اسد الدین اویسی: پہلے میں دیوانہ تھا اور اب ہیں دیوانے کئی

محمد اللہ قیصر
اسد الدین اویسی نام ہے ایک دیوانے کا، ایسا دیوانہ جو اپنی قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرنا چاہتا ہے، ایک ڈری سہمی قوم کو جھنجھوڑ کر حوصلہ مندی کا سبق یاد کراتا ہے، نا امیدی کی چادر میں لپٹی قوم کو "لا تقنطوا من رحمة الله” کی تلقین کرتا ہے، وہ دیوانہ اپنوں کی گالی سنتا ہے، طعنے برداشت کرتا ہے، الزامات کے حملے جھیلتا ہے، اپنے کہلانے والے ہی اس کی سب سے بڑی دولت ایمان پر بھی محلہ آور ہوتے ہیں، اسے مرتد اور کافر بھی کہتے ہیں، قادیانیت کا الزام بھی لگاتے ہیں، وہ سب کچھ سنتاہے، برداشت کرتا ہے اور اپنی دھن میں ایک ہی رٹ لگائے چلا جاتا ہے
” اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے”
مخالفین کے تابڑتوڑ حملے نے اس قوم کی کمر توڑ دی ہے، ماب لینچنگ کا طویل سلسلہ، فرقہ پرستوں کی ہرزہ سرائی، بدزبانی، مسلم لیڈران کی بزدلی، وقتا فوقتاً ایک خاص اسٹریٹیجی کے ساتھ مسلم مخالف قوانین کی تشکیل، دین پر عمل کرنے کے حق پر جزوی پابندی، مدارس پر ہونے والے مسلسل حملے، بلڈوزر کے ذریعہ وسائل زندگی سے محروم کرنے کی کوشش، مظاہروں پر غیر اعلانیہ پابندی لگاکر مسلمانوں کو جمہوری حق سے محروم کرنے کی مسلسل کوشش، مختلف صوبہ جات کے وزراء اعلیٰ کے ذریعہ مسلمانوں کو مٹی میں ملانے کی کھلی دھمکی، پھر بڑے اسٹیجوں سے مجمع عام میں مسلمانوں کی حالت کا تمسخرانہ انداز میں ذکر، مسلمانوں پر پولس کے مظالم کی ویڈیو شائع کرکے ان پر تضحیک آمیز تبصرے، ان سب چیزوں نے مسلمانوں کو ذہنی طور پر مفلوج کردیا ہے، پسپائی کے احساس نے نا امیدی کی کھائی میں دھکیل دیا ہے، اس وقت انہیں حقیقتا اپنی محکومی کا احساس ہو رہا ہے، ملک کے مجموعی حالات نے احساس کمتری کے ساتھ خوف و دہشت میں مبتلاء کردیا ہے
اب ظاہر ہے مسلمان اپنے لیے کوئی پناہ گاہ تو تلاشے گا، انہیں پناہ گاہ کے طور پر سیکولر جماعتیں نظر آتی ہیں، کہ یہ ہماری نجات دہندہ ہیں” سیکولر جماعتیں بھی مسلمانوں کے خوف کا خوب فایدہ اٹھا رہی ہیں کہ چند میٹھے بول بول کر مُسلمانوں کے مکمل ووٹ کی مالک بن جاتی ہیں، یہ الگ بحث ہے کہ ان کے اقتدار سے مسلمانوں کو کیا فایدہ ملتا ہے، ظاہر ہے اعلی قیادت بھی ان کے ہاتھوں میں، ممبر پارلیمنٹ اور ممبر اسمبلی بھی وہی تو مسلمانوں کے درد کوئی خاک بیان کرے گا، بہر حال مسلمان اپنے درد کا درماں جس طرح آج سے ستر سال قبل نہرو اور گاندھی جی کو سمجھ رہا تھا اسی طرح آج راہل، تیجسوی اور اکھلیش میں ہی اسے اپنی ڈوبتی نیا کا کھیون ہار نظر آتا ہے، اور مسلمانوں کی اکثریت اسی پر قائم ہے، مسلم جماعتیں بھی اسی اصول پر کار بند ہیں کہ مسلم قیادت والی پارٹی کا کوئی فائدہ نہیں، سیکولرزم کا دعویٰ کرنے والوں کی ماتحتی میں ہی راحت ہے، ہندستانی مسلمان اور مسلم تنظیمیں اس فکر میں یکتا ہیں کہ "ماتحتی میں بقا کی ضمانت ہے” "خود کفیلی کی فکر مسلم وجود کے لیے خطرہ ہے” ہر کسی کے نزدیک اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پہلی ترجیح ہوتی ہے، بیساکھی ہمیشہ دوسرا آپشن سمجھا جاتا ہے، بس ہندوستانی مسلمانوں کے نزدیک بیساکھی پہلا آپشن ہے، بلکہ بیساکھی کے علاؤہ کسی آپشن کا تصور بھی گناہ ہے، ہندوستان میں ان کے وجود کے لئے خطرہ ہے۔
اسد الدین اویسی ایک دیوانہ ہے جو کہتا ہے” میں اپنا مالک خود ہوں” میری ترجمانی کوئی دوسرا انہیں جذبات و احساسات کے ساتھ نہیں کرسکتا جس طرح میں خود کر سکتا ہوں، میرے دل کا درد کوئی دوسرا کیا جانے، زخم میرے سینے پر ہے، اس کی ٹیس میں محسوس کرتا ہوں، تو ظاہر ہے اس کی کیفیت بھی میرے علاؤہ کوئی دوسرا علی وجہ الکمال نہیں بیان کرسکتا، اور یہ کامن سینس کی بات بھی ہے کہ میرے حقوق کی لڑائی کوئ دوسرا شخص اتنی ہی شدت کے ساتھ کیسے لڑسکتا ہے جس شدت اور جن جذبات کے ساتھ میں خود لڑسکتاہوں، میں اپنے لیے جو قربانی دے سکتا ہوں دوسروں سے اس کی توقع حماقت کے علاؤہ اور کیا ہے، اور دنیا کی ہر قوم، دنیا کی ہر جماعت، دنیا کا ہر جتھا اس بات پر متفق ہے کہ ہمارا نمائندہ ہم ہی میں سے کوئی ہو، سوائے ہندستانی مسلمانوں کے اس نے آزادی کے بعد بھی دوسروں کو اپنا نمائندہ منتخب کیا اور آج بھی اس کی یہی ذہنیت ہے کہ دوسرا ہی ہماری نمائندگی کر سکتا ہے، یہ ذہنیت کچھ نہ کچھ حد تک ہندوستان کی پچھڑی ذاتوں سے میل کھاتے ہے، جس طرح ذات پات کی تقسیم کرکےان کے ذہنوں میں ٹھوس دیا گیا تھا کہ حکمران اعلی ذات میں سے ہی کوئی ہو سکتا ہے، اسی طرح مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے "اپنی قیادت کا تصور بھی گناہ ہے” مسلمان یہاں صرف محکوم ہو سکتا ہے، کسی کی ماتحتی کے بغیر امان کا امکان نہیں۔
اسد الدین اویسی اسی بھرم کو توڑنے والا ایک روایت شکن دیوانہ ہے، جو مسلمانوں کو خوف کی حالت سے نکالنے کے لیے چیختا ہے، چلا تا ہے، انہیں جھنجھوڑتا ہے، امید دلاتا ہے، کہ اس جمہوریت میں ہمارے لیے امکانات کے بے شمار دریچے کھلے ہیں، یہاں ہم بھی اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، اپنے وجود کا احساس دلا سکتے ہیں اپنی حفاظت جمہوری طریقہ سے کر سکتے ہیں، شرط یہ ہے کہ راستہ کی تلاش کریں، اپنی قوت کو سمجھیں، اپنی قیادت اور اس کے منصوبے پر کلی اعتماد کریں، دوسروں کو خوش رکھنے کا مزاج چھوڑ دیں، جسے ہماری پرواہ نہیں ہم اس کی فکر سے اپنا پیچھا چھڑائیں، جمہوریت میں 20 اور 80 کا پہاڑا پڑھنے کے بجائے صرف 10 فیصد لوگ متحد ہو جائیں پھر دیکھیے جن کے نزدیک آپ اچھوت ہیں وہ کرسیوں پر بٹھانے پر مجبور ہو سکتے ہیں،

