34/ویں فقہی سیمنار کے منظور شدہ تجاویز
مولانا محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔
مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی رح ایک جگہ جدید مسائل اور فقہ اسلامی کے عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں ۔
،،فقہ اسلامی میں ہمارے اس زمانے کی بیشتر ضروریات کا حل موجود ہے ،لیکن جدید تمدن اور صنعتی انقلاب نے اس زمانے میں نئے نئے مسائل پیدا کر دئیے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔معاملات ،معاشیات ،اور اقتصادیات کے سلسلہ میں سیکڑوں ایسے مسائل پیدا ہوگئے ہیں ،جو حل طلب ہیں اور علمائے امت کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ فقہ اسلامی کی روشنی میں ان کا حل پیش کریں ۔
فقہی مسائل میں اجتماعی غور وفکر کا سلسلہ قرون اولیٰ سے چلا آرہا ہے ،فقیہ ملت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ(80ھج تا 150ھ) غالبا ائمہ مجتہدین میں سب سے پہلے امام ہیں ،جنہوں
,, مسائل و واقعات،، میں غور و فکر کرنے کے اجتماعی طریقے کو فروغ دیا ۔
امام ابو بکر الرازی الجصاص رحمۃ اللہ علیہ،اپنی بے نظیر کتاب ،،احکام القرآن،، میں آیت کریمہ ،،لعلمہ الذین یستنطنبونہ منھم ،، تو تحقیق کرتے ان میں تحقیق کرنے والے / اور ،،وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم،، اور ہم نے تجھ پر یہ قرآن اتارا تاکہ تو وضاحت سے بیان کردے وہ چیز جو کہ اتری ہے ان کے واسطے ۔
کے تحت احکام شرعیہ میں غور و فکر کرنے کی اس طرح دعوت دیتے ہیں :
اللہ تعالیٰ نے ہم کو غور و فکر کرنے پر آمادہ کیا ہے ،اور احکام معلوم کرنے اور ان میں غور و خوض کرنے کی دعوت دی ہے اور قیاس سے کام لینے کا حکم دیا ہے ،تاکہ ہم اس کے احکام معلوم کرنے کی طرف پیش قدمی کریں، اور احکام معلوم کرنے والے اور غور کرنے والے علماء میں شامل ہو جائیں ۔ (ماہنامہ صفا کا خصوصی فقہ اسلامی نمبر)
غرض یہ کہ نئے مسائل کا حل اس وقت کی اہم ضرورت ہے اور علماء کی ذمہ داری ہے کہ امت کی اس ضرورت کو پوری کریں ۔
الحمد للّٰہ ہر زمانہ کے بالغ نظر اور درد مند علماء نے اس کے لئے سعی و کاوش کی ہے ، عالم عرب کے علاؤہ خود ہندوستان میں بھی ،،فلو لا نفر من کل فرقة طائفة منھا،، الخ پر عمل کرتے ہوئے متعدد فقہی ادارے قائم ہیں، ان میں مباحث فقیہہ زیر اہتمام جمعیتِ علمائے ہند، مجلس تحقیقات شرعیہ ندوة العلماء لکھنؤ اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا سب سے نمایاں ہیں ، ۔
