مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

بین الاقوامی یومِ انسدادِ تشدد برائے خواتین کے موقع پر اے ایم یو میں منعقدہ پروگرام میں ایسڈ حملے سے بچنے والی خاتون محترمہ لکشمی اگروال نے کہا: ہمیں احترام نہیں، برابری چاہیے

 

علی گڑھ، 25 نومبر: بین الاقوامی یومِ انسدادِ تشدد برائے خواتین کے موقع پر شعبہ کمیونٹی میڈیسن، جے این ایم سی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کلچرل ایجوکیشن سینٹر کے کینیڈی آڈیٹوریم میں ایک نہایت اثر انگیز پروگرام کا انعقاد کیا، جہاں ایسڈ حملہ سے بچ جانے والی سماجی کارکن محترمہ لکشمی اگروال نے نہایت پُر اثر پیغام دیا: ”ہمیں احترام نہیں، برابری چاہیے“۔

 

ایک مذاکرہ کے دوران ڈاکٹر ہنسیکا سکینہ (انٹرن، جے این ایم سی) اور ڈاکٹر آرین پرتاپ سنگھ (ایم بی بی ایس، جے این ایم سی) نے لکشمی اگروال کا انٹرویو لیا، جس میں انہوں نے ایک سفاکانہ ایسڈ حملے سے لے کر عالمی سطح پر مزاحمت اور امید کی علامت بننے تک کا اپنا سفر بیان کیا۔ انہوں نے اپنے صدمات، طویل قانونی جدوجہد اور تیزاب کی فروخت پر پابندی کے لیے اپنی مسلسل کوششوں کا ذکر کیا۔ خواتین کے لیے محض احترام کے بجائے حقیقی برابری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ان کے جملوں نے سامعین پر گہرا اثر مرتب کیا۔

 

پروگرام میں داستان گوئی کا سیشن بھی ہوا۔ شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلمان شاہ نے ایسڈ حملہ سے بچنے والی آگرہ کی محترمہ رقیہ خان اور محترمہ شبنم علوی (جو اس وقت شیروز کیفے میں کام کرتی ہیں) سے گفتگو کی۔ ان کی گفتگو نہایت متاثر کن تھیں۔ رقیہ اور شبنم نے اپنی زندگی بدل دینے والے لمحات، بے شمار سرجریوں، سماجی بدنامی، اور اس ہمت و حوصلے کا ذکر کیا جو انہوں نے وقت کے ساتھ دوبارہ پیدا کیا۔ ان کے بیانات مظلومیت کے قصے نہیں تھے بلکہ عزم، وقار اور استقامت کی روشن مثال تھے۔

 

اس سے قبل افتتاحی اجلاس کی مہمانِ خصوصی پروفیسر وبھا شرما، ممبر انچارج، دفتر رابطہ عامہ، اے ایم یو نے دنیا بھر کی خواتین پر جسمانی، ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی تشدد کی پریشان کن شرح کا ذکر کیا۔ انہوں نے اسے ”اجتماعی سماجی ناکامی“ قرار دیتے ہوئے صنفی تشدد کے خلاف زیادہ مضبوط اخلاقی ذمہ داری ادا کرنے کی اپیل کی۔

 

تقریب میں فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد، پرنسپل جے این ایم سی، پروفیسر سید امجد علی رضوی، چیئرپرسن شعبہ کمیونٹی میڈیسن پروفیسر عظمیٰ ارم، اساتذہ، طلبہ اور مہمانان نے شرکت کی۔

 

شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے جونیئر ریزیڈنٹس ڈاکٹر محمد بلال اور ڈاکٹر شافیہ شفیق نے پروگرام کو مربوط کیا۔ آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر اطہر انصاری نے اظہارِ تشکر کیا۔

 

پروگرام کا اختتام اس اجتماعی عزم کے ساتھ ہوا کہ ایسڈ حملہ اور دیگر تشدد سے متاثرہ خواتین کی مدد کی جائے، ہر طرح کے ظلم کے خلاف خاموشی توڑی جائے، اور اس مستقبل کی جانب بڑھا جائے جہاں خواتین کو صرف احترام نہیں بلکہ حقیقی برابری حاصل ہو۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اجمل خاں طبیہ کالج کے 16 طلبہ میڈیکل آفیسر منتخب

 

