نیویارک کے میئر ظہران ممدانی
پس پردہ
روئے زمین پر اقلیتی طبقے کے مؤثر سیاسی کردار کے لیے حالیہ امریکی انتخاب ایک درس ہے
ڈاکٹر غلام زرقانی چیئرمین حجاز فاؤنڈیشن ، امریکہ
دنیا انگشت بدنداں اور حیرت زدہ ہے کہ میدان سیاست میں ناتجربہ کاری اوراصحاب ثروت ودولت سے گہرے مراسم کے بغیر ایک نحیف ونزار آوازصرف سال بھر کے اندر اندرپورے نیوریارک کی سب سے مستحکم بازگشت میں کیوں کر تبدیل ہوگئی ، جس کے فرط غیظ وغضب سے بڑے بڑے سورما بازار سیاست میں مبہوت کھڑے رہ گئے ۔
آگے بڑھنے سے پہلے ذراظہران ممدانی کی سابقہ زندگی پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈال لیتے ہیں ۔ ظہران ممدانی ۱۸؍اکتوبر ۱۹۹۱ء میں یوگینڈا میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد محمود ممدانی ہیں ، جو ہندوستان کے صوبہ گجرات سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ والدہ میرانائر بالی وڈ میں فلمی صنعت سے منسلک رہی ہیں ۔ برسوں یوگینڈا میں رہنے کے بعد محمود ممدانی اپنے اہل خانہ کے ساتھ اُس وقت نیویارک منتقل ہوئے ، جب ظہران ممدانی کی عمرچھ سات سال رہی ہوگی۔ ظہران نے نیویارک میں تعلیم حاصل کی اور یہیں پلے بڑھے ۔ ۲۰۱۵ء میں آپ کو امریکی شہریت ملی ۔ دوران درس طلبہ تنظیم کے عہدوں کے لیے انتخاب لڑا ، مگر کامیاب نہ ہوئے ۔ ۲۰۲۱ء میں نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کی رکنیت کے لیے ہونے والے انتخابات میں کوئنز کے علاقے سے کھڑے ہوئے اور فاتح قرار دیے گئے ۔ اس طرح انھوںنے شہریت حاصل کرنے کے صرف چھ سالوں بعد ایک باوقار سیاسی عہدہ حاصل کرلیا۔ یہیں سے حوصلہ بڑھا اور ۲۰۲۵ء میں نیویارک کے میئر کے انتخاب میں حصہ لینے کی ٹھان لی ۔
ویسے نیویارک ہمیشہ سے ڈیموکریٹ پارٹی کے زیر تسلط رہاہے ۔ تقریبا تمام انتخابات میں یہاں سے اِسی پارٹی کے نمائندے فتحیاب ہوتے ہیں ۔ تاہم اس بار ظہران ممدانی کی راہ میں کئی رکاوٹیں تھیں ۔ سب سے بڑی رکاوٹ تویہ تھی کہ پرائمری انتخاب میں آپ کے مدمقابل ایک نہایت ہی تجربہ کار امیدوار اینڈریوکومو تھے ، جو نیویارک کے سابق گورنر رہے ہیں ۔ ایسے تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے لیڈر کو شکست دے کر جب انھوںنے اپنی پارٹی کی نمائندگی حاصل کرلی ، تواینڈریوکومو آزاد امیدوار کی حیثیت سے حالیہ میئر الیکشن میں کھڑے ہوگئے ۔ اس طرح یہ انتخاب حقیقت میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے دوامیدواروں کے درمیان ہوگیا۔ ظاہرہے کہ ایک طرف تجربہ کار، شہرت یافتہ اور برسوں نیویارک کے گورنر رہنے کی وجہ سے مستحکم عوامی تعلقات رکھنے والی شخصیت تھی اور دوسری طرف ناتجربہ کار، غیر شہرت یافتہ اور درمیانی سماجی طبقے سے تعلق رکھنے والے ممدانی تھے ۔ دوسری رکاوٹ یہ تھی کہ انھوںنے کبھی بھی اپنے مسلمان ہونے کو چھپایانہیں ، بلکہ انتخابی عمل کے اوائل میں بھی ببانگ دہل اعتراف کیا کہ وہ مسلمان ہیں اور انھیں اس پر فخر بھی ہے ۔ اورتیسری سب سے بڑی رکاوٹ ڈونالڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں مذہبی ، نسلی اور مہاجر مخالف بیانیے کو بار باردہرانے کی جارحانہ حکمت عملی تھی ۔اور چوتھی رکاوٹ یہ تھی کہ نیویارک اور ارد گرد کے سرمایہ داروں نے دل کھول کر جانب مخالف امیدوار کی حمایت کی تاکہ ممدانی کسی طرح بھی جیت نہ سکیں ۔فوربس نیوز کی رپورٹ ہے کہ ممدانی کی مخالفت کے لیے ایک محدود اندازے کے مطابق کم ازکم چھبیس ارب پتیوں نے ہندوستانی روپیے کے حساب سے تقریبا ڈھائی ارب خرچ کیا ہے ۔ تاہم تاریخ نے دیکھا کہ ساری معاندانہ جدوجہد،منفی تگ ودو اور نفرت انگیز کوششیں دھری کی دھری رہ گئیں۔
