بچیوں کو با اختیار بناتی اڑیسہ سرکار

 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

اڑیسہ ملک کی قبائلی ریاستوں میں سے ایک ہے ۔ یہاں کئی طرح کے قبائل آباد ہیں، جن میں کوندھ، سنتھال، گونڈ، کھونڈ، جوآنگ، بونڈا اور اوراؤں خاص ہیں ۔ ریاست میں 62 طرح کے قبائل ہیں جو کل آبادی کا 23 فیصد حصہ ہیں ۔ ان میں 13 (پرجا ،کویا اور سورا وغیرہ) سب سے کمزور قبیلے ہیں ۔ بونڈا قبیلہ گزشتہ سات ہزار سال سے ملکان گری کے جنگلات میں رہ رہا ہے ۔ ملکان گری میں قبائلی آبادی 57.4 فیصد ہے ۔ کوندھ قبیلے کی آبادی اڑیسہ میں سب سے زیادہ لگ بھگ دس لاکھ ہے ۔ جو خاص طور پر کندھامال اور آس پاس کے اضلاع میں مرکوز ہے ۔ ہر آدی واسی قبیلے کا عقیدہ، رہن سہن، کھان پان، رسم و رواج اور شادی بیاہ کا طریقہ الگ ہے ۔ سیلاب اور متاواتر طوفانوں سے جنگلات میں رہ رہے آدی واسیوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے ۔ یہاں انیمیا (آئرن، وٹامن کی کمی) کی خاص طور پر لڑکیوں اور خواتین میں عام شکایت ہے ۔ تقریباً ایک تہائی 33.4 فیصد آبادی اس سے متاثر ہے ۔ موروثی انیمیا (Sickle cell anemia) کے شکار بھی اس علاقہ میں پائے جاتے ہیں ۔ اس میں خون کے سرخ خلیے غیر معمولی طور پر درانتی کی طرح ہوتے ہیں، جو قبل از وقت موت کا باعث بنتے ہیں ۔ انیمیا آئرن، وٹامن بی 12 اور کھانے میں غذایت کی کمی سے ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ سے بچے وقت سے پہلے یا کمزور پیدا ہوتے ہیں ۔ ماں میں خون کی کمی ولادت کے وقت بچے اور اسکی زندگی کے لئے خطرہ بنتی ہے ۔

یونیسیف انڈیا کی تکنیکی مدد سے اڑیسہ حکومت بچیوں اور خواتین کی صحت کو سدھارنے، بہتر ماحول فراہم کرنے اور با اختیار بنانے کے لئے کوشاں ہے ۔ گورنمنٹ ہائی اسکول دوٹی پاڑہ کندھمال کی ہیڈ مسٹریس امبیکا پردھان نے بتایا کہ اسکول کے 102 طالب علموں میں 80 فیصد آدی واسی ہیں، ان میں 32 لڑکیاں ہیں ۔ وہ ماہواری کے دوران تین چار دن اسکول نہیں آتی تھیں ۔ لیکن اب (Mensuration hygiene management) ایم ایچ ایم کارنر بننے کے بعد بچیاں اسکول سے چھٹی نہیں کرتیں ۔ خوشی اسکیم اور یونیسیف کے واش پروگرام کے تحت یہ کارنر بنائے گئے ہیں ۔ یہاں مفت سنیٹری پیڈ تقسیم کئے جاتے ہیں ۔ کارنر میں تنہائی، رازداری اور استعمال شدہ پیڈ کو ٹھیکانے لگانے کا انتظام ہے ۔ لڑکیاں وینڈنگ مشین سے خود پیڈ تیار کرتی ہیں ۔ استانی یا آشا دی دی بچیوں کو پیڈ استعمال کرنا، صاف صفائی کا خیال رکھنا سکھاتی ہے ۔ پسماندہ دیہی علاقوں میں لڑکیاں و خواتین ماہواری کے دوران پرانے کپڑے، روئی، راکھ، ریت کا استعمال کرتی ہیں ۔ اس سے انفیکشن ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔ جو کئی مرتبہ بانجھ پن یا رحم کے کینسر کی شکل اختیار کر سکتا ہے ۔

