یومِ تعلیم اور مولانا ابوالکلام آزادؒ
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
ہر قوم کی شہرت، ترقی اور بلندی کا دار و مدار اس کے تعلیمی معیار پر ہوتا ہے۔ تعلیم وہ روشنی ہے، جو جہالت کے اندھیروں کو چاک کرکے انسان کو عقل و شعور، بصیرت اور آگہی عطا کرتی ہے۔ تعلیم صرف حصولِ علم کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے کردار، فکر اور عمل کو جِلا بخشنے کا ایک مسلسل عمل ہے۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر دنیا کی مہذب اقوام نے ہمیشہ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے، اور اسلام نے تو علم اس کا ایسا جامع تصور دیا کہ شاید کسی اور مذہب میں اس کا کوئی بدل اور نظیر ہو ، اسلام کا نقطئہ آغاز ہی علم سے اور پہلی جو آسمانی وحی آئی اس کا پہلا لفظ ہی علم سے تعلق رکھتا ہے ۔
ہندوستان میں یومِ تعلیم (National Education Day) ہر سال ۱۱ نومبر کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن کا انتخاب کچھ یوں ہی نہیں کیا گیا بلکہ یہ دن مولانا ابوالکلام آزادؒ کی ولادت کے حوالے سے مخصوص ہے۔ مولانا آزادؒ ۱۱ نومبر ۱۸۸۸ء کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ وہ برصغیر کی علمی، دینی اور سیاسی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں اور ان کی ہمہ جہت خدمات ایسے ہیں کہ جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔
مولانا آزادؒ ایک بلند پایہ عالمِ دین، مفسرِ قرآن، ادیب، مفکر اور برصغیر کے حریت پسند رہنما تھے۔ انہوں نے نہ صرف آزادی کی تحریک میں قیادت کا فریضہ انجام دیا بلکہ آزادی کے بعد آزاد ہندوستان میں پہلے وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے نئی تعلیمی پالیسی کی بنیاد رکھی۔ ان کا ایمان تھا کہ کسی قوم کی ترقی تعلیم کے بغیر ناممکن ہے۔ انہوں نے تعلیم کو عام کرنے، سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ اور ثقافتی و فکری ہم آہنگی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔
مولانا آزادؒ کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف روزگار کا حصول نہیں بلکہ انسان کی روحانی اور اخلاقی تعمیر بھی ہے۔ ان کے الفاظ میں
تعلیم وہ بنیاد ہے،جس پر ایک آزاد قوم کا مستقبل تعمیر ہوتا ہے ۔
ان کی دور اندیشی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی ہندوستان میں کئی تعلیمی ادارے، یونیورسٹیاں اور تعلیمی پالیسیاں ان کے نظریات سے متاثر ہیں۔
انہوں نے پورے ملک میں بیسک ،ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ طب اور انجئرنگ کی پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ۔ آئی آئی ٹی کی شروعات اور اسے دنیا کے بہترین تکنیکی تعلیم کا ادارہ بنا دیا ۔انڈین انسٹیوٹ آف منیجمنٹ ،یونورسٹی گرانٹس کمیشن کے ساتھ ہندوستانی آرٹس اور فنون لطیفہ کے فروغ کے لیے اداروں کا قیام بھی مولانا آزاد کی کوششوں کا مرہون منت ہے ۔
یومِ تعلیم منانے کا مقصد یہی ہے کہ ہم مولانا آزادؒ کے افکار و نظریات کو یاد رکھیں، تعلیم کی اہمیت کو سمجھیں، اور یہ عہد کریں کہ ہم اپنے معاشرے میں علم و آگہی کی شمعیں روشن کریں گے۔ یہ دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ تعلیم صرف فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی بقا اور ترقی کی ضمانت ہے۔
