مصنوعی ذہانت سے استفادہ: شرعی نقطہ نظر
ڈاکٹر قاضی محمدفیاض عالم قاسمی
ناگپاڑہ ممبئی
8080697348
اے آئی کیا ہے؟
مصنوعی ذہانت(AI) Artificial Intelligenceکمپیوٹر سائنس کا ایک شعبہ ہے، جس کا مقصد ایسی مشینیں اور سافٹ ویئر بنانا ہے جو انسانی ذہانت کی نقل کر سکیں۔ مصنوعی ذہانت کا باقاعدہ آغاز 1956 میں ڈارٹماؤتھ کانفرنس میں ہوا۔اس کانفرنس کا انعقاد جان میکارتھی، مارون منسکی، نیتھنئیل روچیسٹر، اور کلود شینن نے کیا تھا۔ جان میکارتھی کو عام طور پر "اے آئی کا موجد” کہا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں کئی ممالک نے حصہ لیا ہے، لیکن بنیادی تحقیق اور ترقی کا آغاز امریکہ میں ہوا، خاص طور پر اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) جیسے اداروں نے اہم رول اداکیا۔
اے آئی کے فائدے:
اے آئی کا استعمال مختلف صنعتوں میں روٹین کے کاموں کو خودکار کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جیسے کہ مینوفیکچرنگ، ڈیٹا انٹری، اور کسٹمر سپورٹ،امراض کی تشخیص، مریضوں کی دیکھ بھال، اور نئی ادویات کی تیاری میں اے آئی کا استعمال بہت مؤثر ثابت ہوا ہے۔اے آئی کی مدد سے مالیاتی تجزیے، مارکیٹ کی پیشن گوئی، اور فراڈ کا پتہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔تعلیمی مواد کو حسب منشاء بنانے اور طلبا کی کارکردگی کوجانچنے میں مددگار ہے۔ مواد کا ترجمہ، تلخیص وغیرہ کرنے میں بھی نہایت ہی مؤثر ثابت ہواہے۔خودکار گاڑیاں اور ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز میں اے آئی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔حتیٰ کہ انسانی شکل میں بناکر ا ے آئی سے انسانی خدمات بھی لی جارہی ہیں۔مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے حالیہ برسوں میں بے پناہ ترقی کی ہے اور کئی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی ہے۔ آئندہ چند برسوں میں اے آئی کے فوائد ا ورنظر آئیں گے، نیزاس کا چلن بھی عام ہوجائے گا۔
اے آئی کے نقصانات:
تاہم اس کے نقصانات بھی بہت سارے ہیں۔اے آئی کی آٹومیشن کی وجہ سے کئی ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں، جس سے بے روزگاری کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا کی نگرانی اور تجزیہ کی وجہ سے پرائیویسی کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ اے آئی کا غلط استعمال جیسے کہ ڈرون حملے، سائبر حملے، اور دیگر خطرناک مقاصد کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر اے آئی سسٹمز کو غلط یا جانبدارانہ ڈیٹا پر تربیت دی جائے تو یہ غلط نتائج یا فیصلے کر سکتے ہیں۔ اگراس عجیب مشین کو مناسب کنٹرولنگ کے بغیر چھوڑ دیا جائے تو یہ خود انسانوں کےوجود کے لئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔بہت ممکن ہے کہ نسلِ انسانی کے لئے یہ ایک بڑاچیلیج بن کر ابھرے۔اس لئے ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک اے آئی کےتعلق سے ایسی پالیسیاں اور قوانین بنا رہے ہیں جو اے آئی کے مثبت استعمال کو یقینی بنائیں اور اس کے ممکنہ نقصانات کو کم کریں۔چنانچہ ہندوسان میں Digital India Bill(DIB)زیر غور ہے۔
اے آئی ہی کا ایک ایپ چیٹ پی ٹی (Chat GPT)ہے، جو آج کل مقبولِ عام وخاص ہے۔ چیٹ جی پی ٹی ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ (AI-Chatbot) ہے، جسے Open AI نامی ادارے نے تیار کیا ہے۔ChatGPT کو پہلی مرتبہ 30 نومبر 2022ء کو ریلیز کیا گیا۔یہ ایک “Generative Pre-trained Transformer” (GPT) ماڈل پر مبنی ہے، یعنی اسے انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع سے بڑی مقدار میں ٹیکسٹ پر تربیت دی گئی، تاکہ یہ قدرتی زبان میں جواب دے سکے۔
