ہمسایوں کے حقوق

 

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ،پٹنہ

آپسی تعلق انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے، یہ تعلق کبھی رسمی ہوتاہے، کبھی نسبی اور کبھی فرائض وحقوق کی ڈور سے بندھا ہوا، یہ تعلق اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسے اسی سماج میں رہنا ہے، وہ دوسرے مذاہب کے پیشوا کی طرح رہبانیت اختیار نہیں کرسکتا، بال بچوں سے دور نہیں رہ سکتا، اس لیے سارے تعلق کو برتنا پڑتا ہے، اس تعلق کی نوعیت الا قرب فالاقرب کے نقطہئ نظر سے بدلتی رہتی ہے، ہر ایک کے لیے شریعت کی الگ الگ ہدایات ہیں، ایک تعلق اکرام انسانیت کا ہے، یہ تو ہر کسی کے لیے عام ہے، اللہ نے بنی آدم کو مکرم بنایا، اسے اچھی شکل وصورت عطا کی، یہ اکرام اور احترام آدمیت عمومی ہے، ایک تعلق مسلمانوں کا مسلمانوں سے ہے، اسے قرآن وحدیث میں بھائی سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ایمان والا ایک دوسرے کا بھائی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار ومہاجرین کے درمیان جو مواخات قائم فرمائی یہ اسی بھائی چارگی کا عملی مظہر تھا، ایک تعلق عزیز واقربا اور رشتہ داروں سے ہوتا ہے، اس کے لیے صلہ رحمی کا حکم دیا گیا، پھر ایک تعلق پڑوسی کی قربت ہے، اس میں قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق دور کے پڑوسی اور ہم نشیں بھی شامل ہیں، جن کے ساتھ ہمیں حسن سلوک کرنا ہے، اس سلسلے میں بخاری، مسلم، ترمذی اور احادیث کی دیگر کتابوں میں کثرت سے روایات موجود ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا، جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ رہے، یہ بھی فرمایا گیا کہ اللہ اور آخرت پر یقین رکھنے والے کو پڑوسی پر مہربان ہونا چاہئے اور اسے پڑوسی کی ایذا رسائی سے بچنا چاہیے، اس حد تک تاکید کی گئی کہ وہ شخص ایمان والا نہیں ہے جو خود شکم سیر ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے، احادیث میں ہم سایوں کے حقوق کے بارے میں اس قدر تاکید آئی ہے کہ گمان یہ ہونے لگا کہ شاید ترکہ میں بھی ان کو شریک نہ بنا دیا جائے، حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔

اس معاملہ میں ہمارے درمیان بڑی کمی اور کوتاہی پائی جاتی ہے، عملاً ہمارا پڑوسی ہم سے پریشان رہتا ہے، یاہم اپنے پڑوسی سے پریشان رہتے ہیں، جب کہ ایمانی، اسلامی اور اخلاقی تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنے پڑوسیوں کی بھلائی کی فکر کریں، ان کی مدد، حفاظت اور بھلائی کے لیے فکرمند ہوں، ان کو تکلیف نہ پہونچائیں اور اگر ہمارا پڑوسی پہونچا رہا ہے تو اس پر صبر کریں، تحمل، برداشت کا مظاہرہ کریں، تاکہ پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات خراب نہ ہوں، اس سے ایک دوسرے کے تئیں محبت کا جذبہ اجتماعی طورپر پیدا ہوگا اور ہر پڑوسی دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون، اجتماعی راحت وسہولت، جھگڑوں کو خوش اسلوبی کے ساتھ نمٹانے کے لیے فکرمند ہوگا اور مسائل آسانی سے حل ہوں گے۔

پڑوسی مختلف قسم کے ہوتے ہیں، وہ مسلمان بھی ہوتے ہیں اور غیر مسلم بھی، پڑوسی کا یہ تصور انتہائی محدود ہے کہ جس کا مکان ہمارے مکان سے ملا ہو، یاوہ ہمارے مکان سے قریب رہتا ہو، یہ تو مستقل پڑوسی ہیں، لیکن ایک پڑوسی وہ بھی تو ہے جو ہمارے ساتھ بس اسٹینڈ، ریلوے اسٹیشن پر کھڑا ہے، ٹرین اور بسوں میں ہماری سیٹ اور برتھ اس سے قریب یامتصل ہے، وہ مریض بھی ہمارا پڑوسی ہے جو بدقسمتی سے ہمارے ساتھ ہوسپیٹل میں مریض کی حیثیت سے لیٹا ہوا ہے، پڑوسی وہ بھی ہے جو ہمارے پیشہ کا شریک ہے اور اس کی دوکان ہمارے دوکان سے متصل یاقریب ہے، وہ بھائی بھی مسلم ہویاغیرمسلم ہمارا پڑوسی ہے، جو ہمارے ساتھ کسی دفتر کارخانے، دوکان میں کام کرتا ہے، وھاٹسپ اور سوشل میڈیا گروپ میں جو شریک ہے، وہ بھی یک گونہ آپ کا پڑوسی ہے، پڑوسی کا یہ تصور جدید ہے؛ لیکن موجود ہے۔

