مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے پروفیسر نے انگلینڈ میں بین الاقوامی کانفرنس میں مقالہ پیش کیا
علی گڑھ، 8 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اقتصادیات کے پروفیسر محمد اعظم خان نے انگلینڈ کی یونیورسٹی آف گریٹر مانچسٹر، بولٹن میں ”عالمی کاروبار کے لئے قائدین کی اختیاردہی“ پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں ”اقتصادی دوئیت اور شہری ہندوستان میں خواجہ سراؤں کی شمولیت“ موضوع پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ اپنے مقالے میں انھوں نے امرتیہ سین کے کیپیبلٹی ایپروچ اور کوئیر پولیٹیکل اکانومی کے نظریات کے تناظر میں ہندوستانی شہروں میں خواجہ سراؤں کو درپیش سماجی و معاشی چیلنجوں کا تجزیہ کیا۔ انھوں نے اپنے تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ صرف رسمی معاشی شمولیت سے خواجہ سراؤں کے لیے وقار، استحکام یا تفویض اختیارات کی ضمانت نہیں ملتی، کیونکہ روزگار اور آمدنی کی تقسیم میں عدم مساوات اب بھی برقرار ہے۔
تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہندوستان میں خواجہ سراؤں کی حقیقی معاشی شمولیت کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں، جن میں ترجیحی بھرتی کی پالیسیاں، اجرت میں مساوات اور مالی خدمات شامل ہوں تاکہ معاشی دوئیت کا خاتمہ کیا جا سکے۔
پروفیسر محمد اعظم خان نے اس موقع پر یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی ویسٹن لائبریری کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے جامع ترقی اور معاشی انصاف سے متعلق معاصر موضوعات پر اسکالروں سے تبادلہ خیال کیا۔ شعبہ معاشیات کے صدر پروفیسر شہروز عالم رضوی نے پروفیسر خان کو بین الاقوامی علمی مکالمے میں شمولیت اور عالمی فورم میں اے ایم یو کی نمائندگی کرنے پر سراہا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی جونیئر ریزیڈنٹ کو انڈین اکیڈمی آف نیورو سائنس کانفرنس میں رویندر ااینڈ للیتا ناتھ فیلوشپ سے نوازا گیا
علی گڑھ، 8 نومبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فارماکولوجی کی جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر سواتی جی کو انڈین اکیڈمی آف نیورو سائنس کی جانب سے رویندر ااینڈ للیتا ناتھ فیلوشپ سے سرفراز کیا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز حال ہی میں ترواننتھاپورم، کیرالہ میں واقع بی آر آئی سی- آر جی سی بی میں انڈین اکیڈمی آف نیورو سائنس کی 43ویں سالانہ کانفرنس میں اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرنے پر دیا گیا۔
ڈاکٹر سواتی نے اپنی پیشکش میں کرسین سے پیدا ہونے والی ویسٹیبلر ڈسفنکشن پر اپنی تحقیق پیش کی۔ یہ تحقیق شعبہ فارماکولوجی کے صدر پروفیسر سید ضیاء الرحمن کی نگرانی میں کی گئی۔ پروفیسر رحمن نے ڈاکٹر سواتی کی اس دستیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مبارکباد پیش کی۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ویمنس کالج میں یوم تاسیس کا انعقاد
علی گڑھ، 8 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ویمنس کالج کی بنیاد 7نومبر1906 کوسرسید کے لائق ترین شاگرد شیخ عبداللہ نے محلہ بالائے قلعہ اپرکوٹ سٹی علی گڑھ میں ایک چھوٹے سے مدرسے کی شکل میں رکھی تھی،جہاں تین طالبات کے ساتھ تعلیم کا آغاز ہوااور طالبات میں ان کی بچیاں بھی شامل تھیں۔
