مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کی ریسرچ اسکالر نے انڈونیشیا میں بین الاقوامی کانفرنس میں مقالہ پیش کیا
علی گڑھ، 10 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے خلیق احمد نظامی مرکز برائے قرآنی علوم کی ریسرچ اسکالر ادیبہ خاتون نے انڈونیشیا کی یونیورسیتاس اسلام انٹرنیشنل انڈونیشیا (یوآئی آئی آئی)، دیپوک میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس برائے اسلام، سائنس و سماج میں شرکت کی اور اپنا مقالہ پیش کیا، جس میں انھوں نے قرآن کریم کی خاتون مترجمین کے تراجم میں صنفی نقطہ نظر کے اثرات اور اسلامی علمی روایت میں انصاف کے تصور کا تنقیدی تجزیہ پیش کیا۔
کانفرنس میں دنیا بھر سے ماہرین شریک ہوئے جنھوں نے اسلام، سائنس اور عصر حاضر کے چیلنجوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
ایلیویٹ 2025: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں روزگار اور انٹرن شپ میلہ کا انعقاد
علی گڑھ، 10 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ٹریننگ و پلیسمنٹ آفس (جنرل) کی جانب سے ایک روزہ جاب و انٹرن شپ فیئر ”ایلیویٹ 2025“ کا اہتمام کیا گیا۔ اس میلے کو غیر معمولی پذیرائی ملی، جس میں دو ہزار سے زائد طلبہ نے رجسٹریشن کرایا اور 22 کمپنیوں نے حصہ لیا، جنہوں نے طلبہ کو متنوع پیشہ ورانہ اور انٹرن شپ کے مواقع سے آگاہ کیا۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ کو کل وقتی اور جز وقتی روزگار و انٹرن شپ کے مواقع سے جوڑنا تھا، خاص طور پر علی گڑھ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں، نیز مقامی تنظیموں اور صنعتوں کو فروغ دینا بھی اس کا اہم ہدف تھا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر رفیع الدین (ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر) نے طلبہ کو اعتماد، بہتر ابلاغ اور اہلیت پیدا کرنے کی ترغیب دی تاکہ وہ بڑھتی ہوئی مسابقتی دنیا میں کامیابی حاصل کرسکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تکنیکی مہارت کے ساتھ سافٹ اسکلز کا امتزاج پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر وبھا شرما،ممبر انچارج، دفتر رابطہ عامہ نے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ ٹیم کی محنت کو سراہتے ہوئے مہارت پر مبنی روزگار کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے علی گڑھ کے مقامی روزگار کے مواقع کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور یقین دلایا کہ اے ایم یو اپنی سماجی ذمہ داری کے تحت مقامی روزگار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔
پروفیسر ٹی این ستیسن (ڈین، فیکلٹی آف آرٹس) نے اپنے خطاب میں طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ مارکیٹ کی ضرورتوں کے مطابق اپنے اندر ہنر کے فروغ پر توجہ دیں۔ پروگرام کا آغاز شعبہ کامرس کے ڈاکٹر انور احمد کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جنہوں نے شرکت کرنے والی کمپنیوں کا شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹر سہیلیہ پروین (اسسٹنٹ ٹریننگ و پلیسمنٹ آفیسر) نے اس اقدام کے مقاصد اور کیمپس و صنعت کے مابین روابط کو مضبوط بنانے میں ٹی پی او کی کاوشوں پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر کمپنیوں کے نمائندوں کی عزت افزائی کی گئی۔ تقریب کی نظامت شعبہ کامرس کے ڈاکٹر محمد صائم خان نے کی، جبکہ ڈاکٹر منصور عالم صدیقی نے شکریہ ادا کیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ سوشل ورک کا حکومت اترپردیش کے پنچایتی راج محکمہ کے ساتھ معاہدہ
