دولت کی چھاؤں اور حسرت کی بستی

 

الطاف جمیل شاہ سوپور کشمیر

​دولت کی چھاؤں ایک ایسا شہر تھا جسے ہر کوئی "شہرِ آرزو” کہتا تھا۔ اس کی سڑکیں سنگِ مرمر کی تھیں، عمارتیں شیشے اور سونے سے دمکتی تھیں، اور فضا میں ہمیشہ مہنگے عطروں کی خوشبو رچی بسی رہتی تھی۔ یہاں کے لوگ قیمتی لباس پہنتے تھے، ان کے ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹیں سجی رہتی تھیں، اور ان کی زندگی گھڑی کی سوئی کی طرح مقررہ رفتار سے چلتی تھی۔ سب کے پاس سب کچھ تھا—کمی تھی تو صرف سچائی اور اطمینان کی۔
​اسی شہر کی عالیشان دیواروں کے سائے میں، ایک تنگ گلی تھی جسے لوگ "حسرت کی بستی” کے نام سے جانتے تھے۔ یہ بستی دراصل اس عالیشان شہر کا اَن دیکھا پہلو تھا۔ یہاں نہ چمک تھی، نہ آسائش۔ مٹی کے کچے مکان تھے، جہاں غربت اور مجبوری نے اپنے پرانے جال بُن رکھے تھے۔ ہوا میں نمک کی بو بسی تھی، اور ہر چہرے پر ایک اَن کہی کہانی لکھی تھی۔
​اس بستی میں "طاہر” نامی ایک نوجوان رہتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو دولت کی چھاؤں کے مصنوعی چراغوں میں کبھی نہیں مل سکتی تھی۔ طاہر کو مصوری کا جنون تھا۔ اس کے کینوس پر رنگ نہیں، بلکہ اس بستی کی روح کی پکار ہوتی تھی۔ وہ ہر روز اپنی جھونپڑی کی چھوٹی سی کھڑکی سے، دولت کی چھاؤں کے بلند و بالا محلات کو دیکھتا، اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر پھر اپنے ادھورے کینوس پر جھک جاتا تھا۔ اس کی حسرتیں اس کے برش سے نکل کر تصویروں میں سمٹ جاتی تھیں۔
​دوسری طرف، دولت کی چھاؤں کی مالکہ "رضیہ” تھیں۔ وہ اس شہر کی سب سے امیر خاتون تھیں۔ ان کی ملکیت میں کئی کارخانے اور ہیرے جواہرات کی دکانیں تھیں۔ ان کی زندگی ہر آسائش سے مالا مال تھی، مگر ان کا دل ایک ویران قبرستان تھا۔ انہیں نہ اپنے پیسے سے سکون ملتا تھا، نہ ہی اپنی محفلوں سے خوشی۔ وہ ہر لمحہ کسی اَن جانے خالی پن کو محسوس کرتی تھیں۔
​ایک شام، رضیہ اپنی مہنگی گاڑی میں دولت کی چھاؤں کی سیر کر رہی تھیں، جب اچانک ان کی گاڑی حسرت کی بستی کے قریب، ایک گڑھے میں پھنس گئی۔ انہیں مجبوری میں گاڑی سے اترنا پڑا۔ بستی کی بدبو اور خاموشی انہیں عجیب لگی۔ چلتے چلتے ان کی نظر طاہر کی جھونپڑی پر پڑی۔ اس کی کھڑکی سے ہلکی سی روشنی آ رہی تھی اور کوئی مدھم آواز میں گنگنا رہا تھا۔
​رضیہ نے تجسس سے کھڑکی سے اندر جھانکا۔ طاہر ایک پرانے کینوس پر، بستی کے ایک بوڑھے شخص کی تصویر بنا رہا تھا جس کے چہرے پر بھوک کا درد اور امید کی لَو یکجا تھے۔ ان کی نظروں میں وہ سچائی تھی جو رضیہ کی زندگی میں مفقود تھی۔ طاہر کے گیت میں سُر نہ تھے، مگر اثر تھا۔
