ذیمریس ادبی فورم کی جانب سے محمدمحمود کوبیسٹ ٹیچر ایوارڈ
ذیمریس ادبی فورم کے زیراہتمام آٹھ دن اردو کے نام عنوان کے تحت مختلف ادبی و تعلیمی پروگرامس منعقدہوئے۔ جس کا جلسہ تقسیم انعامات ذیمریس ہال وجئے نگر میں منعقدہوا۔ اس مو قع پرطلبہ کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اساتذہ میں بھی ایوارڈس کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ عروج ماڈل ہائی اسکول کے استاذ محمد محمود کو تعلیم و تربیت کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں اردو بیسٹ ٹیچر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس موقع پر صاحبزادہ میر وقارالدین علی صدیقی، محمدحسام الدین صدیقی، محمد ابراہیم خان، محسن خان ، شیخ محمد ،ڈاکٹرنجمہ سلطانہ و دیگر معززین نے استاد محمد محمود کو مبارکباد پیش کی اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے نیک خواہشات ظاہر کیں۔ذیمریس ادبی فورم کی جانب سے منعقدہ مختلف مقابلوں میں طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی، جن میںمختلف تحریری ،تقریری، پینٹنگ، پوسٹر میکنگ ،خطاطی مقابلوں ا ورڈرائنگ مقابلے شامل تھے۔ نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے طلبہ کے نام درج ذیل ہیں۔آفرین بیگم (ٹمریز کالج، معین آباد،ڈرائنگ مقابلہ: اول انعام)،ادیبہ بیگم (گورنمنٹ ہائی اسکول، سلطان شاہی، تحریری مقابلہ: سوم انعام)،حافظ محمد مجاہد (مدرسہ ابوبکر صدیقؓ، تقریری مقابلہ: اول انعام)۔یہ تمام طلبہ محلہ فاروق نگرفلک نما سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی اس تعلیمی کامیابی پر محلہ فار وق نگر کے عوام الناس نے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے روشن مستقبل کی دعا کی۔ جلسہ تقسیم انعامات سے ڈاکٹر عزیز سہیل نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ استاذ جو علم، ہنر اور اخلاقیات سکھاتا ہے اور طالب علم کی رہنمائی کرتا ہے تاکہ وہ دنیاوی اور دینی دونوں لحاظ سے کامیابی حاصل کر سکے۔ وہ صرف کتابی علم تک محدود نہیں ہوتا بلکہ شخصیت کی تعمیر، کردار سازی، اور زندگی کے اصول سکھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور اسے قوم کا معمار سمجھا جاتا ہے ۔استاد جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و شعور کی روشنی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اساتذہ قوم کے معمار ہیں جو نئی نسل کی تربیت کر کے مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں۔ کامیاب شاگرد وہی ہوتا ہے جو استاد کی عزت کرتا ہے اور ان کی باتوں پر عمل کرتا ہے۔ ادب کے بغیر علم حاصل کرنا مشکل ہے۔ ڈاکٹرایم اے ساجد (صدرذیمریس ادبی فورم)نے تمام طلبہ اور اساتذہ جنہوں نے ایوارڈ حاصل کیا انہیں مبارک باد پیش کی اور مستقبل کیلئے نیک تمنائوں کااظہار کیا اورکہاکہ آگے بھی اس طرح کے ادبی مقابلے جات کاانعقادعمل میں لایاجاتا رہے گا۔۔ ڈاکٹر نجمہ سلطانہ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔اس موقع پر فضل عمر، ڈاکٹرجہانگیر احساس ، فارقی نبیلہ انجم، فاطمہ بیگم، شبانہ مخدوم، نزہت انجم کے علاوہ دیگرموجودتھے۔
Comments are closed.