علی گڑھ، 10 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ سوشل ورک نے محکمہ پنچایتی راج، حکومتِ اترپردیش کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ”راشٹریہ گرام سواراج ابھیان (آر جی ایس اے)“اسکیم کے تحت گرام پنچایت ڈیولپمنٹ پلان (جی پی ڈی پی) کی تیاری اور نفاذ میں تعاون کیا جائے گا۔
یہ اشتراک محکمہ پنچایتی راج کی ایک بڑی پہل کا حصہ ہے، جس کا مقصد پنچایتی راج اداروں کو شواہد پر مبنی اور شمولیتی منصوبہ بندی کے ذریعے جامع اور پائیدار ترقی کے قابل بنانا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی ہدف پائیدار ترقیاتی اہداف کو مقامی سطح پر نافذ کرنا، غیرمرکزی حکمرانی کو مستحکم بنانا، اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر گرام پنچایت ڈیولپمنٹ پلان دیہی عوام کی حقیقی ضروریات اور خواہشات کی عکاسی کرے۔
گزشتہ 3 نومبر 2025 کو محکمہ پنچایتی راج، حکومت اترپردیش اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے درمیان ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط کیے گئے۔ اس اشتراک میں مزید پانچ یونیورسٹیاں، بنارس ہندو یونیورسٹی، لکھنؤ یونیورسٹی، بندیل کھنڈ یونیورسٹی جھانسی، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر یونیورسٹی آگرہ، اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اودھ یونیورسٹی ایودھیا شامل ہیں
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی نمائندگی ڈاکٹر شائنا سیف (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ سوشل ورک) نے کی، جنہوں نے محکمہ پنچایتی راج، لکھنؤ میں منعقدہ تقریب میں مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر جناب امیت کمار سنگھ، آئی اے ایس، ڈائریکٹر اور جناب منیش کمار، ڈپٹی ڈائریکٹر، محکمہ پنچایتی راج بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر شائنا سیف اس منصوبے کی پروجیکٹ ہیڈ اور نوڈل آفیسر کی حیثیت سے اے ایم یو کی ٹیم کی قیادت کریں گی۔ وہ بریلی، علی گڑھ اور مرادآباد ڈویژن کے 13 اضلاع میں کام کی نگرانی کریں گی، جن میں مالی سال 2026–27 کے دوران 130 گرام پنچایتیں شامل ہوں گی۔
اس منصوبے میں ڈاکٹر قرۃالعین علی اور ڈاکٹر سمیرہ خانم بحیثیت شریک پرنسپل انویسٹی گیٹرز معاونت فراہم کریں گی۔ یہ ٹیم منصوبے کے تمام مراحل، تربیت، معاونت، مانیٹرنگ، اور معیار بندی، کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
شعبہ سوشل ورک کے چیئرمین پروفیسر اکرام حسین نے کہا کہ یہ اشتراک شواہد پر مبنی نچلی سطح کی منصوبہ بندی کے ایک مثالی ماڈل کے طور پر کام کرے گا، جو پنچایتی راج اداروں کو پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کی سمت مقامی سطح پر حقیقی ترقی کے قابل بنائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اشتراک اے ایم یو کے سماجی ذمہ داری اور عوامی شمولیت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اس امر کو اجاگر کرتا ہے کہ شعبہ سوشل ورک کس طرح اپنی علمی مہارت کو پائیدار دیہی ترقی اور مقامی حکمرانی کے نظام کو مستحکم کرنے والی پالیسی سے وابستہ عملی اقدامات میں بروئے کار لا رہا ہے۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
پروفیسر محمد فیضان بیگ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے چیئرمین مقرر
علی گڑھ، 10 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ عربی کے استاد پروفیسر محمد فیضان بیگ کو 10 نومبر 2025 سے ان کی سبکدوشی کی تاریخ 3 جولائی 2027 تک کے لیے شعبہ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
