نیوزی لینڈ: آکلینڈ میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی، قابض اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ
بصیرت عالمی نیوزڈیسک
نیوزی لینڈ میں فلسطین یکجہتی نیٹ ورک کے زیرِ اہتمام مغربی آکلینڈ کے ہینڈرسن علاقے میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک بڑا جلوس نکالا گیا جس کے بعد لنکن اسٹریٹ پر ایک احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ مظاہرین نے قابض اسرائیلی مصنوعات اور ان کمپنیوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا جو غزہ میں جاری نسل کشی اور تباہی میں شریک ہیں۔
شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ”قابض اسرائیلی اشیاء نہ خریدیں، نسل پرستی کا بائیکاٹ کریں، قابض اسرائیل کا بائیکاٹ کریں” "غزہ بمباری کی زد میں ہے، میکڈونلڈز سے خریداری بند کرو”
”
قابض اسرائیل کا بائیکاٹ اور احتساب کرو، قبضے کے خلاف اٹھ کھڑے ہو، کمپنی راکٹ لیب نسل کشی اور تباہی سے منافع کما رہی ہے”،
"فلسطین کو آزادی دو”،
"ہم سب ایک ہیں، فلسطین کی آزادی ہمارا مطالبہ ہے”،”اب غزہ کو آزادی دو”، "درندگی بند کرو”۔
مظاہرین کے دوران فضا نعروں سے فضا گونج اٹھی، وہ پرجوش انداز میں کہہ رہے تھےکہ”دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہوگا”،
"ایک، ہم عوام ہیں، دو، ہم رکنے والے نہیں، تین، ہم لوٹنے والے ہیں بہت جلد، چار،اسرائیل دہشت گرد ریاست ہے”،
"میں لوٹوں گا، اپنی سرزمین پر واپس آؤں گا، یافا اور غزہ واپس آؤں گا، القدس اور حیفا واپس آؤں گا، خدا کی قسم میں واپس آؤں گا”،
"اب پابندیاں لگاؤ”،
مظاہرے کے دوران مختلف مقررین نے خطاب کیا جن میں نیوزی لینڈ کے سابق وزیر اور حزبِ اختلاف کی لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ فِل ٹویفورڈ اور نیوزی لینڈ فلسطین یکجہتی نیٹ ورک کے سیکرٹری جنرل نیل اسکاٹ نمایاں تھے۔ انہوں نے اپنے خطابات میں کہا کہ قابض اسرائیلی مصنوعات اور ان کمپنیوں کا بائیکاٹ ناگزیر ہے جو غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ میں شریک ہیں۔
مظاہرے کے دوران سوڈانی نژاد نیوزی لینڈی کارکنان فاطمہ سنوسی اور رغدہ حسن نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے سوڈان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے قتلِ عام اور جنگی جرائم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دارفور میں تیزی سے پھیلتی تباہی کے پیچھے اماراتی حکومت کا مالی تعاون شامل ہے جو سوڈانی سونا لوٹ کر اربوں ڈالر کما رہی ہے۔
سنوسی اور رغدہ نے نیوزی لینڈ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امارات کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدے سے دستبردار ہو، ورنہ وہ بھی سوڈان میں جاری ان جنگی جرائم کی شریکِ جرم سمجھی جائے گی۔
اسی دوران شرکاء نے غزہ کے مظلوم عوام کے لیے فنڈ جمع کرنے کی مہم بھی چلائی۔ انہوں نے مختلف سائز کے فلسطینی پرچم، جیکٹس، مڈلز اور اسٹیکرز فروخت کیے جن پر فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے نعرے درج تھے۔
فلسطین یکجہتی نیٹ ورک نیوزی لینڈ کے شریک صدر ماہر نزال نے کہا کہ "آج کی ریلی اُن مسلسل سرگرمیوں کا حصہ ہے جو ہم گذشتہ دو برسوں سے ہر ہفتے فلسطینی عوام سے یکجہتی اور قابض اسرائیل کی نسل کشی کے خلاف منعقد کر رہے ہیں”۔
نیوزی لینڈ کی لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ فِل ٹویفورڈ نے کہا کہ "پوری نیوزی لینڈ میں فلسطین سے یکجہتی کی تحریک دن بدن مضبوط ہو رہی ہے اور اسے عوامی سطح پر بھرپور حمایت حاصل ہے۔”
انہوں نے کہا کہ "اب سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ نیوزی لینڈ حکومت قابض اسرائیل کے خلاف تجارتی اور اقتصادی پابندیاں عائد کرے کیونکہ وہ غزہ میں نسل کشی اور فلسطینی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کے ذریعے بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔”
Comments are closed.