اسی طرح ہم جن راستوں پر چلتے ہیں، جو راستہ خاص کر ہمارے گھر کی طرف جاتا ہے، اس پر چلنے والے بھی ایک قسم کے ہمارے پڑوسی ہیں، اس لیے راستے پر تکلیف دہ چیزوں کا ڈالنا، راستہ بند کرنا یاراستوں پر ایسی رکاوٹیں کھڑی کرنا، گڑھے کھود دینا یااپنے دروازے کو اتنا اونچا کردینا کہ آپ کے گھر کے آگے جس کا مکان ہے وہ گاڑی آگے نہ لے جاسکے، پڑوسیوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، حدیث میں تکلیف دہ چیزوں کو راستے سے ہٹانے کو صدقہ قرار دیا گیا ہے، اس کا تقاضہ ہے کہ راستوں کو صاف ستھرا رکھا جائے، پیشاب، پاخانہ سے راستے پر گریز کیا جائے، بعض مسلم علاقوں میں چلے جایئے تو آپ پاک صاف گذر نہیں سکتے، آپ کی گاڑی بھی بغیر ملوث ہوئے گذر نہیں سکتی، خصوصاً صبح کے وقت میں یہ منظر اور صورت حال انتہائی پریشان کن ہوا کرتا ہے اور اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ ہم نبوی تعلیمات کو کس قدر فراموش کرچکے ہیں، ہمیں اپنے گھر کی صفائی کا تو خیال رہتا ہے، لیکن گھر کی صفائی کرکے کوڑا کرکٹ سڑکوں پر ڈال دیتے ہیں، گھر کے نالے میں گندہ پانی جمع نہ ہو اس کے لیے فکرمندی رہتی ہے، لیکن یہی گندہ پانی سڑک پر پھیل رہا ہے، پورے محلہ میں مچھروں کی بہتات اس گندے پانی کی وجہ سے ہورہی ہے، لیکن ہماری توجہ اس طرف نہیں جاتی، کان پر جوں تک نہیں رینگتیں، ہم اپنے مکان کی تعمیر کرواتے ہیں اور زمین کے ایک ایک انچ کا استعمال کرڈالتے ہیں، بلکہ چھجی کبھی سڑک پر اور کبھی پڑوسی کی طرف نکال دیتے ہیں، دیواریں اور کھڑکیاں اس طرح لگواتے ہیں کہ پڑوسی کے مکان کی ہوا، روشنی متاثر ہو اور کھڑکیوں سے ان کے گھر کے حالات کا معائنہ کر سکیں، یہ اچھے پڑوسی اور ہم سایہ کی نشانی نہیں ہے، اپنا مکان خوبصورت ضروربنایئے، لیکن اس کا دھیان رکھیے کہ پڑوسی کی ایذا رسانی کا وہ سبب نہ بنے۔

گھر سے باہر تک، ادارے، تنظیموں، جماعتیں اور جمعیتوں میں، چغل خوری، اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی غلطیاں اچھالنے، شکایتیں کرنے میں اپنا وقت صرف نہ کریں، بلکہ ہر ایک کی صلاحیت اور اس کی کارکردگی کا اعتراف کریں، غلطیاں ہوں تو بھی منافرت کا ماحول نہ پیدا ہونے دیں، دوسروں کی صلاحیت کی بڑی لکیروں کو چھوٹا بنا کر خود کو بڑا نہ بنیں، اس سے منافرت پروان چڑھتی ہے، جو کام دوسروں نے کیا ہے اس کی واہ واہی خود لینے کی کوشش نہ کریں، اس سے قرآن کریم میں منع کیا گیا ہے: ”وَیُحِبُّوْنَ اَنْ یُحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا“ کا مفہوم یہی ہے ایسے کام کے بدلے وقتی شاباشی تو مل سکتی ہے، لیکن اس کے بدلے آخرت کا عذاب مقدر ہے اور وہ بڑی دردناک چیز ہے۔