پروفیسر فیضان بیگ جدید عربی ادب اور ٹرانسلیشنل اسٹڈیز کے ممتاز محقق ہیں۔ وہ 1991 سے شعبہ عربی میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں اور 2008 میں انہیں پروفیسر کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ انہوں نے 1999 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، جس کا موضوع نوبل انعام یافتہ ادیب نجیب محفوظ کے ناولوں میں سماجی و سیاسی موضوعات کا تجزیہ تھا۔
تدریس و تحقیق کے تین دہائیوں سے زائد کے تجربے کے حامل پروفیسر بیگ نے 20 سے زائد قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے اور عربی، اردو اور انگریزی زبانوں میں متعدد تحقیقی مقالات اور کتابیں تحریر کی ہیں۔ وہ عربی تنقید، ترجمہ اور تدریسی طریق ہائے عمل میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں اور شعبہ عربی میں ہائی ٹیک کمپیوٹرائزڈ آڈیو-ویڈیو عربی لینگویج لیبارٹری کے قیام و ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ جدید سہولت عربی بول چال اور مختلف لہجوں کی تدریس کے لیے ایک منفرد اقدام ہے۔
پروفیسر فیضان بیگ نے متعدد علمی و ثقافتی مواقع پر بیرونِ ملک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی نمائندگی کی ہے اور امریکہ، مصر، سوڈان، ترکی اور ملیشیا سمیت مختلف ممالک میں خطبات پیش کیے ہیں۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
شعبہ قانون، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے لیگل ایڈ پروگرام کا اہتمام
علی گڑھ، 10 نومبر: نیشنل لیگل ایڈ ڈے اور یومِ دستورِ ہند کی مناسبت سے شعبہ قانون، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں میڈی ایشن اینڈ کنسیلیئیشن سیل اور لاء سوسائٹی کے الومنائی ریلیشنز اینڈ میڈیا سیل کے اشتراک سے ایک لیگل ایڈ پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس کا مقصدعوام میں قانونی مسائل کے تئیں بیداری پیدا کرنا اور خاص طور پر کمزور طبقات میں قانونی شعور کو فروغ دینا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ آس پاس کے دیہی عوام کو ان کے قانونی حقوق اور سماجی و قانونی مسائل کے حل کے وسائل سے آگاہ کرنا بھی اس کا اہم ہدف تھا۔ پروگرام میں شفیق احمد، ببلو کمار، راجندر سنگھ، اوم چندر، سعید احمد اور عشرت احمد سمیت مقامی باشندوں نے شرکت کی۔
تقریب میں جناب انوج کلشریشٹھ (ڈپٹی چیف لیگل ایڈ، ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی)، پروفیسر شکیل احمد (صدر و ڈین، فیکلٹی آف لا)، پروفیسر ایم زیڈ ایم نعمانی (چیئرمین، شعبہ قانون)، پروفیسر سید علی نواز زیدی، پروفیسر محمد وسیم علی اور ڈاکٹر محمد ناصر بطور خاص شریک ہوئے۔
پروگرام کے دوران ڈاکٹر ابصار الحسن قدوائی اور ڈاکٹر فراست کی رہنمائی میں لاء سوسائٹی کے طلبہ نے دیہی عوام کو قانونی امور کے بارے میں معلومات فراہم کی۔ انہوں نے زمین کے تنازعات، گھریلو اختلافات، اور فلاحی حقوق جیسے امور و مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور رہنمائی فراہم کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی ڈاکٹر شیریں رئیس نے بی ایچ یو کے سیمینار میں مقالہ پیش کیا
علی گڑھ، 10 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اقتصادیات کی ڈاکٹر شیریں رئیس نے بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی کے شعبہ تاریخ کی جانب سے منعقدہ قومی سیمینار بعنوان ”عالمی ثقافت میں آبی تحفظ“ میں اپنا تحقیقی مقالہ آن لائن پیش کیا۔