علی گڑھ، 25 نومبر: اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 16 طلبہ کا اتر پردیش پبلک سروس کمیشن (یو پی پی ایس سی) کے ذریعے میڈیکل آفیسر (یونانی میڈیسن) کے عہدے کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ ان کی کامیابی ان کی ذاتی محنت کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی مسلسل رہنمائی کی آئینہ دار ہے۔

 

منتخب ہونے والے طلبہ میں ڈاکٹر محمد حارث (بی یو ایم ایس، ایم ڈی)، ڈاکٹر ثانیہ خان (بی یو ایم ایس، ایم ڈی)، ڈاکٹر سعید الرحمن (بی یو ایم ایس، ایم ڈی)، ڈاکٹر صالحہ اختر (بی یو ایم ایس، ایم ڈی)، ڈاکٹر مصعب صدیقی (بی یو ایم ایس، ایم ڈی)، ڈاکٹر سعدیہ ریاض (بی یو ایم ایس، ایم ڈی)، ڈاکٹر محمد رمان خان (بی یو ایم ایس، ایم ڈی)، ڈاکٹر ثنا ذکی (بی یو ایم ایس، ایم ڈی)، ڈاکٹر رشدہ سعیدی (بی یو ایم ایس، ایم ڈی)، ڈاکٹر رشمی چوہان (بی یو ایم ایس)، ڈاکٹر محمد تسلیم (بی یو ایم ایس)، ڈاکٹر صدف جہاں (بی یو ایم ایس)، ڈاکٹر عبدالقادر خان (بی یو ایم ایس)، ڈاکٹر نورین جہاں (بی یو ایم ایس)، ڈاکٹر شفیعہ (بی یو ایم ایس) اور ڈاکٹر نازنین ایمان صدیقی (بی یو ایم ایس) شامل ہیں۔

 

فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کی ڈین پروفیسر ایس ایم صفدر اشرف نے منتخب امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی اے ایم یو کے یونانی نصاب اور اساتذہ و طلبہ کی لگن کی علامت ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ نئے میڈیکل افسران ریاست اتر پردیش میں صحت عامہ کے نظام میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

 

اجمل خان طبیہ کالج کے پرنسپل پروفیسر بدرالدجیٰ خان نے بھی کامیاب طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے ادارے کے لیے باعثِ مسرت قرار دیا۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یوکے ویمنس کالج میں تین روزہ تخلیقی آرٹس ورکشاپ اختتام پذیر

 

علی گڑھ، 25 نومبر: ویمنس کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر فار اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ کریئر پلاننگ کے زیرِ اہتمام ”مکس اینڈ میچ“ کے عنوان سے پینٹنگ، پرنٹنگ اور ماؤلڈنگ ہنرپر مبنی تین روزہ ورکشاپ منعقد کی گئی جس میں سینٹر اور شعبہ فائن آرٹس کی 45 طالبات نے حصہ لیا۔ پیڈیلائٹ سے سرٹیفائیڈ ماہر ٹرینر خالدہ شبنم نے تمام سیشن منعقد کئے جنہوں نے عملی سرگرمیوں کے ذریعے طالبات کو مختلف فنّی تکنیکیں سکھائیں۔

 

پہلے دن طالبات نے ماؤلڈ اور رنگوں کا استعمال کرتے ہوئے ہینڈ میڈ فیشن جیولری ڈیزائن کرنا سیکھا۔ دوسرے دن فیبرک پرنٹنگ پر توجہ دی گئی، جہاں طالبات نے متعدد پرنٹنگ تکنیکوں کی مشق کی۔ آخری سیشن میں طالبات نے فری ہینڈ پینٹنگ سیکھی اور اپنی مہارت کو بیگ، کُشن کور، شرٹ، ٹیبل میٹ اور دیگر اشیاء پر آزمایا۔

 

ورکشاپ کے دوران تیار کردہ بہترین فن پاروں کو انعامات سے نوازا گیا۔ آمنہ خان نے پہلا انعام، زینب خلیل نے دوسرا انعام اور وبھا سنگھ نے تیسرا انعام حاصل کیا۔

 

سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر مسعود انور علوی نے کہا کہ اس ورکشاپ نے طالبات کو جدید دستکاری، ٹیکسٹائل پرنٹنگ، فیشن ایکسسریز اور تخلیقی فنون میں ابھرتے مواقع سے روشناس کرایا۔ورکشاپ کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سمرین حسن خان تھیں۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو فیکلٹی ممبر نے آر اے ایف بٹالین میں خواتین کی صحت سے متعلق آگہی پروگرام منعقد کیا

 

علی گڑھ، 25 نومبر: اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ نسواں و قبالت کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فہمیدہ زینت نے رام گھاٹ روڈ، علی گڑھ پر واقع ریپڈ ایکشن فورس کی 104 بٹالین میں خواتین کی صحت سے متعلق آگہی پروگرام اورمفت کنسلٹیشن کیمپ منعقد کیا، جس کا اہتمام پروجیکٹ امید ویلفیئر فاؤنڈیشن اور سوچ این جی او کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔

 

ڈاکٹر زینت نے خواتین کی صحت کے اہم مسائل اور یونانی طریقہ علاج میں جامع و ہمہ جہت اصولوں پر لیکچر دیا۔ انہوں نے تولیدی صحت، اسٹریس مینجمنٹ، طرزِ زندگی سے جڑے امراض اور علاج بالغذا و علاج بالتدبیر کے ذریعے احتیاطی نگہداشت پر گفتگو کی۔ انہوں نے خاتون سیکیورٹی اہلکاروں سے متعلق عملی مسائل پر بھی روشنی ڈالی اور باقاعدہ صحت نگرانی اور متوازن معمولات اپنانے کی ترغیب دی۔

 

پروگرام میں مفت میڈیکل کنسلٹیشن کیمپ بھی شامل تھا، جہاں ڈاکٹر زینت کے ساتھ جونیئر ریزیڈنٹس ڈاکٹر برجیس، ڈاکٹر رافعہ، ڈاکٹر مدحت، ڈاکٹر روزی، ڈاکٹر حنا اور ڈاکٹر زینب نے کلینیکل اسکریننگ، مشاورت اور ادویات کی تقسیم کے فرائض انجام دیے۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو ملاپورم سنٹر میں یومِ آئین کے موقع پر فی البدیہہ تقریری مقابلہ منعقد

 

علی گڑھ، 25 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سنٹر، ملاپورم کے شعبہ قانون کے لیگل ایڈ سیل نے موٹ کورٹ ہال میں یومِ آئین کے موقع پر فی البدیہہ تقریری مقابلے کا انعقاد کیا۔

 

لیگل ایڈ سیل کے ٹیچر اِنچارج ڈاکٹر عظمت علی نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے یومِ آئین کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ پروگرام کا افتتاح ڈائریکٹر اِنچارج اور لیگل ایڈ سیل کی چیئرپرسن ڈاکٹر نسیمہ پی کے نے کیا، جنہوں نے آئین کے وژن اور اس کی افادیت پر خطاب کیا۔ مقابلے کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شیلی وکٹر تھیں۔

 

کورس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شاہنواز احمد ملک نے صدارتی خطاب میں آئینی آگہی کی ضرورت اور اس حوالے سے علمی اداروں کے کردار کو اجاگر کیا۔ مقابلے سے قبل علیشا عظیم نے شرکاء کو قواعد و ضوابط سے آگاہ کیا۔

 

تقریری مقابلے کے ججوں کے پینل میں ڈاکٹر محمد رازی، ڈاکٹر سبینہ پی ایس اور غالب نشتر شامل تھے۔ مقابلے کی نظامت حنافاطمہ نے کی۔ شرکاء نے انصاف، مساوات، نوجوانوں کی جمہوریت میں شرکت، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی خدمات، مالی احتساب، سیکولرزم اور صنفی مساوات جیسے عنوانات پر مدلل اور پُراعتماد مکالمے پیش کیے۔ آخر میں لیگل ایڈ سیل کی سینئر ایگزیکیٹو کونسل ممبر طوبیٰ خان نے اظہارِ تشکر کیا۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

بی ایچ یو کے بین الاقوامی ورکشاپ میں اے ایم یو کے ماہرِ شماریات کا خصوصی لیکچر

 

علی گڑھ، 25 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ شماریات و آپریشنز ریسرچ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد اعظم خان نے بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی میں منعقدہ ہیومینٹیز و سوشل سائنسز کے لیے اطلاقی و اعلیٰ سطحی ڈیٹا اینالیسز سے متعلق بین الاقوامی ورکشاپ میں ایک خصوصی لیکچر دیا۔

