لوٹے گی این ڈی اے سرکار یا ہوگا بدلاؤ

 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

 

بہار اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ ہو چکی ہے ۔ امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ای وی ایم مشینوں میں بند ہے ۔ اس بار ووٹنگ کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹے ہیں ۔ پہلے مرحلہ میں 65.08 اور دوسرے میں 68.76 فیصد ووٹ پڑے ہیں ۔ مجموعی 66.91 فیصد ووٹنگ میں 71.6 فیصد خواتین اور 68.2 فیصد مردوں نے ووٹ کیا ہے ۔ بڑھا ہوا ووٹ عام طور پر بدلاؤ کا ا ارہ کرتا ہے ۔ لیکن بہار کے معاملہ میں کہا جا رہا ہے کہ ایس آئی آر میں 65 لاکھ ووٹ کٹنے کی وجہ سے پولنگ بڑھا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔ ووٹ کاٹنے کی وجوہات میں بڑی گڑ بڑیاں سامنے آئی تھیں مثلاً زندہ لوگوں کو مرا ہوا بتا کر ووٹ کاٹ دیا گیا ۔ بی ایل او نے رائے دہندگان کے گھر جائے بغیر ہی ووٹ کاٹ دیا ۔ یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ پنا پرمکھ (برسرے اقتدار جماعت کے رکن) کی نشاندہی پر دلت، مسلم اور غریب ایسے لوگوں کے ووٹ کاٹے گئے جو اپوزیشن کے متوقع ووٹر تھے ۔ اس پر انتخابی کمیشن، حکومت یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی کوئی کاروائی نہیں کی ۔ یہ تحقیق سے معلوم ہوگا کہ کس حلقہ میں کس ذات کے کتنے ووٹ کٹے ہیں اور ان کا نتیجوں پر کیا اثر پڑتا ہے ۔ پھر بھی ووٹنگ میں 5 سے 6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔

 

ووٹوں میں اضافہ کی ایک وجہ راہل تیجسوی کی ووٹ چوری مہم بھی ہو سکتی ہے ۔ اس مہم سے لوگ بیدار ہوئے، انہیں اپنے ووٹ کی اہمیت کا اندازہ ہوا ۔ جو لوگ ووٹ دینے میں لاپروائی کرتے تھے انہوں نے بھی اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پہلے پولنگ اور چھٹ کے درمیان فاصلہ ہوتا تھا ۔ چھٹ کے بعد لوگ واپس اپنے کاموں پر لوٹ جاتے تھے اس مرتبہ ووٹنگ چھٹ کے قریب تھی پھر ووٹ کٹنے کا بھی ڈر تھا اس لئے ووٹر چھٹ کے بعد رک گئے ۔ نوجوانوں نے ورک فراہم ہوم کا ذریعہ اختیار کر ووٹ دے کر واپس لوٹنے کو ترجیح دی ۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بہار میں 18 سے 25 سال عمر کی 56 فیصد اور 18 سے 35 سال عمر والوں کی قریب 65 فیصد یعنی دو تہائی آبادی ہے ۔ اس لحاظ سے بہار ایک جوان ریاست ہے ۔ شک ہے کہ نوجوان آبادی ذات، طبقہ اور عصبیت میں بٹے ہونے کے باوجود 20 سال سے چلی آ رہی کو بچانے یا 74، 75 سال کے ایسے لیڈران کو ووٹ دے گا جو اپنی زندگی کی آخری پاری کھیل رہے ہوں ۔

 

الیکشن کمیشن کا رویہ بہار انتخابات کے سلسلے میں ابتدا سے جانبداران رہا ہے ۔ انتخابی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے حکومت کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کے افسران کو چن کر تعینات کیا گیا ۔ خبروں کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پٹنہ میں بیٹھ کر خفیہ طور پر افسران کو ہدایات دی ہیں ۔ اس سے یہ سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ کہیں عوام کی مرضی اور انتخابی نتائج کے درمیان کوئی کھیل تو نہیں کھیلا جائے گا؟ جس طرح 2020 میں کئی سیٹوں پر گنتی اچانک روک دی گئی تھی ۔ پھر بجلی گل ہوگئی اور امیدواروں کو زبردستی کاونٹنگ اسٹیشن سے بھگا دیا گیا اور بعد میں وہاں این ڈی اے کا امیدوار کامیاب ہو گیا ۔ یہ خبر بھی آئی تھی کہ اپوزیشن کے امیدوار کو جیتا ہوا بتا کر الگ کمرے میں بیٹھا دیا گیا کہ ابھی سرٹیفیکٹ سائن کرکے دیتے ہیں لیکن دوبارہ گنتی کی بات کہہ کر این ڈی اے کو جتا دیا گیا ۔ اسی لئے مہاگٹھ بندھن کے رہنما، خاص طور پر تیجسوی یادو اور راہل گاندھی، بار بار عوام اور خصوصاً نوجوانوں کوخبردار کر رہے ہیں کہ ووٹ چوری سے لے کر نتیجہ چوری تک کی کسی بھی کوشش کے خلاف ہوشیار رہیں اور ایسی سازشوں کو ناکام بنائیں ۔ لیکن پھر بھی کوئی گڑ بڑ نہیں ہوگی اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ اپوزیشن کے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ ختم ہونے کے فارم 17 سی لینا چاہئے تھا ۔ فارم نہ دینے یا اس میں آنا کانی کرنے سے الیکشن کمیشن اور حکومت کی ملی بھگت یا منشاء کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ فارم حاصل کرنے کے بعد گڑ بڑی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں ۔

 

