جمعہ نامہ: قیامت کا پہلا مقدمہ

 

ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے:’’ان کے چہرۂ (اقدس) پر ناگواری آئی اور رخِ (انور) موڑ لیا، کیونکہ ان کے پاس ایک نابینا آیا (اور اچانک سوال کردیا)‘‘۔    اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ دعوت کے ابتدائی دنوں میں  رسول اللہﷺ کی خدمت میں عتبہ، شیبہ، ابو جہل، امیہ بن خلف اور ابی بن خلف  جیسےقریشی سردار بیٹھے تھے۔ آپ انہیں اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ اس دوران سیدہ خدیجہ ؓ  کے نابینا  پھوپھی زاد بھائی  سیدنا عبداللہ بن ام مکتومؓ آپ کے پاس آئے۔ وہ چونکہ مجلس میں لوگوں کودیکھ نہیں سکے اس لیےفوراً کسی آیت کا مطلب پوچھ لیا۔  رسول اکرم ﷺ  کویہ ببات ناگوارگزری  اور اس  کے اثرات بھی نمودار ہوگئے۔ اس کی وجہ  حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کی توہین نہیں  بلکہ سرداروں  کو قریب لاکر  اسلام کو تقویت پہنچانےکی تڑپ  تھی اور یہ اعتماد بھی کہ سیدنا عبداللہ ؓ جیسے  خالص مومن کو بعد میں سمجھا لیں گے  لیکن  رب کائنات نےاس طرزِ دعوتپر گرفت کرکے فرمایا دعوتی توجہ کا اولین مستحق طالبِ  ہدایت ہے۔  جوشِ تبلیغ میں  نادانستہ انسانی رویہ  تبدیل ہوجاتا ہے۔پڑوسیوں  کے ساتھ معاملے میں بھی   زیادہ اور کم اہم کی تفریق ہوجاتی ہے اس لیے یہ بتا دیا گیا کہ اولین توجہ کس پرہونی  چاہیے اور  ثانوی درجہ پر کسے رکھاجائے۔

فرمانِ فرقانی ہے:’’اور آپ کو کیا خبر شاید وہ (آپ کی توجہ سے مزید) پاک ہو جاتا، یا (آپ کی) نصیحت قبول کرتا تو نصیحت اس کو (اور) فائدہ دیتی۔ لیکن جو شخص (دین سے) بے پروا ہے تو آپ اس کے (قبولِ اسلام کے) لیے زیادہ اہتمام فرماتے ہیں حالانکہ آپ پر کوئی ذمہ داری (کا بوجھ) نہیں اگرچہ وہ پاکیزگی (ایمان) اختیار نہ بھی کرے اور وہ جو آپ کے پا س (خود طلبِ خیر کی) کوشش کرتا ہوا آیا اور وہ (اپنے رب سے) ڈرتا بھی ہے،  تو آپ اُس سے بے توجہی فرما رہے ہیں، ‘‘۔ قرآن حکیم میں ایسا مقام  ہے جہاں رب کائنات نے اپنے حبیب پاک ﷺ پر تنقید کی لیکن اس  موقع پر نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنیٰ مومنین کے لیے مشعل راہ ہے۔  اس واقعہ کے بعد آپﷺ  سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم سے بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرماتے  ’’خوش آمدید اس شخص کو جس کے بارے میں اللہ نے مجھ پر عتاب فرمایا‘‘۔  ایک  کشادہ دل اور خوش مزاج بندۂ مومن  نہ تو  رب کائنات کی علانیہ گرفت سے دل برداشتہ ہوتا ہے اور نہ  اس شخص سے پرخاش رکھتا   ہے کہ جو اس پر تنقید  کا سبب بنا۔

لوگ باگ   علم و فضل یا عہدہ  ومنصب کے سبب خود کو تنبیہ و تنقید سے بالا تر سمجھنے لگتے ہیں۔  قرآن مجید کی یہ آیت بتاتی ہے کہ یہ ہر شخص کی اصلاح کے لیے مفید و ضروری ہے۔  عوام کو تنقید کے آداب اس لیے  سکھائے جاتے ہیں  تاکہ زعماء کے عدم برداشت اور کرخت رویہ  کو جائز  ٹھہرا کرلوگوں  کی حق گوئی کو توہین وتضحیک کہہ کران کی  حوصلہ شکنی کی جائے۔  نبیٔ کریم ﷺ سے تنقید کو برداشت کرنے کا سلیقہ سیکھنا چاہیے۔ آپؐ  کی شفقت کا یہ عالم تھا   جہاد وغیرہ کے سلسلہ میں جب مدینہ سے باہر جانا ہوا توکئی بارعبداللہ بن ام مکتومؓ  کو مدینہ میں اپنا نائب اور حاکم بناکرجاتے ۔  خود ان کا معاملہ یہ تھا نابینا ہونے کے باوجود جہاد میں عملاً حصہ لیا کرتے تھے۔ آپ نے دور فاروقی میں جنگ قادسیہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوکر یہ  بتا دیاکہ الٰہی تعریف و توصیف کی سعادت سے نوازے جانے والے  کس  شان کے ہوتے ہیں ۔ ربِ علیم و خبیر نے مکہ کے ابتدائی دورمیں ہی یہ بشارت دے دی تھی۔

