محمد اعظم شاہد اور ’’عکس در عکس‘‘ کے چودہ سال

تخلیقی وجدان، صحافتی صداقت اور سماجی شعور کی روشن داستان

محمد امین نواز

اردو صحافت و ادب کی تاریخ میں ایسے نام کبھی کبھی جنم لیتے ہیں جن کی تحریر محض کاغذ پر سیاہی نہیں بکھیرتی بلکہ ذہنوں میں روشنی، دلوں میں تاثیر اور سماج میں بیداری کا چراغ روشن کرتی ہے۔ یہ قلمکار اپنے عہد کے سچ کو صرف بیان نہیں کرتے، بلکہ اسے ایک ایسے آئینے میں ڈھالتے ہیں جس میں معاشرے کا اصل چہرہ، تہذیب کی اصل روح اور انسان کی اصل حقیقت جھلکتی ہے۔ انہی صاحبِ فکر و احساس قلمکاروں میں ایک معتبر نام محمد اعظم شاہد بھی ہے، وہ نام جو چودہ برس پر محیط اپنی شہرہ آفاق کالم سیریز ’’عکس در عکس‘‘ کی وجہ سے اردو صحافت میں ایک منفرد شناخت کا حامل بن چکا ہے۔ ’’عکس در عکس‘‘ کا یہ سفر محض چودہ سالہ زمانی وسعت نہیں رکھتا، بلکہ اس کے پس منظر میں مشاہدے کا شعور، احساس کی لطافت، فکر کی دردمندی اور زبان کی شائستگی کی وہ پوری دنیا آباد ہے جو ایک ادیب کے باطن سے پھوٹتی ہے۔ چودہ برس میں سیکڑوں موضوعات، بے شمار حالات، ہزاروں جذبات اور لاتعداد انسانی تجربات اس قلم سے جھلکتے رہے، کبھی درد کی چبھن بن کر، کبھی امید کی کرن بن کر، کبھی طنز کی دھار بن کر، کبھی محبت کی خوشبو بن کر۔تحریر کا یہ سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اعظم شاہد کا قلم سستا نہیں، سطحی نہیں، لمحاتی نہیں۔ وہ ایک ایسی داخلی آگ سے لکھتے ہیں جو صرف ان کے دل میں نہیں جلتی، بلکہ ہر حساس قاری کے دل تک منتقل ہوتی ہے۔ ان کا ہر کالم معاشرے کی دھڑکن پر ہاتھ رکھنے جیسا ہے۔ایک ایسے طبیب کی طرح جو مرض بھی بتاتا ہے اور علاج کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے۔ ان کی تحریروں میں علم کی بالیدگی بھی ہے، مشاہدے کی پختگی بھی، جمالیاتی ذوق بھی، زبان کی مٹھاس بھی، استدلال کی مضبوطی بھی، اور سب سے بڑھ کر انسانی احساس کی وہ نرم آنچ بھی جو پڑھنے والے کو اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’عکس در عکس‘‘ نے نہ صرف انہیں ایک معتبر کالم نگار کی حیثیت دلائی بلکہ اردو صحافت کے اندر ایک نئی تازگی، نئی معنویت اور نئی جہت پیدا کی۔ ’’عکس در عکس‘‘ محض ایک کالم کا عنوان نہیں، بلکہ یہ ایک فلسفہ ہے، ایک زاویہء دید ہے۔ اس عنوان میں دوہری حقیقت پوشیدہ ہے۔ ایک وہ دنیا جو ہم دیکھتے ہیں، اور دوسری وہ حقیقت جو اس کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔

اعظم شاہد کی تحریریں اسی پوشیدہ دنیا کے در وا کرتی ہیں۔ وہ منظر کے پیچھے موجود کرداروں کے دل تک پہنچ جاتے ہیں، اور کرداروں کے دل سے نکل کر پورے معاشرے کی نبض تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی اُن کا اسلوب ہے، ایک ایسا اسلوب جو قاری کو محض معلومات نہیں دیتا بلکہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے، پرکھنے پر آمادہ کرتا ہے، اور زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔چودہ برسوں کے ’’عکس در عکس‘‘ میں کہیں معاشرے کا المیہ ہے، کہیں سماج کی بے حسی، کہیں تہذیب کی شکستہ دیواریں، کہیں امید کے چراغ، کہیں بگڑتے رویّے، کہیں پگھلتے رشتے، کہیں بدلتی اقدار، کہیں ٹوٹتی روایتیں، کہیں نئی نسل کے مسائل، کہیں سیاست کے تضادات، کہیں مذہب کی غلط تعبیرات، کہیں علم کی روشنی، تو کہیں جہالت کا اندھیرا۔