 

ڈاکٹر خان نے ایس پی ایس ایس سافٹ ویئر کے استعمال سے جدید شماریاتی تکنیکوں اور ان کی عملی اطلاق پر مبنی سیشن میں گفتگو کی۔ ان کا لیکچر ڈیٹا مینجمنٹ، تجزیاتی حکمتِ عملیوں اور تحقیق میں معیاری نتائج اخذ کرنے کے لیے ضروری تشریحات پر مرکوز تھا۔

 

ثبوت پر مبنی تحقیق کی بڑھتی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر خان نے شرکاء کے لئے ریئل ٹائم ڈیٹا پروسیسنگ کا عملی مظاہرہ کیا اور جدید تجزیاتی فریم ورک سے روشناس کرایا۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) کی کبڈی ٹیم نے قومی سطح کی چیمپئن شپ جیتی

 

علی گڑھ، 25 نومبر: اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) کی کبڈی ٹیم نے آگرہ میں منعقدہ قومی سطح کی کبڈی چیمپئن شپ جیت کر شاندار کارنامہ انجام دیا۔ اس جیت کے ساتھ یہ طالبات اب بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں ملک کی نمائندگی کریں گی۔

 

وائس پرنسپل ڈاکٹر صبا حسن نے ٹیم کو مبارکباد پیش کی اور ان کی نظم و ضبط، محنت اور شاندار کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے اس کامیابی میں کھیلوں کے استاد ذیشان نواب کی رہنمائی اور سرپرستی کو بھی سراہا۔

 

جونیئر گروپ کی ٹیم نے جس میں عائشہ (کپتان)، سکریتی گوتم، ثنا پروین، کومل شرما، طوبیٰ مبین میگھلا اور عروج شامل تھیں، ہریانہ کی ٹیم کے خلاف بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے یہ خطاب اپنے نام کیا۔

 

کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فرحت پروین نے ٹیم کو ادارے کا نام روشن کرنے پر سراہا۔ اسکول نے تمام کھلاڑیوں کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی آئندہ بین الاقوامی شرکت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

جے این ایم سی میں عالمی اینٹی مائیکروبیئل آگہی ہفتہ کا اہتمام

 

علی گڑھ، 25 نومبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ورلڈ اینٹی مائیکروبیئل آگہی ہفتہ مختلف علمی اور انٹرایکٹیوسرگرمیوں کے ساتھ منایا گیا، جن کا اہتمام ہاسپٹل انفیکشن سوسائٹی آف انڈیا، علی گڑھ چیپٹر نے ہاسپٹل انفیکشن کنٹرول کمیٹی، امریکن سوسائٹی فار مائیکروبایولوجی اور دیگر اداروں کے تعاون سے کیا۔

 

ہفتے کا آغاز پروفیسر فاطمہ خان کے آن لائن سیشن سے ہوا، جو میڈیکل کالج، امیٹھی کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے تھا۔ انہوں نے اینٹی مائیکروبیئل اسٹیورڈشپ، عالمی اے ایم آر چیلنجز اور تحقیق کو مضبوط بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان پر تعاون پر زور دیا۔

 

فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے طبی عمل میں اینٹی مائیکروبیئل آگہی کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ پرنسپل و سی ایم ایس پروفیسر امجد علی رضوی نے سرجیکل کیئر کے تناظر میں آئسولیشن پروٹوکولز اور معقول اینٹی مائیکروبیئل اسٹیورڈشپ پر روشنی ڈالی۔

 

انڈر گریجویٹ طلبہ کے لئے ایک سی ایم ای منعقد کی گئی جس میں ڈاکٹر سراج احمد نے بنیادی اینٹی مائیکروبیئل تصورات، ٹی بی کنٹرول حکمتِ عملیوں اور امتحانی نقطہ نظر سے مسائل کے سمجھنے پر مبنی جامع لیکچر دیا۔ اس کے بعد پروفیسر فاطمہ خان کی جانب سے اینٹی مائیکروبیئلز اور انفیکشن کنٹرول پر انٹرایکٹیو کوئز ہوا، جس میں طلبہ نے حصہ لیا اور انعامات تقسیم کیے گئے۔

 

