حادثات… ہلاکتیں… ذمہ دار کون؟
سچ تو مگر کہنے تو
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
9395381226
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دو بھیانک حادثات ہوئے، کم از کم چالیس افراد جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں ہلاک ہوگئے۔ پہلا حادثہ کرنول میں ایک پرائیوٹ بس میں آگ لگ جانے کا ہے۔ ایک بائیک کو ٹکر دینے کے بعدیہ آگ بس کی ڈیزل ٹینکر کے پھٹ پڑنے سے لگی اور اتنی تیزی اور ا تنی شدت سے پوری بس کو اپنے لپیٹ میں لے لیا کہ کئی زندہ جل گئے۔ دوسرا حادثہ چیوڑلہ کے قریب آر ٹی سی بس اور کنکریٹ سے لدی ٹپر کے تصادم کا ہے۔ جس میں بس اور ٹپر کے ڈرائیورس کے بشمول 20 افراد ہلاک ہوئے۔ کرنل اس بس حادثہ سے متعلق جو رپورٹ منظر عام پر آئی اس کے مطابق جو بائیک سوار بس کی زد میں آیا وہ حالت نشہ میں تھا اور اسٹنٹ کر رہا تھا۔ دوسرے حادثہ میں ٹپر کے ڈرائیور کی لاپرواہی اور تیز رفتاری سے ڈرائیو کر رہا تھا، یہ دونوں حادثات اس قدر دل دہلانے والے ہیں کہ عینی شاہدین کے آنکھوں سے نیند اڑ گئی۔ خاندان کے خاندان اجڑ گئے۔ ابھی ان دو حادثات کے صدمے سے سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ کچھ اور حادثات کی اطلاعات ملی ہیں۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ حادثات سے کوئی سبق نہیں لیتا۔اس کے علاوہ حادثات کے ذمہ داروں کے خلاف قانون بے اثر ثابت ہوتا ہے۔ لوگ مرتے ہیں، ایکس گریشیا کا اعلان ہوتا ہے، تحقیقات کروائی جاتی ہیں اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ کی تحقیقات کی رپورٹ نہ جانے کہاں گم ہو جاتی ہے۔ 12 برس پہلے حیدرآباد کے ایک پرائیوٹ ٹراویل ایجنسی کی بس ڈرائیور کی لاپرواہی سے حادثہ کا شکار ہوئی تھی جس میں 45 مسافر ہلاک ہوئے تھے۔ آج تک اس کی تحقیقات مکمل نہیں ہوسکی اور نہ ہی وہ منظر عام پر آئی ہے۔ پرائیوٹ ٹور آپریٹرس نے سماج کے بااثر افراد کی سرمایہ کاری ہے ان کی بسیں آبادی والی علاقوں سے بھی اتنی تیز رفتاری سے گزرتی ہیں گویا وہ سنسان جنگل کے علاقوں سے گزر رہی ہوں۔ ایک تو ان بسوں کا انسورنس ہوتا ہے دوسرے سیاسی سرپرستی کی وجہ سے خاطیوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا، نتیجہ۔۔۔حادثات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بیشتر بس ڈرائیورس‘ ٹرک ڈرائیورس حالت نشہ میں ڈرائیو کرتے ہیں۔ مہینوں میں ایک ایک بار چیکنگ ہوتی ہے۔ دے، دلاکر معاملہ ختم کردیا جاتا ہے۔ کرپٹ سسٹم کی وجہ سے قانون کا کوئی ڈر باقی نہیں رہا۔ اور جب قانون بے اثر ہوجاتا ہے تو سڑکوں پر موت کا رقص عام ہوجاتا ہے۔ بار بار اعلان کیا جاتا ہے کہ پرانی گاڑیوں کے سڑک پر لانے پر جرمانے ہوں گے۔ مگر تیس تیس برس پرانی لاریاں، ٹرکس اور بعض اوقات کارز بھی سڑکوں پر فراٹے بھرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی کئی ٹرکس، لاریاں اور ٹیکسی کارس آپ کو شہروں میں نظر آئیں گی۔ ان میں سے بریک کمزور ہوں گے، کسی کی ہیڈ لائٹس نہ ہونے کے برابر ہوں گی۔ اوپر سے یہ ڈرائیورس اپنے موبائیل فون پر یا تو بات چیت میں مصروف نظر آئیں گے یا پھر موبائیل اسکرین پر نیو ز، فلم یا سیریل کا کلپ دیکھتے نظر آئیں گے۔ نئے کمشنر پولیس نے اگرچہ کہ یہ اعلان کیا کہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے موبائیل استعمال کرنے والے کے خلاف کارروائی کی جائے گی مگر کون ہے جو ان کی بات کو اہمیت دے؟ جب تک وارنگ پر عمل نہیں کیا جاتا، جب تک بھاری جرمانے عائد نہیں کئے جاتے، لائسنس ضبط نہیں کئے جاتے، پولیس اسٹیشن لے جاکر مزاج پرسی نہیں کی جاتی اس وقت تک کسی میں سدھار ممکن نہیں۔ جس طرح کرنول بس حادثے کا ذمہ دار، نشہ میں دھت بائیک سوار بتایا جاتا ہے اسی طرح اکثر وبیشتر سڑک حادثات کے لئے وہ نوجوان لڑکے یا لڑکیاں بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جو سڑکوں پر بائیکس پر اسٹنٹ کرتے ہیں، اکرچہ کہ وہ خود بھی حادثات کا شکار ہوکر ہمیشہ کے لئے معذور بھی ہوتے ہیں اور کچھ اپنی زندگی سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف بھی کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ یہ سڑکوں پر بائیکس پر کرتب بازی کرنے والے نوجوان در اصل موت کے فرشتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سات‘ آٹھ سال کے بچے بھی بائیک یا اسکوٹر لے کر نکل جاتے ہیں، نہ انہیں اسپیڈ پر کنٹرول ہوتا ہے اور نہ ہی وہ کبھی صحیح یا غلط سمت دیکھتے ہیں۔ ان بچوں کے سرپرستوں کو جب تک جرمانہ یا سزا نہ دی جائے، سدھار ممکن نہیں…
