اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا 34واں فقہی سمینار بہ حسن وخوبی اختتام پذیر
جمشید پور سے مفتی احمدنادرالقاسمی کی خاص رپورٹ
گذشتہ تین دنوں سے چاری فقہی سمینار آج مورخہ 10 نومبر بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوا۔اس سمینار میں مائکروفائنانس ۔آنکھوں کاعطیہ ۔مڈیکل انشورنس۔آن لائن صنف مخالف سے تعلیم وتعلم ۔جیسے اہم معاشی ۔طبی اورتعلیمی مسائل پر غوروخوض کے بعد بہ اتفاق آراء گراں قدر تجاوز منظور کی گئیں۔ اس سمینار کی اہم بات یہ رہی کہ مجلس استقبالیہ اورمقامی منتظمین کے علاوہ شہرجمشیدپوروقرب وجوارکے علماء، ائمہ مساجد، شہرکےباشعورافراداورمدارس کے طلبہ اورجماعت کے ساتھیوں نے بڑی عقیدت ومحبت کےساتھ شرکاء سمینار اورعلماء کی خدمت کی۔ رہائش وطعام اورٹرانسپورٹیشن کابھی اعلی انتظام تھا۔مہمانوں کی خدمت میں کوئی کسرنہیں جھوڑی۔

سمینار میں معاشی طورپر پسماندہ افراد کو خودکفیل بنانے کےلئیے غیرسودی مائکروفائنانس ادارے قائم کئیے جانے کو وقت کی اہم ضرورت اورمستحسن قدم قراردیاگیا۔اس اختتامی نشست کو مومولانا ابوالکلام شفیق سیلم۔مولاناسراج رشادی تامل ناڈو۔مولانا محمدقاسمی کڈرورانچی۔مولاناعتیق احمدبستوی قاسمی لکھنو۔مولانا بدران سعیدی مظاہری مولانا عبداللہ مظاہری قاسمی دیوبند نے خطاب کیا اوراکیڈمی کی علمی وفقہی خدمات اورسمینارکے طریقہ کار کو سراہا اورمیزبان کی مخلصانہ خدمات سمینارکے کامیاب انعقاد پران کومبارک بادی۔

حضرت مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے سماج اورمعاشرے کے تئیں علماءکواپنی ذمّہ داری پرتوجہ دلاتےہوئے کلیدی خطاب میں فرمایا کہ تحقیق دین اوردفاع دین دونوں علماء کافریضہ ہے۔آج سوشل میڈیاکےذریعہ جس طرح ہرکچے پکے ذہن کو خراب کرنے اورنوجوانوں میں دین کے بارے میں شکوک وشبہات اورالحاد پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کاازالہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔اس کے لیے نئی نسل سے رابطہ استوارکرنا بھی وقت کااہم تقاضاہے۔ صدارتی خطاب کے بعد جناب ریاض شریف صاحب نے والہانہ انداز سے اپنی اورمجلس استقبالیہ کی طرف سے مہمانوں اورمعاونین کاشکریہ اداکیا۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹرصفدرزبیرندوی نے انجام دیا اورحضرت مولانا فضل الرحیم مجددی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی دعاپرمجلس کااختتام ہوا۔
Comments are closed.