بہار کی سیاست میں مسلم سیاست حاشیہ پر۔۔۔!
عاقل حسین
سینئر صحافی و تجزیہ نگار
مدھوبنی
بہار میں حالیہ دنوں کی سیاست میں مسلمان طبقہ حاشیہ پر چلاگیا ہے۔ سال 2025؍ میں ہوئے بہار اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کی محض 11؍سیٹ پر ہی جیت حاصل ہوسکی۔ اس کی یہ بھی وجہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کا ووٹ تو حاصل کرتی ہیں مگر انہیں مناسب سیٹ نہیں دیتی ہیں۔ اسمبلی انتخاب سے قبل سیٹ بٹوارہ میں بہار کی 243؍سیٹوں میں راشٹریہ جنتادل نے 18، کانگریس نے 10، جدیو نے 4؍ اور چراغ پاسوان کی پارٹی لوجپا (رام ولاس) نے محض 1؍ مسلم امیدوار کو انتخابی میدان میں اُتارا تھا۔ جبکہ بی جے پی کی جانب سے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ وہیں سیاست میں مسلمانوں کی حصے داری کا نعرہ دینے والی جن سوراج پارٹی 238؍ سیٹوں پر انتخاب لڑی مگر اس کے ذریعہ بھی ٹکٹ کی تقسیم میں مسلمانوں کو مناسب حصے داری نہیں دی گئی۔ بہار اسمبلی کی 243؍ سیٹوں پر ہوئے انتخابات میں بی جے پی نے 89، جدیو نے 85، لوجپا نے 19، ہم نے5، راشٹریہ لوک مورچہ نے 4، راجد نے 25، کانگریس نے 6؍ اور آانڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے 5، بایاں محاذ نے 3، آئی آئی پی نے 1؍ سیٹ اور بہوجن سماج پارٹی نے 1؍سیٹ پر جیت درج کی جس میں راجد کے اُسامہ شہاب نے سیوان ضلع کے رگھوناتھ پور سے جدیو کے وکاس کمار سنگھ کو 9249؍ووٹوں سے شکست دی۔ مشرقی چمپارن کے ڈھاکہ سیٹ سے راجد کے فیصل رحمانی نے بی جے پی کے امیدوار پون کمار جیسوال کو 178؍ووٹوں سے شکست دی۔ فیصل رحمانی کو 112727؍ ووٹ حاصل ہوئے جبکہ بی جے پی کے پون کمار جیسوال کو 112549؍ ووٹ حاصل ہوئے۔ مدھوبنی ضلع کے بسفی اسمبلی سیٹ سے راجد کے امیدوار آصف احمد نے بی جے پی کے امیدوار ہری بھوشن ٹھاکر بچول کو 8107؍ ووٹوں سے شکست دی۔ آصف احمد راشٹریہ جنتادل کے راجیہ سبھا رکن ڈاکٹر فیاض احمد کے فرزند ہیں۔ اسی طرح چین پور اسمبلی حلقہ سے جدیو کے زماں خان نے راجد کے امیدوار برج کشور بند کو 8263؍ ووٹوں سے شکست دی۔ زماں خان کو 70876؍ ووٹ حاصل ہوئے جبکہ راجد کے برج کشور بند کو 62514؍ ووٹ ملے۔ وہیں بہوجن سماج پارٹی کے دھیرج کمار سنگھ کو 51200؍ ووٹ ملے۔ کشن گنج سے کانگریس کے قمرالہدیٰ نے 12794؍ووٹوں سے جیت درج کی۔ انہیں 89669؍ ووٹ حاصل ہوئے جبکہ بی جے پی کی امیدوار سوئٹی سنگھ کو 76875؍ ووٹ ملے۔ بہادرگنج اسمبلی حلقہ سے مجلس اتحاد المسلمین کے توصیف عالم 28726؍ ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔ انہوںنے کانگریس پارٹی کے محمد مصور عالم کو شکست دی۔ جبکہ لوجپا (رام ولاس) کے کلیم الدین تیسرے نمبر پر رہے۔ ارریا ضلع کے جوکی ہاٹ سے مجلس اتحاد المسلمین کے مرشد عالم28803؍ ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔ انہوںنے جدیو کے منظور عالم کو شکست دی۔ جبکہ جن سوراج کے سرفراز عالم تیسرے نمبر پر رہے۔ کوچا دھام اسمبلی حلقہ سے مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار سرور عالم نے راجد کے مجاہد عالم کو 23021؍ ووٹوں سے شکست دی۔ واضح رہے کہ مجاہد عالم وقف قانون کے معاملے میں جدیو سے الگ ہوگئے تھے جس کے بعد انہیں راجد نے اس حلقہ سے ٹکٹ دے کر انتخابی میدان میں اُتارا تھا۔ کشن گنج کی امور سیٹ سے مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی صدر اختر الایمان نے جدیو کی امیدوار صبا ظفر کو 38؍ ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ اس حلقہ سے اختر الایمان کو 100836؍ ووٹ حاصل ہوئے جبکہ جدیو کی صباظفر کو 61908؍ ووٹ ملے۔ وہیں کانگریس کے عبدالجلیل مستان کو 52791؍ ووٹ حاصل ہوئے۔ پورنیہ ضلع کے بائسی اسمبلی حلقہ سے مجلس اتحاد المسلمین کے غلام سرور نے کامیابی حاصل کی۔ انہوںنے بی جے پی کے ونود کمار کو 27251؍ ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ غلام سرور کو کل 92766؍ ووٹ ملے جبکہ بی جے پی کے ونود کمار کو 65515؍ ووٹ حاصل ہوئے۔ وہیں آرجے ڈی کے عبدالسبحان کو 56؍ہزار ووٹ ملے۔ ارریا اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے عابدالرحمان نے جدیو کی شگفتہ عظیم کو 12441؍ ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ جبکہ تیسرے نمبر مجلس اتحاد المسلمین کے منظور عالم رہے۔ اگر ہم بات بہار کی سیاست کی کریں تو فیصد کے لحاظ سے مسلمانوں کی آبادی 17.70؍فیصد رہنے کے باوجود انہیں سیکولر کہلانے والی پارٹیاں راجد، کانگریس ودیگر مناسب سیٹ نہیں دے پاتی ہیں۔ مسلم آبادی کو مناسب سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے بہار اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی محض 11؍ رہے گی۔ اگر ہم بہار کی سیاست میں ذات پر نظر ڈالیں تو اس مرتبہ کے انتخاب میں بہار میں راجپوت 3.45؍فیصد ہیں لیکن انہیں مناسب سے بھی زیادہ سیٹ ملنے کی وجہ سے ان کی نمائندگی بہار اسمبلی میں 32؍ ہوگی۔ اسی طرح بھومیہار 2.87؍فیصد ہیں اور ان کی نمائندگی 23؍ ہوگی۔ اسی طرح برہمن 3.65؍ فیصد ہیں اور ان کی نمائندگی 14؍ ہوگی۔ یادو 14.26؍فیصد ہیں اور ان کی نمائندگی 28؍ ہوگی، کشواہا 4.21؍فیصد ہیں اور ان کی نمائندگی 26؍ ہوگی، کورمی 2.87؍ فیصد ہیں اور ان کی نمائندگی 25؍ہوگی جبکہ ویش سماج 5.12؍ فیصد ہے اور ان کی نمائندگی 26؍ ہے۔ اسی طرح دلت 19.65؍فیصد ہیں اور ان کی نمائندگی 36؍ ہے۔ جبکہ بہار میں مسلمانوں کا فیصد 17.70؍ رہنے کے باوجود انہیں مناسب سیٹ نہیں ملنا کہیں نہ کہیں ہر سیکولر پارٹیاں ان کی سیاست کو حاشیہ پر پہنچانے میں لگی ہیں۔ سیکولر پارٹیاں خاص کر راشٹریہ جنتادل اور کانگریس ہمیشہ مسلمانوں کو سیاسی ووٹ بینک مانتے ہوئے ان کا ووٹ حاصل کرتی رہی ہے مگر آبادی فیصد کے تناسب سے انہیں اسمبلی انتخابات میں جو سیٹ ملنی چاہئے وہ نہیں دیتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بہار اسمبلی میں مسلم نمائندگی دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے۔ اتنا ہی نہیں‘ مسلم نوجوان جو بہار کی سیاست میں آگے آنا چاہتے ہیں تو انہیں ٹکٹ دے کر بھی واپس کرلیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں دیکھا گیا ہے کہ دربھنگہ ضلع کی جالے سیٹ سے کانگریس پارٹی نے نوشاد عالم کو ٹکٹ دے کر ان سے ٹکٹ واپس لے لیا۔ اسی طرح کی صورتحال بہار اسمبلی انتخابات میں کئی سیٹوں پر دیکھی گئی جہاں راجد اور کانگریس نے اس طرح کا کھیل کرکے مسلم سیاست کو اندھیرے میں دھکیلنے کا کام کیا۔ اگر مسلمانوں کی سیاست پر اسی طرح سیکولر پارٹیاں کھیل کھیلتی رہیں گی تو ہمیں لگتا ہے کہ مستقبل میں مسلم نوجوان سیاست کی طرف متوجہ نہیں ہوسکیںگے۔ کیوںکہ ہمیشہ یہ دیکھا جاتا رہا ہے کہ سیکولر پارٹیاں کہلانے کو رہتی ہیں مگر جب ٹکٹ دینے کی باری آتی ہے تو مناسب سیٹ نہیں دی جاتی ہے۔ سیکولر پارٹیوں کی اگر بات کریں تو اسد الدین اویسی کی پارٹی نے بہار اسمبلی انتخاب میں عظیم اتحاد سے محض 6؍ سیٹ مانگی تھی اور اتحاد میں شامل کرنے کی بات رکھی تھی مگر راشٹریہ جنتادل کے یوتھ لیڈر تیجسوی یادو نے ایک انٹرویو میں عظیم اتحاد میں شمولیت کی بات پر مبینہ طور پر کہاتھا کہ شدت پسندوں کی اس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اگر اسی طرح شدت پسند کہلاتے رہیںگے تو آنے والے وقت میں اس طرح کی سیکولر پارٹیاں محض کہلانے کو رہ جائیںگی اور آنے والے وقت میں اگر مسلمانوں کی سیاسی حصے داری کا یہی حال رہا اور ان کی مضبوط آواز نہیں بلند ہوسکی تو مستقبل میں مسلمانوں کی سیاست کے پوری طرح خاتمہ کا اندیشہ ہے۔
Comments are closed.