ہر روز کئی حادثات کے اطلاعا ت ملتی ہے۔ نیشنل ہائی وے ٹرافک سیفٹی اڈمنسٹریشن NHTSAکے مطابق ہر سال کم از کم 45 ہزار بائیک اکسیڈنٹ ہوتے ہیں، ان میں بہت کم زندہ بچ پاتے ہیں، جو بچ جاتے ہیں وہ اپنی معذوری کی وجہ سے مرجانے کی آرزو کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2014 سے 2025 کے درمیان کم و بیش 26 ہزار سڑک حادثات تلنگانہ میں ہوئے ہیں۔ جن میں 8 ہزار ہلاک اور لگ بھگ 16 ہزار زخمی ہوئے۔ ان حادثات کا سبب سڑکوں کی خستہ حال سڑکیں، گڑھے، شاہراہوں پر روشنی کی کمی بھی ہے۔ مختلف کام کے بہانوں سے سڑکیں کھودی جاتی ہیں اور پھر اس کی دوبارہ مرمت نہیں ہوتی، جس کے نتیجے میں نہ صرف رات کے اوقات میں بلکہ دن میں بھی حادثے ہوتے ہیں۔ اس کے لئے سڑکوں کی کھدائی کرنے والے کونٹرکٹرس کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہئے اور انہیں بھاری جرمانے عائد کرکے ان کے لائسنس منسوخ کرنے چاہئیں۔رنگ روڈس، فلائی اوورس پر جب رات کے اوقات میں تعینات پولیس جوانوں پر نیند کا غلبہ طاری ہوتا ہے یا وہ ذرا سی غفلت برتتے ہیں تو نوجوان بائیکس پر تین تین سوار کے ساتھ ایک پہئے پر تیز رفتاری کے ساتھ گاڑی چلاتے ہیں۔ کنٹرول کھو دیتے ہیں تو ڈوائیڈر سے ٹکراکر زندگی کھو دیتے ہیں۔ 2011ء میں محمد اظہر الدین اور خلیق الرحمن کے نوجوان بیٹے اوور اسپیڈ کے شکار ہوئے۔ جس کے بعد خلیق الرحمن نے YOUTH AGANIST SPEEDاین جی او قائم کرکے نوجوانون میں تیز رفتاری سے بائیک چلانے کی مہم چلائی، انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ گھر سے باہر نکلتے ہیں تو ان کے ماں باپ ان کا انتظار دیکھتے ہیں۔ زندہ بچوں کی جگہ ایمبولنس میں میتیں آتی ہیں تو ان پر کیا گزرتی ہیں؟ وہ انہیں کے دل کو معلوم ہے۔ ٹرافک سینگل کی خلاف ورزی، اوور ٹیکنگ اور سڑکوں پر ریس بھی زیادہ تر حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ بائیک اور کار چلاتے ہوئے موبائیل کا استعمال ہر حال میں خطرناک اور بھیانک نتائج کا حامل ہوتا ہے۔ اب تو یہ حال ہے کہ بائیک پر جتنے سوار ہوتے ہیں ان سب کی نظر موبائیل اسکرین پر ہوتی ہے اور مخالف سمت سے آنے والوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ایکسیڈنٹس ہوتے ہیں۔آٹو ڈرائیور س زیادہ تر حادثات کے ذمہ دار ہوتے ہیں، اس وقت شہر میں بیرون ریاست اور بیرون حیدرآباد کے جاہل اور گنوار قسم کے آٹو ڈرائیورس ’OLA‘اور دوسرے کیب ایجنسیز میں آگئے ہیں، یہ اس قدر لاپروائی سے آٹو چلاتے ہیں کہ کمزور دل والوں کا ہارٹ فیل بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نہ تو سگنل کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ انہیں رانگ سائیڈ یا رائٹ سائیڈ سمجھ میں آتا ہے۔ بغیر انشورنس کے آٹو کی سواری کا مشورہ نہیں دیا جاسکتا۔ ٹرافک سگنلس کے قریب پیشہ ور بھکاری بھی حادثوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔خود کو دونوں پیروں سے معذور ظاہر کرتے ہوئے پہیوں والی سلائیڈز کا استعمال کرنے والے اکثر کاروں اور بسوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ ان بھکاریوں کے خلاف کبھی کبھی کارروائی کی جاتی ہے مگر بھکاریوں کا مافیا انہیں پھر سے شہر کے مصروف ترین علاقوں میں لاکر چھوڑ دیتے ہیں۔ سڑک حادثات ہو یا ٹرین ہو یا فضائی حادثات، تکنیکی خرابی ڈرائیور یا پائلٹ کی وجہ سے ہوتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ سسٹم کو کرپشن سے پاک کیا جائے۔ سخت قانون لاگو کیا جائے۔ خطاوار کو لازمی طور پر سزا دی جائے۔ سیاسی اثرات قبول نہ کئے جائیں۔ مگر کیا ایسا ممکن ہے؟….
Comments are closed.