ہیرا گروپ آف کمپنیز :اگلی سماعت کی تاریخ کا اعلان، عزت مآب سپریم کورٹ سے تاریخ ساز فیصلے کا امکان
نئی دہلی (نیوز رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) ہیرا گروپ آف کمپنیز پر حیدر آبادی زمین مافیاﺅں اور کرپٹ نیتاﺅں کا سایہ ہے جس سے ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور لاکھوں سرمایہ کاروں کو کو برسوں سے جھوجھنا پڑ رہا ہے، آخر کار سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک اہم سماعت کی تاریخ 17نومبر کو کاز لسٹ میں آ گئی ہے، عزت مآب سپریم کورٹ کی اس تاریخ سے ماہرین توقع کرتے ہیں کہ اس بار عدالت علیہ باوثوق انداز میں دیکھے گی کہ ہیرا گروپ کا معاملہ زیادہ کچھ نہیں بلکہ زمین مافیاﺅں کا چلایا جا رہا سازشی کھیل ہے، جس کا اصل مقصد ہیرا گروپ کی مہنگی ترین جائیدادوں کو قبضہ کرنا ہے، عوام نے بارہا اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ پردے کے پیچھے کرپٹ حیدر آبادی لیڈران کی مدد سے جو کچھ ہو رہا ہے، اسے منظر عام پر سید اختر ایس اے بلڈرس، سید خواجہ معین الدین اور فلم پروڈیوسر بنڈلہ گنیش کے علی الاعلان قبضہ جات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ای ڈی کے اٹیچمنٹ کے درمیان مندرجہ بالا تینوں ناجائز قبضہ جات کو دیکھا جا سکتا ہے، حد تو اس وقت ہو گئی جب سید اختر ایس اے بلڈرس ڈپارٹمنٹ (ای ڈی) کے اٹیچمنٹ کے درمیان نا صرف ملٹی اسٹوری بلڈنگیں بنا ڈالتا ہے، بلکہ خالی پڑی بڑے رقبہ کی زمینوں کو اپنے اقربا جیسے داماد عبد الرحیم کو فوٹ بال گراﺅنڈ کیلئے اور دوسرے رشتہ داروں کو الصبا ہوٹل کھولنے کیلئے مہیا کراتا ہے، خواجہ معین الدین جو کہ ہیرا گروپ کے بنگلے پر قبضہ کرکے بیٹھا ہوا ہے اور مقامی بدعنوان لیڈروں کی اس قدر حمایت حاصل ہے کہ معاملہ درج تک نہیں کیا جاتا، اور حد تو تب ہوجاتی ہے جب فلم پروڈیوسر بنڈلہ گنیش نامی زمین مافیا کرایہ دار بن کر بنگلے میں داخل ہوتا ہے اور چند مہینے بعد کرایہ دینے سے انکار کر کے جبرا بنگلے پر قابض ہوجاتا ہے، ڈپارٹمنٹ اس زمین مافیا فلم پروڈیوسر بنڈلہ گنیش پر مقدمہ ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے بنڈلہ گنیش کے قبضہ کئے گئے بنگلے کو اسی کے نام سے رجسٹری مرحلہ بتاکر سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو مدعو کرتا ہے، حد تو اس وقت ہو جاتی ہے جب بتایا جاتا ہے کہ بنگلہ پر ناجائز قابض بنڈلہ گنیش ہی خریدار بنتا ہے اور اس ناجائز کام میں سرکاری ایجنسیاں مددگار و معاون ثابت ہوتی ہیں، افسوس کا مقام یہ ہے کہ مارکیٹ ویلیو 75کروڑ روپئے کے بنگلہ کو محض 19 کروڑ روپئے میں فروخت کرنے کی مکمل تیاری تھی، ان سب ناجائز قضیہ کا خلاصہ جب سپریم کورٹ کے سامنے ہو گا تو ہر حال میں مثبت آرڈر آئے گا۔
صورتحال کا خلاصہ یہ ہے کہ ہیرا گروپ کی مہنگی جائدادوں پر حیدرآبادی زمین مافیا اور کرپٹ سیاستدانوں کی مدد سے قبضے ہو رہے ہیں، جو ED کی ضبطی کے باوجود جاری ہیں۔ یہ نہ صرف ہیرا گروپ کی لاچاری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ سید اختر ایس اے بلڈرزجو حیدرآباد کا ایک معروف ڈویلپر ہے، ہیرا گروپ سے 50 کروڑ روپے سے زائد کی رقم وصول کرنے کا ملزم ہے۔ ED نے مارچ 2020 میں اس کی جائدادوں پر چھاپے مارے۔ دسمبر 2022 میں ED نے ایس اے بلڈرس کی 37.58 کروڑ روپے کی جائداد اور بینک بیلنس ضبط کیے۔ED کی ضبطی کے دوران بھی، سید اختر پر الزام ہے کہ انہوں نے ملٹی اسٹوری عمارتیں تعمیر کیں۔ مزید برآں، خالی زمینوں کو رشتہ داروں (جیسے داماد عبد الرحیم) کو فٹ بال گراونڈ اور الصبا ہوٹل جیسے پروجیکٹس کیلئے فراہم کیا۔ یہ قبضے ED کی کارروائیوں کے بیچ ہوئے، جو مقامی کرپٹ افسران کی ملی بھگت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، انکم ٹیکس افسران نے 2017 میں ان کی تلاشیوں میں 56 کروڑ روپے کی ٹیکس ایواژن دریافت کی تھی۔ سید خواجہ معین الدین ہیرا گروپ کے ایک بنگلے پر قبضہ کر کے بیٹھا ہوا ہے۔ الزام ہے کہ مقامی کرپٹ لیڈرز کی حمایت کی وجہ سے پولیس کی 100 نمبر کال بھی کام نہیں کرتی، اور کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔ یہ قبضہ برسوں سے جاری ہے، اور کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی، جو حیدرآباد کی زمین مافیا کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ ED کی ضبطی کے باوجود، یہ معاملہ عدالتوں میں الجھا ہوا ہے، اور مقامی بدعنوان افسران کی مدد سے یہ "شہزور” عناصر بے خوف ہیں۔ فلم پروڈیوسر بنڈلہ گنیش جو تلگو فلم انڈسٹری کا ایک پروڈیوسر اور کانگریس لیڈر ہے، پر سب سے سنگین الزام ہے۔ 2021 میں انہوں نے ہیرا گروپ کے فلم نگر سائٹ-2 میں واقع 75 کروڑ روپے مالیت کے بنگلے کا پہلا منزل کرایہ پر لیا، 11 ماہ کی معاہدے کے تحت۔ مہینوں بعد، کرایہ دینے سے انکار کر دیا اور جبری قبضہ کر لیا۔فروری 2024 میں نوہیرا شیخ نے پریس کانفرنس میں ان پر 75 کروڑ مالیت کی جائیداد کو 19 کروڑ میں فروخت کرنے کی سازش کا الزام لگایا۔ سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دے کر، سرکاری ایجنسیوں نے بنڈلہ گنیش کے نام رجسٹر کرنے کی کوشش کی، نیوز میٹر کی رپورٹ کے مطابق، یہ ناجائز رجسٹری کی تیاری تھی، جس میں سرکاری افسران نے مدد کی۔ گنیش پر الگ سے چیک باونس کا کیس چل رہا ہے، جس میں انہیں جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔
یہ قبضے ED کی کارروائیوں (جو 2020 سے جاری ہیں) کے بیچ ہوئے، جو ظاہر کرتا ہے کہ زمین مافیا کی ملی بھگت مقامی سطح پر کتنی گہری ہے۔ حیدرآباد میں لینڈ مافیا کا نیٹ ورک، جیسا کہ دی ہندو اور ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹس میں بیان کیا گیا، جعلی دستاویزات، سیاسی دباو، اور افسران کی ملی بھگت سے کام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، فلم نگر اور بنجارہ ہلز جیسے علاقوں میں 3000 ایکڑ سے زائد سرکاری زمین پر قبضے ہو چکے ہیں، جن کی مالیت 20-30 کروڑ روپے فی ایکڑ ہے۔ امید کی کرن یہ ہے کہ 17 نومبر 2025 کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں یہ کیس لسٹ میں شامل ہے ، عدالت نے نومبر 2024 میں حکم دیا تھا کہ ضبط شدہ جائدادوں سے سرمایہ کاروں کو رقم واپس کی جائے، جو 99% سرمایہ کاروں (جو ہیرا پلیٹ فارم پر رکے ہوئے ہیں) کے لیے انصاف کی ضمانت ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ عدالت اب ہیرا گروپ کی "مظلومیت” کو سمجھے گی، کیونکہ یہ قبضے ایک "سازشی کھیل” ہیں— سرمایہ کاروں کی رقم سے بنی جائدادوں کو نگلنے کا۔ سپریم کورٹ نے ماضی میں (جیسے WB-HIRA کیس میں) ریئل اسٹیٹ قوانین کی خلاف ورزیوں پر سخت موقف اپنایا ہے، اور یہاں بھی ED کی کارروائیوں کو مضبوط بنایا ہے۔ عدالت اگر مثبت رہی توناجائز قبضوں (جیسے بنڈلہ گنیش والے) کو ختم کرے گی۔ کرپٹ افسران اور مافیا کے خلاف کارروائی کا حکم دے گی۔سرمایہ کاروں کو ان کی 5,000 کروڑ روپے کی رقم واپس کرنے کا عمل تیز کرے گی۔
Comments are closed.