اس مبارک دن کی یادگار کے طور پر ہر سال کی طرح اس سال بھی پچھلے پندرہ دنوں سے علمی و ثقافتی مقابلے منعقد ہورہے تھے، جن میں طالبات نے بڑے جوش وخروش کے ساتھ حصہ لیا۔7نومبر کو ایک اعلی درجے کا ثقافتی پروگرام منعقد ہوا، جس میں موسیقی،رقص، قوالی اور ڈرامے بہترین انداز میں پیش کئے گئے۔
کالج کے پرشکوہ آڈیٹوریم میں تقریبات کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا۔ پروگرام کی کنوینر ڈاکٹر حمیرہ محمود آفریدی نے کالج کی مختصر تاریخ پیش کرتے ہوئے بانیان کالج کو خراج عقیدت پیش کیا۔انھوں نے کہاکہ اس کالج کی طالبات نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں عظمت کے نشان چھوڑے ہیں اور ہمیشہ کامیابیوں کے نئے جہانوں کو مسخر کیا ہے۔نمائندہ نام ہیں عصمت چغتائی،ساجدہ زیدی، انوراج سنگھ،سیدہ انورہ تیمور،محسنہ قدوائی،سیدہ یاسمین سیکیہ اور یہ سلسلہ موجودہ وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ گلریز تک جاری وساری ہے۔اس بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آنچل سے پرچم بنانے کا ہنر اس کالج نے خواتین کو سکھایا۔
میوزک کلب کی طالبات نے بڑے جوش وخروش کے ساتھ کالج ترانہ پیش کیا۔اس کے بعد رتمبھرانے بے حد عمدہ کلاسیکل رقص کا مظاہرہ کیا۔کالج کی ہی شعبہ اردو کی استاد ڈاکٹر عمرانہ خاتون اورطالبہ فضا نے علامہ اقبال کی غزل ”پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ ودمن“ کو روح پرورآواز میں پیش کرکے سامعین کا دل جیت لیا۔ اس کے بعد میوزک کلب کی ممبران نے ایک خوبصورت گیت پیش کیا۔طالبہ یاسمین رضوی نے فیاض ہاشمی کا گیت اپنی جادو بھری آواز میں سنا کر محفل کوچار چاند لگا دیے۔اس کے بعدر تمبھرا نے دوسرا رقص ”سکل بن پھول رہی سرسوں“نغمہ پر پیش کیا۔ یاسمین رضوی اور ان کے ساتھیوں نے ایک قوالی خوبصورت انداز میں پیش کی۔طالبات نے ”سونی مہیوال“ اسکٹ پیش کیا، ان کی بہترین ادا کاری نے ناظرین کو متحیر کردیا۔
ڈاکٹر حمیرہ محمود آفریدی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ آخر میں کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود انور علوی، پروفیسر عمرانہ نسیم،پروفیسر شبانہ حمید نیز پروگرام سے متعلق تمام لوگوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا گیا جن کی شبانہ روز محنت نے کالج ڈے کو یاد گار بنا دیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی پروفیسر آسیہ سلطانہ نے بین الاقوامی کانفرنس میں ذیابیطس مینجمنٹ پر اپنی ایوارڈ یافتہ تحقیق پیش کی
علی گڑھ، 8 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے شعبہ علاج بالتدبیر کی صدر پروفیسر آسیہ سلطانہ نے کوچی میں ریسرچ سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف ڈائبٹیز اِن انڈیا کی 53ویں بین الاقوامی کانفرنس میں ذیابیطس کو قابو میں کرنے میں غذائی مداخلت کے کردار کے موضوع پر اپنی اہم تحقیق پیش کی۔
اس مطالعے میں ممکنہ افراد میں میٹابولک خطرات کو کنٹرول کرنے کے لیے غذائی مداخلت کی اہمیت پر زور دیا گیا اور روایتی و سائنسی بنیادوں پر مبنی غذائی نقطہ نظر کے امتزاج کو ذیابیطس کی مؤثر روک تھام کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔ پروفیسر سلطانہ کے مقالے کو ماہرین اور مندوبین نے اس کی سائنسی گہرائی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کی ذیابیطس مینجمنٹ سے متعلق ہدایات سے ہم آہنگ ہونے پر سراہا۔
