بسفی میں آصف احمد کیوں ضروری!
محمد اللہ قیصر
انتخابات میں امیدواروں کا انتخاب ترقیاتی کاموں کے لیے ہونا چاہیے اور آئندہ انتخابات میں لیڈر کی کامیابی و ناکامی کا مدار بھی اس کے ذریعہ کیے گئے ترقیاتی کاموں پر ہی ہونا چاہیے، اپنے کاموں سے ہی لیڈر عوام کے ذہن کے زندہ رہتا ہے، عوام کے ساتھ اس کے تعامل اور برتاؤ سے اس کی اخلاقی حالت کا اندازہ ہوتا ہے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ عوام کو فقط اپنی ذاتی ترقی کا زینہ سمجھتا ہے یا اس کے دل میں لوگوں کے لیے کچھ ہمدردی بھی ہے، عام لوگوں کی ضروریات کی تکمیل سے بھی اسے کچھ دلچسپی ہے یا فقط ذاتی مفاد کا حصول اس کی زندگی کا مقصد ہے، کام کی بنیاد پر بسفی کے سابق ممبر اسمبلی ڈاکٹر فیاض احمد اور موجودہ ممبر اسمبلی ہری بھوشن ببول کو پرکھنا چاہیے، تاکہ یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ موجودہ ممبر اسمبلی ہی بسفی کے لیے مناسب ہے یا بسفی کو ترقی کی شاہراہ پر واپس لانے کے لیے یہاں کی کمان ڈاکٹر فیاض احمد کے صاحب زادہ اور ان کے تربیت یافتہ آصف احمد کے ہاتھوں میں دے دینی چاہیے
گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بسفی سے بی جے پی کے نمائندہ ہری بھوشن ٹھاکر بچول کامیاب ہوئے، اس سے پہلے مسلسل دو مرتبہ جناب ڈاکٹر فیاض احمد نے بسفی کی نمائندگی کی، اس دوران انہوں نے اپنی پوری توجہ بسفی کے انفراسٹرکچر پر مبذول کی، جو علاقہ دہائیوں سے ترقیاتی کاموں سے محروم تھا، سڑک انتہائی مخدوش، بجلی کا نام و نشان نہیں، مرکزی علاقوں سے گاؤں کے رابطے تقریباً معدوم،
انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ تھا، اس کا اثر زندگی کے ہر شعبہ پر صاف نظر آرہا تھا، بالخصوص تباہ حال سڑکوں کی وجہ سے تجارت کے مواقع بالکل صفر تھے، تعلیمی ادارے بالکل ناپید تھے، صحت کا عالم یہ تھا کہ دربھنگہ مدھوبنی پہلے کوئی چھوٹا موٹا ہاسپیٹل بھی نہیں تھا، ڈاکٹر فیاض احمد آئے تو انہوں نے سڑک کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی، اور پہلے پانچ سالوں میں ہی ہر گاوں ایک دوسرے سے مربوط ہوگیا، ہر گاؤں تک بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جس سے ظاہر ہے تجارت کے مواقع میں نمایاں تبدیلی نظر آئی، چھوٹے موٹے ہاسپیٹل بھی کھلے، جا بجا پرائیویٹ اسکول کھلنے لگے، جس سے یہ ہوا کہ تعلیم اور صحت کے لیے لوگ اب دربھنگہ اور مدھوبنی پر منحصر نہیں رہے، گویا ڈاکٹر فیاض احمد کے دس سال بسفی کو ترقی کی راہ پر لگانے میں صرف ہوئے، دور دراز گاؤں والوں کے لیے سفر آسان ہوگیا، تجارت کے مواقع ملے، اور دیگر بنیادی سہولیات میسر ہوئیں، اب وقت تھا کہ ترقی کی رفتار تیز ہو لیکن برا ہو فرقہ پرستی کا کہ لوگوں نے جذباتی نعروں سے متاثر ہوکر فرقہ پرست جماعت کے نمائندہ کو منتخب کیا اور وہیں سے ترقی کی رفتار پر روک لگی، پھر مزید دھیمی ہوتی گئی، اس دوران صرف جذباتی گفتگو،مسلم مخالف جذبات، اور مسلمانوں کی توہین و تذلیل سے اکثریت کے دل و دماغ کو سکون بخشنے کی کوشش ہوتی رہی، نتیجہ یہ ہوا کہ گذشتہ پانچ سال میں بسفی کو تقریبا وہیں دھکیل دیا گیا جہاں سے ڈاکٹر فیاض احمد نے کام شروع کیا تھا، ان کے دس سالوں کی محنت پر پانی پھیر دیا گیا، گاؤں اور گلی کی ذیلی سڑکوں کو چھوڑیے مرکزی شہروں کو جوڑنے والے شاہراہ عام کی حالت بھی افسوسناک حد تک مخدوش ہوگئی، ان کی تعمیر نو تو دور مرمت بھی نہیں ہوئی، مثلا زیرو مائل سے بسفی کی طرف جانے والی سڑک بسفی ہوتے ہوئے کوکیلا چوک تک جاتی ہے، وہاں سے ایک طرف کمتول اور دوسری طرف بینیٹی کو جوڑتی ہے، پھر وہاں سے یہ سڑک دربھنگہ اور مدھوبنی، پوری اور سیامڑھی تک جاتی ہے،چھوٹی موٹی تجارت کرنے والوں کے لیے یہ سڑک انتہائی اہمیت کی حامل ہے، بلکہ "رگ جان” کہہ لیجئے لیکن اس کی حالت ایسی ہوگئی کہ چلنا پھرنا دشوار ہوچکا تھا،
