علی گڑھ کا اردو کتاب میلہ
معصوم مرادآبادی
علی گڑھ اولڈ بوائز کو یہ شکایت رہی ہے کہ وہ دانش گاہ جو کسی زمانے میں اردو زبان و تہذیب کا ایک بڑا مرکز ہوا کرتی تھی، وہاں اب اردو جاننے والوں کی تعداد کم ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ اب اس دانش گاہ میں اردو سے دلچسپی رکھنے والوں کی تعداد اتنی نہیں ہے جتنی ماضی قریب میں ہوا کرتی تھی۔ حالانکہ یہ وہی دانش گاہ ہے جہاں رشید احمدصدیقی، معین احسن جذبی،آل احمد سرور جیسے مایہ ناز ادیب اوراسرارالحق مجاز، سردارجعفری اور شہریار جیسے شاعر وں کی ذہنی پرورش ہوئی، لیکن موجودہ نسل میں اردو سے بے رغبتی کے سبب اب یہاں وہ بات نہیں رہ گئی ہے اور اردو کے حوالے سے عام بے حسی اور جمود کی فضا ہے، لیکن پچھلے تین دن میں علی گڑھ میں جو کچھ ہوا ہے اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے وہاں اردو کی مٹی آج بھی زرخیز ہے اور اس پر جان ودل نثار کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔اگر سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش کی جائے تو یہاں آج بھی اردو کی فصل لہلہا سکتی ہے۔ بقول شاعر
ذرا نم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
دراصل علی گڑھ میں اردو کی بازیابی کا موقع فراہم کیا ہے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے، جو ملک میں اردو کی ترویج واشاعت کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ قومی اردو کونسل نے گزشتہ 23/نومبر کو جب یہاں 9/روزہ قومی کتاب میلے کا آغاز کیا تو اس میں شریک ہونے والے اردو ناشرین کو یہ اندیشہ تھا کہ خدانخواستہ یہ اردو کتاب میلہ کہیں ناکام نہ ہوجائے۔ لیکن پچھلے تین دن کی رپورٹ یہ ہے کہ ناشرین کو یہاں زبردست رسپانس مل رہا ہے اور لوگ اچھی خاصی تعداد میں کتابیں خرید رہے ہیں۔کتابوں کی فروخت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے تین دن میں اکیلے قومی اردو کونسل کے اسٹال سے ڈیڑھ لاکھ روپے کی کتابیں فروخت ہوئی ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک کی سب سے بڑی اقامتی یونیورسٹی ہے اور یہاں زیرتعلیم طلبہ اور طالبات کی تعداد36/ہزار سے زائد ہے۔ یہاں کا علمی ماحول بھی دیگر دانش گاہوں سے جدا ہے اور ایک مکمل تہذیب یہاں سانس لیتی ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کیمپس میں جو روحانی سکون ملتا ہے وہ کہیں اور نہیں ملتا۔
عام طورپر قومی اردو کونسل ان شہروں میں اردو کتاب میلے منعقد کرتی ہے جہاں اردو کا بول بالا ہے اور اس معاملے میں مہاراشٹر کے ممبئی،اورنگ آباداور مالیگاؤں جیسے شہر سرفہرست ہیں۔ مالیگاؤں کا حال تو یہ ہے کہ وہاں پچھلے کتاب میلے میں ایک کروڑ روپے کی کتابیں خرید کر لوگوں نے اپنے شہر کی اردو نوازی کا عملی ثبوت پیش کیا تھا۔ مگر اترپردیش وہ صوبہ ہے جہاں پورے ملک میں اردو زبان کی حالت سب سے زیادہ دگرگوں ہے۔ اسی لیے ناشرین علی گڑھ کتاب میلے میں شرکت کرتے ہوئے تذبذب کا شکار تھے، مگر اب اس شہر کے بارے میں ان کی رائے بدل گئی ہے۔ اس رائے کو تبدیل کرنے کاکام یہاں کے ہونہار طلباء اساتذہ اور عام شہریوں نے کیا ہے۔لوگ جوق درجوق یہ کتاب میلہ دیکھنے آرہے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ہر شخص کوئی نہ کوئی کتاب ضرور خرید رہا ہے۔
سبھی جانتے ہیں کہ علی گڑھ علم وآگہی کا شہر ہے اوریہاں کے ذرات کا بوسہ لینے کو آکاش بھی سرنگوں ہوتا ہے۔ یہ دیوانوں اور فرزانوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کے ذرے ذرے سے لوگوں کو عقیدت ہے اور ان کا تو کہنا ہی کیا جنھوں نے اس دانش گاہ سے کسب فیض کیا ہے اور یہاں کے درودیوار کا لمس حاصل کیا ہے۔ علی گڑھ کی اسی غیرمعمولی علمی وادبی فضا کی وجہ سے لوگ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس اردو کتاب میلے میں ملک بھر اردو پبلشر کھنچے چلے آئے ہیں اور انھوں نے یہاں اپنی قیمتی مطبوعات کی نمائش لگائی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کلچرل ایجوکیشن سینٹر میں 22/تا 30/نومبر کو منعقد ہونے والے اردو کتاب میلے کو زیادہ دلچسپ اور پرکشش بنانے کے لیے یہاں مختلف ادبی وثقافتی پروگراموں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ جس میں ایک پروگرام ”مصنف سے ملئے“ بھی ہے۔عام طورپر اس قسم کے پروگرام انگریزی کتابوں کی نمائشوں میں ہوتے ہیں، لیکن جب سے ڈاکٹر شمس اقبال نے قومی اردو کونسل کی کمان سنبھالی ہے انھوں نے کونسل کو ایک نیااور بامعنی رخ دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ اس سے قبل نیشنل بک ٹرسٹ میں اردو ایڈیٹر کی خدمات انجام دے چکے ہیں اور اس حوالے سے وہ اردو کتابوں کی تدوین سے لے کر ان کی ترویج واشاعت تک ہر کام میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا یہ تجربہ یہاں خوب کام آرہا ہے اور قومی اردو کونسل کی کتابوں کا حلیہ بدل گیا ہے۔اتنا ہی نہیں انھوں نے کونسل کے پروگراموں کے حوالے سے اردو کو ایک نئی جہت دینے کی کوشش کی ہے۔گھسے پٹے موضوعات سے کنارہ کرکے انھوں نے عصری موضوعات اور چیلنجز کو اردو سے ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کتاب میلے کا بنیادی مقصد نئی نسل کو اردو تہذیب سے جوڑنا اور اردو کے نئے قارئین پیدا کرنا ہے۔“ خاص بات یہ ہے کہ اس میلے کے ادبی اور ثقافتی پروگراموں میں نئی نسل کو فوقیت دی جارہی ہے ۔
خدا کرے کہ قومی اردو کونسل اپنے مقصد میں کامیاب ہو اور اترپردیش میں اردو کے احیاء کی کوئی شکل نکل آئے۔ اس میلے کا آنکھوں دیکھا حال اپنی اگلی پوسٹ میں 27/نومبر کو میلہ دیکھنے کے بعد بیان کروں گا۔انشاء اللہ
Comments are closed.