اس کے ذریعہ آپ علمی، فنی، تاريخی، دینی، تعلیمی وغیرہ سوالات پوچھ سکتے ہیں، اور فوری جواب حاصل کرسکتے ہیں۔تحریر،تقریر، مختلف زبانوں میں ترجمہ، مضمون لکھنا، خاکے (outline) بنانا، نوٹس وغیرہ تیار کرناآسان ہوگیاہے۔ طلبہ، اسکالرز اور محققین خود مختصر وقت میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں، تحقیق کے لیے ابتدائی خاکہ تیار کر سکتے ہیں، اور تعلیمی مواد مرتب کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ روزمرہ کاموں میں سہولت پیداہوگئی ہے جیسے ای میل لکھنا، ڈیٹا تجزیہ کرنا، کوڈنگ معاونت، کسٹمر سپورٹ، بزنس رپورٹس، قانون و عدالت کی تیاری،خاکہ، نوٹس، مسودات وغیرہ سب ممکن ہے۔ تخلیقی کام جیسے شاعری، کہانی، بلاگ، اشتہار، اور دیگر تخلیقی تحریری کام کم وقت اور محنت میں ہونا ممکن ہوا۔خلاصہ یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے ذریعہ انسانی محنت، وقت اور توانائی کی بچت ہوتی ہے — خاص طور پر جب کام تکراری، معمولی یا بڑے ڈیٹا پر مبنی ہو۔بنیادی طور پر، ChatGPT نے علم، تحقیق، تخلیق، تعلیم و ترجمہ، اور روزمرہ کاموں کو تیز، آسان اور وسیع بنایا ہے — خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو خود وقت یا وسائل کم رکھتے ہوں۔
تاہم ChatGPT کے ساتھ کچھ قابلِ غور خدشات اور خطرات بھی سامنے آئے ہیں، مثلاًغلطی یا غیر مستند معلومات فراہم کرنا،چونکہ یہ ماڈل انٹرنیٹ پر دستیاب مواد سےجواب دیتاہے۔جہاں ہرطرح کی رطب ویابس اور غلط سلط مواد جمع ہے۔ اس لئےبسااوقات Chat GPT کا جواب غلط ہوتاہے۔اس لئے علمی، قانونی یا حساس معاملات اس پر مکمل طورپر اعتماد نہیں کیاجاسکتاہے۔
روزگار اورروزمرہ کے مشاغل پر بھی برااثر پڑاہے۔بعض آسان کام جو پہلے انسان کرتے تھے،لیکن اب اے آئی کے ذریعہ کیا جارہاہے۔اس سے روزگار کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ChatGPT جذبات، احساسات،انسانی اورروحانی بصیرت،اخلاقی حُسن اوربیماریوں کو نیزنفیسات کی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے انسانی سوچ، تجربہ اورفکر وتدبر میں کافی کمی آجائے گی،غوروفکر کرنے کی صلاحیت کم ہوجائے گی، یا دداشت متاثر ہوجائے گی۔دھیرے دھیرے انسان مکمل طوپر اسی پر منحصرہوجائے گا۔
شرعی نقطہ نظر:
شرعی نقطہ نطر سےاے آئی ایک آلہ ہے، اس میں فی نفسہ کوئی برائی نہیں ہے، اس کا استعمال اچھے کاموں کےلئے بھی ہوسکتاہے اور برے کاموں کے لئے بھی۔ اس لئے اگر اچھے کاموں کے لئے استعمال کیاجائے اور اس سے دین ودنیا کافائدہ لیا جائے تو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہاں اگر اس کا استعمال غلط کاموں اورغیرشرعی کاموں کے لئے ہو تو پھر جائز نہیں ہوگا۔ کیوں کہ مباحات پران کے مقاصد کے لحاظ سے حکم لگتے ہیں۔الْأُمُورُ بِمَقَاصِدِهَا(الاشباہ والنظائر:٢٣)۔مثلاًاے آئی کے ذریعہ طویل مقالے کا خلاصہ کروانا،ترجمہ کروانا،امراض اورمجرموں کی تشخیص کرانا، گمشدہ افرادیاسامان کا تلاش کرانا وغیرہ جائز ہوگا۔ جب کہ اسی اے آئی کے ذریعہ کسی کے رازوں کو جاننا، رازوں کی تشہیر کرنا، اسی کے ذریعہ کسی کامحفوظ ڈیٹاچوری کرنا،مال ودولت کو چوری کرناوغیرہ ناجائز اور حرام ہوگا۔
قانونی طورپر بھی اے آئی کے استعمال کے تعلق سے ایسے اصول وضوابط بنائے جانے چاہئیں ،جن سے ملک وملت کا بھلا ، انسانوں کی فلاح وبہبودہو، اخلاق وکرادارمیں پاکیزگی آئے،امن وامان کاقیام ہو،ایک صالح معاشرہ کی تشکیل ہوسکے۔اے آئی کا ایسا استعمال جس سے ملک وملت اورسماج کے لئے نقصان ہو،اخلاق وکردارختم ہوجائیں، اس پر پابندی عائدی کی جانی چاہئے۔چنانچہ حال ہی میں سپریم کورٹ نےکسی کے فوٹو کو اس کی اجازت کے بغیرایڈٹ کرنےکو جرم قراردیاہے۔
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نےاپنے تینتیسویں فقہی سیمنار میں اے آئی کے تعلق سے درج ذیل اصول وضوابط مرتب کئے:
۱۔ مصنوعی ذہانت کا استعمال فی نفسہٖ مباح ہے، اگر اسے جائز امور میں استعمال کیاجائے تو کوئی حرج نہیں، البتہ شرعی اور قانونی حدودوقیود کاخیال رکھناضروری ہے۔
۲۔مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنے میں درج ذیل شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے:
(الف) کسی غلط،فحش ،اور لایعنی چیز کی اشاعت کے لئے اس کا استعمال نہ ہو۔(ب)تلبیس وتزویرسے مکمل اجتناب ہو، اور انصاف وسماجی ماحولیاتی فوائد اور انسانی بہبود وترقی میں معاون ہو۔(ج)ملحدانہ موادداخل(Feed)نہ کیاجائے۔(د)قتل وقتال اور فساد کا باعث نہ ہو۔(ھ)دیانتداری اور رازداری کےخلاف نہ ہو۔
Qazi Shariat Daul-Qaza All India Muslim Personal Law Board
K.D Basement Masjid, Nagpada Junction, Mumbai.8
8080697348
Comments are closed.