ہفتے کا اختتام تیسرے سالانہ انٹرڈپارٹمنٹل فیکلٹی کوئز”کون بنے گا انفیکشن کنٹرول پتی“ کے ساتھ ہوا۔ اس میں شعبہ تپ دق و امراض تنفس کی ٹیم (ڈاکٹر نفیس احمد خان اور ڈاکٹر شہزاد انور) نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ فزیالوجی شعبہ نے رنر اپ اور آپتھالمولوجی شعبہ نے سیکنڈ رنر اپ کا مقام حاصل کیا۔ پروفیسر عادل رضا، چیئرمین، شعبہ مائیکروبایولوجی نے انعامات تقسیم کیے، اور ڈاکٹر شارق احمد نے شکریہ ادا کیا۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

ایم بی اے طلبہ کے لیے اے ایم یو میں بک ریویو سیشن منعقد

 

علی گڑھ، 25 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں ایم بی اے، ایم بی اے (انٹرنیشنل بزنس)، ایم بی اے (اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس) اور ایم بی اے (ہاسپٹل ایڈمنسٹریشن) کے پہلے سال کے طلبہ کے لیے ایک بُک ریویو پرزنٹیشن سیشن منعقد کیا گیا، جس کی نگرانی شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر سلمیٰ احمد نے کی۔ پانچ طلبہ نے مینجمنٹ سے متعلق منتخب کتابوں کا جائزہ پیش کیا، جنہیں قیادت، فیصلہ سازی، ذاتی ترقی اور کاروباری ذہن سازی کے حوالے سے ان کی اہمیت کے پیش نظر منتخب کیا گیا تھا۔ پیش کی گئی کتابوں میں شامل تھی: اسٹے ہنگری اسٹے فولش(رشمی بنسل)، جسے ثنا رشید نے پیش کیا۔ یو کین وِن (شیو کھیڑا) پر ارینہ عالم نے گفتگو کی۔ ہو مووڈ مائی چیز؟(اسپینسر جانسن) پر وِنے کمار شرمانے گفتگو کی۔ اسٹارٹ وِد وہائی (سائمن سینک) پر شادمان نے گفتگو کی، جب کہ کنیکٹ دی ڈاٹس (رشمی بنسل) کا تجزیہ نشرح نے پیش کیا۔

 

اس سرگرمی کا مقصد طلبہ کی مینجمنٹ لٹریچر کے ساتھ وابستگی کو فروغ دینا، تجزیاتی سوچ، ابلاغی صلاحیتوں اور حقیقی دنیا کے انتظامی نقطہ نظر سے واقفیت کو مضبوط کرنا تھا۔ پروفیسر سلمیٰ احمد نے طلبہ کی محنت کو سراہا اور انہیں ایسی تعلیمی سرگرمیوں میں مسلسل حصہ لینے کی ترغیب دی۔ طلبہ کو متعلقہ کتابیں بھی تحفے میں دی گئیں۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے انجینئرنگ کالج میں ایکو ٹیک کلب کا افتتاح، شجر کاری مہم کا اہتمام

 

علی گڑھ، 25 نومبر: ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایکو ٹیک کلب کا افتتاح کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں لینڈ اینڈ گارڈنز کے ممبر انچارج پروفیسر انور شہزاد نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ یہ کلب ماحولیاتی آگہی اور تکنیکی اختراع کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے۔

 

ڈاکٹر صفیہ اختر کاظمی نے حاضرین کا خیرمقدم کیا، جبکہ پرنسپل پروفیسر محمد مزمل نے ماحولیات دوست انجینئرنگ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ پروگرام میں شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے چیئرمین پروفیسر یوسف الزماں خان بھی موجود تھے، جنہوں نے اس اقدام کی بھرپور حمایت کی۔ اختتام پر ڈاکٹر قرۃ العین نے شکریہ ادا کیا۔

 

افتتاحی تقریب کے بعد سنٹر فار انٹیگریٹیڈ گرین اینڈ رینیوایبل انرجی اور آئی ای ای ای ویمن اِن انجینئرنگ افینٹی گروپ کے اشتراک سے شجر کاری مہم کا انعقاد کیا گیا۔ پروفیسر انور شہزاد کی قیادت میں پروفیسر محمد مزمل، پروفیسر یوسف الزماں خان، پروفیسر احمد علی، ڈاکٹر صفیہ اختر کاظمی، فیکلٹی ارکان اور طلبہ نے اس مہم میں حصہ لیا۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

