAADC) کے اشتراک سے کیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت ہر سال شعبہ حیوانیات کے دو طلبہ کو ”پروفیسر اطہر صدیقی لائف ٹائم اسکالرشپ“ سے نوازا جائے گا۔ اسکالرشپ کے مستحقین کا انتخاب واشنگٹن ڈی سی کی علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن کی اسکالرشپ کمیٹی کرے گی۔
یہ اسکالرشپ پروفیسر اطہر صدیقی کی تدریس، تحقیق اور علمی عظمت کے تاحیات عزم کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ اس کا مقصد قابل طلبہ کو مستقل مالی مدد فراہم کرنا ہے تاکہ مالی مشکلات ان کی اعلیٰ تعلیم اور علمی ترقی میں رکاوٹ نہ بنیں۔
علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن، واشنگٹن ڈی سی کی اسکالرشپ کمیٹی کے چیئرمین جناب افضال عثمانی نے سہیل صدیقی اور تعب صدیقی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس نیک اقدام میں اے اے اے ڈی سی کے ساتھ تعاون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 1975 میں قائم ہونے والی اے اے اے ڈی سی بیرونِ برصغیر سب سے پرانی فعال علیگ ایسوسی ایشن ہے جو تعلیم کے فروغ، طلبہ کی اعانت اور سماجی وابستگی کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں قومی نغمہ ”وندے ماترم“ کی 150ویں سالگرہ جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی، طلبہ نے وزیر اعظم کے خطاب کی براہِ راست نشریات بھی دیکھیں اور سنیں
علی گڑھ، 7 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اور اس کے ماتحت تمام اداروں، شعبوں، مراکز، اسکولوں اور رہائشی ہالوں میں قومی نغمہ ”وندے ماترم“ کی 150ویں سالگرہ قومی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔
”وندے ماترم“ جس کو معروف ادیب اور قوم پرست بنکم چندر چٹرجی نے 1882 میں تحریر کیا اور اپنے ناول آنند مٹھ کے ذریعے امر کر دیا، آج بھی آزادی کی جدوجہد اور قومی اتحاد کی علامت کے طور پر نسل در نسل تحریکِ حب الوطنی کو فروغ دیتا ہے۔ اس موقع کی غرض بنکم چندر چٹرجی کے پائیدار ادبی و قومی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور نوجوان نسل میں حب الوطنی و ثقافتی شعور کو تقویت دینا تھا۔
ٍ یونیورسٹی نے وزارتِ تعلیم کی ہدایات کے مطابق صبح 9.50بجے اجتماعی طور پر ”ونڈے ماترم“ کا ترانہ پیش کیاگیا، اور اس کے بعد صبح 10.25بجے عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب کی براہِ راست نشریات دیکھی گئیں۔ یہ نشریات ڈی ڈی نیوز، وزارتِ ثقافت اور وزیر اعظم کے یوٹیوب چینل کے ذریعے نشر کی گئیں۔
شعبہ نباتات میں اس موقع پر اساتذہ، غیر تدریسی عملے اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ صدر شعبہ پروفیسر ابرار احمد خاں نے بتایا کہ تقریب نہایت جذبے اور قومی وقار کے ساتھ انجام پذیر ہوئی۔
اے ایم یو گرلز اسکول میں یہ تقریب پرنسپل محترمہ آمنہ ملک کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی۔ انہوں نے ”وندے ماترم“ کے تاریخی پس منظر اور تحریکِ آزادی میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔ تقریب میں نغمے کی اجتماعی پیشکش، وزیر اعظم کے خطاب کی نشریات، اور طلبہ کی جانب سے قومی مہم کے تحت ترانے کی اپنی ریکارڈنگ پیش کرنے کی سرگرمیاں شامل تھیں۔ پروگرام کی نگرانی نائب پرنسپل محترمہ الکا اگروال نے کی۔
عبداللہ اسکول میں خصوصی اسمبلی منعقد ہوئی، جس میں ”وندے ماترم“ کی اہمیت پر تقاریر ہوئیں۔ سپرنٹنڈنٹ محترمہ عمرہ ظہیر نے طلبہ اور عملے کی اجتماعی شرکت کو سراہا۔
بصارت سے محروم طلبہ کے احمدی اسکول میں طلبہ، اساتذہ اور عملے نے ”وندے ماترم“ کی پُراثر اجتماعی پیشکش کی۔ پرنسپل ڈاکٹر نائلہ راشد نے طلبہ کے جذبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام نوجوانوں میں اتحاد اور حب الوطنی کو مضبوط کرتے ہیں۔ اس موقع پر محترمہ ثنا شمشاد نے طلبہ کو ترانے کی اپنی آواز میں ریکارڈنگ کرنے کی ترغیب دی۔
آر ایم پی ایس اے ایم یو سٹی اسکول میں پرنسپل سید تنویر نبی نے ”وندے ماترم“ کو قومی بیداری اور اتحاد کی پکار قرار دیا۔ تقریب میں 1400 سے زائد طلبہ اور 65 عملے کے اراکین نے ترانے کی اجتماعی پیشکش میں حصہ لیا اور وزیر اعظم کے خطاب کو براہِ راست دیکھا اور سنا۔ پرنسپل نے کہا کہ یہ نغمہ قوم سے محبت اور ہم آہنگی کا ابدی پیغام دیتا ہے۔
سید حامدسینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) میں بھی قائم مقام پرنسپل محمد جاوید خاں، اساتذہ اور طلبہ نے قومی نغمے کی اجتماعی پیشکش میں شرکت کی اور وزیر اعظم کے خطاب کی نشریات دیکھی۔ انہوں نے ”کراؤکے وِد وندے ماترم“ مہم میں طلبہ کی شمولیت کو سراہا۔
اے ایم یو کے کشن گنج سنٹر (بہار) میں بھی یومِ ”وندے ماترم“ قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اساتذہ، طلبہ اور عملے نے ترانے اور قومی ترانے کی اجتماعی پیشکش میں حصہ لیا اور وزیر اعظم کے خطاب کو توجہ سے سنا، جس میں انہوں نے اس نغمے کو اتحاد، فخر اور ثقافتی شناخت کا مظہر قرار دیا۔
یونیورسٹی کے دیگر اسکولوں اور ہالوں میں بھی یہ دن عقیدت اور نظم و ضبط کے ساتھ منایا گیا۔ وی ایم ہال میں پرووسٹس، وارڈنز، عملے اور طلبہ نے اجتماعی ترانے میں حصہ لیا اور وزیر اعظم کے خطاب کو انہماک سے سنا۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اس کے تمام وابستہ اداروں میں ”وندے ماترم“ کی 150ویں سالگرہ کا انعقاد حب الوطنی، اتحاد اور ثقافتی فخر کے گہرے جذبات کے ساتھ ہوا۔ اساتذہ، طلبہ اور عملے کی اجتماعی شرکت نے بنکم چندر چٹرجی کے اس لازوال نغمے کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا اور قومی یکجہتی و ہمہ گیر تعلیم کے فروغ کے لیے اے ایم یو کے عزم کو مزید مستحکم کیا۔
Comments are closed.