مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

جے این میڈیکل کالج و اسپتال میں پیس میکر چیک اپ کیمپ 26 نومبر کو

علی گڑھ، 12 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جے این میڈیکل کالج و اسپتال کے شعبہ امراض قلب کی جانب سے 26 نومبر 2025 کو پیس میکر چیک اپ کیمپ منعقد کیا جائے گا۔ یہ کیمپ شعبہ امراضِ قلب کے او پی ڈی نمبر 14 میں صبح 9 بجے سے شروع ہوگا۔

صدر شعبہ پروفیسر آصف حسن کے مطابق، وہ تمام مریض جن کے جسم میں پیس میکر نصب ہے، خواہ وہ سنگل چیمبر، ڈوئل چیمبر، آئی سی ڈی یا سی آر ٹی ہو، اور جے این میڈیکل کالج اسپتال یا کسی دیگر طبی ادارے میں انھیں پیس میکر لگایا گیا ہو، وہ اس کیمپ میں آکر جانچ کراسکتے ہیں۔

مریض اپنے ساتھ پیس میکر سے متعلق تمام ضروری دستاویزات ضرور لائیں۔ یہ چیک اپ اور اس سے متعلق تمام خدمات بالکل مفت فراہم کی جائیں گی۔

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

پروفیسر ذکی انور صدیقی نیشنل اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے فیلو منتخب

علی گڑھ، 12 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ نباتیات کے پروفیسر ذکی انور صدیقی کو نیشنل اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز، انڈیا کا فیلو منتخب کیا گیا ہے، جو ملک کے باوقار سائنسی اعزازات میں سے ایک ہے، اور زرعی تحقیق، تعلیم اور اختراعات میں نمایاں خدمات کے اعتراف کے طور پر یہ اعزاز دیا جاتا ہے۔

پروفیسر صدیقی پلانٹ نماٹوڈ، فنگس اور بیکٹیریا کے پیچیدہ تعلقات پر اہم تحقیق کرچکے ہیں اور مختلف زرعی نظاموں میں پائیدار اور ماحولیات دوست حیاتیاتی کنٹرول حکمت عملیوں کی تیاری کے سلسلہ میں ان کی تحقیق کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔

پروفیسر صدیقی کا اے ایم یو سے تعلق 1979 میں بطور طالب علم شروع ہوا۔ انہوں نے اسی یونیورسٹی سے بی ایس سی، ایم ایس سی، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں، اور 1996 میں شعبہ نباتیات میں لیکچرر مقرر ہوئے۔ وہ 2012 میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس سے قبل وہ 1992 تا 1995 سی ایس آئی آر ریسرچ ایسوسی ایٹ اور 2007 تا 2008 جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، جہاں انہوں نے امراضِ نباتات پر تحقیق کی۔

پینتیس سال سے زائد عرصے پر محیط اپنے شاندار علمی و تحقیقی کریئر میں پروفیسر صدیقی نے 167 سے زیادہ تحقیقی مقالات تحریر کیے ہیں، اسپرنگر (نیڈر لینڈ) سے شائع ہونے والی دو کتابیں مدوّن کی ہیں، اور ڈی ایس ٹی اور یو جی سی (نئی دہلی) کے مالی تعاون سے کئی بڑے تحقیقی منصوبے مکمل کئے ہیں۔ وہ انڈین بوٹینیکل سوسائٹی اور انڈین فائیٹوپیتھولوجیکل سوسائٹی کے فیلو بھی ہیں۔

انہوں نے 11 پی ایچ ڈی اسکالرز اور 30 سے زائد ایم ایس سی طلبہ کی رہنمائی کی ہے۔ وہ آسٹریلیا، اسپین، جاپان اور لاطینی امریکہ سمیت مختلف ممالک میں خطبات دے چکے ہیں۔ اے ایم یو میں وہ 2019 تا 2025 لینڈ اینڈ گارڈنز شعبہ کے ممبر انچارج، اور 2009 تا 2012 اسسٹنٹ ڈین، اسٹوڈنٹس ویلفیئر رہ چکے ہیں۔