جے این میڈیکل کالج اسپتال میں 26 نومبر کو پیس میکر چیک اَپ کیمپ منعقد ہوگا

 

علی گڑھ، 25 نومبر: شعبہ امراضِ قلب، جے این میڈیکل کالج اسپتال، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بدھ 26 نومبر 2025 کو پیس میکر چیک اَپ کیمپ کا انعقاد کرے گا۔ کارڈیالوجی او پی ڈی نمبر 14 میں صبح 9 بجے سے یہ کیمپ شروع ہوگا۔

 

شعبہ امراضِ قلب کے چیئرمین پروفیسر آصف حسن کے مطابق، جے این میڈیکل کالج اسپتال یا کسی بھی دیگر طبی ادارے میں پیس میکر لگوانے والے تمام مریض کیمپ میں شرکت کر سکتے ہیں۔ مریض اپنے پیس میکر سے متعلق تمام ضروری دستاویزات اپنے ساتھ لائیں۔ چیک اَپ اور متعلقہ خدمات مفت فراہم کی جائیں گی۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ سول انجینئرنگ میں پروفیسر تزئین احمد کی تعزیت میں جلسہ کا اہتمام

 

علی گڑھ، 25 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سول انجینئرنگ میں سابق فیکلٹی رکن پروفیسر تزئین احمد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں اساتذہ، عملے کے اراکین اور طلبہ نے شرکت کی اور مرحوم کی علمی خدمات، لگن اور خوش اخلاقی کو یاد کیا۔ پروفیسر تزئین احمد کا گزشتہ 20 نومبر کو علی گڑھ میں انتقال ہوا تھا۔

 

فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے ڈین پروفیسر نثار احمد، اور ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل نے شعبے میں مرحوم کے نمایاں کردار کو یاد کرتے ہوئے انہیں ایک منکسرالمزاج اور خلیق استاد قرار دیا جن کی تربیت سے کئی نسلیں فیض یاب ہوئیں۔

 

شعبے کے چیئرمین پروفیسر آئی ایچ فاروقی نے شعبے کی لیبارٹریز کی ترقی میں پروفیسر تزئین احمد کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تعزیتی پیغام پڑھا، جس کے بعد حاضرین نے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

 

پروفیسر محمد عارف نے پروفیسر تزئین کے ساتھ چار دہائیوں سے زائد کی رفاقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی علمی بصیرت کے باعث سبھی کے لئے بے حد محترم تھے۔ پروفیسر عبدالباقی، پروفیسر ارشد عمر، پروفیسر شکیل احمد، پروفیسر امجد مسعود، پروفیسر جاوید عالم، پروفیسر صبیح اختر اور پروفیسر محبوب انور خان نے مرحوم کی دریا دلی، شفقت اور پیشہ ورانہ دیانت داری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

 

پروفیسر ایم مسرور عالم نے جلسہ کی نظامت کی اور اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ مرحوم کے بڑے صاحبزادے جناب امید بھی اس موقع پر موجود رہے اور اپنے والد کو ایک شفیق، باصلاحیت اور علم دوست شخصیت کے طور پر یاد کیا۔

 

مرحوم پروفیسر تزئین احمد کے پسماندگان میں اہلیہ محترمہ صتوت اور ان کے بیٹے امید اور اریب، اور بہو مسز اشباح ہیں۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

راجیو پرکاش ساحر کے ناول ’آتماؤں کے سراب‘ پر سرسید اکیڈمی، اے ایم یو میں مذاکرہ کا اہتمام

 

علی گڑھ، 25 نومبر: سرسید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں خیابانِ ادب، علی گڑھ کے زیر اہتمام لکھنؤ کے معروف افسانہ و ناول نگار راجیو پرکاش ساحر کے تازہ اردو ناول ”آتماؤں کے سراب“ پر ایک مذاکرہ منعقد کیا گیا، جس میں ناقدین ادب اور اسکالرز نے ناول کے فنی اور موضوعاتی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ناول میں قاری کی دلچسپی آخر تک برقرار رہتی ہے اور یہی اس کی کامیابی ہے۔ عصر حاضر کے بنیادی انسانی مسائل و تشویشات کو استعارہ اور تمثیل کی زبان میں پیش کرکے راجیو پرکاش ساحر نے اردو ناول میں ایک گرانقدر اضافہ کیا ہے۔