اسی کانفرنس میں پروفیسر آسیہ سلطانہ کی نگرانی میں ”مِلّی ٹ سپلیمنٹیشن“ پروجیکٹ میں ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر کام کرنے والی ڈاکٹر شمامہ عثمانی کو اعزاز سے نوازا گیا۔ بیسٹ پیپر پرزنٹیشن کے لئے انھیں دس ہزار روپے نقد انعام اور توصیفی سند سے نوازا گیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی جانب سے ”ون ہیلتھ بیداری ریلی“کا اہتمام
علی گڑھ، 8 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن نے آئی اے پی ایس ایم- آئی سی ایم آر ون ہیلتھ انیشیئیٹیو کے تحت ’ون ہیلتھ آگہی ریلی“ کا اہتمام کیا، جس کا مقصد”ایک دنیا، ایک صحت‘ کے تصور کو عام کرنا تھا، جو انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتا ہے تاکہ عالمی صحت سے متعلق چیلنجوں کی مؤثر روک تھام ممکن ہو سکے۔
ریلی کا آغاز فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد نے جے این ایم سی کے اولڈ ایمرجنسی بلاک سے کیا، جس میں 100 سے زائد افراد نے شرکت کی، جن میں فیکلٹی ممبران پروفیسر نجم خلیق، پروفیسر سائرہ مہناز اور ڈاکٹر یاسر زبیر سمیت پوسٹ گریجویٹ طلبہ، انٹرنز، ایم بی بی ایس، ماسٹرز اِن پبلک ہیلتھ، پیرا میڈیکل اور نرسنگ کالج کے طلبہ و طالبات شامل تھے۔
یہ پروگرام شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی صدر، پروفیسر عظمیٰ ارم کی رہنمائی میں منعقد ہوا، جب کہ ڈاکٹر ثمینہ احمد نے اس کی نظامت کی۔ یونیورسٹی کی پراکٹوریل ٹیم نے بھی ریلی کے کامیاب انعقاد میں بھرپور تعاون کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ اینستھیسیالوجی کی جانب سے آر اے ایف بٹالین 104 کے اہلکاروں کو سی پی آر کی ٹریننگ دی گئی
علی گڑھ، 8 نومبر: سی پی آر بیداری ہفتہ کے موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) کے شعبہ اینستھیسیالوجی و کریٹیکل کیئر نے ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) بٹالین 104، علی گڑھ کے اہلکاروں کے لیے کارڈیوپلمونری ریسیسیٹیشن (سی پی آر) کی ٹریننگ کا اہتمام کیا۔
یہ تربیت ڈاکٹر شہنا علی اور ڈاکٹر مناظر اثر کی نگرانی میں دی گئی، جس کا مقصد آر اے ایف اہلکاروں کو دل کے دورے یا دیگر ہنگامی حالات میں فوری اور مؤثر طور پر جان بچانے کے ہنر سے لیس کرنا تھا۔ تربیتی سیشن میں شرکاء کو معیاری چیسٹ کمپریشن، ایئر وے مینجمنٹ، اور آٹومیٹڈ ایکسٹرنل ڈیفبریلیٹرز (اے ای ڈی) کے استعمال کی عملی تربیت دی گئی۔ ورکشاپ میں لائیو مظاہرے، رہنمائی کے تحت سمیولیشنز، اور انفرادی مشقیں شامل تھیں۔
آر اے ایف بٹالین 104 کے کمانڈنٹ شری ونود کمار نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تربیت بلاشبہ ہمارے اہلکاروں کی ایمرجنسی ردِعمل کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی۔
شعبہ اینستھیسیالوجی و کریٹیکل کیئر کے چیئرمین پروفیسر حماد عثمانی نے فیکلٹی ممبران کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صحت عامہ کے سلسلہ میں بیداری کے فروغ کی جانب سے ایک اہم قدم ہے۔
٭٭٭٭٭٭
سروجنی نائیڈو ہال، اے ایم یو میں تقسیم انعامات تقریب منعقد