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے پروفیسر شاہ محمد عباس وسیم، نیشنل اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کے لائف ممبر منتخب

علی گڑھ، 12 نومبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فزیالوجی کے پروفیسر شاہ محمد عباس وسیم کو وزارتِ صحت و کنبہ بہبود، حکومتِ ہند کے مؤقر ادارے نیشنل اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کا لائف ممبر منتخب کیا گیا ہے۔

انہیں پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، چندی گڑھ میں منعقدہ کنووکیشن میں رکنیت کی سند پیش کی گئی۔ گورنر ہریانہ پروفیسر اشیم کمار گھوش تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

شعبہ میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد اور شعبہ فزیالوجی کے صدر پروفیسر محمد اسلم نے پروفیسر وسیم کو اس اعزاز اور شاندار دستیابی پر مبارکباد پیش کی۔ پروفیسر وسیم نے یہ اعزاز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں علمی امتیاز اور تحقیقی جذبے کے نام وقف کیا اور یونیورسٹی کی علمی و تحقیقی روایت کو خراج تحسین پیش کیا۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے شعبہ میوزیالوجی کے اساتذہ نے میوزیمس ایسوسی ایشن آف انڈیا کی بین الاقوامی کانفرنس میں مقالے پیش کئے

علی گڑھ، 12 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ میوزیالوجی کے اساتذہ نے میوزیمس ایسوسی ایشن آف انڈیا کے زیر اہتمام اندرا گاندھی راشٹریہ مانو سنگرہالیہ، شاملا ہلز، بھوپال (مدھیہ پردیش) میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس 2025 میں گرانقدر علمی خدمات انجام دیں۔

کانفرنس کا موضوع تھا:”کمیونٹی شناخت: میوزیمس میں ان کی نمائندگی: عالمی منظرنامہ“، جس میں ہندوستان اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے میوزیم کے ماہرین اور محققین نے عجائب گھروں کے عملی تقاضوں اور ثقافتی نمائندگی سے متعلق عصری مسائل پر غور و خوض کیا۔

ڈاکٹر دانش محمود نے سانجھی آرٹ پر مقالہ پیش کیا، جس میں برج علاقے کی سانجھی آرٹ کو ثقافتی اظہار کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے اسے غیر مادی ثقافتی ورثہ کے طور پر محفوظ رکھنے اور عجائب گھروں میں اس کی نمائندگی کے پہلوؤں پر انھوں نے روشنی ڈالی۔ شعبہ کی فیکلٹی رکن ڈاکٹر امیزہ زرّین نے ”عزاداری: ہندوستان میں زبانی روایات، کمیونٹی آرٹ و کرافٹ کے ذریعہ عزاداری کی روایات کا تحفظ“ موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا، جس میں انہوں نے عزاداری کی رسوم کو فن، دستکاری اور زبانی روایت کے ذریعے جیتے جاگتے ورثے کے طور پر محفوظ کرنے کی اہمیت پر گفتگو کی۔

مزید برآں، سابق ریسرچ اسکالر ڈاکٹر سمورہ قادر اور سینئر ٹیکنیکل اسسٹنٹ مسرّت خان نے مشترکہ طور پرایک مقالہ بعنوان ’گورنمنٹ میوزیم متھرا میں محفوظ متھرا کی ثقافتی شناخت اور ان کا تعلیمی کردار‘ پیش کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر دانش محمود کو مسلسل دوسری مدت کے لیے میوزیمس ایسوسی ایشن آف انڈیا کا ایگزیکٹو ممبر منتخب کیا گیا، جو ہندوستان میں میوزیالوجی کے میدان میں ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

