مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقد مہ:ہائی کورٹ کا وکیل استغاثہ کو نچلی عدالت کا ریکارڈ تیار کرنے کا حکم،ملزمین کابم دھماکہ متاثرین سے مطالبہ مسترد، جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کی پیروی

 

ممبئی13/ نومبر2025

مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ میں نچلی عدالت سے بری کیئے گئے تمام ملزمین کے خلاف بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے داخل پٹیشن پر آج بامبے ہائی کورٹ میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران چیف جسٹس آف بامبے ہائی کورٹ نے این آئی اے کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا انیل سنگھ کو حکم دیا کہ وہ نچلی عدالت کا ریکارڈ تیار کرکے ہائی کور ٹ میں پیش کرے۔ عدالت نے این آئی اے کو مزید حکم دیا کہ وہ دوملزمین جنہیں ابتک عدالت کی جانب سے جاری کی گئی نوٹس نہیں پہنچی ہے انہیں مقامی پولس کی مدد سے تلاش کرکے ان تک نوٹس پہنچائے۔ نچلی عدالت کے ریکارڈ کے متعلق ملزمین کی نمائندگی کرنے والے وکلا ء نے عدالت سے گذارش کی کہ وہ بم دھماکہ متاثرین کو حکم دے کہ وہ بم دھماکہ متاثرین کو حکم دے کہ وہ نچلی عدالت کو ریکارڈ یعنی کے پیپر بک انہیں مہیا کرائے۔ ملزمین کی اس درخواست کی جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے بم دھماکہ متاثرین کی نمائندگی کرنے والے وکیل متین شیخ نے مخالفت کی اور عدالت کو بتایا کہ بم دھماکہ متاثرین کو عدالت کی جانب سے صرف فیصلہ کی اصل کاپی ملی ہے بقیہ دستاویزات آج بھی خصوصی این آئی اے عدالت کی تحویل میں ہی ہیں اور یہ قانون کا بھی تقاضہ ہے کہ پیپر بک تیار کرنے کی ذمہ داری حکومت یعنی کہ استغاثہ کی ہوتی ہے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ کے اعتراض کے بعد چیف جسٹس آف ہائیکورٹ نے استغاثہ کو حکم دیا کہ وہ نچلی عدالت کا ریکارڈ تیار کرنے کی ذمہ داری لے اور مقدمہ کی اگلی سماعت تک اسے عدالت میں داخل کردیا جائے۔دوران سماعت عدالت میں این آئی اے، اے ٹی ایس، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر،اجے راہیکر، میجر رمیش اپادھیائے، کرنل پروہت کے وکلاء موجود تھے جبکہ ملزم سمیر کلکرنے اپنے مقدمہ کی خود پیروی کی۔ چیف جسٹس نے سمیر کلکرنے سے اس کے دفاع میں وکیل لگانے کا مشورہ دیا جسے اس نے ماننے سے انکار کردیا ہے اور کہا کہ نچلی عدالت میں بھی اس نے بذات خود اس کے مقدمہ کی پیروی کی تھی اور وہ ہائی کورٹ میں اس کے مقدمہ کی پیروی کرنا چاہتا ہے۔چیف جسٹس آف انڈیانے دوران سماعت یہ زبانی تبصرہ بھی کیا کہ عدالت تمام فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد ہی اپیل سماعت کے لیئے قبول کیئے جانے کے تعلق سے فیصلہ صادر کریگی۔اسی درمیان عدالت مقدمہ کی سماعت دو ہفتوں کے بعد کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔عیاں رہے کہ گذشتہ سماعت پر جسٹس آف بامبے ہائی کورٹ اور جسٹس گوتم انکھڑنے بم دھماکہ متاثرین کی عرضداشت پر لگاتار تین دنوں تک سماعت کرنے کے بعد ملزمین اور استغاثہ کو نوٹس جاری کیا تھا۔ مالیگاؤں 2008بم دھماکہ مقدمہ میں خصوصی این آئی اے عدالت سے بری کیئے گئے تمام ملزمین کے خلاف بم دھماکہ متاثرین نثار احمد حاجی سید بلال، شیخ لیاقت محی الدین، شیخ اسحق شیخ یوسف، عثمان خان عین اللہ خان، مشتاق شاہ ہارون شاہ اور شیخ ابراہیم شیخ سپڑونے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے پٹیشن داخل کی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔بم دھماکہ متاثرین نے بامبے ہائی کورٹ سے بی این ایس ایس کی دفعہ 391/ کے تحت مزید گواہان کو طلب کرنے کی اور نچلی عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی ہے۔واضح رہے کہ خصوصی این آئی اے عدالت نے مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر،اجے راہیکر، میجر رمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، کرنل پروہت، سوامی سدھاکر دھر دویدی اور سدھاکر اونکار چترویدی کو 31/ جولائی 2025/ کو ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے بری کردیا تھا۔اس مقدمہ میں کل 323/ سرکاری گواہان اور 8/ دفاعی گواہان نے اپنے بیانات کا خصوصی عدالت میں اندراج کرایا تھا۔ دوران گواہی 39/ سرکاری گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے جس کی بنیاد پر عدالت نے ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا۔

Comments are closed.