علی گڑھ، 8 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سروجنی نائیڈو ہال میں پرووسٹ پروفیسر عروس الیاس کی نگرانی میں تقسیم انعامات اور شکریہ کی تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر علمی و ہم نصابی سرگرمیوں میں طالبات کی شاندار کارکردگی اور ہال میں نظم و ضبط، تعاون اور بہترین کارکردگی کے فروغ میں عملہ کے اراکین کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔
تقریب کے مہمان خصوصی رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے طالبات کی تعلیمی دستیابیوں اور ہم نصابی سرگرمیوں میں ان کی سرگرم شرکت کو سراہا اور انہیں مسلسل بہترین کارکردگی کے لیے کوشاں رہنے کی تلقین کی۔ مہمان اعزازی شعبہ کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ارمان رسول فریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات طالبات میں قیادت، اجتماعی ہم آہنگی اور کمیونٹی اسپرٹ کو فروغ دیتی ہیں۔
اپنے صدارتی خطاب میں پرووسٹ پروفیسر عروس الیاس نے طالبات اور عملے کی لگن، ٹیم ورک اور ہال کی سرگرمیوں میں فعال شرکت کی تعریف کی۔ انہوں نے باہمی احترام و تعاون کو ایک جامع اور متحرک علمی ماحول کے قیام کے لیے لازمی قرار دیا۔
تقریب میں تعلیمی کارکردگی اور کھیلوں و مختلف ہم نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات کو انعامات و اسناد سے نوازا گیا۔ آخر میں مہمانوں، اساتذہ اور عملے کے اراکین کا شکریہ ادا کیا گیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
ماہر لسانیات پروفیسر ایم جے وارثی نے قومی لسانیاتی سیمینار سے خطاب کیا
علی گڑھ، 8 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لسانیات کے فیکلٹی ممبر پروفیسر ایم جے وارثی نے آگرہ کے سینٹرل ہندی انسٹی ٹیوٹ میں منعقد دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ”ہندوستانی لسانیات: روایت اور جدید پس منظر“ میں خطاب کیا، جس میں انھوں نے ہندوستان کی گہری لسانی روایت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یاسک، پانینی، پتنجلی اور کاتیاین جیسے ماہرین نے مغرب میں جدید لسانیات کے وجود میں آنے سے بہت پہلے ہی یہاں زبان کے سائنسی مطالعے کی مضبوط بنیاد رکھ دی تھی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مغربی لسانی نظریات نے بھی ان ہندوستانی روایات سے نمایاں طور پر استفادہ کیا ہے۔
زبان کی تدریس اور قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر وارثی نے طالب علم پر مرکوز طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ زبان سیکھنے کا عمل ایک جامد تعلیمی مشق نہ ہوکر ایک دلچسپ فطری عمل بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020زبان کی تدریس کو بہتر بنانے اور ابلاغی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ایک مضبوط خاکہ فراہم کرتی ہے۔
پروفیسر وارثی نے کہا کہ آج لسانیات تیزی سے ترقی کر نے والا شعبہ ہے جو جدید ٹکنالوجی اور بین العلومی تحقیق کے ذریعے فروغ پا رہا ہے، اور زبان کی تعلیم محض علمی ضرورت نہیں بلکہ ایک اہم سماجی تقاضا بن چکی ہے۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یوکے شعبہ اسلامیات کے زیر اہتمام ”مذہب، سماجی انصاف اور عدم مساوات، عالمی تناظر میں“ موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی سیمینار منعقد
علی گڑھ، 8 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اسلامیات کے زیر اہتمام ”مذہب، سماجی انصاف اور عدم مساوات، عالمی تناظر میں“ موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں ہندوستان اور بیرون ملک سے تقریباً 90 اسکالرز نے شرکت کی۔
افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی پروفیسر عبدالعلیم نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ عالمی سطح پر نابرابری اور ناانصافی کے پس منظر میں مذہبی تعلیمات میں مضمر اخلاقی و سماجی اصولوں پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب نہ صرف فرد کی اخلاقی تربیت کرتا ہے بلکہ سماجی انصاف، انسانی وقار اور اجتماعی فلاح کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
مہمان اعزازی پروفیسر اے آر قدوائی نے قرآنِ مجید میں بیان کردہ عدل و مساوات کے اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مذہب کی اصل روح کردار سازی اور ایک متوازن و ہمدردانہ معاشرتی نظام کے قیام میں مضمر ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قرآن و سنت کی پیروی ہی اخلاقی شفافیت کو یقینی بناتی ہے اور انسان کو گمراہی سے بچاتی ہے۔
کلیدی خطاب پیش کرتے ہوئے پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ تمام مذاہب کی بنیادی تعلیمات امن، انسانیت اور انصاف کے فروغ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آج دنیا بڑھتی ہوئی سماجی خلیج کا سامنا کر رہی ہے، تاہم مذہب کا متحد کرنے والا پہلو اب بھی ہمدردی اور اخلاقی رویے کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ پروفیسر واسع نے مذہب کو اتحاد کا وسیلہ قرار دیتے ہوئے اس کے سیاسی یا نظریاتی استحصال کے خلاف خبردار کیا اور مذاہب کے مابین مکالمے اور باہمی تفہیم کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
استقبالیہ خطاب میں شعبہ اسلامیات کے صدر پروفیسر عبد الحمید فاضلی نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد ایک تقسیم شدہ دنیا میں مذہب کے پیغامِ عدل و امن کو ازسرنو اجاگر کرنا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر بلال احمد کُٹّی نے سیمینار کے موضوع کا تعارف کرایا اور بتایا کہ ملک و بیرونِ ملک سے تقریباً 90 اسکالرز نے مذہب اور سماجی انصاف کے مختلف پہلوؤں پر مقالے پیش کیے۔ تقریب کے دوران ڈاکٹر محمد پرویز، ڈاکٹر درخشاں، ڈاکٹر عنبرین اور ڈاکٹر مرسلین کی تصنیف کردہ کتب کی رسمِ اجرا بھی عمل میں آئی۔ سیمینار کا اختتام ڈاکٹر نگہت رشید کے کلمات تشکر پر ہوا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ سنّی دینیات میں مقالہ خوانی پروگرام کا انعقاد
علی گڑھ، 8 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہئ سنی دینیات کے ریسرچ اسکالرز کی جانب سے پندرہ روزہ مقالہ خوانی پروگرام منعقد کیا گیا، جس کی صدارت شعبہ کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر محمد عاصم خان نے کی۔
ریسرچ اسکالر محمد مسعود شیخ نے اپنا مقالہ بعنوان ’حجیت حدیث قرآنی دلائل کی روشنی میں‘ پیش کیاجس میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی حجیت پر قرآنی دلائل کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوال و افعال و تقاریر رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی طرح حجت شرعی ہیں۔ شعبہ سنی دینیات کی دوسرے ریسرچ اسکالر کاشف کامران خان نے اپنا مقالہ ’نسلی امتیاز کے سد باب میں مذہبی تعلیم‘ کے عنوان پر پیش کیا۔ انہوں نے اپنے مقالے میں کہا کہ تمام مذاہب کی اصل تعلیمات نسلی مساوات پر مبنی ہیں،امتیاز زیادہ تر تاریخی،سیاسی یا سماجی تعبیرات کی پیداوار ہے۔ مذہبی تعلیمات آج بھی بین الاقوامی برابری اور انسانی حقوق کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرسکتی ہیں۔