یاد رہے کہ اس انتخاب میں ریفری کی حیثیت رکھنے والا الیکشن کمیشن برابری کا میدان مہیا کرنے کے بجائے ہر معاملے میں خود ایک خاص فریق کی ٹیم کا حصہ بنا نظر آیا ۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ انتخابات کے دوران ہی جنتا دل (یو)۔بی جے پی حکومت کو خواتین کے کھاتوں میں دس دس ہزار روپے جمع کرانے کی اجازت دی گئی جو نہ صرف ضابطۂ اخلاق کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ الیکشن کمیشن نے ماضی میں کئی ریاستی حکومتوں کے ایسے معاملات میں ماضی میں فیصلے روک دیے تھے ۔ سپریم کورٹ کے معروف وکیل اور رکن پارلیمنٹ کپل سبل نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ بی جے پی نے خصوصی ریل گاڑیوں کے ذریعے ہزاروں کی تعداد میں بہار کے لوگوں کو ملک کے مختلف حصوں سے لاکر ووٹ ڈلوائے ۔ اس سلسلے میں ہریانہ سے چار خصوصی ٹرینوں کے ذریعے تقریباً چھ ہزار ووٹروں کو بہار لائے جانے کے ثبوت بھی پیش کیے ۔ بی جے پی کے خود کہہ رہے تھے کہ ہم نے ٹکٹ خریدے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان ٹرینوں کا خرچ کس نے برداشت کیا اور الیکشن کمیشن نے اس پر کاروائی کیوں نہیں کی جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی بھی پارٹی ووٹروں کو لانے لے جانے کا کام نہیں کر سکتی ۔ ی غیر قانونی انتخابی رویہ میں شمار ہوتا ہے ۔

 

بیرون ریاست کے لوگوں کا بہار آکر ووٹ دینے خبریں بھی سامنے آئیں ۔ اس سلسلہ میں دہلی اور اتراکھنڈ کے کم از کم نصف درجن بی جے پی رہنماؤں کے نام اور تصویریں سامنے آ چکی ہیں جنہوں نے اپنے اپنے صوبوں میں ووٹ ڈالنے کے بعد بہار کے پہلے مرحلے میں دوبارہ ووٹ دیا ۔ یوپی اور بہار کے ممبران اسمبلی کے ذریعہ ووٹنگ سے پہلے کی رات کو پیسے بانٹنے کے ویڈیو بھی سامنے آچکے ہیں ۔ مبینہ طور پر درست کی گئی ووٹر لسٹوں میں ڈپلیکیٹ ووٹروں کی بڑی تعداد باقی رہنے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان میں باہر سے آکر ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد خاصی ہو سکتی ہے ۔ یہ تعداد ان جعلی ووٹروں سے الگ بھی ہو سکتی ہے جو غلط پتوں، غیر واضح تصویروں اور ادھورے ناموں کے ذریعے فہرست میں شامل کیے گئے ہیں ۔ جیسا کہ پہلے سے اندیشہ تھا، ایس آئی آر کے نام پر لاکھوں مستند ووٹروں جن میں کم پڑھے لکھے، غریب، سماجی طور پر کمزور طبقے کے لوگ، خواتین اور اقلیتیں زیادہ ہیں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا ۔ پہلے مرحلے میں ہی ایسے ہزاروں ووٹر پولنگ مراکز سے بغیر ووٹ ڈالے واپس لوٹ گئے جو پہلے ہمیشہ ووٹ دیتے آئے تھے ۔ یہ سب الیکشن کمیشن کی جانب سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی انتخابی آلودگی کی گواہی دیتے ہیں ۔ ان سب کے علاوہ پہلے مرحلے کے ووٹ ڈالنے کے بعد سرائرنجن اسمبلی حلقے میں کھیتوں سے وی وی پیٹ پرچیاں برآمد ہونا، مختلف جگہوں پر اسٹرونگ رومز میں بجلی کا بند ہو جانا، سی سی ٹی وی کیمروں کا غیر فعال ہونا، اور وہاں مشکوک افراد و گاڑیوں کی موجودگی کی خبریں، شکوک و شبہات کو مزید گہرا کرتی ہیں ۔

 

بہرحال، ووٹروں کا رجحان کافی حد تک واضح ہونے اور مہا گٹھ بندھن (مہا اتحاد) کا پلڑا بھاری نظر آنے کے باوجود یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ 14 تاریخ کی ووٹوں کی گنتی کے نتائج بھی اسی رجحان کی عکاسی کریں گے ۔ بی جے پی نے این ڈی اے کے حق میں ماحول بنانے کے لئے فرضی ایگزٹ پول کو مشتہر کیا ہے ۔ ان کی زبان اور انداز لگ بھگ ایک جیسا ہے ایسا لگتا ہے جیسے لکھی ہوئی اسکرپٹ پر یہ عمل کر رہے ہوں ۔ بہار کے معاملہ میں ویسے بھی ایگزٹ پول کبھی صحیح ثابت نہیں ہوئے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عوامی اکثریت کی خواہش کو حتمی انتخابی نتیجہ بننے تک پہنچنے کے لیے کئی سخت امتحانوں سے گزرنا پڑے گا ۔ زمینی سطح پر اپنی ٹیم کے ذریعہ جائزہ لینے والوں کا ماننا ہے کہ اس بار بہار کے عوام نے بدلاؤ کے حق میں ووٹ کیا ہے ۔ تمام شواہد گواہی دے رہے ہیں کہ اگر نتیجے چوری نہیں ہوئے تو مہا گٹھ بندھن کی حکومت بننا یقینی ہے ۔

Comments are closed.