عام طورپر لوگ اِسے ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا اقدام قرار دے کر خاموشی سے گزر جاتے ہیں ۔ لیکن میری عادت یہ ہے کہ اگر یہ انہونی ہوئی ہے ، تو ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ حتی الامکان اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے اور تہہ در تہہ پرتیں صاف کرکے کچھ ایسے انکشافات ارباب حل وعقد کے سامنے رکھے جائیں ، جوسیاسی گھٹن زدہ حالات سے باہر نکلنے میں معاون ومدد گار ثابت ہوں۔ کیا عجب کہ یہ اقدام ہندوستانی سیاست میں حصہ لینے والے نوجوانوں کو ایک نئی جہت سے آشنا کردے اور انقلابی تبدیلی رونما ہوجائے ۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق ممدانی نے سیاسی محاذ پر ایک منفرد شناخت کے ساتھ قدم رکھا۔ انھوںنے عوامی گھریلو مسائل پر بات کی ۔ مفت بس سروس، عوام کے لیے سستے گھر کی تعمیر ، بچوں کی نگہداشت کی مفت سہولت،شہری انتظامیہ کی جانب سے جگہ جگہ ایسی دکانیں جہاں کم قیمت پر اشیاء خوردونوش دستیاب ہوں۔ عینی شاہدین بیان کرتے ہیں کہ جب ممدانی نے اپنی پہلی تقریر میں عوامی مسائل پر کھل کر بات کی ، توشہریوں کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے وہ اُن کے جذبات کی درست ترجمانی کررہے ہیں ۔ اس طرح جلد ہی ان کے ارد گرد ہزاروں رضاکارجمع ہوگئے ، جو ممدانی کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے میںجٹ گئے ۔ رضاکاروں کا یہ دستہ صبح سے شام تک لوگوں کے گھروں پر دستک دیتا اور اُن سے ممدانی کی حمایت کرنے کی درخواست کرتا۔آہستہ آہستہ یہ تعداد بڑھتی گئی اور ظہران ممدانی مزدوروں سے لے کر متوسط طبقے کے شہریوں کی مستحکم آواز بن گئے ۔ صوبائی حالات پر نگاہ رکھنے والے تاریخ داں بتاتے ہیں کہ نیویارک کی تاریخ میں نہ تو اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے رائے دہندگی میں حصہ لیا اور نہ ہی اس قدر عوامی جوش وخروش دیکھا گیا ہے ۔ اور اب تونیویارک کی سیاسی تاریخ میں سب سے کم عمر میئر بننے کا اعزاز ظہران ممدانی کی شخصیت کے ساتھ ہی منسلک رہے گا۔
خیال رہے کہ تخریب پسند سیاست دانوں ، معاندانہ ذہنیت رکھنے والے سرمایہ دار وں اور فرقہ پرست عناصر نے حالیہ انتخاب میں مذہبی کارڈ کھیلنے کی پوری کوشش کی ، تاہم ظہران ممدانی نے کبھی بھی اپنی زبان سے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے حوالے سے براہ راست گفتگو نہیں کی۔ انھوںنے جب بھی زبانی کھولی پورے نیویارک کے رہائشیوں کے مسائل حل کرنے کی بات کی ۔ انھوںنے اپنے آپ کو مسلمانوں کا نمائندہ نہیں ، بلکہ ہمیشہ عوامی نمائندہ ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ یہی وجہ ہے کہ نیویارک کے یہودیوں نے بھی ظہران ممدانی کی حمایت جاری رکھی ۔ حیرت کی بات تویہ ہے کہ ممدانی نے ایک مرتبہ یہاں تک کہہ دیا کہ غزہ میں نسل کشی ہورہی ہے اور وزیر اعظم نتین یاہو پر عالمی عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کررکھے ہیں ، اس لیے اگر وہ میرے میئر بننے کے بعدنیویارک آتے ہیں ، توانھیں گرفتارکرلیا جائے گا۔ غورکیجیے کہ یہ سب کہنے کے باوجود بھی چونکہ اُن کی ذات میں عام شہری اپنے مسائل کا حل دیکھ رہے تھے ، اس لیے اُن کی باتیں مذہبی منافرت کے تناظر میں نہیں دیکھی گئیں ۔
صاحبو! ہندوستانی سیاسی محاذ پر کھڑے مسلم قائدین کو چاہیے کہ وہ ظہران ممدانی کی حکمت عملی سے کچھ سیکھنے کی کوشش کریں۔ نیویارک میں پوری کوشش ہوئی کہ مذہبی منافرت پھیلادی جائے ، تاکہ وہ بہ آسانی شکست کھا جائیں ، لیکن انھوں نے خطاب کے دوران مسلم مسائل پر بات نہیں کی۔ اور ہندوستان میں مسلم سیاسی عمائدین اپنے خطاب کی ابتدا ہی مذہبی مسائل سے کرتے ہیں ۔یعنی وہ حلقہ انتخابات میں خود ہی اپنے آپ کو ایک محدود عناصر کے درمیان مقید کرلیتے ہیں اور پھر چاہتے یہ ہیں کہ کامیاب ہوجائیں ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اکثریتی طبقے کے سیاسی بازیگر مذہبی مسائل چھیڑ نے کی کوشش نہیں کرتے ، بلکہ کہنا یہ چاہتاہوں کہ وہ تومذہبی مسائل اِسی لیےچھیڑ تے ہیں کہ اکثریت اُن کے ساتھ ہوجائے اور وہ کامیاب ہوجائیں ۔ یعنی وہ ہم ہم کرتے ہیں اور ہم بھی ہم ہم کرتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ نتیجے کے طورپر ہم اُن کا کام بہت حد تک آسان کردیتے ہیں ۔ ؎ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
ghulamzarquani@yahoo.com
Comments are closed.