مذکورہ بالا مثال کے بعد  دعوتِ دین کا قرآنی  اصول یوں  بیان ہوا ہے کہ:’’ دیکھئے یہ قرآن ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے قبول کرلے‘‘۔یعنی قرآنی نصیحت کے ردو قبول کے لیے لوگ آزاد ہیں مگر ان تک یہ پیغام پہنچا دینا اہل ایمان کی ذمہ داری ہےکہ:’’یہ باعزّت صحیفوں میں ہےجو بلند و بالا اور پاکیزہ ہے ۔ ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے جو محترم اور نیک کردار ہیں‘‘  الہامی ہدایت کا انکار کرنے والوں  کو دنیا کی حقیقت سے  اس طرح  بھی خبردار کیا گیا کہ : ’’انسان اس بات سے مارا گیا کہ کس قدر ناشکرا ہوگیا ہے آخر اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے ۔ اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر اس کا اندازہ مقرر کیا ہے، پھر اس کے لئے راستہ کو آسان کیا ہے ،پھر اسے موت دے کر دفنا دیا ، پھر جب چاہا دوبارہ زندہ کرکے اُٹھا لیا ‘‘۔ دنیوی زندگی کی یہی حقیقت ہے کہ ایک نہ ایک دن یہاں سے کوچ کرنا پڑتا ہی ہے۔ اس لیے ہر فردِ بشر کوان لوگوں سے عبرت پکڑنا چاہیے جو اپنی قوت و طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا تھےمگر انھیں لاد کر قبروں تک پہنچا کراندراتار دیا گیا،پھراس کے بعد ان کی قبریں چُن دی گئیں، اور گلی سڑی ہڈیوں کو ان کا ہمسایہ بنا دیا گیا ہے۔

دنیا کے پڑوسی تو بہت کچھ کرتے ہیں مگر قبر کے ہم سائے  پکارنے والے کو جواب نہیں دیتے۔  وہ نہ رونے دھونے والوں کی پروا کرتے ہیں اور  نہ مشکلات کو دور کر سکتے ہیں ۔ وہ بے حس ہم سائے  بادل کےجھوم کر برسنے  پران کی خوشی میں شامل  نہیں ہوتے اور نہ قحط کے آنےپر ان کےحزن و یاس کا حصہ بنتے ہے۔ ان کی ہم سائیگی پر موت کا سایہ منڈلاتا ہے۔   وہ ایک جگہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے  الگ الگ ہوتے ہیں۔  وہ آپس میں ہمسایہ ہوکر بھی دور دُور ہیں۔ پاس پاس ہونے پر بھی  میل ملاقات نہیں کرتے۔ قریب قریب ہونے کے باوجود  ایک دوسرے کے پاس نہیں پھٹکتے کیونکہ  وہ بے خبر، بے ضرر اور بے فائدہ لاشوں میں تبدیل ہوچکے  ہیں۔ اس سے پہلے ہم اس کیفیت سے دوچار ہوں ہمیں اپنے ہم سایوں کے تئیں اپنے تعلقات  جائزہ لے کر دیکھنا چاہیے کہ ان میں زندگی رمق باقی ہے یا وہ زندہ درگور ہوچکے ہیں۔ ہم سے اپنے ہم سائے کو کسی ضرریا نقصان  کا اندیشہ نہ ہو  تب بھی کیا   کسی  مشکل کشائی کی توقع  ہے؟اگر نہیں  تو  اصلاح کا موقع موجود ہے ورنہ رسول اللہ ﷺ  نے تو خبردار کر ہی دیا ہے کہ :” خدا کی عدالت میں جن دو آدمیوں کا مقدمہ سب سے پہلے پیش ہوگا وہ پڑوسی ہوں گے‘‘ ۔

 

Comments are closed.