یومِ تعلیم: علم و آگہی کے فروغ کا قومی عہد:مولانا انیس الرحمن قاسمی
پٹنہ: 9 نومبر (پریس ریلیز)
آل انڈیا ملی کونسل، بہار نے ریاست اور ملک بھر کے تمام مدارس اسلامیہ، کالجز اور یونیورسٹیوں کے ذمہ داران سے 11 نومبر کویومِ تعلیم (National Education Day) کے موقع پر علمی و تعلیمی پروگرام منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔اس موقع پرحضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی، امیرِ شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ وقومی کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل نے اپنے پیغام میں فرمایا کہ:یومِ تعلیم صرف ایک یادگار دن نہیں؛ بلکہ ایک فکری و قومی تحریک کی علامت ہے۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ نے قوم کو یہ سبق دیا کہ تعلیم ہی انسان کو عزت، وقار اور ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ آج کے اس دور میں جب علم و فنون کے نئے دروازے کھل رہے ہیں، ہمیں لازم ہے کہ دینی و عصری علوم کے امتزاج کے ساتھ ایسی نسل تیار کریں جو ایمان، اخلاق اور علم تینوں میں ممتاز ہو۔انہوں نے مزید فرمایا کہ مدارس اسلامیہ، عصری تعلیمی ادارے اور جامعات اگر متحد ہوکر تعلیم کے فروغ اور فکری بیداری کی سمت قدم بڑھائیں تو یہ ملت کے مستقبل کے لیے سب سے بڑی خدمت ہوگی۔مولانا ابوالکلام آزادؒ کا پیغام آج بھی اتنا ہی زندہ اور قابلِ عمل ہے، جتنا آزادی کے بعد کے دور میں تھا۔ تعلیم کے ذریعہ سماج میں مساوات، اخوت اور خدمتِ انسانیت کی روح کو عام کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔انہوں نے ملتِ اسلامیہ کے تمام اداروں، اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی کہ وہ یومِ تعلیم کے موقع پر تعلیمی بیداری کے پروگرام منعقد کریں اور اس دن کو شعور و اصلاح کے ساتھ منائیں؛ تاکہ تعلیم کی روشنی گھر گھر پہنچ سکے۔
آل انڈیا ملی کونسل، بہار کے صدرمولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی نے تمام مدارس، کالجز اور یونیورسٹیوں کے ذمہ داران کو ایک تفصیلی مراسلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ کی یومِ پیدائش کو قومی یومِ تعلیم کے طور پر منانے کا مقصد اُن کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھانا اور نئی نسل میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا آزادؒ نہ صرف ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم تھے؛ بلکہ وہ جدید ہندوستان میں نظامِ تعلیم کی اصلاح، نصابی ارتقا اور قومی تعلیمی پالیسی کے بنیادی معمار بھی تھے۔ ان کی کوششوں سے ہی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IITs) اور دیگر نمایاں علمی اداروں کی بنیاد رکھی گئی جنہوں نے ملک کے علمی و تحقیقی سفر کو نئی جہت عطا کی۔
مولانا ڈاکٹر قاسمی نے کہا کہ یومِ تعلیم منانے کا مقصد صرف تقریبات کا انعقاد نہیں؛ بلکہ یہ عہد ہے کہ تعلیم کو اپنی سماجی و دینی ترقی کا مرکز بنایا جائے۔انہوں نے تمام اداروں کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ یومِ تعلیم کے موقع پرخصوصی پروگرام منعقد کریں، جن میں مضمون نویسی و تقریری مقابلے، تعلیم کی اہمیت پر سیمینار و مذاکرے، جدید و دینی تعلیم کے امتزاج پر مکالمے،تعلیمی مشعل برداری یا علمی جلوس، نیز مولانا ابوالکلام آزادؒ کی خدمات و نظریات پر لیکچرز و تقاریر شامل ہوں۔ایسے پروگراموں سے نہ صرف طلبہ میں تعلیم کے تئیں بیداری پیدا ہوگی بلکہ قومی یکجہتی، ہم آہنگی اور ترقی کی فضا بھی مضبوط ہوگی۔
واضح رہے کہ بہار حکومت کی تجویز پرحکومتِ ہند نے سن 2008میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کی یومِ پیدائش 11 نومبر کوقومی یومِ تعلیم کے طور پر تسلیم کیا تھا۔اس سلسلے میں آل انڈیا ملی کونسل، بہار کی جانب سے تمام علمائے کرام، مدارس، کالجز اور یونیورسٹیوں کے ذمہ داران کو خط لکھ کر اس اہم قومی دن کوپرجوش اور بامقصد انداز میں منانے، تعلیمی بیداری کی مہم کو فروغ دینے اور طلبہ میں علم و آگہی کے جذبے کو عام کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
مولانا قاسمی نے مزید کہاکہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تعلیم ہی وہ روشنی ہے، جو جہالت کے اندھیروں کو مٹاتی ہے۔ اگر ہم نے علم کو اپنا ہتھیار بنایا تو ملتِ اسلامیہ نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی شان واپس حاصل کرے گی؛بلکہ ملک و قوم کی تعمیر میں بھی مثالی کردار ادا کرے گی۔ یہی پیغامِ تعلیم اور یہی پیغامِ مولانا ابوالکلام آزادؒ ہے۔
Comments are closed.