قابض اسرائیل نے حرم ابراہیمی پر تسلط مزید بڑھا دیا، اندرونی صحن بھی ہتھیانے کا فیصلہ

بصیرت نیوزڈیسک
قابض اسرائیلی حکام نے غرب اردن کے تاریخی جنوبی شہر الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی کے اندرونی صحن پر قبضے کا نیا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ حرم کے ڈائریکٹر معتز ابو سنینہ کے مطابق یہ اقدام نہایت سنگین مذہبی اشتعال انگیزی ہے جس کا مقصد حرم کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔

ابو سنینہ نے صحافیوں کو بتایا کہ قابض فوج نے حرم کے اندر بجلی اور پانی کے نظام پر بھی اپنا تسلط جما لیا ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جو مذہبی اور تاریخی مقامات کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔

اسی تناظر میں الخلیل بلدیہ کی قائم مقام سربراہ اسماء الشرباتی نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کا یہ فیصلہ حرم ابراہیمی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے جسے عالمی سطح پر خطرے سے دوچار ورثہ قرار دیا گیا ہے۔

ابو سنینہ نے اس سے قبل متعدد بیانات میں واضح کیا تھا کہ قابض حکام مسجد میں زمانی اور مکانی تقسیم کی پالیسی کو چھوڑ کر اب مکمل کنٹرول کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمل بتدریج اقدامات اور منظم یہودیانے کے منصوبوں کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران حرم ابراہیمی پر حملوں اور پابندیوں کی رفتار خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ابو سنینہ کے مطابق یہ سب ایک ایسے سیاسی منصوبے کا حصہ ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کو مسجد سے بے دخل کر کے اس کی عمرانی اور آبادیاتی شناخت تبدیل کی جا رہی ہے تاکہ ایک نیا مسلط شدہ حقیقت قائم کی جا سکے جس میں اندرونی صحن کی تعمیر اور بلدیہ و اوقاف کے اختیارات کو غصب کرنا شامل ہے۔

Comments are closed.