دہلی : دھماکے کے بعدسناٹے میں لپٹی سچائی
🖋️ فوزیہ رباب
(شاعرہ، سماجی و تعلیمی ترغیب کار)
دہلی کے دل میں جو دھماکہ ہوا ،وہ محض ایک گونج نہیں تھی۔وہ ہمارے اجتماعی ضمیر کی خاموش چیخ تھی۔ایسا لگا جیسے کسی نے ایک لمحے میں ہماری صدیوں پرانی انسانیت کو ہلا کررکھ دیا ہو۔یہ دھماکہ صرف ایک گاڑی کے جلنے،یا کسی سڑک کے لرزنے کا واقعہ نہیں ،یہ دھماکہ ہے اس اعتماد کاجو ہم انصاف، سچائی اور توازن پر کرتے آئے تھے۔وہ اعتماد جو اب سیاست اور تعصب کی راکھ میں دَب چکا ہے۔
دو دن گزر چکے ہیں۔خاک بیٹھ گئی ہے، چہروں پر گردجم گئی ہے،اور میڈیا کی اسکرینوں پر وہی پرانا جملہ چمک رہا ہے:”پڑھا لکھا مسلمان، اخلاق مندڈاکٹر… مگر دہشت گرد!”یہ ایک جملہ نہیں،یہ ذہنوں کو زہریلا کرنے کاہتھیار ہے۔یہ وہی پرانی چال ہے ،پہلے شور مچاؤ،پھر مذہب بتاؤ،اور پھر پورے طبقے پر الزام لگادو۔آج بھی وہی منظر ہےتحقیقات ادھوری ہیں،ثبوت نامکمل ہیں،لیکن فیصلہ پہلے ہی لکھا جا چکاہے۔اور فیصلہ یہ کہ جو نماز پڑھتا ہے، جو اخلاق سےبات کرتا ہے،وہ "مشکوک” ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں خاموش رہ جانا بھی جرم بن جاتاہے۔
میں ایک ہندوستانی مسلمان، ایک شاعرہ، ایک شہری ہوں۔اور میرا دل یہ سوال پوچھنے پرمجبور ہے —کیا ہم نے اپنے ملک کےاداروں پراتنا بھی اعتماد کھو دیا ہےکہ اب ہر حادثے کا مذہب پہلے،اور حقیقت بعد میں لکھی جاتی ہے؟کیا یہ انصاف ہےکہ عدالت سے پہلے جذبات فیصلہ سنائیں؟کہ ثبوتوں سے پہلے سرخیاں لکھی جائیں؟
اسلام وہ دین ہےجس نے انسان کی حرمت کوعبادت قرار دیا۔جس نے کہا:
"جس نے ایک بے گناہ کو قتل کیا،اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔”
تو پھر وہ لوگ جو معصوموں کو بدنام کرتے ہیں،جو مذہب کے نام پر نفرت بیچتےہیں —کیا وہ انسانیت کے محافظ ہیں یا قاتل؟اور ہاں، میں یہ بھی کہتی ہوں —اگر واقعی کوئی مجرم ہے،اگر کسی نے ملک کی فضا کو زہرآلود کیا ہے،انسانیت کو مجروح کیا ہے،تو وہ سزا کا حقدار ہے۔چاہے وہ مسلمان ہو یا غیرمسلم۔لیکن سزا ثبوت سے ملے،شک سے نہیں۔انصاف کے توازن سے ہو،انتقام کے شور سے نہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں۔ہر انتخابی موسم میں،ہر سیاسی موڑ پر،ایسے حادثات ایسے جنم لیتے ہیں جیسے کسی اسکرپٹ میں پہلے سےلکھے ہوں۔اور پھر وہی سلسلہ —پہلے دھماکہ،پھر ملزم کا مذہب،اور پھر پوری قوم پر سوال۔
یہی وہ لمحے ہیں جہاں ہم اپنی عقل،اور اپنی اخلاقی بنیاد،دونوں کھو دیتے ہیں۔
آج ایک بار پھر سوال اٹھایا جارہا ہے:
"کیا پڑھے لکھے مسلمان بھی قابلِ بھروسہ نہیں؟”
یہ سوال صرف ایک فرد کےنہیں،ایک پوری نسل کے چہرے پرطمانچہ ہے —ان لاکھوں مسلمانوں پرجو اس ملک کی تعمیر میں اینٹ اینٹ جوڑ کراپنا پسینہ بہاتے آئے ہیں۔جو فوج میں ہیں،اسپتالوں میں ہیں،عدالتوں میں ہیں،اور علم کے ہر میدان میں اپنی دیانت سے پہچانے جاتے ہیں۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نےلال قلعہ کی دیواروں سے لے کرخلا کی وسعتوں تک محنت کا چراغ جلایا ہے۔جنہوں نے محبت کو مذہب،اور خدمت کو عبادت سمجھاہے۔اور آج انہی کے ایمان پر شک کیا جا رہا ہے۔یہ لمحہ شرم کا نہیں ، سوچ کا ہے۔
میں جانتی ہوں سچ بولنا آج سب سے بڑا خطرہ ہے۔جو سوال پوچھتا ہے، وہ مشکوک ٹھہرتا ہے۔جو بولتا ہے، وہ دیش دروہی کہلاتا ہے۔مگر اگر ہم نے اب بھی نہیں بولے،تو کل ہماری خاموشی،ہماری بزدلی کی گواہی دے گی۔
ہمیں یہ کہنا ہوگا کہ اسلام وہ نہیں جو کسی مجرم کانام بنے،اسلام وہ ہے جو کسی زخم پرمرہم رکھے۔اسلام وہ ہے جو پڑوسی کے دکھ میں شریک ہو۔اسلام وہ ہے جو محبت کا دوسرانام ہے۔
آج ہمیں نفرت کے جواب میں دلیل دینی ہے،تعصب کے جواب میں تحقیق،اور الزام کے جواب میں اخلاق۔
یہ ملک صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ،یہ تہذیبوں، عقیدتوں،اور قربانیوں کی ایک تاریخ ہے۔ہماری قومی یکجہتی ہی ہماری شناخت ہے۔اگر ہم نے مذہب کی سیاست کے زہر کو قبول کر لیا،تو نہ مذہب بچے گا، نہ ملک۔
میرا پیغام واضح ہے،ہم شرمندہ نہیں، ہم شریکِ وطن ہیں۔ہم مجرم نہیں، ہم معمار ہیں۔ہم خاموش نہیں، ہم پُرامن ہیں۔ہم انصاف کے قائل ہیں ،مگر انصاف الزام سے نہیں،تحقیق سے آتا ہے۔اگر اس ملک کو واقعی ترقی، انصاف اور شانتی چاہیے،تو میڈیا کو نفرت کے ایندھن سے نہیں،سچائی کے تیل سے چراغ جلانا ہوگا۔
ورنہ ایک دن آئے گا جب یہ شور اتنا بڑھ جائے گاکہ سچائی، دھماکے کی آواز میں ہمیشہ کے لیے دب جائے گی.
🖋️فوزیہ رباب
(شاعرہ ، سماجی و تعلیمی ترغیب کار اور بانی صدر ، رباب فاؤنڈیشن)
Comments are closed.