ویشالی ضلع کے موضع کانٹی نہرکے متاثرین کو معقول معاوضہ دیا جائے:مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی

 

امارت شرعیہ کے وفدنے متأثرین سے ملاقات کیں اور ہرممکن تعاون کا یقین دلایا

 

پھلواری شریف (پریس ریلیز) گذشتہ۸؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ویشالی ضلع کے لعل گنج سے تقریباً۷؍کیلومیٹر جانب شمال موضع کانٹی نہر کے اقلیتی طبقہ کے ۱۷؍مکانات کو چند شرپسندوں نے خاکستر کردیا، اس المناک حادثہ کی خبر ملتے ہی امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کے حکم اور ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب و قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی کی ہدایت پر امارت شرعیہ کاایک وفد مولانا رضوان احمد ندوی معاون ناظم امارت شرعیہ کی قیادت میں ۹؍نومبر کو جائے واردات پر صورت حال کے جائزہ کے لیے پہونچا ، اس وفد میںامارت شرعیہ کے معاون قاضی مولانا راشد انور قاسمی ، شعبہ تنظیم کے رفیق کار مولانا محمد عبدالقدو س کے علاوہ لعل گنج کے نقیب جناب مصباح الدین اکرم ، مولانا عبدالغفور استاذ مدرسہ فردوس العلوم شریک تھے ، وفد نے حالات کا جائزہ لیا اور متاثرین سے حادثہ کے وجوہات معلوم کیے ، لوگوں نے بتایا کہ ۸؍نومبر کو دن کے ایک بجے ایک گہری سازش کے تحت موٹر سائیکل پر سوارایک اجنبی شخص ہم لوگوں کی جھونپڑی کے قریب آیا ادھر اس پر گھات لگائے چند شرپسند ٹوٹ پڑے ، وہ اجنبی شخص کسی طرح جان بچاکر بھاگ کھڑا ہوا، البتہ شرپسندوں نے ہم لوگوں کے گھر وں کو جلانا اور توڑنا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ۱۷؍مکانات اثاثے ،کھانے کے برتنوں کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ، ہم لوگ غریب آدمی ہیں محنت ومزدوری کرکے روزی روٹی کماتے ہیں ، سب کچھ تباہ وبرباد ہوگیا ، وفد نے اجڑے ہوئے مکانات کے شیڈ ، خاکستر کپڑے اور برتنوں کو دیکھا ، متاثرین کے چہرے پر خوف ودہشت طاری تھی ، غربت وبے بسی کے سبب ایف آئی آر(FIR)تک درج نہیں کرسکتے ہیں ، پولیس کے عملے کچھ دیر کے بعد معاینہ کرکے چلے گئے ، مقامی لوگوں کی طرف سے کچھ خوردنی اشیاء تقسیم کیے گئے ہیں ، جن لوگوں کے مکانات خاکستر کیے گئے اس رپورٹ کے روشنی میں امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جن شر پسندوں نے اس واردات کو انجام دیا ہے فورا انہیں گرفتار کیا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے ، ساتھ ہی جن لوگوں کے مکانات کو خاکستر کیا گیا ہے دوبارہ ان کے مکانات بنوائے جائیںاور گھروں کے اثاثے کی خریداری کے لیے معقول معاوضہ بھی دیا جائے ، ساتھ ہی مقامی لوگوں کو تحفظ فراہم کی جائے۔

Comments are closed.