اور اگر دیکھا جائے تو دائرے اور اثر و رسوخ و مقبولیت کے اعتبار سے فقہ اکیڈمی ان میں سب سے نمایاں ہے، یہ الگ بات ہے کہ ندوہ کو اس میں تقدم حاصل ہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی کے قیام کا بنیادی مقصد ہی نئے مسائل کا حل ہے اور اس ضرورت کی تکمیل کا ایک اہم حصہ ہے ، اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رح کو اور ان کو جنت الفردوس نصیب فرمائے کہ انہوں نے جدید مسائل کے حل کے لیے اکیڈمی کو قائم کرکے امت مسلمہ پر بڑا احسان کیا اور ایک بہت بڑے فرض کفایہ کو پورا کیا، الحمد للّٰہ اکیڈمی کے اب تک چونتیس سیمنار متعدد نئے مسائل پر ہندوستان کے مختلف ریاستوں کے مختلف شہروں میں منعقد ہوچکے ہیں ، ان سیمیناروں نے جو اہم فیصلے کئے ہیں ، تجاویز پیش کی ہیں اور بحث کے بعد مسائل کا حل امت کے لئے نکالا ہے وہ ، خاصا کی چیز ہے اور عرب و عجم کے اصحاب افتاء اور ارباب ذوق اس سے مستفید ہو رہے ہیں ۔
پچھلے دنوں یعنی 8/ تا دس نومبر 25 ء بروز ہفتہ اتوار و پیر اکیڈمی کا 34/ واں فقہی سمینار شہر آہن جمشید پور میں منعقد ہوا ،جس میں ملک کے سیکڑوں علماء و ارباب افتاء کی موجودگی میں چار نئے مسائل پر غور و خوض اور بحث و تمحیص کے بعد جو تجاویز پاس ہوئے ہیں، وہ ہم اکیڈمی کے شکریہ کے ساتھ نیچے پیش کر رہے ہیں ۔
م۔ ق ۔ن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائیکرو فائنانس کے شرعی احکام
[ اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے 34 ویں سمینار منعقدہ 8 – 10نومبر 2025 ، جمشید پور (جھارکھنڈ) میں منظور شدہ تجاویز ]
(1) غیر سودی مائیکرو فائنانس ادارے قائم کرنا وقت کی ضرورت اور شرعاً مستحسن قدم ہے ، لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ احکامِ شرعیہ سے واقف علماء و اربابِ افتاء کی نگرانی میں کام کرے ۔
(2) مقروض کو قرض کی ادائیگی پر آمادہ کرنے والے گروپ کی تشکیل میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے ؛ البتہ مقروض کے حالات کی رعایت کرتے ہوئے گروپ کوئی ایسا طریقہ نہ اختیار کرے جو مقروض کے لیے ذہنی تناؤ اور پریشانی کا سبب ہے ۔
(3) مال جمع کرنے والوں کی رضا مندی سے قرض طلب کرنے والوں کو قرض دینے کی گنجائش ہے ؛ خواہ وہ ادارے کے ممبر ہوں یا نہ ہوں ؛ البتہ اگر قانوناً ممبر بنانا ضروری ہو تو ممبر بنا کر قرض دیا جائے ۔
(4) الف : مائیکرو فائنانس ادارہ قرض کے اندراج اور وصولی کی مناسب اجرت لے سکتا ہے ۔ غیر متعلق اخراجات نہیں لیے جاسکتے ۔
ب : بہتر ہے کہ مائیکرو فائنانس ادارہ دیگر اخراجات کے لیے جائز ذرائع مثلاً اصحاب خیر سے تبرّعات اور جائز سرمایہ کاری کی صورت اختیار کرے ۔
(5) مائیکرو فائنانس ادارہ بھی اسلامی سرمایہ کاری مثلاً مضاربت ، شرکت ، اجارہ اور مرابحہ وغیرہ کا استعمال کر سکتا ہے ۔
(6) وکالت پر مبنی سرمایہ کاری شرعاً جائز ہے ۔
(7) آج کل چھوٹے سودی قرضے کے متعدد ادارے ہیں ، جن میں گروپ بناکر عورتوں کو قرض دیا جاتا ہے ، اس میں قرض کی وصولی کے نام پر استحصال بھی کیا جاتا ہے ؛ اس لیے ایسے سودی قرض سے بچا جائے ۔
کیا آنکھ کا عطیہ جائز ہے؟
[ اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے 34 ویں سمینار منعقدہ 8 – 10نومبر 2025 ، جمشید پور (جھارکھنڈ) میں منظور شدہ تجاویز ]
موجودہ دور میں میڈیکل سائنس کی ترقی کے نتیجہ میں آنکھ کا قرنیہ (Cornea) اور قرن بٹن (Corneoscleral Button) دوسرے ضرورت مند شخص کو منتقل کرنا محفوظ طریقہ پر انجام پذیر ہوتا ہے اور اس عمل میں میت کی کوئی اہانت نہیں سمجھی جاتی ہے اور نہ اس کی وجہ سے شکل میں کوئی بدنمائی پیدا ہوتی ہے ، لہذا اس سلسلے میں مندرجہ ذیل تجاویز پاس کی جاتی ہیں :
(1) زندگی میں آنکھ کا قرنیہ دوسرے ضرورت مند شخص کو دینے میں چوں کہ دینے والے کو بڑا ضرر لاحق ہوتا ہے ، نیز یہ چیز طبی اخلاقیات اور قانون کے بھی خلاف ہے ، اس لیے اس کی شرعاً اجازت نہیں ہے ۔
(2) اگر کسی شخص نے اپنی زندگی میں وصیت کی کہ اس کی موت کے بعد اس کی آنکھ کا قرنیہ کسی ضرورت مند شخص کو دے دیا جائے اور ورثہ بھی اس پر راضی ہوں تو اس کی آنکھ کا قرنیہ دوسرے ضرورت مند شخص کو دینا درست ہے ، اسی طرح میت نے وصیت نہ کی ہو اور ورثہ اس کی آنکھ کا قرنیہ کسی ضرورت مند شخص کو منتقل کرنا چاہیں تو اس کی بھی شرعاً اجازت ہے ۔
( 3) اگر کوئی شخص کسی ایکسیڈنٹ یا حادثہ کا شکار ہوا اور اس کی آنکھ پر ایسی ضرب آئی جس کی وجہ سے اس کی آنکھ کا نکالنا ضروری ہو گیا ، یا کسی شدید بیماری کی وجہ سے اس کی آنکھ کا نکالنا ضروری ہو گیا ، اور اس کی آنکھ کا قرنیہ طبّی نقطۂ نظر سے قابلِ استعمال ہو تو ایسی صورت میں اس کا قرنیہ دوسرے ضرورت مند کو منتقل کیا جاسکتا ہے ۔
مولا نا عظمت اللہ میر کشمیری (نوٹ: تجویز 2 کی دونوں شقوں کے ساتھ راقم اتفاق نہیں رکھتا ہے – )
تجویز بابت : آن لائن صنف مخالف سے تعلیم و تعلم سے متعلق مسائل
جدید ٹکنالوجی خصوصا آن لائن نظام تعلیم سے تعلیمی افادہ و استفادہ فی نفسہ شرعاً درست ہے، البتہ صنف مخالف سے تعلیم و تعلم کی صورت میں شرعی اصولوں کی رعایت اور مفاسد کے سد باب کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے، مفاسد کے سد باب کے لئے درج ذیل امور کو اختیار کرنا ضروری ہے۔
(1) معلمہ ہو یا طالبہ صنف مخالف سے تعلیم و تعلم کے وقت بلاضرورت تعلیم کے علاوہ کسی قسم کے تعلق سے مکمل احتراز کیا جائے۔
(۲) صنف مخالف کا تمام ایسے امور سے بھی اجتناب لازم ہے جو ایک دوسرے کے لئے فتنہ کا سبب نہیں، جیسے آواز میں لچک پیدا کرنا اور زیب و زینت اختیار کرنا۔
(۳) صنف مخالف سے آن لائن تعلیم و تعلم میں اگر غیر تعلیمی روابط کے آپشن کو ختم کرنا ممکن ہو تو اس کو بھی اختیار کیا جانا ضروری ہے۔
(۴) گھر کے ذمہ دار حضرات آن لائن تعلیم حاصل کرنے والے افراد کی نگرانی جہاں تک ممکن ہو کرتے رہیں۔
(۵) پند و نصائح کے ذریعہ اخلاق ، حیاء اور عفت و پاک دامنی کا ماحول بنانے کی فکر کرنا بھی ضروری ہے۔
