ڈگری نہیں دانش: مولانا آزاد پر اٹھنے والے سوالات کا تحقیقی جائزہ
(مولانا آزاد کے علمی ورثے کا دفاع: وہ جس کا علم سند کا محتاج نہیں)
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
آج کے بھارت میں جہاں علم کو ڈگریوں اور قابلیت کو کاغذی اسناد میں تولا جاتا ہے، یہ سوال حیران کن نہیں کہ مولانا ابوالکلام آزاد جیسی ہمہ جہت شخصیت کو محض ‘مدرسہ چھاپ’ کہہ کر مسترد کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ سوال دراصل مولانا آزاد کی شخصیت پر نہیں، بلکہ ہمارے اپنے معاشرتی شعور اور تاریخی حافظے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ آئیے، تاریخ کی عدالت میں اس مقدمے کو پیش کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ شواہد کس کے حق میں گواہی دیتے ہیں، اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا علم کا پیمانہ واقعی کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے یا فکر کی وسعت اور کردار کی بلندی۔ مولانا آزاد کا علمی سفر کسی رسمی ادارے کی چار دیواری میں شروع نہیں ہوا، اور یہی حقیقت ان کے مخالفین کے لیے سب سے بڑا مغالطہ اور ان کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ان کی تعلیم ایک ایسے ماحول میں ہوئی جو آج کی یونیورسٹیوں کے روایتی نظام سے کہیں زیادہ جامع، سخت اور ذاتی نوعیت کا تھا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جو طالب علم کو معلومات کا انبار بنانے کے بجائے اس کی فکری اور تنقیدی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے۔ ان کے والد، مولانا خیرالدین، جو خود ایک مسلمہ عالم تھے، نے ان کے لیے ایک ایسا نصاب ترتیب دیا جو روایتی علوم کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی اور عقلی مضامین پر بھی محیط تھا۔ گھر کی چار دیواری ایک ایسی عظیم درس گاہ میں تبدیل ہو گئی جہاں منطق، فلسفہ، ریاضی، تاریخ عالم اور جدید سائنس کے اسباق دیے جا رہے تھے۔ اس غیر رسمی مگر انتہائی منظم نظامِ تعلیم کا ہی نتیجہ تھا کہ نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انہوں نے "درسِ نظامی” کا وہ ضخیم نصاب مکمل کر لیا جو اس دور کے ذہین ترین طلباء کو بھی کئی سال کی ریاضت کے بعد حاصل ہوتا تھا۔ بارہ سال کی عمر میں ایک لائبریری اور مباحثہ سوسائٹی کا قیام اور چودہ سال کی عمر میں "مخزن” جیسے معیاری جریدے میں علمی مقالوں کی اشاعت، کسی عام مدرسے کے فارغ التحصیل کا نہیں، بلکہ ایک خود آموز نابغہ (Autodidact) کا کارنامہ تھا جس کی علمی پیاس کسی ایک ادارے یا نصاب کی حدود میں قید نہیں رہ سکتی تھی۔
مولانا آزاد کی فکری عظمت کا راز مشرق و مغرب کے علوم پر ان کی ناقدانہ دسترس میں پنہاں ہے۔ انہیں "مدرسہ چھاپ” کہنے والے یہ فراموش کر دیتے ہیں کہ وہ ان چند شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی مشرقی علمی بنیادوں پر مغربی فکر کی ایک مضبوط عمارت تعمیر کی۔ انہوں نے روایتی علوم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد جدید دنیا کے فکری دھاروں کا رخ کیا۔ والد کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے نہ صرف انگریزی زبان سیکھی بلکہ اس میں اتنی مہارت حاصل کی کہ مغربی فلسفے، ادب اور تاریخ کا براہِ راست مطالعہ کر سکیں۔ ان کی علمی جستجو یہاں بھی نہیں رکی؛ انہوں نے فرانسیسی زبان بھی سیکھی تاکہ روسو اور والٹیئر جیسے انقلابی مفکرین کے افکار کو بغیر کسی ترجمے کے سمجھ سکیں۔ وہ محض ایک نقال نہیں بلکہ ایک نقاد تھے، جو مغربی فکر کو اسلامی تعلیمات کے تناظر میں پرکھتے تھے۔ ان کی فکر جمود کا شکار نہیں تھی؛ ابتدائی دور میں خلافت تحریک اور پان اسلام ازم سے متاثر ہونے کے باوجود، جیل کے مطالعے اور بھارتی حقائق کے گہرے ادراک نے ان کی سوچ کو ایک وسیع تر، جامع اور سیکولر بھارتی قومیت کے نظریے میں ڈھال دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جواہر لعل نہرو جیسے مغربی تعلیم یافتہ شخص نے بھی اپنی کتاب "تلاشِ ہند” میں انہیں "قدیم اور جدید علوم کا ایک عجیب و غریب امتزاج” اور ایک ایسے "کامل ذہن” کا مالک قرار دیا جو ہر موضوع پر گہری بصیرت رکھتا تھا۔ ان کا ذہن ایک ایسا سنگم تھا جہاں مشرق اور مغرب کی ندیاں مل کر علم کا ایک نیا سمندر تشکیل دے رہی تھیں۔
