جامعہ ہمدرد کا دو روزہ سیمنار بعنوان ہندوستانی مسلمانوں كو در پیش تعلیمی اور معاشی چیلنجز اور ان کا حل اختتام پذیر
اسلام میں کسب معاش کی اہمیت نماز روزہ فرائض کی طرح مسلمانوں کی معاشی خوشحالی کی طرف رہنمائی کرنا بھی اہم دینی فریضہ ہے، ڈاکٹر عبدالملک رسولپوری
نئی دہلی( محمد صابر قاسمی )
جامعہ ہمدرد كے كنویشن سینٹر میں اسلامك فقہ اكیڈمی اور سینٹر فار ریسرچ آن مدرسہ ایجوكیشن،و شعبہ اسلامك اسٹڈیز، جامعہ ہمدرد دہلی كے اشتراك سے دورروزہ قومی سیمنار كا انعقاد کیا گیا جس كا عنوان تھا ہندوستان میں مسلمانوں كو در پیش تعلیمی اور معاشی چیلنجز اور ان كا حل،سیمنار میں شعبہ عربی ذاکر حسین دہلی کالج کے پروفیسر ڈاکٹر عبد الملک رسولپوری نے اپنا مقالہ پیش کیا مقالہ کا عنوان تھا، اسلام میں كسب معاش كا تصور اور ہندوستانی مسلمانوں كے لیے چند اقتصادی منصوبے،
اس موقع پر مقالہ نگار ڈاکٹر عبدالملک رسولپوری نے مقالہ پیش کرتے ہوئے اسلام میں کسب معاش کا تصور اور ہندوستانی مسلمانوں کے لیے چند اقتصادی منصوبے اور کسب معاش کی اہمیت کو اپنے مقالہ میں واضح کیا، موصوف نے اپنے مقالہ کے ذریعہ اسلامی نکتہ نظر سے کسب معاش کے عنوان کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ، جس طرح نماز روزہ اور معاشرتی اخلاقیات دین کا اہم ترین حصہ اور فریضہ ہیں، اسی طرح مسلمانوں کی معاشی فلاح و بہبود، یعنی انھیں افلاس و تنگ دستی سے نکال کر معاشی خوش حالی کی طرف لانا اور رہنمائی کرنا بھی دینی فرائض میں شمار ہوتا ہے، قرآن وحدیث میں اس کی واضح ہدایات درج ہیں۔
قرآن پاک نے نفس مال کو شئی مبغوض قرار نہیں دیا ہے ؛ بلکہ مال کو تو خیر اور فضل جیسے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ قرآن پاک نے متعدد جگہوں پر فکر معاش کو انسانی زندگی کے لیے ناگزیر بتایا ہے۔اسلامی مفکرین نے بھی اسلام کو محض ذکر شغل اور تعمیر آخرت میں محدود کرنے کو دین کا غلط تصور قرار دیا ہے۔چنانچہ سورہ جمعہ میں فرمایا گیا: اور بے وقوفوں کو مال مت دو جسے خدا نے تمہارے لیے قیام اور بقا کا ذریعہ بنایا ہے یہاں بقائے حیات کا ضامن اسی مال و متاع کو قرار دیا گیا ہے۔ اسلام تو لَا تنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا دنیا کے حصے کو فراموش نہ کرو، کی تعلیم دیتا ہے ، اسلام دنیوی نعمتوں کے حصول اور کسب معاش کے لیے ہر ممکن جد و جہد کو محبوب اور مطلوب سمجھتا ہے، بس اس نے اس جدوجہد کی کچھ اخلاقیاتی حدود بتائی ہیں تا کہ دل میں مال و متاع کی محبت ایسی نہ بیٹھے کہ دل ذکر الہی ہی سے غافل ہوجائے یا وہ معاشرے میں فساد کا باعث بن جائے۔ قرآن پاک میں مذکور ہے:اے ایمان والو تمھارے مال اور تمھاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں ۔اسلام تو یہ کہتا ہے کہ تجارت کرو، لیکن تجارت کو محض جلب منفعت کا ذریعہ مت بناؤ بلکہ انسانی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ اور باعث بننے کی کوشش کرو،
Comments are closed.