مولانا ارشد مدنی اور اسد اویسی پر تنقید کیوں؟۔۔
سچ تو مگر کہنے دو!
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
9395381226
مولانا ارشد مدنی اور بیرسٹر اسد الدین اویسی کی تقاریر ان دنوں سوشل میڈیا اور الکٹرانک میڈیا پر بحث اور تنقید کا موضوع ہے۔ مولانا ارشد مدنی ہندوستانی مسلمانوں کے قابل احترام ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ حالیہ عرصہ کے دوران برتے جانے والے امتیازات کے خلاف آواز اٹھائی اور اس پر ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ مولانا ارشد مدنی نے دور حاضر کو حالات کے پس منظر میں کہا کہ مسلمان امریکہ اور لندن میں میئر بن سکتا ہے اور ہندوستان میں کوئی مسلمان یونیورسٹی کا وائس چانسلر بن جائے تو اسے جیل جانا پڑتا ہے۔ وہ اعظم خان کا حوالہ دے رہے تھے ان کی قائم کردہ مولانا محمد جوہر یونیورسٹی کے ساتھ جو کچھ کیا گیا وہ ہندوستانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ ہندوستان میں مسلمان آج جن حالات سے گزر رہا ہے اس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔
سیول سرویسس میں منتخب مسلم امیدواروں کی تعداد میں کچھ اضافہ ہو جاتا ہے تو اسے سیول سروس جہاد کا نام دیا گیا۔ اب جمو ں کے ایکمیڈیکل کالج میں زیادہ تعداد میں مسلم طلباء کو داخلہ ملا تو اس کے خلاف ہندو تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں اور داخلے منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وارانسی کی یونیورسٹی میں سنسکرت کے شعبہ میں مسلم لکچرر کا تقرر ہوتا ہے اس کے خلاف بھی احتجاج ہوتا ہے اور اس پر حملے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ بیشتر یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز کے تقررات کے لیے مبینہ طور پر آر ایس ایس سے وابستہ ایک عہدے دار کا آشرواد ضروری ہے۔اقلیتوں سے متعلق یونیورسٹیز میں تقررات کے لیے سمجھا جاتا ہے کہ مسلم راشٹریہ منچ سے وابستگی ضروری ہے۔ مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ ان سے لین دین سے روکا جا رہا ہے۔ انہیں بیشتر شہروں میں نہ تو مکان نہ تو جائیداد فروخت کی جاتی ہے اور نہ ہی کرایہ پر دی جاتی ہے۔ حتی کہ مسلم ڈرائیور اور رائڈرس جو مختلف کیاب کمپنیوں سے وابستہ ہیں، زومیٹو، سویگی جیسے اداروں کے ڈلیوری بوائزکا تک بائکاٹ کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں مولانا ارشد مدنی نے یہ بات کہی اس پر تنقید، مخالفت ہو رہی ہے جو سچ بات کہتے ہیں انہیں آئے دن ایسے مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ تنقید اور مخالفت کرنے والوں میں ہمارے قوم کے نام نہاد دانشور بھی شامل ہیں۔ ٹیلی نیوز چینلز پر بعض نا معقول عناصر نے یہ یاد دلانے کی کوشش کی ہے کہ صدر جمہوریہ ہند کے عہدے پر تین مسلمان یعنی ڈاکٹر زاکر حسین، فخر الدین علی احمداور میزائل مین بھارت رتن ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام فائز رہے۔ ڈاکٹر زاکر حسین اور فخر الدین علی احمد اس دور میں اس باوقار عہدہئ جلیلہ پر فائز رہے جب ہندوستان مکمل طور پر فرقہ پرستی کی لپیٹ نہیں آیا تھا۔ ان دونوں پیش رو صدور جمہوریہ انتہائی شریف اور بے ضر قسم کے تھے۔ فخر الدین علی احمد کے ذریعے اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کروائی تھی۔ ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام بی جے پی کے دور حکومت میں صدر جمہوریہ بنے اور ان کا نام چندرا بابو نائڈو نے تجویز کیا تھا۔ کلام صاحب کم از کم حرکیاتی صدر رہے۔ گجرات فسادات کے متاثرین کے زخموں پر مرہم لگانے کے لیے وہ اٹل بہاری واجپائی کے مشورے کے باوجود گجرات کا دورہ کیے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک ذہنی طور پر معذور قسم کے سادھو کے بھیس میں دہشت گرد نے ڈاکٹر کلام کو بھی آتنک وادی قرار دیا۔ اس نے یہ الفاظ با وردی پولیس والوں کی موجود گی میں کہے۔ جہاں تک اعلی عہدوں پر مسلمانوں کے تقررات کا تعلق ہے بے ضمیر قسم کے عناصر اعلی عہدوں پر فائز کیے جاتے ہیں، کوئی سپریم کورٹ کا جج بن جاتا ہے تو مسلمانوں ہی کے خلاف فیصلہ دیتا ہے اور گورنر بن جاتا ہے۔ وائس چانسلر کے عہدوں پر فائز کیے جاتے ہیں تو آر ایس ایس یا ہندوتوا کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے۔ کوئی کسی اور بڑے اور عہدے پر فائز ہوتا ہے تو انگریزوں کی غلامی کرنے والے مسلم دشمنوں کو قومی ہیرو قرار دیتے ہوئے کتابیں لکھ دیتا ہے اور اپنی میعاد کی توسیع کروا لیتا ہے۔ کوئی مسلمان سیاسی افق پر ابھرتا ہے تو اسے غدار وطن قرار دے کر جیل پہنچا دیا جاتا ہے اور چار ج شیٹ کے بغیر برسوں اس وقت تک سڑایا جاتا ہے جب تک کہ اس کی جوانی بڑھاپے میں بدل نہ جائے۔جو قتل عام کرے، کھلے عام دہشت گردی کرے اس کے خلاف مقدمات واپس لے لیے جاتے ہیں پارٹی میں شامل کیا جاتا ہے اسمبلی اور پارلیمان میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ اعظم خان کو دو پین کارڈ رکھنے کے الزام کے تحت سات سال کے لیے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور صاحب اقتدار کی منظور نظر کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جس کے پاس اعظم خان کی طرح دو پین کارڈ ہونے کا سوشل میڈیا پر ثبوت پیش کیا گیا ہے اور یہ منظور نظر ایک بار پھر ٹی وی سیریلس کی شوٹنگ میں مشغول ہو جاتی ہے۔ ارشد مدنی ہو یا کوئی اور مسلم رہنما یہ جب قوم و ملت کے لیے تڑپ کر حق گوئی کرتے ہیں تو یہی قوم ان پر تنقید کرتی ہے۔ جب کہ مسلکی اور نظریاتی اختلافات کے باوجود ہمیں اپنے ہر ایک سیاسی اور مذہبی رہنما کا ساتھ دینا چاہیے۔
یہاں تک اسد اویسی کا تعلق ہے حیدرآباد میں ایک جلسہ عام میں کی گئی ان کی تقریر کے حوالے سے سوشل میڈیا پرلے دے ہو رہی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدرسوں میں بم سازی کی بات کہی ہے اور اس میں مدارس کی ساکھ متاثر ہو ئی اور ہندوتوا طاقتوں کو تقویت م لی۔ اسد اویسی نے حیدرآباد کے جلسہ عام میں جو تقریر کی اسے توڑ موڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دہلی بم دھماکوں کی مذمت کی اور ہر مسلمان بھی مذمت کر ے گا کیونکہ بے قصور انسانوں کا قتل کرنے والا گناہ گار اور قابل مذمت ہے۔ بیر سٹر اویسی نے یہ ضرور کہا کہ یونیورسٹیز کتنے مشکلات اور مسائل کے بعد قائم ہوتی ہے اور کیا بم بنانے کے لئے یہی ایک جگہ ملی تھی۔جو چیز غلط ہے اسے غلط کہنا چاہئے۔ کتنے ڈاکٹرس چند تعلیم یافتہ مگر گمراہ افراد کی خطاؤں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، کتنے خاندان تباہ و برباد ہو گئے۔ڈاکٹرس کی مقدس پیشے کو پامال کیا گیالوگ چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان ان کے لیے ڈاکٹرز فرشتے سے کم نہیں ہوتا، جب ڈاکٹر ہی آدم خور بن جائے تو ان پر کون اعتماد کرے گا۔ ماں باپ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے کیا کیا قربانیاں نہیں دیتے۔ ان قربانیوں کا صلہ ایسی اولاد اپنے ماں باپ کو سماج میں ذلت اور اکثر وبیشتر معاملات میں جیلوں کی اذیت کے طور پر دیتے ہیں۔ خودکشی تو حرام ہے۔ یہ خودکش بمبار خود کی اور اپنے خاندان کی قربانی دیکر کسے فائدہ پہنچا رہے ہیں۔کچھ قصور ان نوجوانوں کے والدین، سرپرستوں کا بھی ہے جن کی اولاد کی تربیت کے سلسلے میں لا پرواہی کی وجہ سے یہ گمراہ ہوتے ہیں۔
اسد اویسی کے خلاف ایک مخصوص لابی متحرک ہے جو انہیں بی جے پی کی بی ٹیم اور آر ایس ایس کا ایجنٹ ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ دراصل جنوب کی کسی شخصیت کو جنوب کے دوسرے علاقوں میں قبول نہیں کیا جاتا یہ اور بات ہے کہ ہندوستان کے ہر حصے سے لوگ جنوب بالخصوص حیدرآباد میں آکر اپنا مقدر سنوارتے ہیں۔ اسد اویسی کے سیمانچل انتخابات میں اپنے امیدوار میدان میں اتارنے پر بھی تنقید ہوتی رہی اور تنقید کرنے والوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ سیمانچل میں جو امیدوار مجلس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے وہ مقامی تھے، حیدرآباد سے لاکر مسلط نہیں کیے گئے تھے۔ بہت سے لوگوں کو اس بات کا شکوہ ہے کہ اویسی فیملی کے خلاف نہ تو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) نہ سی بی آئی نہ ہی انکم ٹیکس کے دھاوے ہوتے ہیں۔ عجیب لوگ ہیں جب مسلم قائدین یا اداروں کے خلاف کاروائی ہوتی ہے تو مسلمانوں کے ساتھ امتیاز اور تعصب کی بات کہی جاتی ہے اور جب کسی مسلم رہنما کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی تو اس کی بھی تکلیف ہوتی ہے۔ اسد اویسی سے لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں مگر اس بات کو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے کہ آج کے دور میں کم از کم ایوان پارلیمنٹ ہو یا نیشنل ٹیلی ویزن چینلس بے باک بے لاگ اگر کوئی بات کرتے ہیں تو وہ صدر مجلس اور مجلس کے ترجمان عاصم وقار۔ اس میں شق نہیں کہ اعلی تعلیم یافتہ، قابل، لائق فائق مسلمانوں کی کمی نہیں ہے مگر ان میں سے کتنے ایسے ہیں جو اخلاقی جرائت کے ساتھ نیشنل چینلس پر اپنی قوم کی بات کر سکتے ہیں۔ جو کسی عہدے پر ہیں انہیں اپنا مستقبل عزیز ہے اور جو کسی عہدے پر نہیں ہے انہیں قانون کی لاٹھی کا خوف ہے۔ آج کے دور میں جب کہ ہر کوئی ذد میں ہے ایک دوسرے پر تنقید کے بجائے ایک دوسرے کو سہارا دینے کی ضرورت ہے۔
Comments are closed.