اور اسد الدین اویسی صاحب نے صحیح کہا ہے کہ ہمارا مقصد مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنا ہے اور الحمد للّٰہ یہ مزاج دھیرے دھیرے بن رہا ہے، سیکولر جماعتوں کی محبت میں گرفتار نسل کے بعد والی جو نوجوان نسل ہے ان سے اصل امید ہے، وہ اپنی قیادت کی ضرورت کو سمجھ رہے ہیں، وہ فرقہ پرستوں کی روز افزوں زیادتیوں کے سائے میں نشوونما پا رہے ہیں دوسری طرف ان مسائل کے تئیں سیکولرزم کے دعویداروں کی سرد مہری پر بھی ان کی نظر ہے، اسی دوران ان کے کانوں میں یہ آواز بھی پڑ رہی ہے کہ اپنی قیادت سے ہی مسائل کا حل ممکن ہے، اسلیے ان کے اندر اپنی قیادت کی ضرورت کا احساس پیدا ہو رہا ہے، وہ امکانات تلاش رہے ہیں، ہم سے پہلے والے تو 20 اور 80 کا پہاڑا پڑھتے ہوئے پلے بڑھے تھے، اسی نام امیدی میں ان کی نشو ونما ہوئی تھی کہ مسلمانوں کی قسمت سے قیادت کا لفظ مٹادیا گیا ہے، اب جو کچھ ہے وہ "بڑھے بھائی” کے ہاتھوں میں ہے،
اپنی قیادت کا نعرہ دینے والے دوسرے قائدین کی طرح اویسی کو بھی دیوانہ پاگل اور مجنوں کہا گیا، دشمنوں کا ایجنٹ بھی کہا گیا، اور اب تک کہا جا رہا ہے لیکن وہ اپنی فکر پر جمے رہے، مسلسل آواز دیتے رہے کہ اس یقین کے ساتھ کہ آج نہیں تو کل ما امیدی کے بادل ضرور چھتیں گے، امید کی کرن نمودار ہوگی، اور ہوا بھی یہی،
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں قوت پرواز مگر رکھتی ہے
ان کی انتھک کوششوں سے مزاج میں تبدیلی آئی ہے، لوگ پہلے ایک دیوانے کو سمجھاتے تھے اب ہر گلی محلہ میں نہ جانے کتنے دیوانے پیدا ہو چکے ہیں
ایک دیوانے کو آج آئے ہیں سمجھانے کئی
پہلے میں دیوانہ تھا اور اب ہیں دیوانے کئی
آج سے پانچ سات قبل جو لوگ ایم آئی ایم کا نام تک سننا نہیں پسند کرتے تھے آج وہ کم از کم غور کرنے لگے ہیں بلکہ متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جن علاقوں میں ایم آئی ایم کا نام لینا جرم تھا وہاں یہ پارٹی پوتے دم خم کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہے
بہر حال
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

Comments are closed.