صدراجلاس ڈاکٹر محمد عاصم خاں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ یہ سلسلہ ایک خوش آئند روایت ہے، جس کا مقصد ریسرچ اسکالرز میں علمی شعور، مطالعہ اور تحقیقی ذوق کو فروغ دینا ہے۔مقالہ نگاروں کے مقالہ جات کو سراہتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بہت سے قرآنی احکام ایسے ہیں جن کی تفصیل و وضاحت احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مکمل ہوتی ہے۔ اسلام واحد مذہب ہے جس نے تمام انسانوں کو مساوات کی بنیاد پر ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ دیگر مذاہب میں جہاں نسل و ذات کی تفریق پائی جاتی ہے،وہیں اسلام نے تمام مؤمنین کو اخوت و برابری کا درس دیا۔
صدرِ شعبہ پروفیسر محمد راشد نے اپنے خصوصی خطاب میں تمام ریسرچ اسکالرز اور پروگرام کے منتظم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مقالہ خوانی کا یہ تسلسل شعبے کی علمی زندگی کی علامت ہے۔ایسے پروگرام ریسرچ کا بنیادی حصہ ہیں جو طلبہ میں تحقیقی سنجیدگی اور علمی خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ریسرچ اسکالرز کے لیے حاضری اور اس طرح کی سرگرمیاں ان کی ترقی کے لئے ناگزیر ہیں کیونکہ تحقیق محض مطالعہ نہیں بلکہ عملی و فکری شرکت کا تقاضا کرتی ہے۔
پروگرام کی نظامت زاہد علی،کنوینر، ریسرچ ایسوسی ایشن نے انجام دی، جبکہ اجلاس کا آغاز محمد انس کی تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوااور کلمات تشکر محمد عاصم مبشر نے پیش کئے۔اس موقع شعبہ دینیات کے اساتذہ ڈاکٹر ندیم اشرف،ڈاکٹر حبیب الرحمن کے علاوہ کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن میں نئے طلبہ کی ’انڈکشن اور وائٹ کوٹ تقریب‘ منعقد
علی گڑھ، 8 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن میں بی یو ایم ایس اور پری طب کورسز کے نئے طلبہ (بیچ 2025) کے استقبال کے لیے انڈکشن اور وائٹ کوٹ تقریب منعقد کی گئی، جس کے ذریعے طلبہ کے طبی پیشے میں باضابطہ داخلے کا اعلان کیا گیا۔
مہمان خصوصی، اے ایم یو رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے اپنے خطاب میں کہا کہ طب کا پیشہ اخلاقیات، اعتماد اور ہمدردی پر مبنی ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ پیشہ ورانہ دیانت، انسان دوستی اور جذباتی حساسیت کو اپنے کردار کا حصہ بنائیں، کیونکہ یہی اوصاف حقیقی معالج کی پہچان ہیں۔
مہمان اعزازی، فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد نے کہا کہ وائٹ کوٹ تقریب پاکیزگی اور انسانیت کی خدمت کی علامت ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ وزارتِ آیوش کے وژن کے مطابق یونانی طب کو عالمی معیار تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر محمد مظاہر عالم، صدر، بی یو ایس ایس، این سی آئی ایس ایم نے نوجوان یونانی معالجین کے لیے مقصد کے تعین اور وقت کے بہتر استعمال کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اے ایم یو میں ایک سنٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ اعلیٰ سطحی یونانی تحقیق اور بین العلومی اشتراک کو فروغ دیا جا سکے۔
