باسو دیو مشرا ہائی اسکول میں 2 خاتون اسٹاف کے درمیان جھگڑا، معاملہ ڈی ای او تک پہنچا
شکایت پر تعلیمی افسر کی کارروائی، متعلقہ خاتون ملازمہ سے وضاحت طلب، معطلی کی کارروائی کا امکان
جالے(محمد رفیع ساگر)
سنگھواڑہ بلاک کے باسو دیو مشرا ہائی اسکول سمری میں اُس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب اسکول کی ایچ ایم ششی پربھا اور اسکول کی چپراسی انامیکا کماری کے درمیان زبانی تکرار ہاتھا پائی میں بدل گئی۔ اس دوران اسکول میں ہائی وولٹیج ڈرامہ جاری رہا جس کے باعث طلبہ و طالبات خوف زدہ ہوکر دوپہر سے پہلے ہی اسکول چھوڑ کر چلے گئے۔
واقعہ کے بعد تمام اساتذہ نے سمری تھانہ پہنچ کر انصاف کی فریاد کی تاہم پولیس نے سب کو سمجھا بجھا کر واپس اسکول جانے کا مشورہ دیا۔ بعد ازاں مقامی لوگوں نے اس واقعہ کی شکایت ضلع تعلیمی افسر (ڈی ای او) سے کی۔
اساتذہ کا کہنا ہے کہ اسکول کی چپراسی انامیکا کماری مقامی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثر دیگر اساتذہ سے جھگڑا کرتی رہتی ہیں جس سے تعلیمی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔ اطلاع ملنے پر ڈی ای او این. سدا اسکول پہنچے جہاں اساتذہ نے تحریری شکایتیں پیش کیں۔ بتایا گیا کہ دو درجن سے زیادہ اساتذہ نے ڈی ای او کو تحریری طور پر شکایت دی۔
ڈی ای او کے پہنچنے سے قبل آدیش پال ( چپراسی )انامیکا کماری اسکول سے جا چکی تھیں۔ ایچ ایم ششی پربھا نے بتایا کہ انامیکا کماری ٹی سی ایس کے دستخط کے لیے ان کے پاس آئی تھیں۔ کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوئی تو وہ غصے میں آکر جھگڑا کرنے لگیں اور ہاتھا پائی پر اتر آئیں۔
ڈی ای او نے کہا کہ متعلقہ خاتون اسٹاف سے وضاحت طلب کی جائے گی اور معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ان کے خلاف معطلی کی کارروائی کی جائے گی۔ اس دوران ڈی ای او نے بی آر سی سمری کا بھی معائنہ کیا جہاں بی ای او ونود کمار سے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔
موقع پر مقامی عوامی نمائندے، جن میں مکھیا دنیش مہتو، سرپنچ اشوک پاسوان، اپ مکھیا سَتو ٹھاکر، بھوشن ٹھاکر اور تیتر یادو وغیرہ موجود رہے۔
Comments are closed.