ڈاکٹر رئیس نے ”آبی تحفظ میں خواتین کا کردار: ہندوستان سے چند مثالیں“‘ موضوع پر اپنے مقالے میں واضح کیا کہ ہندوستانی دیہی خواتین دنیا کے دیگر خطوں کی دیہی خواتین کے مقابلے میں آبی تحفظ کی زیادہ مؤثر محافظ ثابت ہو سکتی ہیں۔تحقیق کے مطابق اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں:اول، ہندوستانی دیہی خواتین کے پاس روایتی و دیسی معلومات اور آبی تحفظ کے قدیم ہندوستانی طریقوں کا گہرا علم ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔دوم، تحقیق میں واضح کیا گیا کہ زرعی سرگرمیوں میں مصروف خواتین پانی کے تحفظ میں ان خواتین کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہیں جو غیر زرعی شعبوں سے وابستہ ہیں۔ سوم، ہندوستانی دیہی خواتین کو ایک مضبوط سماجی ڈھانچے اور باہمی تعاون کی روایت حاصل ہے جو انہیں اجتماعی سطح پر سرگرمیوں میں شامل ہونے کی ترغیب دیتی ہے، جیسے نہریں، چیک ڈیم، کنویں اور آبی ٹینک کی تعمیر۔
پروفیسر شہروز عالم رضوی، چیئرمین، شعبہ اقتصادیات نے ڈاکٹر شیریں رئیس کی اس علمی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پائیدار وسائل کے انتظام میں خواتین کے کردار کو اجاگر کیا ہے اور قومی سطح پر اے ایم یو کو علمی شناخت دلائی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ معالجات میں امراضِ قلب پر خطبہ کا اہتمام
علی گڑھ، 10 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ معالجات، فیکلٹی آف یونانی میڈیسن نے دل سے متعلق امراض پر پروفیسر محمد اعظم حسین، شعبہ کارڈیو تھوریسک سرجری، فیکلٹی آف میڈیسن، اے ایم یو کے خطبہ کا اہتمام کیا۔
پروفیسر حسین نے اپنے خطاب میں بتایا کہ دنیا میں ہر پانچ میں سے ایک شخص دل کے کسی نہ کسی مرض سے متاثر ہے، جب کہ بوڑھے افراد اور ذیابیطس کے مریض اس کے زیادہ شکار ہیں۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ اب یہ بیماریاں نوجوانوں میں بھی تیزی سے عام ہو رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ طرزِ زندگی میں تبدیلیاں اور رویّے سے متعلق عوامل ہیں۔
انہوں نے خطرے کے عوامل کو دو زمروں، قابل تغیر اور غیر قابل تغیر میں تقسیم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ قابل تغیر عوامل جیسے سگریٹ نوشی، شراب نوشی، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی پر قابو پا کر ان امراض کی روک تھام ممکن ہے۔ عوامی بیداری، قلبی امراض کی روک تھام میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ قلبی بیماریاں صرف دل تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ وہ خون کی ان نالیوں کو بھی متاثر کرتی ہیں جو دماغ اور گردوں کو خون فراہم کرتی ہیں۔ پروفیسر حسین نے بتایا کہ ان کا شعبہ قومی و بین الاقوامی سرکاری اداروں اور غیرسرکاری تنظیموں کے ساتھ اشتراک کر کے قلبی صحت کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے، اور انہیں حکومتِ ہند کی جانب سے بھی تعاون حاصل ہے۔
تقریب میں پروفیسر محمد انور صدیقی (شعبہ علاج بالتدبیر)، پروفیسر ضمیر احمد، ڈاکٹر محمد محسن (شعبہ امراض جلد و زہرویہ)، ڈاکٹر نازش صدیقی (شعبہ علم الادویہ) سمیت متعدد اساتذہ نے شرکت کی، جبکہ فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے مختلف شعبوں کے طلبہ و طالبات بھی موجود تھے۔
شعبہ معالجات کے سربراہ پروفیسر بدرالدجیٰ خان نے مقرر کا تعارف کرایا اور انہیں یادگاری نشان اور توصیفی سند پیش کی۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے محقق نے برطانیہ میں بین الاقوامی کانفرنس میں ٹرانس جینڈر افراد کی مالی شمولیت پر تحقیقی مقالہ پیش کیا