جو لوگ آپ کے ہم نشیں ہیں، ان کی راحت اور آرام کے خیال سے مجلس میں شور نہ مچائیں، اگر کوئی سو رہا ہے تو اس کی رعایت کریں، بتی جلانے، بجھانے، موبائل پر بات کرنے تک میں ان کی رعایت کریں، دھیرے بولیں اور کان میں ایرفون لگائیں، تاکہ دوسروں کی نیند آپ کی گفتگو سے اچاٹ نہ ہوجائے، ایرفون کا دوسرا فائدہ یہ بھی ہے کہ دوسروں تک آپ کی بات نہیں پہونچے گی، چھینک اور جمائی آنے پر منہ ڈھک لیا کریں، ماسک کا استعمال جراثیم کو آپ کے اندر نہیں جانے دیتا، اس کا استعمال کریں، اس سے ہر دو کی حفاظت ہوگی، جو لوگ آپ کے گروپ سے جڑے ہوتے ہیں، ان کی ہتک عزتی سے گریز کریں، گالی اور سوقیانہ جملے دوسروں کو تو تکلیف پہونچاتے ہی ہیں، آپ کی بھی ذہنی صلاحیت اور تربیت کا پتہ چلتا ہے، اس لیے بھڑکانے والے بدزبانی پر مشتمل، غیر مصدقہ، فرضی اور جعلی پوسٹ سے آخری حد تک اجتناب اور گریز کریں، اس سے کسی کا بھلا نہیں ہوتا، آپ کا وقت ضائع ہوتا ہے اور بسا اوقات یہ حقیق پڑوسی اور ہم سایوں کے حقوق سے غافل کرنے کا سبب بن جاتا ہے، اس سلسلے میں گھر کی خواتین کو بھی اپنے اچھے اخلاق وکردار اور دوسری خواتین کے ساتھ انسیت، محبت، مودت اور الفت کا معاملہ کرنا پڑوسیوں کے تعلقات کو خوش گوار بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، شرعی حدود وقیود کی رعایت کے ساتھ پڑوسیوں سے حسن سلوک کا معاملہ کرنا شریعت میں مطلوب ہے، اس معاملہ میں پڑوسیوں کو کھانے، پینے کی چیزوں کو بھجواتے رہنا، ان کی خوشی، دکھ، تکلیف میں ساتھ دینا اچھے تعلقات کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے، البتہ مجلسی گفتگو میں ایک دوسرے کے راز کی حفاظت، غیبت اور چغلی سے اجتناب شرعی طورپر مطلوب ہے، اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے، ورنہ سماج میں بڑے جھگڑوں کے اسباب ووجوہ میں ایک عورتوں کی زبان درازی بھی ہے، بچوں کی تربیت بھی ایسی کی جائے کہ وہ بچپن سے ہی پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت کرنا سیکھ جائیں، یہ آپ کے لیے بھی ذہنی سکون کا باعث ہوگا۔

پڑوسیوں سے اتنی قربت نہ بڑھائیں کہ ان کے گھر،آنگن میں جھانکنے لگیں اور نہ اتنی دوری ہو کہ ان کی ضرورت کا آپ کو پتہ ہی نہ چلے، ان کے گھر فاقہ کشی ہو اور آپ کو اس کی خبر نہ ہو، اگر پڑوسی غیر مسلم ہو تو اس پر خصوصی توجہ دیں، شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے ان کے ساتھ حسن سلوک کریں اور رواداری برتیں،رواداری میں مذہب کی سرحدوں کو بھول نہ جائیں، قومی یک جہتی اور گنگا جمنی تہذیب کے نام پر اپنی مذہبی تعلیمات اور اسلامی ثقافت کو نہ بھولیں۔

ہر طرح اور ہر سطح کے پڑوسی کا خیال رکھنے سے محبت ویگانگت کے دروازے کھلیں گے، نفرت میں کمی آئے گی، یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مسلمان داعی ہوا کرتا ہے، مدعو کے دروازے محبت سے ہی کھل سکتے ہیں، منافرت اور مناظروں سے نہیں، خود داعی کے دل میں مدعو قوم کے لیے ایسی تڑپ ہونی چاہیے کہ سامنے والے کے ایمان سے دور ہونے پر لگے کہ اس کا کلیجہ پھٹ جائے گا کیو نکہ وہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرپارہا ہے، اس کے لیے داعی کو کردار، اخلاق اور دینی اعتبار سے مضبوط ہونا بھی ضروری ہے۔

ہمارے یہاں دعوت کا کام بھی ٹائم باؤنڈ ہوگیا ہے، ہم اچھے پڑوسی بن کر ہمہ وقت داعی کا کردار نبھا سکتے ہیں، آپ کا ایک چھوٹا عمل پڑوسیوں کے ساتھ آپ کی دعوت کو اس کے ذہن ودماغ میں راسخ کرسکتا ہے، جب مدارس اور کتابوں کا دور نہیں تھا تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پچیس سالوں میں اسلام چوتھائی دنیا تک پہونچ چکا تھا، کردار کی یہ طاقت خاندان اور سماج پر گہرے نقوش چھوڑتا ہے، ہمیں اس کے لیے فکر مند ہونا چاہیے۔

گذشتہ دنوں حضرت امیر شریعت مفکر ملت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتم کی صدارت میں جماعت اسلامی کے امیر حلقہ بہار مولانا رضوان احمد اصلاحی نے مختلف ملی تنظیموں کی میٹنگ میں 21/تا 30/نومبر کو حقوق ہم سایہ مہم منانے کے فیصلے اور اس کے خاکوں سے شرکاء کو متعارف کرایا تھا، ”تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی“ کے تحت ہمیں اس مہم کا ساتھ دینا چاہیے، جمعہ کے خطابات میں ائمہ حضرات، مدارس اور اسکولوں میں اساتذہ مختلف عنوانات پر پروگرام کا انعقاد کرکے عوامی بیداری پیدا کر سکتے ہیں، یہ وقت کی آواز بھی ہے اور ہمارا دینی فریضہ بھی۔

Comments are closed.