٭٭٭٭٭٭

یونیورسٹی پولی ٹیکنک، اے ایم یو میں اسپارک کلب کا تعارفی پروگرام منعقد

علی گڑھ، 12 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی یونیورسٹی پولی ٹیکنک میں اسٹوڈنٹس آف پولی ٹیکنک ایسوسی ایشن ریسرچ اینڈ نالج (اسپارک) کلب کا تعارفی پروگرام اسمبلی ہال میں منعقد ہوا، جس میں ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل، مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔

اپنے خطاب میں پروفیسر مزمل نے طلبہ کی پیشہ ورانہ کامیابی میں ہنر اور مہارت کے فروغ، تخلیقی صلاحیتوں اور ٹیم ورک کی اہمیت پر زور دیا۔

مہمان اعزازی پروفیسر مجیب احمد انصاری، پرنسپل، یونیورسٹی پولی ٹیکنک نے طلبہ کو تحقیق پر مبنی تعلیم میں سرگرم شرکت کی ترغیب دی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ اسپارک کلب کے فراہم کردہ مواقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی علمی اور عملی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں۔

اسپارک کلب کے صدر ڈاکٹر محمد محسن خان نے مہمانوں، مقررین، شرکاء اور معاونین کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کلب کے سفر اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ اسپارک کلب پولی ٹیکنک طلبہ میں اختراعی سوچ اور عملی علم کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر منصور عالم صدیقی (شعبہ جغرافیہ، ویمنس کالج، اے ایم یو) نے طلبہ کو مہمیز کیا اور ان کی ہمت افزائی کی۔ کلب کے شریک منتظمین مسٹر سید زین جعفری اور مس وزرہ خان نے اسپارک کلب کی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی اور کلب سے وابستہ رضاکاروں، ٹیم اراکین اور فیکلٹی ممبران کا تعارف کرایا۔ انٹرایکٹیو سیشن پر تقریب کا اختتام ہوا۔

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے طلبہ نے لکھنؤ میں منعقدہ سیرت النبیؐ تقریب کے مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا

علی گڑھ، 12 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایس ٹی ایس اسکول (منٹو سرکل) کے طلبہ نے امیر الدولہ اسلامیہ کالج، لکھنؤ میں منعقدہ سیرت النبیؐ کی تقریبات میں مختلف مقابلوں میں اعلیٰ مقامات حاصل کر کے ادارے کا نام روشن کیا۔

نویں جماعت کے طالب علم نورالمدار نے نعت خوانی مقابلے میں پہلا انعام حاصل کیا، جبکہ بارہویں جماعت (آرٹس) کے طالب علم فیضان ایوبی نے اردو تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح دسویں جماعت کے طالب علم ابوذر نے انگریزی تقریری مقابلے میں دوسرا مقام حاصل کیا۔

ان طلبہ کی شاندار کارکردگی کے نتیجے میں ایس ٹی ایس اسکول (منٹو سرکل) نے پورے اترپردیش کے شریک اسکولوں میں سب سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ طلبہ کی رہنمائی ڈاکٹر محمد عرفان (پی جی ٹی، دینیات) نے کی۔ اسکول کے پرنسپل جناب فیصل نفیس نے کامیاب طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے طلبہ کی یہ کامیابیاں ان کی محنت، اخلاص، اور ان اقدار کی عکاسی کرتی ہیں جن پر ہمارا ادارہ یقین رکھتا ہے۔

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

جے این ایم سی، اے ایم یو میں ریڈیولوجی کے 14ویں بین الاقوامی دن کی تقریب منعقد

علی گڑھ، 12 نومبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ریڈیو ڈائیگنوسس میں ریڈیولوجی کے 14ویں بین الاقوامی دن کی تقریب جوش و خروش کے ساتھ منعقد کی گئی۔

تقریب کے سرپرست پروفیسر محمد خالد (ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن) نے اپنے خطاب میں جدید طب میں ریڈیولوجی کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس شعبے نے بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اور درست تجزیے کے ذریعے علاج کے نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے، جس سے مریضوں کی صحت کے نتائج میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے ریڈیولوجسٹس اور امیجنگ ٹکنالوجسٹس کی ان خدمات کو سراہا جو پس پردہ رہ کر مریضوں کی دیکھ بھال اور کلینیکل فیصلوں میں معاونت کرتے ہیں۔

