غزہ کے 16 ہزار 500 زخمی طبی انخلا کے منتظر ہیں، ان کی مدد کی جائے:عالمی ادارہ صحت

 

بصیرت عالمی نیوزڈیسک

عالمی ادارہ صحت اور اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگی انسانی امور نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں ہزاروں زخمیوں کی حالت مسلسل بگڑ رہی ہے کیونکہ قابض اسرائیل کی مسلط کردہ ناکہ بندی اور گذرگاہوں کی بندش بدستور جاری ہے۔ اسی دوران غزہ کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ میں شہداء کی تعداد بڑھ کر 69 ہزار 169 تک جا پہنچی ہے۔

 

عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً 16 ہزار 500 زخمی اب بھی بیرونِ ملک علاج کے لیے منتظر ہیں۔ ادارے نے تصدیق کی کہ اس کی طبی امداد سرحد پر تیار موجود ہے مگر قابض اسرائیلی حکام کی طرف سے گذرگاہیں بند رکھنے کے باعث یہ امداد داخل نہیں ہو پا رہی۔

 

ادارے نے فوری طور پر رفح گذرگاہ سمیت تمام راستے کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کہ رفح گذرگاہ غزہ کے لیے طبی انخلا کا واحد حیاتیاتی راستہ اور صحت کے شعبے کے لیے بنیادی امدادی دروازہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے مزید کہا کہ انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور دنیا کے مزید ممالک غزہ کے زخمیوں کو علاج کے لیے قبول کریں۔

 

دوسری جانب غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران غزہ کے مختلف علاقوں سے 10 شہداء اور 6 زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں ایک نیا شہید شامل ہے جبکہ 9 شہداء کی لاشیں ملبے تلے سے نکالی گئیں۔

 

وزارت نے وضاحت کی کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک 241 شہری شہید اور 614 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 522 لاشیں ملبے تلے سے برآمد کی گئی ہیں۔ ان اعداد و شمار کے بعد مجموعی شہداء کی تعداد میں 284 کا اضافہ ہوا ہے جس سے قابض اسرائیل کی نسل کشی کی اس جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی شہداء کی تعداد 69 ہزار 169 تک پہنچ گئی ہے۔

Comments are closed.