یومِ تعلیم دراصل علم و دانش کے فروغ کا دن ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم محض کتابی علم نہیں بلکہ یہ انسانیت کی خدمت اور قومی ترقی کا زینہ ہے۔ مولانا ابوالکلام آزادؒ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ہم تعلیم کو اپنا شعار بنا لیں تو کوئی طاقت ہمیں ترقی کی راہ میں روک نہیں سکتی۔
محمد خالد اعظمی نے یوم تعلیم کی مناسبت بہت اچھا لکھا ہے ، وہ لکھتے ہیں کہ
مولانا آزاد کا یوم پیدائش ۱۱نومبر ہمارے ملک میں یوم تعلیم کے نام سے منائے جانے کی روایت قائم ہوگئی ہے۔ُ حقیقت بھی یہی ہے کہ ملک کی آزادی کے بعد بحیثیت اولین وزیر تعلیم انہوں نے پورے ملک میں بیسک، ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ طب اور انجینئرنگ کی پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ۔ آئی آئی ٹی کی شروعات اور اسے دنیا کے بہترین تکنیکی تعلیم کا ادارہ بنا دینا، انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، کے ساتھ ہندوستانی آرٹس اور فنون لطیفہ کے فروغ کیلئے اداروں کا قیام بھی مولانا آزاد کی کوششوں کا مرہون منت ہے۔ اسی کے ساتھ مولانا آزاد کے بہت اعلی پیمانے کے علمی اور تحقیقی کام ذخیرہ ان کی اعلیٰ علمی صلاحیت کا غماز ہے۔ ترجمان القرآن جیسی شاہکار تفسیر کے ساتھ الہلال اور البلاغ جیسے اخبارکی ادارت اور غبار خاطر جیسا خطوط کا مجموعہ بھی ان کی اعلیٰ علمی صلاحیت اور اردو زبان کیلئے ان کی خدمات پر دلیل ہے۔ اگر مولانا آزاد کے یوم پیدائش کو یوم اردو کے طور پر منایا جاتا تو کچھ غلط نہیں ہوتا
۔ اردو زبان پر مولانا آزاد کے احسانات بھی میر و غالب اور اقبال سے کم نہیں ہیں ۔ مولانا آزاد کی نثر کو پتہ نہیں کتنے اردو داں اور ماہرین ادب نے الگ الگ انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔
جب سے دیکھی ابو الکلام کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزہ نہ رہا
بیشک ہندوستان میں اعلی تعلیم کے فروغ میں مولانا آزاد کا بہت نمایا اور کردار ہے اور رہتی دنیا تک انہیں یاد کیا جائے گا۔ ہم علیگڑھ والوں کو مولانا آزاد کا بھی اتنا ہی احسان مند ہونا چاہئے جتنے ہم سر سید اور ان کے رفقاء کے ہیں۔ آزادی کے بعد اس افراتفری کے دور میں جب آر ایس ایس نے لاہور ڈی اے وی کالج کے بدلے میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی پر قبضے کی فرمائش شروع کردی تھی ، مولانا آزاد( اللہ اپنی بے پناہ رحمتیں ان پر نازل کرے اور اپنے عرش کے سائے میں انہیں جگہ دے ) نے بحیثیت وزیر تعلیم سب سے پہلا کام یہ کیا کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو سینٹرل یونیورسٹی کا درجہ دیکر صوبائی حکومتوں کی دست برد سے محفوظ کردیا ورنہ اس کا حشر بھی جامعہ عثمانیہ ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ یہ بھی یاد رہے کہ آزادی سے صرف چند مہینے پہلے ہی علیگڑھ اسٹیشن سے گزرتے ہوئے ٹرین کے ڈبے میں بیٹھے مولانا آزاد کو اسی علیگڑھ کے چند طلبہ نے ڈبے میں گھس کر پرانے جوتوں کا ہار ان کے گلے میں ڈال دیا تھا جسے مرحوم نے خاموشی سے برداشت کیا اور زندگی میں کبھی بھی اس کا تذکرہ نہیں کیا ۔
Comments are closed.