امیر الہند مولانا ارشد مدنی کے خلاف زبان درازی ناقابل برداشت ہے : مولانا الیاس مخلص

 

کشن گنج / بہار، 28 نومبر (پریس ریلیز) اصلاحِ معاشرہ کمیٹی جمعیۃ علماء صوبہ بہار کے نائب نگراں اعلیٰ مولانا الیاس مخلص نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے ترجمان کی جانب سے جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر امیر الہند مولانا سید ارشد مدنی کے خلاف کی گئی نازیبا اور تنقیدی بیان بازی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ اور ’’مسلمانوں کے سیاسی و داخلی اتحاد کو کمزور کرنے والی روش‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے غیر سنجیدہ اور اشتعال انگیز بیانات نہ صرف علمی و دینی قیادت کی توہین ہیں بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کی مشترکہ جدوجہد کو نقصان پہنچانے کا سبب بھی بنتے ہیں۔

 

مولانا الیاس مخلص نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ملک کی اُن قدیم تنظیموں میں سے ہے جس نے آزادی کی تحریک ہو یا سماجی و تعلیمی میدان—ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔ اس تنظیم کے قائدین کے خلاف الزام تراشی یا زبان درازی نہ صرف بے ادبی ہے بلکہ زمینی حقائق سے بھی ناواقفیت کی علامت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اختلافات ہوں تو انہیں علمی اور مہذب انداز میں پیش کرنا بہتر ہوتا ہے، لیکن بدگمانی اور جارحانہ بیان بازی کا کوئی دینی یا سماجی جواز نہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ایم آئی ایم کا موجودہ سیاسی رویہ مسلمانوں کو تقسیم اور انتشار کی طرف دھکیل رہا ہے، جو ہندوستانی مسلمانوں کے مجموعی مفاد کے لیے ’’سنجیدہ خطرہ‘‘ بن چکا ہے۔ ’’مسلمانوں کو سیاسی شعور دینا اچھی بات ہے، مگر انتشار اور فرقہ بندی کا ماحول پیدا کرنا کسی بھی حال میں درست نہیں۔‘‘ مولانا مخلص نے کہا کہ وقت کا تقاضا اتحاد، تحمل اور باہمی احترام ہے، نہ کہ ملی قائدین پر الزامات۔

 

اسی سلسلے میں انہوں نے ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی کے مدارسِ اسلامیہ سے متعلق حالیہ بیان پر بھی سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مدارس صدیوں سے ہندوستان میں دین، تہذیب اور اخلاقی تربیت کے عظیم مراکز رہے ہیں۔ ان اداروں پر بلا جواز تنقید کرنا یا انہیں کسی خاص نظریے سے جوڑ کر شک پیدا کرنا حقیقت سے انکار اور علمی میراث کی ناقدری ہے۔ ’’مدارس نے اس ملک کو لاکھوں علماء، اساتذہ، اصلاح کار اور سماجی رہنما دیے ہیں۔ ایسے اداروں پر انگلی اٹھانا دراصل ہندوستانی مسلمانوں کی علمی بنیادوں پر حملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لفافہ والا بیان بھی سب سے پہلے اویسی نے دیا تھا، جس کے بعد دوسروں کو موقع ملا، اسد الدین اویسی کو ملک کے تمام علمائے کرام سے اپنے لفافے والے بیان پر معافی مانگی چاہیے۔

 

مولانا الیاس مخلص نے آخر میں اپیل کی کہ مسلم قیادت کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے تعمیری گفتگو، باہمی تعاون اور مشترکہ مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ باشعور مسلمان سوشل میڈیا یا سیاسی بیان بازی کے شور میں پھنسنے کے بجائے اتحاد اور مثبت کردار کے راستے کو اختیار کریں گے۔

Comments are closed.