مولانا آزاد کا قلم محض ایک ادیب کا قلم نہیں تھا، بلکہ ایک مصلح، ایک مفکر اور ایک انقلابی کا ہتھیار تھا۔ ان کا صحافتی سفر ان کے علمی اور سیاسی شعور کا عملی اظہار تھا۔ 1912 میں جب انہوں نے "الہلال” جاری کیا، تو وہ محض ایک اخبار نہیں بلکہ ایک فکری تحریک تھی۔ اس کا پُر شکوہ ادبی اسلوب، عقلی استدلال اور جرات مندانہ سیاسی موقف اس وقت کے صحافتی منظر نامے میں ایک دھماکے کی طرح تھا۔ جب 1914 میں حکومت نے "الہلال” پر پابندی عائد کی، تو وہ خاموش نہیں بیٹھے بلکہ 1915 میں "البلاغ” کے نام سے ایک نیا پرچہ جاری کر کے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔ ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ان کی شہرہ آفاق تصنیف "ترجمان القرآن” ہے، جو محض ایک ترجمہ یا تفسیر نہیں، بلکہ قرآن کی روح تک پہنچنے کی ایک عظیم فکری کاوش ہے، جس کا مقصد دین کو بعد کے ادوار کی فلسفیانہ موشگافیوں سے آزاد کر کے اس کی اصل سادگی اور طاقت کے ساتھ پیش کرنا تھا۔ ان کی تحریروں میں "اجتہاد” یعنی جامد تقلید کو ترک کر کے دورِ جدید کے مسائل کو براہِ راست اسلامی اصولوں کی روشنی میں سمجھنے کی دعوت نمایاں ہے۔ جیسا کہ وہ خود "غبارِ خاطر” میں لکھتے ہیں، "میں نے ہمیشہ دماغ سے سوچنے اور صرف دماغ ہی کی سننے کی کوشش کی ہے”۔ یہی عقلیت پسندی ان کی تحریروں کی جان تھی، جس نے ہزاروں نوجوانوں کو متاثر کیا اور انہیں جنگِ آزادی کا سپاہی بنا دیا۔ ان کا قلم محض خبریں نہیں دے رہا تھا، بلکہ ایک پوری نسل کی فکری تربیت کر رہا تھا اور ایک آزاد قوم کے ذہنی خدوخال تراش رہا تھا۔
اگر مولانا آزاد کی علمی قابلیت کا کوئی ایک ٹھوس اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے، تو وہ آزاد بھارت کے پہلے وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے ان کے کارنامے ہیں۔ یہ الزام کہ وہ جدید علوم سے نابلد تھے، ان اداروں کو دیکھ کر پاش پاش ہو جاتا ہے جن کی بنیاد انہوں نے رکھی۔ یہ ان ہی کی دور اندیشی تھی کہ بھارت میں سائنسی اور تکنیکی ترقی کی بنیاد رکھنے کے لیے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IIT) جیسے ادارے کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ان کا ہی وژن تھا جس نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کو جنم دیا تاکہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو عالمی سطح پر لایا جا سکے۔ ساہتیہ اکادمی، سنگیت ناٹک اکادمی اور للت کلا اکادمی کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ تعلیم کو محض سائنس اور ٹیکنالوجی تک محدود نہیں سمجھتے تھے، بلکہ فنونِ لطیفہ اور ثقافت کو قومی شناخت کے لیے ناگزیر گردانتے تھے۔ ان کا تعلیمی فلسفہ ان کے تصورِ "اجتہاد” ہی کا تسلسل تھا۔ وہ ایک ایسی نسل تیار کرنا چاہتے تھے جو آنکھیں بند کر کے تقلید کرنے کے بجائے تنقیدی شعور رکھتی ہو، جو اپنی ثقافتی جڑوں پر فخر کرے اور ساتھ ہی جدید دنیا کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے سائنسی ذہن کی بھی مالک ہو۔
بالآخر، مولانا آزاد کی ڈگری پر ہونے والی بحث خود آزاد کے بارے میں کم اور ہمارے معاشرے کی سندوں اور ڈگریوں کے سطحی جنون کے بارے میں زیادہ بتاتی ہے۔ ان کی زندگی اور ان کا علمی ورثہ ہمیں چیلنج کرتا ہے کہ ہم ‘تعلیم یافتہ’ ہونے کے معنی پر نظرِ ثانی کریں۔ تاریخی شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف تعلیم یافتہ تھے بلکہ اپنے دور کے عظیم ترین دانشوروں میں سے ایک تھے۔ ان کی اصل ڈگری ان کی تصانیف کا ایک ایک لفظ ہے، ان کا قائم کردہ ایک ایک ادارہ ہے، اور ان کی وہ فکر ہے جس نے ایک غلام قوم کو آزاد اور خود مختار مستقبل کا خواب دکھایا۔ حقیقی تعلیم کاغذ کے ٹکڑوں میں نہیں، بلکہ فکر کی وسعت، کردار کی بلندی اور انسانیت کی خدمت میں پنہاں ہے، اور اس معیار پر مولانا ابوالکلام آزاد بلاشبہ بیسویں صدی کے سب سے عظیم "تعلیم یافتہ” افراد میں سے ایک تھے۔
Comments are closed.