تقریب کے آغاز میں فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے ڈین پروفیسر ایس ایم صفدر اشرف نے نئے طلبہ اور مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور طلبہ کو تحقیق، اختراع اور انتریپرینیورشپ کے جذبے کو اپنانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے فروری 2026 میں منعقد ہونے والے ارلی گول سیٹنگ میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
اجمل خاں طبیہ کالج کے پرنسپل پروفیسر بی ڈی خان نے اپنے خطاب میں یونانی طب کی وراثت اور شفابخش فلسفے پر روشنی ڈالی اور طلبہ کو اس روایتی نظامِ علاج کے ذریعے مریضوں کی خدمت کے لیے خود کو وقف کرنے کی تلقین کی۔
یہ پروگرام ڈاکٹر صبازیدی، ڈاکٹر عرشی ریاض، ڈاکٹر محمد شہاب اور ڈاکٹر صفی الرحمٰن کی زیر نگرانی ترتیب دیا گیا، جس میں فیکلٹی ممبران، طلبہ اور ان کے سرپرستوں نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ تقریب نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کو ایک یادگار موقع بنا دیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ نباتیات نے آنجہانی پروفیسر ایس کے سکسینہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
علی گڑھ، 8 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ نباتیات میں ممتاز ماہر نباتات اور شعبہ کے سابق چیئرمین پروفیسر سریندر کمار سکسینہ کے انتقال پر تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر فیکلٹی ممبران، ریسرچ اسکالرز اور عملے کے افراد نے آنجہانی پروفیسر کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی علمی و ادارتی خدمات کو یاد کیا۔
پروفیسر سکسینہ کی پیدائش 5 مارچ 1935 کو فرخ آباد میں ہوئی اور 3 نومبر 2025 کو گڑگاؤں میں ان کا انتقال ہوا۔ انہوں نے ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کیں۔ وہ شعبہ نباتیات سے پی ایچ ڈی کرنے والے اولین طلبہ میں شامل تھے اور ان کے نگراں مرحوم پروفیسر ابرار مصطفیٰ خاں تھے، جنہیں ہندوستان میں نیمٹولوجی کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔
پروفیسر سکسینہ 1959 میں اے ایم یو میں لیکچرر مقرر ہوئے اور 1971 میں ریڈر اور 1981 میں پروفیسر بنے۔ وہ 1982 سے 1987 تک شعبہ نباتیات کے سربراہ رہے۔ علاوہ ازیں 1991 سے 1993 تک فیکلٹی آف لائف سائنسز کے ڈین بھی رہے۔ انہوں نے پی ایل-480اسکیم کے کوآرڈینیٹر، لینڈز اینڈ گارڈنز کے ممبر انچارج اور این آر ایس سی ہال کے پرووسٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
شعبہ نباتیات کے چیئرمین پروفیسر ابرار احمد خاں نے کہا کہ پروفیسر سکسینہ پلانٹ پیتھالوجی کے نامور ماہر اور نیمٹولوجی کے محقق تھے۔ انہوں نے 16 سے زائد طلبہ کی پی ایچ ڈی میں رہنمائی کی، کئی تحقیقی مقالے شائع کیے اور مختلف سائنسی تنظیموں کے تاحیات رکن رہے۔ ان کی دیانتداری، نظم و ضبط اور تدریسی لگن نے انہیں ایک محترم استاد، قابل قدر محقق اور مشفق رہنما کے طور پر مقبولیت عطا کی۔
مقررین نے انہیں ایک مخلص ماہرِ تعلیم اور منتظم قرار دیا جنہوں نے شعبہ نباتیات اور یونیورسٹی کی علمی ترقی میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ ان کے انتقال کو اے ایم یو برادری کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا گیا۔ آخر میں دو منٹ کی اجتماعی خاموشی اختیار کرکے آنجہانی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں وندے ماترم کی 150 ویں سالگرہ جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی
علی گڑھ، 8 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) اور اس کے وابستہ تعلیمی اداروں میں ملک کے قومی نغمہ وندے ماترم کی 150 ویں سالگرہ جوش و خروش اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر مختلف شعبوں، اسکولوں اور ہاسٹلوں میں اجتماعی نغمہ خوانی، وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے خطاب کی براہِ راست نشریات، اور قومی نغمہ کی تاریخی، ادبی و ثقافتی اہمیت پر مباحثے منعقد ہوئے۔
فیکلٹی آف آرٹس میں ڈین پروفیسر ٹی این ستیسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ وندے ماترم محض قومی نغمہ نہیں بلکہ فن، روحانیت اور قوم پرستی کا حسین امتزاج ہے جو آج بھی اخلاقی حب الوطنی اور کثرت میں وحدت کے جذبے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
شعبہ اقتصادیات میں اساتذہ و طلبہ نے اجتماعی طور پر وندے ماترم پیش کیا، جس کے بعد وزیر اعظم کا براہِ راست خطاب دکھایا گیا۔ چیئرمین پروفیسر شہروز عالم رضوی نے کہا کہ قومی نغمہ گانا اتحاد، وقار اور وطن سے محبت کے احساس کو مضبوط کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ مستقبل میں بھی ایسے حب الوطنی پر مبنی پروگراموں کا اہتمام کرتا رہے گا۔
شعبہ زولوجی میں اساتذہ، محققین اور طلبہ نے مل کر وندے ماترم نغمہ پیش کیا۔ چیئرپرسن پروفیسر قدسیہ تحسین نے بنکم چندر چٹرجی کے تخلیق کردہ اس گیت کی تاریخی و ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ گیت قومی اتحاد اور عقیدت کی لازوال علامت ہے۔
اے ایم یو کے اسکولوں میں بھی یہ تقریب جوش و خروش سے منائی گئی۔ایس ٹی ایس اسکول میں پرنسپل مسٹر فیصل نفیس نے اجتماعی نغمہ خوانی کو قومی شناخت کے اجتماعی اظہار سے تعبیر کیا اور طلبہ کے جوش و جذبے کی تعریف کی۔ نائب پرنسپل ڈاکٹر محمد عالمگیر اور اساتذہ کی نگرانی میں وزیر اعظم کے خطاب کو بھی دکھایا گیا اور حب الوطنی پر مبنی ثقافتی سرگرمیاں منعقد ہوئیں۔
اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (بوائز)میں خصوصی اسمبلی منعقد ہوئی۔ پرنسپل ڈاکٹر ثمینہ نے قومی افتخار اور ورثے کے احترام میں وندے ماترم کی اہمیت بیان کی۔ طلبہ نے وزیرِ اعظم کا براہ راست خطاب دیکھا اور سنا۔
سٹی گرلز ہائی اسکول میں طلبہ و اساتذہ نے وندے ماترم گاتے ہوئے انسانی زنجیر بنائی، جو اتحاد اور عقیدت کی علامت تھی۔ کلچرل کوآرڈینیٹر فرزانہ نذیر نے بنکم چندر چٹرجی کی زندگی اور خدمات پر روشنی ڈالی جبکہ پرنسپل مسٹر جاوید اختر نے طلبہ کی پُرجوش شرکت کو سراہا۔
سر ضیاء الدین ہال میں پرووسٹ، وارڈنز اور طلبہ نے اجتماعی طور پر وندے ماترم نغمہ پیش کیا اور وزیر اعظم کا خطاب براہِ راست سنا۔ پرووسٹ نے اپنے خطاب میں اس نغمہ کے تاریخی کردار اور تحریکِ آزادی میں اس کے اثرات پر گفتگو کی۔
ایس ایس ہال (ساؤتھ) میں پرووسٹ ڈاکٹر عبدالرؤف، وارڈنز، طلبہ اور عملے کے اراکین نے اجتماعی نغمہ خوانی میں حصہ لیا، جس کے بعد وزیراعظم کا پیغام نشر کیا گیا، جسے حاضرین نے بغور سنا اور اتحاد، حب الوطنی اور شمولیت کے اصولوں پر کاربند رہنے کا عزم کیا۔
Comments are closed.