غزہ نے مغرب کی طاقت کا بھرم توڑ دیا
مُشرف شمسی
غزہ میں امن کا معاملہ آگے نہیں بڑھ پا رہا ہے۔ حماس کو کمزور کرنے کے لیے اسرائیل اور امریکہ غزہ میں اُن گروپوں کو حمایت دے رہے ہیں جو حماس کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی پشت پناہی والے یہ گروپ اگرچہ حماس کے مقابلے میں بہت کمزور ہیں، لیکن اسرائیلی فوج ان کی مکمل حفاظت کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک غزہ میں ٹرمپ منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع نہیں ہو سکا ہے۔
ٹرمپ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کے اندر ایک بین الاقوامی فوج داخل ہوگی جس کے ذمے غزہ کی سکیورٹی ہوگی۔ بین الاقوامی فوج کے آنے کے بعد اسرائیل کو پوری طرح غزہ سے نکلنا ہوگا۔ لیکن اسرائیل یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ جو کام، یعنی حماس کو غیر مسلح کرنے کا کام، وہ دو سال کی جنگ کے باوجود نہیں کر سکا، وہی کام اب بین الاقوامی افواج کے ذریعے کروا لے گا۔
یہ طے ہے کہ حماس کبھی بھی اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے گا، چاہے غزہ میں ایک اور جنگ ہی کیوں نہ چھڑ جائے۔ اسرائیل یہ بھی جانتا ہے کہ اب وہ غزہ میں جنگ شروع نہیں کر سکتا، کیونکہ دنیا بھر میں، حتیٰ کہ خود امریکہ میں بھی، آدھے سے زیادہ عوام اسرائیل کے خلاف ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ ریپبلکن پارٹی، جس سے ڈونالڈ ٹرمپ کا تعلق ہے، اُس میں بھی 18 سے 30 سال کے نوجوان اسرائیل کی جارحانہ پالیسی کے مخالف ہو چکے ہیں۔
نیویارک کے میئر کے انتخابات میں زہران مدنی (Zohran Mamdani) کی کامیابی نے اسرائیل کی مشکلات کو اور بڑھا دیا ہے۔ مدنی نے اپنے انتخابی مہم میں کھل کر اسرائیل کی مخالفت کی اور کہا کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آئے تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔
اسرائیل اب دنیا بھر میں تنہا ہو چکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ مضبوط ہو رہے ہیں۔ خود امریکہ اب ایران پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا اور اسرائیل میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ ایران سے دو دو ہاتھ کر سکے۔ امریکہ کی سفارت کاری کے ذریعے ایران کو تنہا کر دینا اب ممکن نظر نہیں آتا۔
قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد خلیجی ممالک میں امریکی سکیورٹی شیلڈ کا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے ماہرین کے سامنے عمان کے وزیرِ خارجہ نے کھلے لفظوں میں کہا کہ "اس خطے کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایران نہیں بلکہ اسرائیل ہے”۔ اُن کے اس بیان سے خلیجی خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کی آہٹ صاف سنائی دے رہی ہے، اور اس تبدیلی کے اثرات غزہ، لبنان، شام اور عراق میں بھی پڑیں گے۔
اب اسرائیل اپنے زورِ بازو پر نہ غزہ میں لڑ سکتا ہے اور نہ حزب اللہ سے ٹکر لے سکتا ہے۔ اسرائیل اُس بجھتے ہوئے چراغ کی مانند ہے جس کی لو آخری بار بھبھکتی ہے۔ اردن اور مصر جیسے ممالک اگرچہ اسرائیل سے امن معاہدے کر چکے ہیں، لیکن انہیں بھی معلوم ہے کہ اسرائیل کسی کا وفادار نہیں۔ اس لیے جیسے ہی اسرائیل کمزور دکھائی دے گا، اُن کی سرحدوں پر بھی اسرائیل کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔
امریکہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ اسرائیل کو فلسطین سمیت تمام عرب ممالک کے ساتھ ایک باعزت معاہدے تک پہنچا دیا جائے تاکہ اسرائیلی عوام اپنے ہمسایوں کے ساتھ عزت سے رہ سکیں۔ لیکن مغربی ایشیا میں چین اور روس کی بڑھتی ہوئی طاقت سے امریکہ خود پریشان ہے۔ ایسے میں خلیجی ممالک کی ناراضگی امریکہ کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔
اسرائیل کے ساتھ بارہ دن کی جنگ کے بعد خلیجی ممالک اب ایران کو نظرانداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اس لیے اسرائیل کو بچانے کے لیے دو ریاستی حل (Two-State Solution) کو جلد از جلد نافذ کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فرانس کے صدر نے فلسطین کے آئین کی تیاری کا عمل شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
دنیا بدل رہی ہے — امریکہ کے ساتھ مغرب کا سورج غروب ہو رہا ہے، جو دنیا کے لیے خوش آئند بات ہے۔ اب امریکہ یا مغرب کسی ملک سے جنگ کر کے جیت نہیں سکتا۔ اسی لیے امریکہ اپنے پڑوسی وینیزویلا پر بھی براہِ راست حملہ کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اگرچہ وینیزویلا کے پاس بڑی فوجی طاقت نہیں ہے، مگر اس کے پاس تیس لاکھ ملیشیا ہے، جو امریکی فوج کے لیے قبرستان ثابت ہو سکتی ہے۔
مختصر یہ کہ غزہ کی جنگ نے مغرب کے سارے دعووں کا بھرم توڑ دیا ہے، اور اب ایک آزاد اور خودمختار فلسطین کے قیام کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا ہے.
Mira road, Mumbai
Mob_9322674787
Comments are closed.