زمین پر انڈیا اتحاد مضبوط
مشرف شمسی
بہار چناؤ کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ 6 نومبر کو ہونے جا رہی ہے اور 11 نومبر کو دوسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ ہوئی ہے ۔بہار اسمبلی چناؤ میں اصل مقابلہ این ڈی اے اور انڈیا اتحاد کے درمیان معلوم ہوتا ہے ۔بڑے بڑے دعوے کرنے والے پرشانت کشور کی پارٹی جنسوراج چار پانچ سیٹوں کے علاوہ کہیں نظر نہیں آ رہی ہے ۔جن سوراج کے کچھ امیدوار اپنے اپنے حلقے میں ٹکر اسلئے دے پا رہے ہیں کہ ان امیدواروں کی حثیت اور نام پارٹی سے بڑی ہے۔پرشانت کشور کا جلوہ بجھا بجھا نظر آ رہا ہے جو الیکشن شروع ہونے سے پہلے بھرپور انداز میں چمکتا نظر آ رہا تھا ۔اس کی وجہ ٹیجسوی یادو کے خلاف چناؤ لڑنے کا اعلان کرنے کے باوجود راگھو پور اسمبلی حلقے سے چناؤ لڑنے سے پیچھے ہو گئے۔حالانکہ پرشانت کشور راگھو پور سے چناؤ نہیں لڑے تو کسی جگہ سے چناؤ نہیں لڑ رہے ہیں۔لیکِن پرشانت کشور نے راگھو پور سے چناؤ لڑنے کا اعلان کر چناؤ نہیں لڑنے سے عوام میں ایک غلط سندیش گیا جو جن سوراج پارٹی کے لئے مشکل بنا اور پارٹی اس دلدل سے باہر نکل نہیں پا سکی ہے ۔
جہاں تک این ڈی اے میں شامل اتحادی پارٹیوں کا ہے تو بی جے پی اور جنتا دل یو ایک یونٹ کی طرح چناؤ پرچار کرتی نظر نہیں آ رہی ہے ۔نتیش کمار وزیر اعظم نریندر مودی کے روڈ شو سے دوری بنانے کی خبر آتی ہے ۔بی جے پی کے بڑے رہنما مودی اور امیت شاہ ابھی تک نتیش کمار کو ہی وزیر اعلی بنایا جائے گا اس کا اعلان نہیں کیا ہے ۔حالانکہ بی جے پی کے دوسرے درجے کے رہنماؤں سے کہلوایا جا رہا ہے کہ چناؤ بعد نتیش کمار ہی وزیر اعلی ہونگے۔نتیش کمار بھی اس بات کو بخوبی سمجھ رہے ہیں ۔لیکِن ان سب سے الگ پوری مرکزی سرکار بہار میں اُتر آئی ہے ۔مرکزی وزیر گاؤں گاؤں گھوم کر بی جے پی امیدواروں کے لئے چناؤ پرچار کرتے نظر آ رہے ہیں ۔سبھی ریاستوں کے بی جے پی کا وزیر اعلی بہار میں کیمپ کیے ہوۓ ہیں ۔الیکشن کمیشن چناؤ میں کالے دھن کو روکنے کے لئے کسی طرح کی چیکنگ یا چھاپے نہیں ماڑ رہی ہے۔چناؤ کے لئے سی آر پی ایف کو بلائے گئے ہیں ۔ لیکِن گاڑیوں کی تلاشی نہ کہ برابر ہو رہی ہے ۔گاڑیوں کی تلاشی نہ لیئے جانے کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ملتا نظر آ رہا ہے ۔کیونکہ پیسے بی جے پی کے پاس ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ بہار میں الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔
انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیوں کا سوال ہے وہ بارہ سیٹوں کو چھوڑ دیں جہاں آپس میں دوستانہ مقابلہ ہو رہا ہے تو بقیہ سیٹوں پر اتحاد بہت ہی منظم ڈھنگ سے چناؤ پرچار کر رہی ہے ۔لیکِن یہ اور بہتر ہو سکتا تھا اگر کانگریس بڑے دل کر کے صرف چالیس سیٹوں پر چناؤ لڑتی اور بایاں بازو کی پارٹیوں کو کچھ زیادہ سیٹیں دی جاتیں۔بایاں محاذ کی پارٹیوں کے بہتر کارکردگی کی امید ہے ۔راشٹریہ جنتا دل اس اسمبلی چناؤ میں اپنے مسلم اور یادو ووٹ کا گٹھ جوڑ اور مضبوط ہونے کی امید ہے ۔سیمانچل کی کچھ سیٹوں پر مجلس اتحاد المسلمین ضرور ایک فیکٹر ہے لیکِن گزشتہ اسمبلی چناؤ جیسی کارکردگی دیکھانا مجلس کے لئے مشکل ہے ۔
زمین پر یقینی طور پر انڈیا اتحاد مضبوط نظر آ رہی ہے۔خاص کر مکیش ساہنی اور آئی گپتا کا ساتھ ملنے سے 2020 کے مقابلے 2025 میں یقینی طور پر انڈیا اتحاد مضبوط نظر آ رہا ہے لیکِن یہ چناؤ مودی سرکار کے لئے کرو یا مرو کی حالت بنائے ہوئے ہے۔وزیر اعظم مودی کو یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ ووٹ چوری سے چناؤ نہیں جیتتے ہیں۔لیکِن ووٹ چوری یا چناؤ دھاندلی نہیں ہوگی اس کی گارنٹی کون دے گا یہ ایک بڑا سوال ہے۔
میرا روڈ ،ممبئی
موبائیل 9322674787
Comments are closed.