اس کے علاؤہ بسفی اپنی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پر امن بقاء باہم کی وجہ سے جانا جاتا ہے، یہاں ہندو مسلمان ہمیشہ سے مل جل کر رہتے آئے ہیں، ایک دوسرے سے برادرانہ تعلقات رکھتے ہیں، اور یہ ظاہر ہے کہ ہندستان میں ہندو مسلمان کا تانا بانا کچھ ایسا ہے کہ چاہ کر بھی انہیں ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ نہیں کیا جا سکتا ہے، دونوں کی ضروریات ایک دوسرے سے مربوط ہیں، اگر انتشار کی کوشش ہوگی تو سماج ایسے ہی بکھر جائے گا جیسے کپڑے کے دھاگوں کو ادھیڑنے سے کپڑا چیتھڑا بن جاتا ہے، اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے،قابل استعمال نہیں رہتا، اسلیے ہندوستان سماج میں ایک دوسرے کو الگ کرنا، یا کسی ایک کو دوسرے پر تھوپنا پورے سماج کے وجود کے لیے خطرہ بن جاتا ہے، جہاں نفرت عام ہو وہاں امن و امان ختم ہو جاتا ہے، رہنا مشکل ہو جاتا ہے،
موجودہ ممبر اسمبلی کام کے حوالہ سے بالکل نکمے ثابت ہوئے ہیں، کام کی شکایت ان کے اپنے حواریین کو بھی ہے، اس کے علاؤہ وہ انتہائی شدت پسند اور فرقہ پرست ہیں، اس سے جب بھی کوئی بات کی جاتی ہے تو اس کے ہر بیان کی تان مسلم مخالفت پر ٹوٹتی ہے، وہ خوب سمجھتے ہیں کہ ہمارا ووٹر انہیں باتوں سے خوش ہوتا ہے
اسلیے اتنا تو یقینی ہے کہ بسفی کے لیے موجودہ ممبر اسمبلی کسی طرح موزوں نہیں، کام کے حوالہ نہ سماجی ہم آہنگی حوالہ سے،اگر بسفی کی ترقی کو پھر سے راہ پر لانا ہے تو انہیں بدلنا ہوگا اور بہت مناسب ہوگا کہ ڈاکٹر فیاض احمد کے صاحب زادہ، راجد کے امیدوار آصف احمد کو کامیاب کیا جائے، تاکہ اپنے والد کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، بسفی کے ترقیاتی کاموں کو پھر سے شروع کرسکیں، اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے جس طرح سے صحت اور تعلیم پر توجہ دینے کا وعدہ کیا ہے اس سے ایک امید بندھی ہے، اور چوں کہ ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہے اسلیے وعدہ خلافی کا رسک نہیں لے سکتے، اس کے علاؤہ یہ ڈاکٹر فیاض احمد کے تربیت یافتہ ہے، کام کے حوالہ سے ان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، ہاں اس سے بھی انکار نہیں کہ ان کی انتخابی مہم کے دوران کچھ ایسے واقعات پیش آئے جو مسلمانوں کے لیے فکر مندی کا باعث ہیں، بلکہ انہیں تذبذب میں ڈالنے کے لیے کافی ہیں لیکن ان مسائل پر گفتگو ہوسکتی ہے، ان غلطیوں کو سدھارا جا سکتا ہے، ظاہر ہے آصف احمد کسی طبقہ کو بھی کلیتا نظر انداز نہیں کر سکتے،مسلمان کو نہ ہندو کو، بس انہیں کچھ حدود کی پاسداری کرنی ہوگی اور کوئی مخلص مشیر مل جائے تو ان شاءاللہ وہ بات کو سمجھیں گے، ان کے سامنے اگر یہ باتیں پیش کی جائیں تو یقین ہے کہ وہ اسے سنیں گے اور سن کر انہیں درست کرنے کی کوشش ضرور کریں گے، ورنہ ان کے سامنے ان کی پوری سیاسی زندگی باقی ہے، ابھی انہوں نے سیاسی زندگی کا آغاز ہی کیا ہے۔
لہذا تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مرتبہ آصف احمد کو ہی موقع دیا جانا چاہیے، وہ اس وقت ہمارے ووٹ کے زیادہ حقدار ہیں، بالخصوص امن پسندوں کی ذرا سی غلطی فرقہ پرستوں کو اتنا مضبوط کردے گی کہ آئندہ سالہا سال تک پچھتانے کے علاؤہ کوئی چارا نہیں رہے گا، ابھی وقت ہے، سنجیدگی سے فیصلہ کیا جائے، پل بھر کی چوک فرقہ پرستوں کو ناقابل تصور حد تک فائدہ پہونچا سکتی ہے
Comments are closed.