یوم تعلیم ، مولانا آزاد اور مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی
ذکی نور عظیم ندوی – لکھنؤ
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا سب سے بنیادی ستون ہے ، وہی اس کے اجتماعی شعور کو بیدار کرتی، فکری افق کو وسعت دیتی، اور زندگی کے ہر میدان میں اسے بلندیوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ لیکن افسوس کہ جس قوم نے کبھی دنیا کو علم و ہنر کی روشنی سے آگاہ کیا تھا وہی قوم آج علم کے میدان میں سب سے پیچھے اور پسماندگی، محرومی اور جہالت کے شکنجوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ آج ہندوستان میں مسلمانوں کی مجموعی تعلیمی شرح اب بھی قومی اوسط سے کہیں کم ہے۔ اعلیٰ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، اور انتظامی خدمات جیسے اہم میدانوں میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بھی یہ بتاتے ہیں کہ مسلمان بچے یا تو ابتدائی سطح پر ہی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں، یا مالی، سماجی، اور نفسیاتی دباؤ کے باعث آگے نہیں بڑھ پاتے۔ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں مسلم بستیوں میں معیاری اسکولوں کی کمی، اساتذہ کی قلت، اور تعلیمی سہولتوں کا فقدان عام ہے ۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو ہر باشعور ذہن کو بے چین کرتی ہے، مگر افسوس کہ اس بے چینی کو منظم، مثبت اور دور رس مہم میں تبدیل کرنے کیلئے کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی یومِ پیدائش کی مناسبت سے گیارہ نومبر ہندوستان میں قومی یومِ تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جو تعلیم کی اہمیت یاد دلانے، تعلیمی پالیسیوں کا جائزہ لینے، اور نئے عزم کے ساتھ تعلیمی بیداری کے لیے آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر سال یہ دن محض رسمی تقریبوں، تقریروں اور مولانا آزاد کی خدمات کے تذکرہ تک محدود رہ جاتا ہے۔ ان کے کارنامے یقیناًتاریخ کا روشن باب ہیں، لیکن جب اس دن صرف ان کی شخصیت اور حصولیابیوں کو بیان کیا جائے اور موجودہ تعلیمی صورتحال ، اس کے چیلنجز ، رکاوٹوں پر غور نہ کیا جائے، تو مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ مولانا آزاد نے تعلیم کو قوم کی زندگی کی بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کا نقطہ نظر تھا کہ "تعلیم وہ قوت ہے جو غلام قوم کو آزاد اور پست قوم کو بلند بنا سکتی ہے۔” اگر آج وہ زندہ ہوتے تو یقیناً سب سے زیادہ پریشان اس حالت زار پر ہوتے۔ افسوس کہ جن کے نام پر قومی یومِ تعلیم منایا جاتا ہے، انہی کی قوم تعلیمی زوال کے گہرے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے۔
یہ پسماندگی کسی ادارے یا صرف حکومت کی کوتاہی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل تاریخی تسلسل کا اثر ہے۔ انگریزی دورِ حکومت میں مسلمانوں کو سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے جس طرح حاشیے پر ڈھکیلا گیا، اس کے اثرات نسلوں تک پہنچے۔ آزادی کے بعد بھی تعلیمی پالیسیوں میں مسلمانوں کی مخصوص ضروریات کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بڑی آبادی کے ذہنوں میں تعلیم کا مفہوم محض روزگار تک محدود ہو گیا، اور وہ تعلیم جو شعور، فکر، خود اعتمادی اور تمدنی ترقی عطا کرتی ہے، ان کی پہنچ سے باہر رہی۔ چند معاشرتی غلط فہمیاں بھی اس کے پس پردہ رہیں ، کچھ لوگ اسے دنیا داری سمجھ کر اس سے گریز کرتے رہے تو کچھ اسے دینی اور عصری خانوں میں تقسیم کر کے خود کو تنگ دائروں میں محدود کر لیتے ہیں۔
اس رویے نے مسلم قوم کے اندر دو الگ الگ طبقے پیدا کر دیے ہیں—ایک وہ جو محض دینی تعلیم تک محدود ہے، اور دوسرا وہ جو جدید تعلیم سے آراستہ ہے مگر اپنی تہذیبی و اخلاقی بنیادوں سے نا واقف ہے۔ اس زوال میں مسلمانوں کی غربت اور تعلیم کا مہنگا ہونا بھی ایک اہم سبب ہے۔ کمزور معاشی پس منظر والے والدین کے لیے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانا ایک خواب بن گیا ہے۔ اکثر بچے ابتدائی جماعتوں کے بعد ہی روزگار کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی ناقص حالت، مسلم علاقوں میں معیاری تعلیمی اداروں کی کمی، نصاب میں موجود بعض تعصبات، اور بھرتی کے نظام میں پوشیدہ امتیازات سب مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل کرتے ہیں جس سے مسلم بچے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے میں صورتحال مزید سنگین ہے، جہاںسکیورٹی خدشات ، مالی مسائل اور دیگر کئی امور نے ان کی راہیں مزید تنگ کر دی ہیں۔
