ووٹ تو متحد، مگر اقتدار مسلمانوں کی حصہ داری کتنی؟
ارشاد قاسمی
رابطہ : 9431664474
بہار کی سیاست ایک بار پھر نئے موڑ پر آ گئی ہے۔ 2025 کے اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پولز نے ریاست کے سیاسی توازن، عوامی رجحانات اور حکومت سازی کے امکانات پر تازہ بحث چھیڑ دی ہے۔ مگر اس پورے منظرنامے میں جو سوال سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ بہار کے مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کیا ہے، ان کی قیادت کہاں کھڑی ہے، اور وہ اب بھی حاشیے پر کیوں ہیں؟
ایگزٹ پولز کی ابتدائی رپورٹوں کے مطابق، ریاست میں ایک بار پھر National Democratic Alliance (NDA) کی واپسی کے قوی امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ بیشتر سروے، بشمول Dainik Bhaskar اور India Today-Axis My India، اس نتیجے پر متفق ہیں کہ NDA کو تقریباً 145 سے 160 نشستوں کے درمیان کامیابی حاصل ہو سکتی ہے، جب کہ Mahagathbandhan (MGB) کو 100 سے 120 نشستوں تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، Axis My India کے سروے میں دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ اگرچہ NDA کی پوزیشن مضبوط ہے، مگر ووٹ شیئر کے اعتبار سے مقابلہ خاصا قریبی ہے۔ NDA کو تقریباً 43% اور MGB کو 41% ووٹ ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔
مسلم ووٹ بینک کے حوالے سے ایگزٹ پولز نے جو تصویر پیش کی ہے وہ پرانی حقیقتوں کی توثیق بھی کرتی ہے اور نئی سمتوں کی نشاندہی بھی۔ Axis My India کے مطابق مسلم ووٹ کا تقریباً 79% حصہ اس بار بھی Mahagathbandhan کے حصے میں گیا ہے، جب کہ NDA کو مسلمانوں کے ووٹ میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔ بہار کے شمالی علاقوں خصوصاً Seemanchal میں جہاں مسلم آبادی زیادہ ہے، وہاں MGB کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل ہوئی۔ اسی خطے کے Kishanganj ضلع میں ووٹر ٹرن آؤٹ نے ریکارڈ توڑ دیا، جو 76% تک پہنچ گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان اس بار اپنی سیاسی موجودگی کا بھرپور اظہار کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی شرکت اور ووٹ کی یکسوئی کے باوجود مسلمان بہار کی سیاست میں اب تک مرکزی کردار ادا کیوں نہیں کر پائے؟ اس کا پہلا سبب قیادت کا بحران ہے۔ بہار کے مسلمان اگرچہ آبادی کا تقریباً 17.7% ہیں، مگر کوئی مضبوط، متفق اور واضح قیادت ان کے درمیان نہیں اُبھری۔ مختلف جماعتیں، خواہ وہ RJD ہو، JDU ہو یا Congress، مسلمانوں کو اپنے ووٹ بینک کے طور پر تو استعمال کرتی ہیں مگر انہیں فیصلہ سازی کے دائرے میں بہت کم جگہ دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ووٹ دیتے ہیں مگر حکومت سازی میں ان کی آواز شامل نہیں ہوتی۔
دوسرا مسئلہ سیاسی خودمختاری کا فقدان ہے۔ بہار میں مسلمان زیادہ تر بڑی جماعتوں کے زیرِ سایہ انتخابی عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ اپنے نمائندے خود نہیں چنتے بلکہ انہیں وہ امیدوار قبول کرنے پڑتے ہیں جنہیں بڑی پارٹیوں نے نامزد کیا ہو۔ اس سے ان کے مسائل چاہے وہ روزگار کے ہوں، تعلیم کے یا تحفظ کے، کبھی ترجیح نہیں پاتے۔ نتیجہ یہ کہ ہر انتخاب کے بعد مسلمان سیاسی وعدوں کے بوجھ تلے دبے رہ جاتے ہیں مگر عملی فائدہ کم ہی حاصل ہوتا ہے۔
تیسرا پہلو حکومت سازی کا ہے۔ اگر ایگزٹ پولز درست ثابت ہوئے اور NDA حکومت بناتی ہے تو مسلمانوں کے لیے یہ ایک نیا امتحان ہوگا۔ چونکہ NDA کی سیاسی بنیاد ہندوتوا کے سخت موقف پر قائم سمجھی جاتی ہے، اس لیے دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا وہ مسلمانوں کے علاقوں میں ترقیاتی کاموں اور نمائندگی کے حوالے سے کوئی نرمی دکھاتی ہے یا نہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مسلمانوں کے درمیان مایوسی مزید بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب، Mahagathbandhan کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ باوجود اتنی بڑی مسلم حمایت کے، وہ حکومت سازی کے قریب کیوں نہیں پہنچ پایا۔
یہ تمام حقائق اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ مسلمان ووٹ دینا تو جانتے ہیں مگر ووٹ کا سیاسی فائدہ اٹھانا نہیں۔ بہار کے موجودہ انتخاب نے ایک بار پھر یہی سچائی آشکار کی ہے کہ نمائندگی کے بغیر حمایت، محض سیاسی سرمایہ کاری ہے جس کا نفع دوسروں کو ملتا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے اندر سے ایسی قیادت پیدا کریں جو نہ صرف ووٹ دلوائے بلکہ اقتدار میں حصہ داری بھی طے کر سکے۔
اگر بہار کے مسلمان واقعی اپنی سیاست کو حاشیے سے مرکزی دھارے میں لانا چاہتے ہیں تو انہیں دو راستے اختیار کرنے ہوں گے: پہلا، اپنی سیاسی سوچ کو اتحاد کے بجائے خوداعتمادی پر استوار کرنا؛ دوسرا، حکومت سے نمائندگی کا واضح مطالبہ کرنا۔ بصورت دیگر، یہ ایگزٹ پولز بھی پچھلے انتخابات کی طرح صرف ایک آئینہ ثابت ہوں گے جس میں مسلمان اپنی تعداد تو دیکھیں گے، مگر اثر نہیں۔
Comments are closed.