علی گڑھ، 10 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ اقتصادیات کے سینئر ریسرچ فیلو رمیز راجہ نے یونیورسٹی آف گریٹر مانچسٹر کی میزبانی میں، یونیورسٹی آف بریڈفورڈ، سی ایل ای، اور ایس ایچ ای فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں دہلی این سی آر خطہ میں ٹرانس جینڈرز کی معاشی شمولیت کی راہ میں رکاوٹوں کے موضوع پر ایک مقالہ پیش کیا۔
تحقیق میں دہلی این سی آر کے ٹرانس جینڈر افراد کو مالی نظام میں شامل کرنے کے عمل پر اثر انداز ہونے والے سماجی و اقتصادی رکاوٹوں اور عوامل کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر عام اقتصادی تحقیق میں بہت کم توجہ دی گئی ہے۔
رمیز راجہ کے مقالے کو کانفرنس کمیٹی اور شرکاء کی جانب سے فکری گہرائی، تحقیق اور پالیسی سطح پراس کی اہمیت کے لحاظ سے بے حد سراہا گیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
انصاف اور ثالثی پر اے ایم یو میں سیمینار کا انعقاد
علی گڑھ، 10 نومبر: نیشنل لیگل سروس ڈے کے موقع پر ثالثی کے موضوع پر سوان-ملاپ ایسوسی ایٹس اینڈ میڈئیٹرز نے نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اشتراک سے ایک سیمینار منعقد کیا، جس کا مقصد ہندوستانی قانونی نظام میں ثالثی کے بڑھتے ہوئے کردار اور تنازعات کے پرامن تصفیہ میں اس کے انقلابی امکانات سے متعلق آگہی کو فروغ دینا تھا۔
تقریب کے مہمان خصوصی جسٹس (ریٹائرڈ) این این متل، سابق جج الہ آباد ہائی کورٹ نے اظہا رخیال کرتے ہوئے کہا کہ ثالثی محض عدالتی چارہ جوئی کا متبادل نہیں بلکہ ایک تبدیلی پیدا کرنے والا عمل ہے، جو باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے اور عدالتوں کے بوجھ کو کم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ثالثی کے فروغ سے قابلِ رسائی اور بروقت انصاف کے حصول کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر جاوید طالب نے کہا کہ قانونی تعلیم میں ثالثی کو شامل کرنا ضروری ہے تاکہ مستقبل کے وکلاء کو پرامن تنازعات کے حل پر مبنی عدالتی نظام کے لیے تیار کیا جا سکے۔
سوان-ملاپ ایسوسی ایٹس اینڈمیڈئیٹرز کی بانی ایڈووکیٹ زہرہ سمن نے علی گڑھ کے پہلے نجی ثالثی مرکز کے قیام سے متعلق اپنے تجربات بیان کیے اور طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ ثالثی کو پیشہ ورانہ ترقی اور سماجی خدمت کا امتزاج رکھنے والے میدان کے طور پر دیکھیں۔
ڈاکٹر محمد محسن خان، کوآرڈینیٹر، این ایس ایس، اے ایم یو نے منتظمین کو اس موضوع کے انتخاب پر سراہا، جو قومی یومِ قانونی خدمات کی روح سے مطابقت رکھتا ہے اور ہندوستانی قانونی نظام کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے۔
آخر میں طلبہ اور نوجوان وکلاء کے درمیان ایک مکالماتی سیشن ہوا، جس میں اس بات پر گفتگو کی گئی کہ ثالثی جدید ہندوستان میں قانون اور انصاف کے درمیان فاصلے کو کس طرح کم کر سکتی ہے۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ایس ٹی ایس اسکول میں طلبہ کو عہدے تفویض کرنے کی تقریب منعقد
علی گڑھ، 10 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایس ٹی ایس اسکول میں تعلیمی سال 2025–2026 کے لیے اسٹوڈنٹس کونسل کے عہدے تفویض کرنے کی تقریب منعقد کی گئی جس میں نئی منتخب شدہ اسٹوڈنٹس کونسل کی باقاعدہ حلف برداری عمل میں آئی۔
تقریب کا آغاز اسمبلی پرزنٹیشن سے ہوا، جس کے بعد مہمانوں کو گلدستے پیش کرنے اور بیج لگانے کی رسم ادا کی گئی۔ اس موقع پر پروفیسر محمد اعظم خان، ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈائریکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن، اے ایم یو نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں پرنسپل جناب فیصل نفیس نے کہا کہ طلبہ میں قیادت کے جذبے کو فروغ دینا ایک منظم، باحوصلہ اور اقدار پر مبنی تعلیمی ماحول کی تشکیل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے اسکول کے ہاؤس سسٹم (ایمرالڈ، روبی، سیفائر اور ٹوپاز) کے بارے میں بتایا کہ یہ نظام طلبہ میں ٹیم ورک، باہمی تعاون، صحت مند مسابقت اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے۔