 

مذاکرہ کے صدارت کرتے ہوئے پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ یہ ایک نئے انداز کا ناول ہے جس میں گومتی، گنگا اور ہاتھی جیسے کردار جدید شہری تہذیب و ترقی کے کھوکھلے پن اور ترقی کے نام پر فطرت سے کھلواڑ اور استحصال کو اجاگر کرتے ہیں۔ مرزا ہادی رسوا سے لے کر قرۃ العین حیدر، عطیہ حسین، نیر مسعود اور دیگر افسانہ و ناول نگاروں کی تخلیقات میں جگہ پانے والے لکھنؤ کے قدیم معاشرہ اور جدید شہری اتھل پتھل میں بناؤ بگاڑ کے شکار معاشرے کے مختلف کرداروں کا تجزیہ کرتے ہوئے پروفیسر قدوائی نے راجیو پرکاش کے ناول کو اس معنی میں منفرد قرار دیا کہ اس میں انسانی استحصال کے تمام سائے ابھر آئے ہیں۔

 

پروفیسر طارق چھتاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب میں بیان اور موضوع کے اعتبار سے ایک بہت نادر ناول کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کا موضوع ہندوستان ہے اور اس میں ہر کردار کو کسی نہ کسی فطری مظہر کے مماثل دکھایا گیا ہے۔ جنگل، ندی، پہاڑ اور حیوانات (ہاتھی) کی مناسبت سے مختلف کردار انسانی معاشرہ کے عصری مسائل کو نمایاں کرتے ہیں۔

 

پروفیسر عاصم صدیقی نے کہا کہ یہ ناول اس پہلو سے بہت اہم ہے کہ جب آپ اس کو پڑھنا شروع کریں گے تو پڑھتے چلے جائیں گے۔ یہ ایک دلچسپ ناول ہے، یہی اس کی خوبی ہے۔ اس ناول کے کردار متنوع اور علامتی ہیں۔ کردار میٹافر کی شکل میں ہیں۔ ناول کا یہ جملہ کیا خوب ہے کہ ”انسان جب قدرت کو حسین بنانے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے تو کتنا ظالم ہوجاتا ہے“۔ یہ ہم ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں کہ پروگریس اور ڈیولپمنٹ کے نام پر بہت سے فطری مظاہر کو مسخ کیا جارہا ہے۔

 

پروفیسر غضنفر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل شعر کہنے والے اور ڈھیر ساری کہانیاں لکھنے والے راجیو پرکاش ساحر کے ناول کا عنوان دلچسپ ہے جس میں سکڑی ہوئی گومتی اور اور کٹتا ہوا جنگل، قدروں کے زوال، تہذیب کی موت اور استحصال کی علامت ہیں۔ ناول نگار نے اپنے تمام مشاہدات، تجربات اور محسوسات کو قاری تک پراثرانداز میں پہنچایا ہے اور کہیں بھی اکتاہٹ نہیں محسوس ہوتی۔

 

راجیو پرکاش ساحر نے اس موقع پر کہا کہ گومتی کا اس ناول میں اہم کردار ہے۔ یہ زندگی ایک سراب ہے اور میرے تمام کردار سراب ہی ہیں جو اس ناول میں الگ الگ ناموں سے زندگی کی پیچیدگیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔

 

پروفیسر صغیر افراہیم نے ناول کے فنی و موضوعاتی نکات کا تفصیلی جائزہ لیا اور تمام کرداروں کی نفسیات کا تجزیہ پیش کیا۔ انھوں نے ناول کو ترتیب، بُنت اور پیشکش کے اعتبار سے ایک شاندار پیشکش قرار دیا۔

 

ڈاکٹر معید رشیدی نے اپنی تمہیدی گفتگو میں راجیو پرکاش ساحر کا تعارف کرایا اور کہا کہ ناول ’آتماؤں کے سراب‘ میں معاشرتی رشتوں کی شکست و ریخت، شناخت اور ذات کا بحران، سماجی تضادات، طبقاتی کشمکش اور زندگی کی ناہمواریاں مختلف کرداروں کی شکل میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ ڈاکٹر معید رشیدی نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دئے۔

Comments are closed.