​رضیہ کو محسوس ہوا جیسے ان کی روح کو کسی نامعلوم ٹھنڈک نے چھو لیا ہو۔ انہیں اچانک احساس ہوا کہ ان کے پاس دنیا کی ساری دولت ہے، مگر طاہر کے پاس وہ فن اور اطمینان ہے جو وہ کبھی خرید نہیں پائیں۔
​انہوں نے اگلی صبح طاہر کو بلا کر کہا: "طاہر، میں تمہیں اپنے محل میں لا سکتی ہوں، تمہاری ہر حسرت پوری کر سکتی ہوں، مگر میری ایک شرط ہے۔”
​طاہر نے کہا: "رضیہ صاحبہ، کیا شرط؟”
​رضیہ کی آنکھوں میں پہلی بار سچی نمی تھی، انہوں نے آہستہ سے کہا: "مجھے اپنے کینوس میں اپنی حسرتوں کو نہیں، بلکہ میری زندگی کے خالی پن کو پُر کرنے کے لیے چند سچے رنگ دے دو۔”
​طاہر نے مسکرا کر جواب دیا: "رنگ تو ہمیشہ دل میں ہوتے ہیں رضیہ صاحبہ۔”
دل کے رنگ اور نیا سفر
​طاہر کے جواب، "رنگ تو ہمیشہ دل میں ہوتے ہیں رضیہ صاحبہ،” نے رضیہ کے دل پر ایک ایسا دستک دیا جو دولت کی چھاؤں کی خاموشی میں پہلے کبھی نہیں سنی گئی تھی۔ اس نے اگلے ہی لمحے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ طاہر کی شرائط پر جیے گی، تاکہ اس کے خالی پن کو پُر کیا جا سکے۔
​شرط:
​رضیہ نے طاہر سے کہا: "میں تمہارے فن کی قدر کرتی ہوں۔ میں تمہیں ہر طرح کی آسائش دے سکتی ہوں، مگر مجھے اپنے دل میں سکون چاہیے جو تمہارے پاس ہے۔ تمہاری قیمت کیا ہے؟”
​طاہر نے مسکرا کر کہا: "میری قیمت بہت سادہ ہے رضیہ صاحبہ۔ اگر آپ اپنے دل میں سچے رنگ بھرنا چاہتی ہیں، تو آپ کو دولت کی چھاؤں سے باہر نکلنا ہوگا۔ آپ کو ایک ہفتہ تک حسرت کی بستی میں رہنا ہوگا، تاکہ آپ جان سکیں کہ سچائی کی روشنی کیا ہوتی ہے۔”
​رضیہ، جو ہمیشہ شیشے کے محلوں میں رہی تھی، خوفزدہ ہوئی، مگر اس کی روح کی پیاس نے اسے یہ شرط قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔
​حسرت کی بستی میں مالکہ:
​اگلے روز، ایک معمولی سی رکشہ حسرت کی بستی میں رکی۔ اس میں رضیہ تھی، جس نے اپنے قیمتی لباس اتار کر ایک سادہ سوتی لباس پہن رکھا تھا۔ جھونپڑی میں طاہر نے اس کے لیے ایک صاف ستھرا گوشہ تیار کر رکھا تھا۔
​پہلے دو دن رضیہ کے لیے عذاب تھے۔ اسے ہر طرف غربت، محنت اور زندگی کی تلخیاں نظر آئیں۔ اسے اپنے آپ سے گھن آنے لگی کہ اس نے اپنی ساری زندگی ایک مصنوعی دنیا میں گزار دی۔ اس نے دیکھا کہ بستی کے بچے پھٹے پرانے کپڑوں میں بھی قہقہے لگا رہے ہیں، بوڑھی عورتیں ہاتھوں میں زخم لیے بھی خدا کا شکر ادا کر رہی ہیں، اور طاہر کے چہرے پر تھکن کے باوجود اطمینان کی مسکراہٹ ہے۔
​طاہر کا کینوس:
​انہی دنوں، طاہر نے ایک نیا کینوس لگایا۔ اس نے رضیہ کو کوئی حکم نہیں دیا، بس اسے خاموشی سے بستی کے مناظر دیکھنے کو کہا۔ رضیہ نے پہلی بار دیکھا کہ:
​خوشی کسی مہنگی چیز میں نہیں، بلکہ ایک ماں کے ہاتھ کی گرم روٹی میں ہوتی ہے۔
​اطمینان فائیو سٹار ہوٹل کے بستر پر نہیں، بلکہ ایک چھوٹے سے برتن میں بچی ہوئی بارش کے پانی میں اپنا عکس دیکھ کر ہوتا ہے۔
​حقیقی زندگی مہنگے عطروں کی خوشبو میں نہیں، بلکہ مٹی کی سوندھی خوشبو میں ہوتی ہے۔
​رضیہ نے دل ہی دل میں اپنی تنہائی کو پہچان لیا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کا خالی پن اس لیے تھا کہ اس نے کبھی کسی سچے رشتے اور انسانی درد کو اپنے قریب آنے نہیں دیا تھا۔
​دل کے رنگ بھرنا:
​ہفتے کے آخری دن، رضیہ، طاہر کے کینوس کے سامنے کھڑی تھی۔ طاہر نے اس تصویر میں نہ سورج بنایا تھا، نہ محل۔ اس نے تصویر میں حسرت کی بستی کی جھونپڑیوں کے بیچ، ہاتھ پکڑے ہوئے، دو بوڑھوں کو بنایا تھا۔ ان کے چہرے پر جھریوں میں غربت کا دکھ تھا، مگر ان کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے بے لوث محبت کی چمک تھی۔
​طاہر نے برش ایک طرف رکھ دیا اور رضیہ کی طرف دیکھا۔ "آپ نے کہا تھا کہ میری زندگی کے خالی پن کو پُر کر دو۔ یہ خالی پن آپ کی تنہائی تھی۔ رضیہ صاحبہ، میں نے اس کینوس میں صرف دو رنگ بھرے ہیں: محبت اور مشکلات میں زندہ رہنے کی ہمت۔ یہی وہ رنگ ہیں جو آپ کی دولت کی چھاؤں سے ہمیشہ غائب رہے۔”
​نئی روشنی:
​رضیہ کی آنکھوں سے پہلی بار آنسو ٹپکے۔ یہ آنسو حسرت کے نہیں، بلکہ نجات کے تھے۔ وہ سمجھ گئی کہ دولت کی چھاؤں ایک عارضی پناہ گاہ تھی، جبکہ حسرت کی بستی نے اسے زندگی کا مفہوم سکھایا تھا۔
​رضیہ نے فوراً فیصلہ کیا کہ وہ اپنی دولت کا رخ بدلے گی۔ اس نے اپنی جائیداد کا ایک بڑا حصہ طاہر کی بستی کی تعمیر اور تعلیم کے لیے وقف کر دیا۔ اس نے صرف پیسہ نہیں دیا، بلکہ اپنے وقت اور اپنی توجہ سے وہاں ایک فنون لطیفہ کا مرکز قائم کیا، تاکہ بستی کے بچے بھی اپنے دل کے سچے رنگ کینوس پر لا سکیں۔
​اب رضیہ دولت کی چھاؤں میں بھی رہتی تھی، مگر اس کا دل حسرت کی بستی میں دھڑکتا تھا۔ وہ اب ایک امیر مالکہ نہیں، بلکہ ایک ہمدرد انسان بن چکی تھی۔ طاہر نے نہ صرف رضیہ کے دل کے خالی پن کو بھرا، بلکہ ان دونوں شہروں کے درمیان محبت اور انسانیت کا ایک پل بنا دیا۔
​نتیجہ: طاہر کے فن نے ثابت کیا کہ دنیا میں دولت سے زیادہ
قیمتی دل کا اطمینان ہے، اور رضیہ نے ثابت کیا کہ جب دولت کو رحم دلی کا سہارا مل جائے، تو وہ چھاؤں نہیں، بلکہ نئی زندگی کی روشنی بن جاتی ہے

Comments are closed.