’’ہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش تعلیمی اور معاشی چیلنجز ‘‘ کے موضوع پر دو روزہ سمینار اختتام پذیر

کسی قوم کی بڑائی اس بات میں نہیں ہے کہ اس میں افراد کتنے ہیں بلکہ اصل بڑائی یہ ہے کہ اس میں قوم پر مرمٹنے والے کتنے ہیں : مولانا عتیق احمد بستوی

نئی دہلی(پریس ریلیز) کسی قوم کی بڑائی اور اس کی ترقی اس بات میں نہیں ہے کہ اس میں افراد کتنے ہیں بلکہ اصل کامیابی اور بڑائی یہ ہے کہ اس میں قوم پر مر مٹنے والے اور ملت کی فکر میں شب و روز گزارنے والے کتنے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری برائے علمی امور اور دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ حدیث و فقہ حضرت مولانا عتیق احمد بستوی نے مورخہ ۲۶-۲۷؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ’’ہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش تعلیمی اور معاشی چیلنجز اور ان کا حل‘‘ کے موضوع پر ہونے والے سمینار کے افتتاحی نشست میں کیا۔

مولانا بستوی مہمان اعزازی کی حیثیت سے سمینار میں شریک ہوئے، انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ: جب تک ہم ملک کے مختلف مسائل اور چیلنجز کو نہ سمجھیں اس وقت تک ہم کسی میدان میں کامیاب نہیں ہوسکتے، اس لیے چیلنجز چاہے معاشی ہوں یا تعلیمی ملک کے مسائل کی روشنی میں اس کے حل کے لیے غور و فکر کرنا ضروری ہے۔ سمینار میں چیف گیسٹ کی حیثیت سے شریک تسمیہ آل انڈیا ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر کے صدر ڈاکٹر سید فاروق صاحب نے کہا کہ یہ ادارے اس لیے قائم کیے گئے ہیں کہ ان سے ہماری تہذیب و تمدن قائم رہے اور مسلمانوں کی شناخت محفوظ رہے۔ انھوں نے کہا کہ ایجوکیشن حاصل کرنے کے تین بنیادی فوائد ہیں: آرٹ آف ایکسپریشن، آرٹ آف ارننگ اور آرٹ آف لیونگ۔ سمینار میں صدر کی حیثیت سے شریک کرنل طاہر مصطفی (رجسٹرار جامعہ ہمدرد، نئی دہلی) نے قائدانہ صلاحیتوں کو ابھارنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ لیڈر شپ اور حکومت میں فرق ہے، حکومت کا دائرہ محدود ہے جس کی انتہا زمام حکومت اور اقتدار پر ختم ہوجاتی ہے ؛جبکہ لیڈرشپ وہ ہے جو راہ دکھائے؛ چاہے وہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ کیوں نہ ہو، اس لیے تعلیم سے لے کر معاشیات تک زندگی کا کوئی میدان ہو اس میں لیڈر شپ کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
سمینار کا آغاز مورخہ ۲۶؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو صبح دس بجے ہوا اور ۲۷؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو دوپہر میں اس سمینار کا اختتام بحسن و خوبی ہوا ۔ اس سمینار میں افتتاحی اور اختتامی نشستوں کے علاوہ چار علمی نشستیں منعقد ہوئیں جن میں کل چالیس مقالات پڑھے گئے۔ سمینار میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد، دہلی یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، مولانا آزاد اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرس شریک ہوئے۔

Comments are closed.