(1) کسی بھی خاتون کا اپنی آواز میں لچک پیدا کرنے اور دوسرے کو اپنی طرف مائل کرنے پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں، اس لئے ان امور سے بچتے ہوئے معلمہ آن لائن آڈیو کے ذریعہ بالغ صنف مخالف کو تعلیم دے سکتی ہے۔
(۷) مرد استاذ کے لئے بھی آن لائن تعلیم میں حتی الامکان آڈیو کا طریقہ اختیار کرنا پسندیدہ اور احتیاط پر بنی ہے؛ تاہم اگر صحیح اور مفید مقصد کے لئے بہ وقت ضرورت ویڈیو کا طریقہ اختیار کرے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
(۸) خاتون استاذ کا بالغ طلبہ کو ویڈیو کے ذریعہ درس دینا احتیاط اور پردہ کے تقاضا کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس سے بچنا ضروری ہے؛ تاہم اگر شدید ضرورت ہو تو شرعی پردہ یا تصویر کو دھندلا کر کے تدریس کی گنجائش ہوگی۔
(9) الگ الگ مقامات سے آن لائن درس میں طلبہ و طالبات کا ایک ساتھ شریک ہونا مخلوط تعلیم کے دائرہ میں نہیں آتا؛ تا ہم ان کے درمیان آپسی روابط کے امکانات کو ختم کرنے کے جو طریقے ممکن ہوں مثلاً ویڈیو اور چیٹنگ کی سہولت نہ دینا وغیرہ انہیں اختیار کرنا ضروری ہے۔
(۱۰) بہ وقت ضرورت صنف مخالف سے حیاء وشرم پر مبنی مسائل کی مہذب اور شائستہ طریقہ پر توضیح وتشریح میں کوئی حرج نہیں ہے۔
تجویز بابت : میڈیکل انشورنس کے سابقہ فیصلہ پر نظر ثانی
تمہید، آج مورخہ ۹ نومبر ۲۰۲۵ ء کے اجلاس میں ہیلتھ انشورنس کے موضوع پر بحث و مناقشہ کے بعد کمیٹی اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ اکیڈمی کی طرف سے مارچ ۲۰۰۶ ء میں میڈیکل انشورنس سے متعلق جو تجاویز منظور کی گئی تھیں ان سے اتفاق کرتے ہوئے موجودہ حالات کے تناظر میں مزید مندرجہ ذیل تجاویز منظور کرتی ہے:
(1) مروجہ ہیلتھ انشورنس اپنے انجام کے اعتبار سے غرر، قمار، سود وغیرہ ممنوعات پر مشتمل ہے؛ لہذ ا عام حالات میں ہیلتھ انشورنس کرانا نا جائز ہے۔
(۲) اگر کمپنی و ادارہ اپنے ملازمین کا ہیلتھ انشورنس اپنی طرف سے تبرعاً یا ملازمین کی تنخواہوں سے وضع کر کے جمع کرائے تو ملازمین کے لئے اس سے نفع اٹھانے کی اجازت ہوگی ۔
(۳) اگر میڈیکل انشورنس کمپنی پالیسی لینے والوں کو نقد کے بجائے علاج و معالجہ کی خدمت فراہم کرے اور کم از کم سال میں ایک مرتبہ چیک اپ وغیرہ کی خدمات فراہم کرے تو اس کی بھی اجازت ہے۔
(۴) اگر وہ چیک اپ وغیرہ کی خدمات فراہم نہ کرے تو موجود حالات میں علاج و معالجہ کی گرانی کی وجہ سے نا قابل تحمل مصارف والے امراض میں ابتلاء کا ظن غالب یا اندیشہ ہو اور مریض اس کا تحمل نہ کر سکتا ہو تو علاج و معالجہ کی خدمت فراہم کرنے والی پالیسی لینے کی گنجائش ہے۔
نوٹ: علاج کی خدمات کی فراہمی کی صورت میں بھی ، اگر علاج کے وقت مریض کے مالی حالات ٹھیک ہوں تو اس کی طرف سے جمع کردہ اصل رقم سے زائد جو بھی کمپنی نے خرچ کیا ہے، اسے معلوم کر کے صدقہ کرنا واجب ہوگا: محمد شاہجہاں ندوی
Comments are closed.