ہندوستانی انتخابات کی موجودہ صورتِ حال اور مسلمانوں کی حکمتِ 

 

مشرف شمسی

بہار کے انتخابات میں یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو چکی ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ کی اپنی کوئی آزادانہ سیاسی اہمیت باقی نہیں رہی۔ مسلمانوں کو ہر حلقے میں ایک منظم حکمتِ عملی اپنانی چاہیے، اور اس حکمتِ عملی میں جس پارٹی یا امیدوار نے اُس علاقے کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اُن کے مسائل پر کام کیا ہو، مسلمانوں کو اُسی امیدوار کو ووٹ دینا چاہیے۔

 

اب یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹ کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ بی جے پی بغیر مسلم ووٹ کے بھی انتخابات جیتتی جا رہی ہے۔ ایسے میں اگر بی جے پی ہندو ووٹ کی بڑی تعداد سمیٹ کر آسانی سے جیت حاصل کر لیتی ہے تو پھر مسلم بستیوں میں بی جے پی کا امیدوار ہاتھ جوڑنے کیوں آئے؟

البتہ جس طرح بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، اگر وہ سچ ہیں تو پھر بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو شاید کسی ووٹر کی واقعی ضرورت نہ ہو۔ دنیا کو دکھانے کے لیے انتخابات کا ڈرامہ جاری رہے گا، اور بی جے پی مودی اور شاہ کی قیادت میں انتخابات کے نام پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتی رہے گی۔

 

بی جے پی جلد ہی ’’ایک قوم، ایک انتخاب‘‘ (One Nation One Election) کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے گی، کیونکہ ہر سال ایک دو ریاستوں میں انتخابات ہوتے ہیں اور ہر انتخاب میں دھاندلی کے الزامات لگتے ہیں اور آئندہ بھی لگتے رہیں گے۔ اس لیے بی جے پی چاہتی ہے کہ پورے ملک میں لوک سبھا اور اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ ہوں تاکہ دھاندلی کے الزام ایک بار لگیں، بار بار نہ لگیں۔

 

چناؤ کبھی تہوار کی طرح ہوا کرتے تھے، مگر اب زیادہ تر ووٹر انتخابات کے بارے میں بے زار دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ حکومت کے خلاف کتنی ہی ناراضی ہو، جیت تو بی جے پی کی ہی ہونی ہے۔ اسی وجہ سے عوام سمجھ چکے ہیں کہ انتخابات کے ذریعے حکومت کو بدلا نہیں جا سکتا۔

جب کسی حکومت کو یقین ہو جائے کہ اسے شکست نہیں دی جا سکتی، تو وہ حکومت عوام دشمن فیصلے کرنے میں ذرہ بھر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔ عوام کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب بجلی کے نرخ بڑھا دیے گئے، کب پراپرٹی ٹیکس بڑھا دیا گیا۔ جب بل آتا ہے تب معلوم ہوتا ہے کہ بل بڑھ چکا ہے۔ ریلوے ٹکٹ پر کون سا نیا ٹیکس لگ رہا ہے، عوام نے اس پر بات کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ٹکٹ کینسل کرانے پر پورے پیسے کاٹ لیے جاتے ہیں، مگر سوال پوچھنے والا کوئی نہیں بچا۔

 

اگر کوئی مسافر ٹرین کھلنے کے آدھے گھنٹے بعد ٹکٹ کینسل کراتا ہے تو اسے ایک روپیہ بھی واپس نہیں ملتا۔ سوال یہ ہے کہ جو برتھ یا سیٹ اس نے چھوڑ دی، کیا وہ پوری منزل تک خالی جاتی ہے؟ جبکہ ہر ٹرین میں ریزرویشن کے لیے ماردھاڑ مچی ہوئی ہے۔ مگر یہ سوال کون اٹھائے؟

پارلیمنٹ میں اگر اپوزیشن کا کوئی رکن کوئی مسئلہ اٹھائے بھی تو اس پر کارروائی شاذونادر ہی ہوتی ہے۔ اور حکومت کے کسی رکن میں عوامی مسائل اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔

 

جب بھی حکومتِ وقت کو ہار کا خوف ختم ہو جاتا ہے تو وہ عوام سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کرنا اور من مانی حکمرانی کے سوا کچھ نہیں کرتی، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی جیت کی چابی ملک کے چند بڑے سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ سرمایہ داروں کو خوش رکھیں گے تو ان کی حکومت قائم رہے گی۔

 

مگر حکومتیں یہ بھول جاتی ہیں کہ ایک نہ ایک دن عوام اس لُوٹ کو سمجھ ہی جاتے ہیں، اور پھر ایسی آوازیں اٹھتی ہیں کہ حکومت کو عوام کے سامنے جھکنا پڑتا ہے۔

لہٰذا بہتر ہے کہ حکومت وقت رہتے انتخابات کو شفاف بنائے اور جو بھی جائز سوالات اپوزیشن اٹھاتی ہے، ان کے جواب دیے جائیں—کیونکہ یہی جمہوریت کی اصل بنیاد ہے۔

Mob_9322674787

Mira road, Mumbai

 

Comments are closed.