تحریر کی یہ وسعت ان کے مطالعے کی گہرائی اور مشاہدے کے پھیلاؤ کی دلیل ہے۔ادب وہی ہوتا ہے جو انسان کے احساسات کو چھو جائیاور صحافت وہی ہوتی ہے جو سماج کی روح تک رسائی حاصل کرے۔ محمد اعظم شاہد کی تحریروں میں یہ دونوں جمالیاتی قدریں بدرجہء اتم موجود ہیں۔ ان کا قلم نہ فقط بیان کرتا ہے بلکہ قاری کو اپنے اندر لے جاتا ہے۔ جو باتیں عام نگاہیں نہیں دیکھ پاتیں، ان کا قلم انہیں منور کر دیتا ہے۔ان کی نثر کی مخصوص خوبیاں یہ ہیں کہ جملوں کی ترتیب میں موسیقیت، الفاظ کے چناؤ میں گہرائی، ترکیب میں نفاست،بیان میں شائستگی، پیغام میں اثرانگیزی۔ یہی سبب ہے کہ ان کے کالم گزرتے وقت کی تحریریں نہیں، بلکہ زمانے کی دستاویزیں بن جاتے ہیں۔اس دور میں جب بہت سے لکھنے والے چند برس کے بعد تھک جاتے ہیں، رک جاتے ہیں، یا اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں، وہاں ’’عکس در عکس‘‘ کی مسلسل اور معیاری اشاعت اس حقیقت کی زندہ دلیل ہے کہ اعظم شاہد کا تعلق قلم سے وقتی، جذباتی یا سطحی نہیں، بلکہ جذباتی وابستگی اور فکری عہد کی بنیاد پر قائم ہے۔چودہ برس کی اس طولانی مدت میں کبھی لہجے میں سفاکیت نہیں آئی، کبھی اسلوب میں تھکن نہیں آئی، کبھی مقاصد میں تنزل نہیں آیا، کبھی معیار پر سمجھوتا نہیں ہوا۔ایسی استقامت بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔
اعظم شاہد کے کالم علم رکھتے ہیں، مگر دکھاوے کا علم نہیں، فکر رکھتے ہیں، مگر دکھاوے کی حکمت نہیں؛ احساس رکھتے ہیں، مگر مصنوعی جذبات نہیں۔ ان کی تحریروں میں زندگی کی حرارت ہے، دل کی دھڑکن ہے، روح کی نمی ہے۔ وہ اپنے قاری کو مخاطب کرتے ہیں،کبھی پیار سے، کبھی سوال سے، کبھی تنبیہ سے، کبھی درد سے۔ اسی لیے ’’عکس در عکس‘‘ کی رسید دل تک ہے، آنکھ تک نہیں۔ اور یہ سفر جو دلوں کے اجالے اور ذہنوں کے دریچوں میں اپنی روشنی چھوڑتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے، دراصل ایک ایسے فکری و ادبی وجدان کا نتیجہ ہے جسے لمحاتی جذبوں یا وقتی شہرت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چودہ برس کی مسلسل روشنی اپنے اندر وہ توانائی رکھتی ہے جو محض لفظوں کی صورت میں نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کے احساسات، ایک پوری نسل کے تجربات اور ایک پورے دور کی فکری چاپ کے طور پر محفوظ ہو چکی ہے۔ محمد اعظم شاہد کے لفظوں میں جو صیقل ہے، وہ صدیوں کی روایت سے جڑا ہوا وہی قدیم حسن ہے جس نے اردو نثر کو ہمیشہ اپنے دلکش آہنگ سے ممتاز رکھا۔ قاری جب ’’عکس در عکس‘‘ کی کوئی تحریر پڑھتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی خاموش لیکن گہری گفتگو میں شریک ہے۔ ان کے جملوں میں ایک تربیت موجود ہوتی ہے، ایک تہذیب سانس لیتی ہے، ایک اخلاقی لطافت چھپی ہوتی ہے، اور ایک انسانی اپنائیت دمکتی ہے۔ وہ صرف واقعات کو نہیں دہراتے؛ وہ ان واقعات کے پیچھے چھپی ہوئی انسانی کہانیوں کو اُجاگر کرتے ہیں، وہ کہانیاں جنہیں روزمرّہ کے ہنگامے میں نگاہیں نہیں دیکھ پاتیں، لیکن احساسات خاموشی سے محسوس کرتے رہتے ہیں۔ان کی تحریروں کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ وہ قاری کو کبھی اکتا ہونے نہیں دیتے۔ نہ بے جا طوالت، نہ غیر ضروری خطابت، نہ بناوٹ بلکہ ایک ایسا توازن جو پڑھنے والے کو تحریر کے بہاؤ کے ساتھ بہاتا چلا جاتا ہے۔ ان کے جملوں کی روانی ایک دریا کی موجوں کی طرح ہے۔کہیں نرم، کہیں طاقتور، کہیں پُرسکون اور کہیں نکتہ رس۔ اس کے باوجود کہ مضمون معاشرتی تضادات، اخلاقی زوال اور انسانی محرومیوں جیسے موضوعات پر مشتمل ہوتا ہے، ان کے بیان میں ایک خاص طرح کی روشنی موجود رہتی ہے، ایک امید کی لہر جو قاری کو مایوسی کے کنارے پر کھڑا نہیں رہنے دیتی۔
چودہ برسوں میں انسان اور سماج دونوں نے کئی کروٹیں بدلیں۔ نظریات تبدیل ہوئے، سوچنے کے زاویے بدلے، ترجیحات نئی ہوئیں، جذبات کی جہتیں بدل گئیں، اور ابلاغ کے ذرائع نے نئی دنیا آباد کی۔ یہ وہ دور تھا جس میں انسان پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے بدل رہا تھا۔ ایسے دور میں ایک کالم نگار کا سب سے بڑا امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ بدلتی دنیا کے شور میں حقیقت کی آواز پہچان سکے، اور اس آواز کو الفاظ کی صورت قاری تک پہنچا سکے۔ محمد اعظم شاہد نے یہ امتحان نہ صرف دیا بلکہ سرخرو بھی ہوئے۔ انہوں نے وقت کے دباؤ کے آگے خود کو نہ جھکنے دیا اور نہ تحریر کو سطحی بننے دیا۔ انہوں نے اس میعار کو ہمیشہ بلند رکھا جو ایک سنجیدہ صحافی اور حساس ادیب کا ہونا چاہیے۔ کالم نگاری میں مختلف رجحانات آتے رہے۔کبھی سنسنی خیزی نے میدان گرم کیا، کبھی سیاسی وابستگیوں نے قلم کو محدود کیا، کبھی جذباتیت نے تحریروں کو بے ربط کیا، مگر ’’عکس در عکس‘‘ اپنی پہلی سطر سے آج تک وقار اور معیار کے ساتھ قائم ہے۔ یہ پائیداری اس بات کی دلیل ہے کہ تحریر کا تعلق سچائی سے ہو، تو پھر زمانے کا کوئی طوفان اسے ہلا نہیں سکتا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے کالموں نے کئی بار سماج کی تکلیفوں کو آواز دی۔ کہیں غلطیوں کی نشاندہی کی، کہیں حقائق کو بے نقاب کیا، کہیں غفلت کی پردہ پوشی کو چیلنج کیا۔ لیکن ان کا انداز ہمیشہ مثبت رہا۔وہ کڑوی حقیقت بھی بیان کرتے ہیں تو اس میں تلخی نہیں ہوتی، وہ نرمی جو ان کے قلم کی پہچان ہے، ہر صفحے پر قائم رہتی ہے۔ وہ اختلاف کرتے ہیں تو تہذیب کے ساتھ، رہنمائی کرتے ہیں تو محبت کے ساتھ، اور تنقید کرتے ہیں تو عدل کے ساتھ۔ان کی تحریروں کی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ کسی ایک نسل کے لیے نہیں بلکہ ہر نسل کے لیے قابلِ فہم ہیں۔ بزرگ ان میں تجربے کا عطر محسوس کرتے ہیں، نوجوان ان میں فکر کا وقار دیکھتے ہیں اور خواتین ان میں زندگی کے جذباتی خطوط کی نزاکت کو پاتی ہیں۔ یہی جامعیت دراصل ایک ادیب کے بڑے ہونے کی علامت ہے، اور یہی خوبی ’’عکس در عکس‘‘ کو چودہ سال کے بعد بھی تازہ رکھتی ہے۔
تحریر کا کمال یہ ہے کہ وہ وقت کو قید کر سکتی ہے۔ اعظم شاہد نے جو کچھ لکھا، اس میں اُن لمحوں کی پوری کیفیات محفوظ ہیں جن کی طرف آج کا انسان بہت کم توجہ دے پاتا ہے۔ اُنہوں نے انسانی رشتوں پر لکھا تو ہر رشتہ لفظوں میں سانس لینے لگا؛ سماج پر لکھا تو سماج کی دھڑکن واضح سنائی دی، تہذیب پر لکھا تو قاری اپنے ورثے کی خوشبو محسوس کرنے لگا۔ یہ تحریریں صرف مطالعہ نہیں ہوتیں، یہ ذہن میں اتر کر سوچ کو تشکیل دیتی ہیں۔ چودہ برس کے اس سفر میں انہوں نے نہ صرف اردو صحافت کی خدمت کی بلکہ معاشرتی آگہی کو بھی ایک نیا معیار عطا کیا۔ انہوں نے دکھایا کہ صحافت صرف خبریں دینے کا نام نہیں، بلکہ معاشرے کی فکری تربیت اور اخلاقی تعمیر میں بھی اس کا کردار بنیادی ہے۔ انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ ادب اور صحافت دو الگ راستے نہیں، بلکہ ایک ہی سڑک کے دو مسافر ہیں، فرق صرف رفتار کا ہے، منزل دونوں کی ایک ہی ہے ‘ انسانیت کو بہتر بنانا۔’
محمد اعظم شاہد کی تحریروں کا امتیاز یہ بھی ہے کہ وہ محض مشاہدات کو بیان نہیں کرتے بلکہ ان کے پسِ منظر میں موجود فکری بنیادوں کو بھی سامنے لاتے ہیں۔ ان کا اسلوب قاری کو محض معلومات نہیں دیتا بلکہ سوچنے، پرکھنے اور حقیقت کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’عکس درعکس‘‘ کی ہر قسط ذہن کے دریچے وا کرتی ہے اور ایک معمولی سا پہلو بھی معنی کی کئی پرتیں کھول دیتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے قلم نے نئے رجحانات کو بھی قبول کیا، لیکن ان کی تحریروں کی بنیاد ہمیشہ مشاہدے کی گہرائی اور زبان کی شائستگی رہی۔ انہوں نے معاشرے کے وہ رنگ بھی بیان کیے جنہیں بہت سے قلم کار نظر انداز کر جاتے ہیں۔ کبھی انسانی کمزوریوں کو لطیف پیرائے میں سمجھایا، کبھی زندگی کی ناگزیریتوں کو نرم لہجے میں بیان کیا، اور کبھی حالات کی سنگینی کو ایسے توازن کے ساتھ پیش کیا کہ تحریر نہ تلخ لگتی ہے نہ جذباتی بلکہ حقیقت پسندانہ اور دل پر اثر کرنے والی۔ محمد اعظم شاہد کے اس طویل سفر میں ان کے قارئین کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی اس بات کی گواہ ہے کہ ان کی تحریروں نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے۔ ان کی ہر قسط گویا زندگی کے کسی نہ کسی پہلو کا آئینہ بن کر سامنے آئی، جس میں قاری اپنے تجربات اور احساسات کا عکس پا لیتا ہے۔ یہی ربط اور قربت ایک قلم کار کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔
’’عکس در عکس‘‘ کا سفر آج اس مقام پر کھڑا ہے جہاں یہ نہ صرف ایک اداریہ یا کالم ہے بلکہ ایک فکری روایت بن چکا ہے۔ یہ روایت اس اعتراف کی بھی حق دار ہے کہ اردو صحافت میں مسلسل چودہ برس تک معیار برقرار رکھنا، قارئین کو جوڑے رکھنا اور ہر مرتبہ کچھ نیا کہنا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ اسی قلم کا فیضان ہے جو سچائی کو ذمہ داری کے ساتھ اور احساس کو وقار کے ساتھ بیان کرتا رہا۔ آنے والے دنوں میں یہ توقع بجا ہے کہ محمد اعظم شاہد اپنے اس سفر کو نئی جہتوں، وسیع تر مضامین اور مزید فکرانگیز زاویوں کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ کیونکہ ان کے قلم میں نہ صرف تجربے کی روشنی ہے بلکہ مستقبل کی سمت دکھانے والی بصیرت بھی موجود ہے۔ یوں ’’عکس در عکس‘‘ صرف گزشتہ چودہ برسوں کا احاطہ نہیں کرتا، بلکہ آنے والے کئی برسوں کی پیش بندی بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اور قارئین کے دلوں و ذہنوں میں ایک اثر انگیز چھاپ چھوڑ دی۔ یہ سفر محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک رہنما، ایک معیار اور ایک تحریک بھی ہے، جو اردو صحافت کی ترقی اور انسانیت کے شعور کو نئی جہت فراہم کرتا رہے گا۔

Comments are closed.