اس کے بعد پرنسپل اور مہمان خصوصی نے ہیڈ بوائے اور ڈپٹی ہیڈ بوائے کے ہمراہ اسکول کا پرچم حاصل کیا۔ بعد ازاں، ہیڈ بوائے، ڈپٹی ہیڈ بوائے، اسپورٹس اور کلچرل کیپٹن، وائس کیپٹن، اور ہاؤس انچارجوں کو مہمانِ خصوصی کی جانب سے بیج دئے گئے۔
پروفیسر محمد اعظم خان نے نئے عہدیداران کو حلف دلایا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اصل قیادت خدمت، انکساری اور جواب دہی میں مضمر ہے۔ انہوں نے منتخب کونسل اراکین کو مبارکباد پیش کی اور پرنسپل جناب فیصل نفیس اور دیگر اساتذہ کی کوششوں کو سراہا۔
مس نسرین فاطمہ (کوآرڈینیٹر، کلچرل ایکٹیویٹیز) نے کلماتِ تشکر ادا کئے، جب کہ پروگرام کی نظامت محترمہ غزالہ تنویر، اسسٹنٹ کلچرل کوآرڈینیٹر نے کی۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
ے ایم یو کے مرکز تعلیم بالغاں میں بیوٹی، اسکن اور ہیئر کیئر پر ورکشاپ کا انعقاد
علی گڑھ، 10 نومبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر فار کنٹینیونگ اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹینشن (مرکز تعلیم بالغان) کے زیرِ اہتمام این ایس 4 اکیڈمی کے اشتراک سے ”بیوٹی، اسکن اور ہیئر کیئر“ کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ منعقد کی گئی۔
سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمیم اختر نے اپنے خطاب میں روزمرہ کی زندگی میں صفائی اور جسمانی نگہداشت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے ہنر پر مبنی کورسز آج کے دور میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں کیونکہ یہ شرکاء میں اعتماد پیدا کرتے ہیں اور پیشہ ورانہ مواقع کے دروازے کھولتے ہیں۔
این ایس 4 اکیڈمی کے ماہرین نے برائیڈل اور پارٹی میک اپ تکنیکوں پر لائیو ڈیمونسٹریشن سیشن پیش کیے، جن میں تازہ رجحانات اور پروفیشنل معیارات کو اجاگر کیا گیا۔ ریسورس پرسن مسٹر کرن نے بالوں کی دیکھ بھال اور انھیں صحت مند رکھنے کے سلسلہ میں مفید نکات بیان کیے۔
ورکشاپ میں 50 طالبات نے شرکت کی اور ماہرین کے خیالات سے استفادہ کیا۔
ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سرسید اکیڈمی میں ”بیادِ پروفیسر اطہر صدیقی“ کی رونمائی
اے ایم یو کے شعبہ زولوجی کے دو طلبہ کے لئے پروفیسر اطہر صدیقی لائف ٹائم اسکالرشپ شروع کرنے کا اعلان
علی گڑھ، 10 نومبر: پروفیسر اطہر صدیقی ان چنندہ لوگوں میں سے تھے جو سائنس کے میدان میں رہتے ہوئے اردو زبان و ادب کے میدان میں بھی سرگرم تھے اور دونوں میدانوں میں انھوں نے اپنی خدمات سے نام کمایا۔ ان کی علمی و ادبی تحریروں اور ان سے متعلق دیگر دانشوروں کی اہم تحریروں کو کتابی شکل میں مرتب کیا گیا ہے جس کی رونمائی سرسید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں آج منعقدہ ایک پروقار تقریب میں عمل میں آئی۔
