نفرت کو محبت اور بھائی چارے سے ہی شکست دی جا سکتی ہے : اقرا حسن
بہار کو یوپی جیسے حالات سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری، باجپٹی کے بیلا شانتی کٹیر میدان میں آر جے ڈی امیدوار مکیش یادو کی حمایت میں انتخابی جلسے سے سماجوادی ایم پی کا خطاب
جا لے (محمد رفیع ساگر/بی این ایس) سماجوادی پارٹی کی نوجوان اور بااثر لیڈر اقرا حسن نے کہا ہے کہ آج ملک کی سیاست کو نفرت، تعصب اور مذہبی جنون کے دلدل میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر یاد رکھیں۔ نفرت کو نفرت سے نہیں بلکہ محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک گنگا-جمنی تہذیب کا امین ہے، جہاں ہر مذہب، ہر طبقے اور ہر زبان کے لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہے ہیں۔ یہی ہندوستان کی اصل پہچان ہے جسے کچھ طاقتیں ختم کرنا چاہتی ہیں۔
اقرا حسن نے باج پٹی اسمبلی حلقہ کے بیلا شانتی کٹیر میں منعقد عظیم اتحاد کے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہاں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنا ہی دراصل سیکولر بھارت کی حفاظت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اتر پردیش میں دیکھا کہ جب خالص بی جے پی حکومت بنتی ہے تو وہاں ظلم اور ناانصافی بڑھ جاتی ہے۔ لوگ اپنے مذہبی فرائض تک آزادی سے ادا نہیں کر پاتے۔ بہار کے عوام کو یوپی جیسے حالات سے اپنے صوبے کو بچانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آپسی اختلافات کا نہیں بلکہ اتحاد اور بھائی چارے کا ہے۔ سبھی امن پسند، انصاف پسند اور سیکولر عوام کو ایک پلیٹ فارم پر آ کر عظیم اتحاد کے امیدواروں کو کامیاب بنانا ہوگا تاکہ بہار میں ایک مضبوط، انصاف پر مبنی اور ترقی پسند حکومت قائم ہو سکے۔
اقرا حسن نے کہا کہ اگرچہ سماجوادی پارٹی بہار میں خود انتخابات نہیں لڑ رہی، مگر پھر بھی اکھلیش یادو سمیت ان کی پارٹی کے درجنوں سینئر لیڈر بہار کے مختلف علاقوں میں عظیم اتحاد کے امیدواروں کی حمایت میں مہم چلا رہے ہیں، کیونکہ مقصد صرف انتخابی جیت نہیں بلکہ ملک کو نفرت کی سیاست سے بچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جہاں بھی فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف محاذ کھولا جائے گا، وہاں اپنی موجودگی درج کرائیں گے۔ ہم نے دہلی میں عام آدمی پارٹی کے لیے بھی دل سے کام کیا تھا، کیونکہ ہمارا مقصد صرف سیاست نہیں، بلکہ انصاف اور بھائی چارے کی بقا ہے۔
اقرا حسن نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ محبت، تعلیم اور امن کی راہ اختیار کریں، نفرت پھیلانے والوں کو مسترد کریں اور ایسے لوگوں کے خلاف ووٹ دیں جو ملک کو بانٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جلسہ میں آر جے ڈی امیدوار مکیش کمار یادو سمیت عظیم اتحاد کے متعدد مقامی لیڈران، عہدیداران اور خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بیلا شانتی کٹیر کا میدان لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور اقرا حسن کے خطاب پر بارہا نعرے گونج اٹھے۔محبت زندہ باد، بھائی چارہ زندہ باد۔
Comments are closed.