آزاد بھارت کے تعلیمی نظام کے مصور اوّل تھے مولانا ابوالکلام آزاد، یوم تعلیم پر آل انڈیا ملی کونسل کے بہار ریاستی دفتر میں تقریب کا انعقاد

 

پھلواری شریف13نومبر(پریس ریلیز)

آل انڈیا ملی کونسل بہار کے ریاستی دفتر میں یومِ تعلیم کے موقع پر ایک پُر وقار اور فکری طور پر گہرے اثرات رکھنے والا اجلاس منعقد ہوا۔ اس نشست کی صدارت کونسل کے کارگزار صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی نے فرمائی، جب کہ نظامت کے فرائض مولانامحمد نافع عارفی نے انجام دیے۔پروگرام کا آغاز مولانا محمدجمال الدین قاسمی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، اس کے بعد ملک کے نامور مفکرِ تعلیم، آزادی کے عظیم رہنما اور ملت کے محسنِ کبیر مولانا ابوالکلام آزادؒ کی علمی، ملی اور قومی خدمات پر معزز مقررین نے اپنے افکار پیش کیے۔اس موقع پر صدرمحترم مفکر ملت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے فرمایا کہ یومِ تعلیم صرف ایک یادگار نہیں؛بلکہ تعلیمی بیداری، فکری آزادی اور قومی وحدت کے عہد کی تجدید کا دن ہے۔ مولانا آزادؒ نے تعلیم کو ملت کی حیاتِ نو قرار دیا تھا، ان کے نزدیک علم محض ذریعۂ معاش نہیں؛بلکہ تزکیۂ فکر و کردار کا وسیلہ تھا۔ آج ضرورت ہے کہ ہم ان کے افکار کو عملی شکل دیں اور قوم کے نوجوانوں کو علم و اخلاق دونوں سے آراستہ کریں۔پروفیسر سید علی احمد فردوسی سرپرست آل انڈیا ملی کونسل ضلع پٹنہ نے مولانا آزاد کی بصیرت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزادؒ نے جس تعلیمی نظام کا تصور دیا تھا، وہ آج بھی ہمارے نظام کے لیے رہنما چراغ ہے، اس کی واضح مثال این سی آر ٹی کے موجود نصاب تعلیم میں دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم تعلیم کو انسان سازی کے ساتھ جوڑ لیں تو معاشرتی انحطاط خود بخود زائل ہو جائے گا۔جناب نجم الحسن نجمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا آزادؒ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے تعلیم کو انسانیت کے مفاد میں پیش کیا۔ ان کے نزدیک تعلیم ایک امانت تھی، جس کے ذریعہ قوموں کی تقدیر لکھی جاتی ہے۔

حضرت مولانا محمد شاہد ناصری حنفی، صدر ادارہ دعوۃ السنہ ممبئی (مہاراشٹر) نے فرمایا:مولانا ابوالکلام آزادؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو علم، خودداری اور قومیت کے شعور سے روشناس کرایا۔ اُن کی تعلیمی فکر محض درس و تدریس تک محدود نہ تھی بلکہ وہ اخلاق، عمل اور خدمتِ خلق کے امتزاج سے ایک ایسی نسل چاہتے تھے جو علم کے ساتھ ایمان کی روشنی بھی پھیلائے۔ آج جب کہ تعلیم محض حصولِ روزگار کا ذریعہ بن گئی ہے، ہمیں مولانا آزادؒ کے جامع نظریۂ تعلیم کی طرف واپس لوٹنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم اگر ایمان اور اخلاق سے خالی ہو جائے تو وہ انسان نہیں، محض مشین پیدا کرتی ہے۔مولانا ناصری نے مزید کہا کہ قوم کی ترقی کا راز اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے تعلیمی اداروں کو اخلاقی بنیادوں پر استوار کریں، طلبہ کو خود اعتمادی، خدمتِ خلق اور اتحادِ ملت کا جذبہ دیں۔

مفتی محمد نافع عارفی جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہارنے ابتدائی گفتگو میں کہاکہ آل انڈیا ملی کونسل نے اپنے تمام ریاستی اورضلعی شاخوں سے یوم تعلیم منانے کی گزارش کی تھی،ملی کونسل بہار نے مدرسہ بورڈ کے ذمہ داروں کو اس سلسلہ میں مکتوب لکھا تھا،اللہ کا شکر ہے کہ انہوں نے ملی کونسل کی گزارش پر توجہ دی اورملحقہ مدارس میں یوم تعلیم منانے کے سلسلہ میں سرکولر جاری کیا۔اسی طرح ملی کونسل کے ضلعی شاخوں میں بھی مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم ولادت کو یوم تعلیم کے طور پر منایا گیا اوران کے تعلیمی نظریات سے لوگوں کو واقف کرانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے مزید کہاکہ آل انڈیا ملی کونسل گیارہ نومبر سے پورے ایک ہفتہ ہفتہ تعلیم منائے گی۔اس سلسلہ میں ضلعی شاخوں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ آج امت کا سب سے بڑا مسئلہ علم سے دوری ہے۔ ہمیں دینی و عصری تعلیم کے حسین امتزاج سے ایک ایسی نسل تیار کرنی ہے، جو ایمان میں راسخ، کردار میں مضبوط اور فکر میں آزاد ہو۔انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ یوجی سی،آئی آئی ٹی،آئی آئی ایم، اور ملک کے تعلیمی ڈھانچہ کے مصور اول مولانا آزاد ہی کی دین ہے۔مولاناسید عادل فریدی نے آخر میں کہا کہ یومِ تعلیم کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ ہم جہالت کے اندھیروں کو علم کے نور سے بدل دیں اور ہر گھر کو تعلیم و تربیت کا مرکز بنائیں۔پروگرام کے اختتام پر شرکائے اجلاس نے مولانا آزادؒ کی علمی و قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس عہد کا اظہار کیا کہ ملت کے تعلیمی، فکری اور اخلاقی محاذ پر جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا۔اس موقع پر مولانا مرحوم کے لیے ایصال ثواب اورترقی درجات کی دعا بھی کی گئی۔شرکاء میں مولانا محمد رضاء اللہ قاسمی، ملانا فیضان رضی قاسمی، جناب ظہیر عالم وغیرہ تھے۔مولانا انیس الرحمن قاسمی کی دعا پر مجلس اختتام کو پہونچی۔

 

Comments are closed.