۔
یہ مسائل قومی یومِ تعلیم کے موقع پر ہمیں غورو فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ اس دن کے اجلاسوں، سیمیناروں اور تقاریب میں صرف ماضی کے کارنامے دہرانے کے بجائے، موجودہ حالات کا تجزیہ، مستقبل کی منصوبہ بندی، اور اصلاحی لائحۂ عمل پیش کیا جانا چاہیے تھا۔ مولانا آزاد کی اصل خدمت یہی ہوگی کہ ان کے خواب کو عملی شکل دی جائے۔ لیکن اگر ہم واقعی اپنی قوم کو تعلیمی پسماندگی سے نکال کر سماج کے دیگر طبقات کے برابر لا کھڑا کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں محض شکایتوں کے دائرے سے نکل کر عمل کے میدان میں قدم رکھنا اور تعلیم کو اپنی اجتماعی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھنا ہوگا ۔ جب تک ہم خود نہیں چاہیں گے، کوئی دوسرا ہماری تقدیر نہیں بدل سکتا۔ اگر ہر گھر یہ عہد کرے کہ کم از کم ایک بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گا، اگر ہر بستی میں لوگ مل کر ایک تعلیمی فنڈ قائم کریں، اگر ہر صاحبِ حیثیت مسلمان کسی غریب طالب علم کی کفالت کرے، تو یقیناً چند ہی سالوں میں منظرنامہ بدل سکتا ہے۔
ہمیں اپنے اندر وہی شوق ،جستجو، اور عزم پیدا کرنا ہوگا جس نے کبھی ہمیں دنیا کی قیادت بخشی تھی۔ اگر ہم نے تعلیم کو اپنی اجتماعی زندگی کا محور بنا لیا، ا اپنے بچوں کے دلوں میں علم کی روشنی روشن کر دی، تو آنے والا زمانہ دوبارہ ہمیں ترقی، وقار اور برابری کی صف میں کھڑا دیکھے گا۔ ہمیں اپنے ذہنوں میں یہ تصور بٹھانا ہوگا کہ تعلیم محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایمان کی تکمیل اور زندگی کی تعمیر کا بنیادی وسیلہ اور ایک دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ قرآن کریم نے علم کو جس قدر عظمت دی ہے، اس کے پیش نظر مسلمان کسی صورت میں جہالت پر قانع نہیں رہ سکتے۔ ہر محلے، ہر بستی اور ہر گاؤں میں ایسے تعلیمی مراکز قائم کیے جانے چاہییں جہاں جدید اور دینی دونوں علوم کو متوازن انداز میں پڑھایا جائے۔ اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ تعلیم محض معلومات کی فراہمی نہ ہو بلکہ کردار سازی کا ذریعہ بنے۔
والدین کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ بچے کی تعلیم صرف اسکول کے حوالے کر دینا کافی نہیں؛ اس کی نگرانی، رہنمائی اور حوصلہ افزائی میں والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔ اگر والدین اپنی ترجیحات میں تعلیم کو اولین مقام دے دیں تو کوئی رکاوٹ دیرپا نہیں رہ سکتی۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں سرمایہ کاری کو صدقۂ جاریہ سمجھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ اسکالرشپ، کوچنگ انسٹی ٹیوٹس، اور تعلیمی ٹرسٹ قائم کر کے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ قوم کے مستقبل کو کسی حد تک سنوارا جا سکتا ہے۔ اساتذہ کو صرف نصاب پڑھانے والے نہیں بلکہ کردار ساز مربی بننا چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں بیدار رہیں، ان کی رہنمائی کریں، ان کے خوابوں کی قدر کریں۔ ہمارے سماجی اور مذہبی قائدین کو تعلیم کی تحریک کو اپنے خطابات اور دعوتی پیغاموں کا مرکزی عنوان بنانا چاہیے۔
حکومت کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اقلیتی اداروں کے تحفظ، مالی امداد، اسکالرشپ اسکیموں کے مؤثر نفاذ، اور تعلیمی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہئے۔ لیکن سب سے بڑی تبدیلی اسی وقت آئے گی جب خود مسلمانوں کے اندر تعلیم کو زندگی کی سب سے بڑی ترجیح بنانے کا جذبہ پیدا ہوگا۔ جب وہ علم کو اپنی تہذیبی عظمت کا وارث سمجھ کر اس کے لیے قربانیاں دینے لگیں گے، تب کوئی طاقت انہیں پسماندہ نہیں رکھ سکتی۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مولانا آزاد کا خواب اور قومی یومِ تعلیم کی اصل روح اسی وقت زندہ ہوگی جب اس دن ہم صرف تقاریر نہیں بلکہ قوم کی تعلیمی اصلاح کا حقیقی آغاز کریں گے اور یہ سمجھ لیں گے کہ تعلیم محض نعرہ نہیں بلکہ قوم کی زندگی کا معیار ہے۔
zakinoorazeem@gmail.com
Comments are closed.