ضلع ایجوکیشن آفیسر کندھمال راجیش کمار سوائن کے مطابق ایم ایچ ایم کارنر پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر دو اسکولوں دوٹی پاڑا اور دوٹی مینڈی کے ہائی اسکولوں میں شروع کیا گیا ہے ۔ حالانکہ ضلع. بھر میں سرکاری و نیم سرکاری یعنیٰ حکومت کی امداد شدہ 1870 اسکول ہیں ۔ یونیسیف انڈیا کی کمیونی کیشن آفیسر سونیا سرکار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ابھی شروعات ہے ۔ آنے والے دنوں میں دوسرے اسکولوں میں بھی ایم ایچ ایم کارنر شروع کئے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرائبلس میں یہ روایت ہے کہ جب لڑکی پہلی بار ماہواری ہوتی ہے تو سات دن اسے علیحدہ (جہاں گائے، بھینس، بکری باندھی جاتی ہے) رکھا جاتا ہے ۔ وہاں کوئی مرد نہیں جا سکتا، سات دن پورے ہونے پر قبیلے کے لوگوں کی دعوت کی جاتی ہے ۔ لڑکی کے بالغ ہونے کا جشن منایا جاتا ہے ۔ اسی تقریب میں بچی کی شادی طے ہوجاتی ہے ۔ ایم ایچ ایم کارنر اور ادویکا پروگرام اس رسم کو توڑنے اور بچپن کی شادیوں کو روکنے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے ۔ یونیسیف کی تکنیکی مدد سے اڑیسہ حکومت نے 2024 میں ادویکا پروگرام لانچ کیا ۔ یہ بچوں کے تحفظ، نوعمروں خاص طور پر لڑکیوں اور خواتین کو بیدار کر با اختیار بنانے کا پروگرام ہے ۔ سونیا سرکار نے اس لڑکی اونگا سے بھی ملوایا جس نے بلوغیت میں داخلہ کے وقت شادی طے ہونے کی رسم کو توڑا ۔ انہوں نے بتایا کہ اونگا کو بچپن کی شادی سے انکار کرنے کا حوصلہ ادویکا پروگرام سے ہی ملا ۔ اس کی ماں اور بڑی ماں نے ادویکا پروگرام کے تحت بچپن کی شادی کے نقصانات کو سمجھا تھا انہوں نے بچی کی ہمت افزائی کی ۔ اب اونگا نویں جماعت میں پڑھ رہی ہے اور مستقبل میں ٹیچر بننا چاہتی ہے ۔ پورے ضلع میں اس طرح کی کئی کامیاب کہانیاں موجود ہیں ۔

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (19-2021) کے اعداد و شمار اڑیسہ میں جنسی تناسب میں تشویشناک حد تک کمی کی نشاندہی کرتے ہیں جو کہ فی 1000 مردوں پر 894 خواتین ہیں ۔ جبکہ یہاں چائلڈ میرج قومی شرح 23.3 فیصد سے معمولی نیچے 20.5 فیصد ہے ۔ رپورٹ کے مطابق 21.7 فیصد لڑکیاں اور 14.8 فیصد لڑکے شادی کی قانونی عمر سے پہلے رشتہ ازدواج میں بندھ جاتے ہیں ۔ کم عمر میں حاملہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف لڑکی کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے بلکہ ولادت کے وقت ماں اور بچے کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے ۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 5 کے مطابق اڑیسہ کے 51،349 گاؤں میں سے 14000 گاؤں چائلڈ میرج فری ہو چکے ہیں ۔ یہ ادویکا پروگرام کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے ۔ اڑیسہ وزٹ کے دوران یونیسیف کے چائلڈ پروٹیکشن اسپیشلسٹ مننا بسوا سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے بتایا ادویکا پروگرام کا فوکس دو چیزوں پر ہے ۔ نو عمروں کا تحفظ اور انہیں با اختیار بنانا ۔ اس کے تحت آشا کارکن ہر سنیچر نو عمروں کو آنگن واڑی مرکز یا اسکول کمپاؤنڈ میں بلاتے ہیں ۔ ہر ہفتہ کا ایجنڈا طے ہوتا ہے ۔ وہاں نو عمر لڑکے لڑکیاں آپس میں بات کرتے ہیں کچھ موضوعات پر معلومات حاصل کرتے ہیں ۔ مثلاً اپنی تعلیم کو کیسے جاری رکھیں ۔ پڑھائی کیوں نہیں چھوڑنی ہے ۔ ریاست میں پرائمری سطح پر تو ڈراپ آؤٹ صرف 4.1 فیصد ہے لیکن سیکنڈری میں 21.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ 2011 کی مردم شماری میں خواندگی 73.3 فیصد درج کی گئی ہے ۔ جس میں مرد 81.59 فیصد اور خواتین 64.01 فیصد پڑھے لکھے تھے ۔ 2025 میں خواندگی کے 79.0 فیصد ہونے کا اندازہ ہے ۔ جبکہ موبائل استعمال کرنے والے صرف 36.4 فیصد ہیں ۔

ادویکا پروگرام کا دائرہ کافی وسیع ہے ۔ اس کے تحت جہاں تعلیم پر بات کی جاتی ہے وہیں کیرئر، اسکل، اسکالر شپ اور صحت کے بارے میں بھی گائیڈ کیا جاتا ہے ۔ گڈ چٹ بیڈ ٹچ، ماہواری، ہیلٹھ کیئر، اپنی حفاظت کیسے کریں، جلدی شادی کیوں نہیں کرنا، جلدی شادی کر لیں گے تو آگے ترقی کیسے کریں گے، سائبر جرائم، دھوکہ دھڑی، گھر اور خاندان کے لوگوں کے ساتھ کیسے رہیں اس بارے میں بتایا جاتا ہے ۔ تفریح، ناچ گانا اور کھیل بھی پروگرام کا حصہ ہے ۔ یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں نوعمر کھل کر ہر مسئلہ پر بات کرتے ہیں ۔ اس کا مقصد نو جوان نسل خاص طور پر نو عمر بچیوں کو بیدار کرنا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے ۔ تاکہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنائیں، گھر خاندان کی ترقی کا ذریعہ بنیں اور ملک و قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں ۔ اڑیسہ حکومت کا یہ ایسا قدم ہے جو دوسری ریاستوں اور ممالک کے لئے مشعل راہ ہو سکتا ہے ۔

 

Dr. M H Ghazali

Sr. Journalist & Columnist

9810371907

Comments are closed.