جے این ایم سی ایچ کے پرنسپل و چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ایس امجد علی رضوی نے طلبہ اور نوجوان ڈاکٹروں کو جدید امیجنگ ٹکنالوجیز، بالخصوص مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تشخیص اور انٹروینشنل ریڈیولوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو اختراع، علمی برتری اور معیاری صحت کی خدمات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

شعبہ کے چیئرمین پروفیسر مہتاب احمد نے فیکلٹی ممبران اور ریزیڈنٹس کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کو سراہا۔

اس موقع پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے عملہ کے اراکین اور طلبہ کو اعزازات سے نوازا گیا۔ جیوری میں ڈاکٹر صوفیہ نسیم (بایوکیمسٹری)، ڈاکٹر انور ایچ صدیقی (فزیالوجی)، ڈاکٹر احمد فراز (فزیالوجی)، ڈاکٹر منظور احمد (سرجری) اور شعبہ ریڈیو ڈائگنوسس کے فیکلٹی اراکین بشمول پروفیسر مہتاب احمد، ڈاکٹر سیف اللہ خالد، ڈاکٹر سید ایم دانش قاسم، اور ڈاکٹر مدثر اشرف شامل تھے۔

تقریب میں ریزیڈنٹس نے مزاحیہ ڈراما، فن گیمزاور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ ایم بی بی ایس کے طلبہ نے ریڈیولوجی ریزیڈنٹس کی روزمرہ کی زندگی پر مبنی ایک مزاحیہ ڈراما پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر اثناالہام (جونیئر ریزیڈنٹ، شعبہ ریڈیو ڈائگنوسس) نے کی۔

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

ڈاکٹر محمد جہانگیر صابر خاں، اے ایم یو کے سرسید ہال (شمالی) کے پروووسٹ مقرر

علی گڑھ، 12 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ شماریات و آپریشنز ریسرچ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد جہانگیر شبیر خاں کو دو سال کی مدت کے لئے سر سید ہال (شمالی) کا پرووسٹ مقرر کیا گیا ہے۔

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

پروفیسر ایم جے وارثی نے جادو پور یونیورسٹی میں لنگوئسٹک سوسائٹی آف انڈیا کی کانفرنس میں صدارتی خطبہ دیا

علی گڑھ، 12 نومبر: لنگوئسٹک سوسائٹی آف انڈیا کے صدر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ لسانیات کے سابق چیئرمین پروفیسر ایم جے وارثی نے جادوپور یونیورسٹی، کولکاتہ میں منعقدہ لنگوئسٹک سوسائٹی آف انڈیا کی 47ویں بین الاقوامی کانفرنس میں صدارتی خطبہ دیا۔

اپنے خطاب میں پروفیسر وارثی نے زبان کو ثقافت، تاریخ اور شناخت کا امین قرار دیتے ہوئے خطرے سے دوچار زبانوں کے تحفظ کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی زبان ختم ہو جاتی ہے تو انسانی تہذیب کا ایک انوکھا پہلو ہمیشہ کے لیے مٹ جاتا ہے۔

پروفیسر وارثی نے لسانیات کے بڑھتے ہوئے بین موضوعاتی دائرہ کار پر روشنی ڈالی اور نیوروسائنس، کمپیوٹر سائنس اور تعلیم جیسے شعبوں سے اس کے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لسانیاتی علم کو سماجی شمولیت، تعلیمی مساوات اور ثقافتی تحفظ کے فروغ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے ’لسانیاتی انسانیت‘کے تصور کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ لسانیات محض ابلاغ کے طریقوں کا مطالعہ نہیں بلکہ اس بات کو سمجھنے کا ایک وسیلہ بھی ہے کہ انسان اپنی گفتگو کے ذریعے انسان ہونے کے معنی کس طرح دریافت کرتا ہے۔

Comments are closed.