اس موقع پر پروفیسر اطہر صدیقی کے صاحبزادے سہیل صدیقی اور دختر طاب صدیقی نے اے ایم یو کے شعبہ زولوجی کے دو طلبہ کے لئے دی علی گڑھ الومنئی ایسوسی ایشن، واشنگٹن ڈی سی کے اشتراک سے پروفیسر اطہر صدیقی لائف ٹائم اسکالرشپ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ مسٹر سہیل اور طاب صدیقی نے اس سلسلہ میں ایک اعلامیہ شعبہ زولوجی کی سربراہ پروفیسر قدسیہ تحسین کے سپرد کیا۔ اس موقع پر پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی موجود تھیں۔ شعبہ کے دو طلبہ کا انتخاب دی علی گڑھ الومنئی ایسوسی ایشن، واشنگٹن ڈی سی کی اسکالرشپ کمیٹی کرے گی۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ابن سینا اکیڈمی کے بانی پروفیسر حکیم سید ظل الرحمٰن نے پروفیسر اطہر صدیقی سے نصف صدی پر محیط اپنے دیرینہ مراسم کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ پروفیسر اطہر صدیقی ان لوگوں میں سے تھے جو سائنس کی دنیا میں سرگرم رہنے کے ساتھ اپنی تہذیبی روایات سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی سبکدوشی کے بعد بھی خود کو تا دمِ آخر مصروف رکھا اور اردو کے حوالے سے بے شمار کام کئے۔ انھوں نے بتایا کہ طالب علمی کے زمانے میں بھی ہاسٹل میں جناب اطہر صدیقی کے کمرہ میں اردو کی کتابیں رہا کرتی تھیں، جن پر ان کے ساتھی حیرت کرتے تھے۔ پروفیسر ظل الرحمٰن نے ”بیادِ پروفیسر اطہر صدیقی“ کی اشاعت کے لئے اس کے مرتبین جناب مہر الٰہی اور پروفیسر صغیر افراہیم سمیت پروفیسر صدیقی کے اہل خانہ کا شکریہ ادا کیا۔
پروفیسر قدسیہ تحسین نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پروفیسر اطہر صدیقی کی شخصیت، امتیاز و کمال کا پیکر تھی۔ وہ اپنے طلبہ کی ہمہ وقت حوصلہ افزائی کرتے تھے، جس کی وجہ سے طلبہ ان کی کلاس سے کبھی غیرحاضر نہیں ہوتے تھے۔
سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر شافع قدوائی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سائنس میں پروفیسر اطہر صدیقی کے کمالات سے سبھی واقف ہیں، تاہم اردو ادب کے تئیں ان کا شغف مثالی ہے۔ انھوں نے اردو حلقہ کو انٹرنیٹ کی کہانیوں سے متعارف کرایا۔ یہ مختلف ذائقہ کی کہانیاں ہیں جو اردو حلقہ کے لئے نئی تھیں اور انھیں بہت پسند کیا گیا۔ کہانیوں سے لے کر سوانح، سفرنامہ، آپ بیتی، خود نوشت، خاکے اور انٹرویو جیسی اصناف ادب پر انھوں نے طبع آزمائی کی۔ فیس بُک اور سوشل میڈیا پر آنے والی چنندہ کہانیوں کو انھوں نے اردو میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ یہ کہانیاں ماہنامہ تہذیب الاخلاق میں سلسہ وار شائع ہوئیں اور بہت مقبول ہوئیں۔
پروفیسر قدوائی نے کہا کہ پروفیسر اطہر صدیقی کی کہانیوں میں گہری انسانی ہمدردی نظر آتی ہے۔ اسی طرح ان کے سفرنامے ذہن پر مرتب ہونے والے اثرات کو بیان کرتے ہیں۔ سائنسی حقائق انسانی تجربات میں کیسے آتے ہیں اس پر پروفیسر صدیقی کی گہری نظر تھی۔ ان کی خودنوشت میں ان کی اپنی تمنائی عظمتوں کا بیان نہیں، بلکہ انسانی رشتوں اور روابط کا گہرا نقش دکھائی دیتا ہے۔ پروفیسر صدیقی نے اردو ادب کو سائنس و ٹکنالوجی سے جوڑا۔ انھوں نے کتاب کے مرتبین کو مبارکباد پیش کی۔
کتاب کا تعارف کراتے ہوئے پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ پروفیسر اطہر صدیقی سائنس کے طالب علم تھے مگر اردو زبان و ادب سے انھیں بڑا شغف تھا۔ یہ ان کی پرورش کا اثر تھا اور علی گڑھ کے ماحول نے اسے مزید تقویت بخشی تھی۔ ’ہم میں سے بیشتر ملازمت سے سبکدوشی کے بعد اپنے اور اپنے اہل و عیال کے دائرے میں سمٹتے چلے جاتے ہیں مگر چند ایسے اولوالعزم بھی ہیں جو دوسروں کے لئے اپنی زندگی وقف کردیتے ہیں، پروفیسر اطہر صدیقی انھیں میں سے ایک تھے‘۔
صغیر افراہیم نے پروفیسر اطہر صدیقی کی تصانیف ’حیرت سرائے کی کہانیاں‘، ’لذتِ آبلہ پائی‘، ’نشاطِ آبلہ پائی‘، ’نواب سلطان جہاں بیگم: حیات و خدمات‘، خود نوشت ’یاد ایّام‘، ’میں کیا میری حیات کیا‘، ’باتوں، ملاقاتوں میں: شہریار‘، ’رہ و رسمِ آشنائی‘ پر روشنی ڈالی اور ان کی ہمہ جہت شخصیت کے مختلف گوشے وا کئے۔
Comments are closed.